دعا اور کلمہ کن سے ہم آہنگی


مضمون نمبر 5: دعا اور کلمہ کن سے ہم آہنگی
ڈاکٹر محمد عقیل
جب اللہ تعالی نے کائنات کی تخلیق کا ارادہ کیا تو سب سے پہلے ” کن ” کہا یعنی ہوجا۔ تو یہ کائنات وجود میں آگئی ۔ اللہ تعالی اس بات پر قادر تھے کہ وہ بس اشارہ کرتے اور سب کچھ خود بخود ایک سیکنڈ میں بن جاتا۔ لیکن اللہ نے ایسا نہیں کیا۔

لیکن ہم جانتے ہیں کہ کائنات کو اس حالت میں آنے میں کروڑوں سال کا عرصہ لگا ۔ اسی طرح آج بھی اللہ تعالی جب کسی انسان کو دنیا میں بھیجتے ہیں تو نو ماہ تک اسے ماں کے پیٹ میں مختلف حالتوں سے گذارتے ہیں اس کے بعد تخلیق ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالی کا کن کے ذریعے تخلیق کرنے کا معاملہ نہ تو یک جنبش قلم ہوتا ہے اور نہ یکایک ہوتا ہے۔
اللہ تعالی کی سنت جو عمومی طور پر نظر آتی ہے وہ تدریج کی ہے۔ "کن” یعنی "ہوجا "کی ادائیگی کے فورا بعد اصول اور قانون پیدا ہوتا ہے اور پھر چیزیں اسی قانون کے تحت ہونے لگ جاتی ہیں۔مثال کے طور پر پانی پیدا کرنے سے قبل اللہ نے اس کا فارمولے تخلیق کرکے اس کا قانون بنایا کہ یہ H2O ہوگا۔ یعنی اس میں ہائیڈروجن کے دو ایٹم اور آکسیجن کا ایک اِیٹم ہوگا۔ اسی طرح آکسیجن اور ہائیڈروجن کی خصوصیات طے کیں۔
یہی تدریج کا معاملہ انسان کے ساتھ بھی خاص کردیا گیا ۔ جس نے اللہ کے کلمہ کن سے پیدا ہونے والے قوانین کو دریافت کرلیا ، وہ بھی تخلیق کے قانون سے آگاہ ہوگیا۔ چنانچہ جب کھیتی باڑی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب انسان نے زمین کو نرم کرکے اس میں بیج بوتا، اسے پانی دیتا اور وقت آنے پر فصل کی کٹائی کرتا ہے۔ بچے کی تخلیق اس وقت ممکن ہوتی ہے جب عورت و مرد کا ملاپ ہوتا ہے۔ جہاز اس وقت تک نہیں اڑا جب تک کہ نیوٹن کے دریافت کردہ تیسر ے قانون کے مطابق عمل نہ کیا گیا۔
یہ طریقہ کار صرف فزکس کا نہیں بلکہ اخلاقیات، معیشت ، معاشرت اور مذہب ہر شعبے میں کارفرما ہے۔اللہ کی سنتوں کو سمجھنے کے لیے اللہ کی صفات کے نظام کا ادراک بے حد ضروری ہےکیونکہ اس کے بنا ہم کلمہ کن کے پوشیدہ قوانین کو دریافت نہیں کر سکتے۔کلمہ کن اور فیکون کے درمیان بہت سے تکوینی قوانین موجود ہیں۔ یہ قوانین اللہ کی صفات کے فہم ہی کے ذریعے سمجھ میں آتے ہیں۔
کلمہ کن کے ساتھ ہی ایک تکوینی نظام وجود میں آجاتا ہے۔ اس نظام میں تخلیق ہوتی ہے، چیزوں کی نکھ سکھ سنواری جاتی ہے، انہیں پروان چڑھایا جاتا ہے اور وقت پورا ہونے پر انہیں فنا کردیا جاتا ہے۔ یہاں ہم دیکھیں تو کلمہ کن سے اللہ کی تین بنیادی صفاتی نظاموں کا ظہور ہوا۔ تخلیق، بقا اور فنا۔ کن سے صفت الخالق نے تخلیق کی۔ پھر اس تخلیق کو الرب کی صفت نے پروان چڑھایا گیا تو بقا کا کام ہوا ۔ پھر کچھ نئی چیزیں وجود میں لانے کے لیے اورکچھ پرانی چیزوں میں اصلاح کرنے کے لیے صفت الجبار کے ذریعےتوڑ پھوڑ اور فنا کا کام ہوا۔
کلمہ کن کے ساتھ ہی صفات کے ایک منظم سسٹم کا اظہار ہوتا ہے۔ یعنی جب اللہ نے کائنات بنانے کا ارادہ کیا تو اللہ نے بحیثیت علیم و حکیم کے کائنات کی منصوبہ بندی کی۔ جب اللہ نے ” کن” کہا کہ ہوجا تو یہاں ایک خالق، مصور اور باری کی حیثیت سے چیزوں کو بنانے کا حکم جاری کیا۔لیکن اگر طاقت و قدرت نہ ہو تو کام نہیں ہوگا۔ چنانچہ اللہ نےایک قادر مطلق بادشاہ کی حیثیت سے فرمان جاری کیا کہ ہوجا تو چیزیں ہوگئیں۔
کن کے بعد آج تک اسی کن کی بازگشت موجود ہے جسے ہم بگ بینگ تھیوری کہتے ہیں ۔ اس روز اول سے آج تک یہی تینوں کام مسلسل کائنات میں ہورہے ہیں یعنی تخلیق، بقا ، فنا پھر تخلیق، بقا اور فنا۔گویا کن یعنی ہوجا کا حکم تین پہلو رکھتا ہے ۔ کن یعنی پیدا ہوجا تو وہ شے پیدا ہوجاتی ہے۔ پھر کن یعنی باقی رہ جا تو وہ باقی رہتی ہے پھر کن یعنی فنا ہوجا تو وہ فنا ہوجاتی ہے۔
اس تخلیق، بقا اور فنا کے پس منظر میں جو دیگر صفاتی نظام کرتے ہیں ۔ ان نظاموں میں صفت علم سر فہرست ہے کیونکہ تخلیق ، فنا اور بقا علم و حکمت کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی طرح تخلیق ، بقا اور فنا کے لیے وسائل کا ہونا لازمی ہے۔ چنانچہ صفت وہابیت وسائل کی فراہمی کا نظام ہے۔ایسے ہی یہ تینوں کام طاقت یا قدرت کے بنا ادھورے ہیں چنانچہ صفت جبار اسی طاقت کا اظہار ہے۔
اس طرح اگر ہم دیکھیں تو اللہ کی صفات کے چھ بنیادی نظام ہمارے سامنے آتے ہیں۔
۱۔ تخلیق کا صفاتی نظام = الخالق
۲۔ بقا کا صفاتی نظام = الرب
۳۔ فنا کا صفاتی نظام = الجبار/الممیت
۴۔ علم و حکمت کا صفاتی نظام= العلیم
۵۔ وسائل کا صفاتی نظام = الوہاب
۶۔ طاقت و قدرت کا صفاتی نظام = ذوالجلال والاکرام
گویا کہ اللہ تعالی کی بے شمار صفات میں سے تین بنیادی صفات ہیں جو ہمارےسامنے کائنات اور مخلوق کے ساتھ معاملہ کرتے وقت سامنے آتی ہیں۔ تخلیق، بقا اور فنا۔ ان تین صفات کے ظہور پذیر ہونے کے لیے علم ، وسائل کی فراہمی اور طاقت کا ہونا لازمی ہے۔ چنانچہ اللہ کی چھ بنیادی صفات ہمارے سامنے آتی ہیں ۔ الخالق، الرب، الجبار، العلیم، الوہاب اور ذوالجلال والاکرام ۔ انہی صفات کے تحت دیگر صفات بھی آتی ہیں۔
کائناتی نظام اور چھ صفاتی نطام
جب سے کائنات وجود میں آئی ہے تو وہ ان چھ بنیادی صفات ہی کے زیر اثر ہے۔ ہر صفت اپنی جگہ ایک مستقل محکمہ اور مستقل نظام ہے۔ ہم یوں سمجھ سکتے ہیں کہ خدا کی بادشاہت کے یوں تو لاتعداد محکمے ہیں لیکن ان میں سے چھ محکمے بنیادی ایڈمنسٹریشن کے محکمے ہیں جو مخلوق سے متعلق ہیں۔ ہر محکمے میں اصول و ضوابط، قوانین ، پالیسیز ، پروسیجرز اور رولز موجود ہیں۔اس حقیقت کو ہم اس چارٹ سے واضح کرسکتے ہیں۔
sifaat
مثال کے طور پر الرب کا صفاتی نظام یا محکمہ بقا سے متعلق ہے کہ کس طرح اس کائنات کی پرورش کرنی، رزق پیدا کرنا، اسے مخلوق تک پہنچانا ، اس کے لیے زندگی کے اسباب پیدا کرنا اور زندگی کو پروان چڑھانا ہے۔ دوسری جانب صفت الخالق کا محکمہ کائنات اور اور اس کی مخلوقات میں تخلیقی عمل کو دیکھ رہا ہے کس کتنے نئے ستارے پیدا کرنے ہیں، کتنے نئے انسان دنیا میں آئیں گے، کتنے جانور ، پھول پودے پیدا کرنے ہیں ۔اسی طرح صفت الجبار فنا کے عمل کی دیکھ بھال کررہی ہے کہ کتنے ستاروں ، سورجوں ، سیاروں اور ستاروں کی موت واقع ہوگی، کتنے انسان ، جانور ، پھول پودے مریں گے وغیرہ۔ ان تینوں محکموں کو علم ، وسائل اور طاقت کی بھرپور معاونت حاصل ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ کی حکومت ایک ایڈمنسٹریشن ہے جس کے کئی ڈیپارٹمنٹس یا محکمے ہیں۔ ان محکموں کو ہم صفاتی نظام کہتے ہیں ۔ یہ صفات ایک مخصوص سسٹم اور میکنزم کے تحت اپنا اپنا کام کرتی ہیں اور ساتھ ہی یہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بھی کرتی ہیں۔ دنیاوی حکومت میں کئی وزارتیں اور محکمے ہوتے ہیں جیسے فائنانس ، تجارت، خارجہ ، دفاع، تعلیم ، صحت وغیرہ ۔یہ تمام محکمے نہ صرف اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ معاونت کرتے اور تعاون طلب کرتے ہیں۔ سمجھنے کے لیے ہم یہ کہ سکتے ہی کہ اللہ کی صفات بھی ایک دوسرے کے ساتھ وہی تعلق رکھتی ہیں جوحکومت کے ادارے آپس میں رکھتے ہیں۔مختلف ادارے ہونے کے باوجود حکومت کی وحدت ایک ہی رہتی ہے۔ بالکل ایسے ہی اللہ کی صفات کے مختلف نظاموں کے باوجود اللہ کی توحید اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔
اگر ہم کوئی مادی معاملہ کرتے ہیں تو ہم کسی مخصوص صفاتی نظام سے رجوع کرتے ہیں۔ جیسے فصل اگاتے وقت ہم تخلیقی صفات کے ڈیپارٹمنٹ کے تحت کام کررہے ہوتے ہیں اور جب اس کے بیان کردہ قوانین پر عمل نہ کریں ، فصل کو نہیں اگاسکتے۔ یہی معاملہ ملازمت کے حصول کا بھی ہے۔ ملازمت حاصل کرتے وقت ہم الرب یا ربوبیت اور وہابیت کے ڈیپارٹمنٹ کے تحت کام کررہے ہوتے ہیں اور اسی کے قوانین سے آگاہی لازمی ہوتی ہے۔
اگر مادی دنیا میں ہم یہ اصول مان لیتے ہیں تو غیر مادی دنیا میں بھی یہ اصول ماننا ہوگا۔یعنی جب بھی ہم اللہ سے مدد کے لیے رجوع کرتے اور اپنی کوئی حاجت پیش کرتے ہیں تو وہ ضرورت کسی نہ کسی مخصوص صفت کے تحت آتی ہے۔ چنانچہ دعا مانگتے وقت ہم اسی مخصوص ڈیپارٹمنٹ میں اپنی درخواست پیش کررہے ہوتے ہیں جو اس ڈیپارٹمنٹ کے قوانین سے فلٹر ہوتی ہوئی خدا کے حضور قبولیت یا رد کے لیے پہنچ جاتی ہے۔
خدا جس طرح فزکس کے قوانین کا خیال رکھتے ہیں اسی طرح دعا کی قبولیت کے وقت بھی قبولیت کے اصولوں کے تحت ہی بالعموم فیصلہ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر فزکس کا قانون یہ کہتا ہے کہ زمین پر اونچائی سے کودنے سے کشش ثقل کی بنا پر ٹانگیں ٹوٹ سکتی ہیں۔ اسی طرح دعا کی قبولیت کا قانون یہ کہتا ہے کہ زبانی کلامی باتوں سے کچھ نہیں ہوگا اور اگر فصل اگانی ہے تو کھیتی باڑی کرکے دعا کرنی ہوگی۔ یعنی دعا قبولیت کا اصول ہے کہ اپنے کرنے کا کام خود کیا جائے اور جو کام بس میں نہ ہو تو ہو خدا پر چھوڑ دیا جائے۔
اسی طرح ہم جب اللہ سے صحت یابی کی درخواست کررہے ہوتے ہیں تو اس کی صفت ربوبیت کے تحت ایک درخواست پیش کررہے ہوتے ہیں۔ اگر ہماری دعا اس صفت کے قوانین کے خلاف کی گئی ہے تو اللہ اس دعا کو بالعموم قبول نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر کوئی شخص دل کی بیماری سے بچنے کی دعا مسلسل کررہا ہے لیکن ساتھ ہی سگریٹ بھی پیے جارہا ہے تو یہ دعا اس ڈیپارٹمنٹ کے اصول و ضوابط کی واضح خلاف ورزی ہے۔ عین ممکن ہے کہ اللہ اس دعا کو رد کردیں لیکن وہ چاہیں تو اپنی حکمت کے تحت اسے قبول بھی کرسکتے ہیں کیونکہ وہ قادر مطلق ہیں۔ لیکن ایسا بالعمو م کم ہوتا ہے۔ چنانچہ دعا کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ سب سے پہلے وہ جس صفت سے متعلق ہے اسی کے تحت بھیجی جائے تاکہ اس صفت سے متعلق قوانین و ضوابط کے تحت بندہ خود کو ڈھال سکے۔

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s