فہم القرآن کورس-سیشن 14


فہم القرآن کورس-سیشن 14
ڈاکٹر محمد عقیل
سورہ البقرہ آیات 144 تا 151
السلام علیکم
فہم القرآن کے سیشن 14 میں الحمدللہ کم و بیش تمام ہی ایکٹو طلبا نے حصہ لیا۔اب سب بھائیوں اور بہنوں کا میں شکر گذار ہوں کہ انہوں نے اپنے قیمتی وقت میں کچھ ساعتیں اس اہم کام کے لیے صرف کیں۔ یہ سیکھنے کا عمل اسی وقت مکمل ہوتا ہے جب ہم اس میں انوالو ہوجائیں۔ کلاس سے دور ر کر مشاہد ہ کرنے والے کبھی بھی وہ کچھ نہیں سیکھ پاتے جو کلاس میں بیٹھ کر سیکھا جاتا ہے۔ جن بھائیوں اور بہنوں نے شرکت نہیں کی ان میں سے کچھ کو تو میں جانتا ہوں کہ وہ بے انتہا مصروف ہیں لیکن فون پر یا ملاقات میں اس پر اپنا فیڈ بیک ضرور دیتے ہیں۔

جزاکم اللہ خیرا
جوابات میں سب سے زیادہ جن دو سوالوں پر اختلاف ہوا وہ یہ کہ اہل کتاب اسے اپنے بیٹوں کی طرح پہچانتے ہیں تو اسے سے مراد کعبہ ہے یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا قرآن مجید۔دوسرا سوال جو اہم تھا وہ رخ س متعلق تھا کہ رخ سے کیا مراد ہے۔ اس پر میں آپ سب کی آراء کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی طالب علمانہ رائے رکھتا ہوں ۔
سوالات
1۔ آیت 145 میں ہے کہ
تم ان اہل کتاب کے پاس خواہ کوئی نشانی لے آؤ ، ممکن نہیں کہ یہ تمہارے قبلے کی پیروی کرنے لگیں
لیکن ہم جانتے ہیں کہ اہل کتاب میں سے بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا اور مسلمانوں ہی کے قبلے کی پیروی کی۔ تو کیا یہاں کیا قرآن کی اس آیت میں اور حقیقت میں تضاد نہیں ؟
جواب: جی کم و بیش سب نے ہی متفقہ طور پر بیان کیا کہ یہاں مراد و اہل کتاب ہیں جنہوں نے آخری درجے میں جانتے بوجھتے مخالفت کا تہیہ کرلیا تھا۔ اس آیت کی تائید تاریخ کرتی ہے کہ یہود کے قبائل بنونضیر نے بالخصوص خود کو قتل کروانا اور جلاوطن کرلینا پسند کرلیا لیکن اسلام نہ لائے۔ تو یہاں اشار ہ انہی یہود کی جانب تھا جنہوں نے سب کچھ جاننے کے باوجود اسلام نہ لانا تھا اور نہ وہ لائے۔ تو یہ آیت ایک سچی حقیقت ہے۔
2۔ آیت 146 میں بیان ہوتا ہے:
جِن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے ، وہ اسے ایسا پہچانتے ہیں، جیسا اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں،مگر ان میں سے ایک گروہ جانتے بوجھتے حق کو چھپا رہا ہے۔
یہاں "اسے "سے مراد کیا ہے یعنی کس کو بیٹوں کی طرح پہنچانتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو، کعبے کو یا قرآن کو؟ مولانا مودودی نے ” اسے ” سے مراد کعبہ لیا ہے یعنی وہ کعبے کو اس طرح پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو۔ آپ کا کیا خیال ہے؟
جواب : یہاں ” اسے ” سے مراد میں تین آپشنز ہیں۔ تینوں کو لینے کا اپنا اپنا قرینہ ہے۔ طبری، قتادہ ، ربیع، ابن عباس، سدی، ابن زید اور جریح کے نزدیک ” اسے ” کی ضمیر سے مراد تحویل قبلہ ہے یعنی وہ کعبے کو اس طرح پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ (جامع البیان جلد ۲ صفحہ ۱۶)
مجاہد ، قتادہ ، زجاج ، تبریزی اور زمخشری کا کہنا ہے کہ یہاں اسے سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ اس قول کی تائید میں ایک شان نزول بھی بیان کی جاتی ہے جو صحت کے آخری معیار پر تو پوری نہیں اترتی لیکن حضرت عبداللہ ابن سلام جو یہودی تھے اور بعد میں اسلام لے آئے تھے ان کے رویے کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ آیت اہل کتاب میں سے ایمان لانے والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس سے مراد عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی ہیں یہ حضرات اپنی کتاب میں رسول اللہ کی صفات ، تعریف اور ان کی بعثت کے بارے میں اس طرح جانتے ہیں جس طرح ان کا کوئی آدمی اپنے بچے کو دوسرے بچوں کے درمیان پہچان لے۔ عبداللہ بن مسلم کا کہنا ہے کہ میں رسول اللہ کو اپنے بیٹے سے بھی زیادہ جانتا پہچانتا تھا۔ حضرت عمر بن خطاب نے ان سے کہا کہ اے ابن سلام یہ کیسے ہے کہ تم رسول اللہ کو سب سےز یادہ پہچانتے تھے تو انہوں نے جواب دیا کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد حق و یقین کے ساتھ خدا کے رسول ہیں اس طرح کی گواہی میں اپنے بیٹے کے بارے میں نہیں دے سکتا اس لیے کہ میں یہ نہیں جانتا کہ عورتوں نے کیا کیا۔ اس پر حضرت عمر نے ان سے کہا کہ اے ابن سلام اللہ تمہیں کامیاب کرے اور کامیابیوں کی توفیق دے۔(سیوطی )
جہاں تک میں نے اس پر غور کیا تو یہاں ” اسے ” کی ضمیر سے مراد ” حق ” یعنی ” ” سچ” ہے یعنی اہل کتاب اس حق یا سچ کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ حق مراد لینے سے دونوں ہی معنی ممکن ہیں یعنی اب اس حق میں کعبہ کا حکم بھی شامل ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل ہیں اور اگر قرآن مجید مراد لیا جائے تو وہ بھی شامل ہے۔ اس کی تائید اگلی آیت سے ہوتی ہے یہ ایک قطعی سچا حکم ہے۔
3۔ آیت 147 میں ہے کہ
یہ قطعیِ ایک امرِ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے ، لہٰذا اس کے متعلق تم ہرگز کسی شک میں نہ پڑو ۔
یہاں حق سے کیا مراد ہے نیز کیا حق صرف مذہبی معنی میں ہی ہوتا ہے یا دنیاوی معنوں میں بھی حق اور باطل کا معاملہ ہوتا ہے؟
یہاں حق سے مراد کعبے کی تحویل کا حکم ہے کہ جو قبلے کو تبدیل کرنے کا حکم دیا گیا یہی حق ہے اور اہل کتاب اگر کوئی پروپیگنڈا کریں تو اس سے تم شک میں مبتلا نہ ہوجانا۔
جہاں تک دوسرے حصے کا تعلق ہے تو میری رائے میں حق صرف مذہبی معنوں میں استعمال نہیں ہوتا۔ حق کے غلبے کا تعلق صرف مذہبی معاملات ہی سے نہیں بلکہ سیاسی، سماجی، معاشی، سائنسی یا زندگی ے تمام شعبوں سے ہے۔اللہ کی سنت حق کے غلبے کے لحاظ سے پیغمبروں کے معاملے میں تو بالکل واضح ہے۔ البتہ باقی شعبوں میں بھی اس غلبے کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔
مثال کے طور پر ایک سائنسدان قانون ثقل (Gravitational Law) کو ایک حق یعنی سچائی کے طور پر مانتا ہے۔ نہ صرف سائنسدان بلکہ تمام انسان یہ بات جانتے اور مانتے ہیں کہ زمین میں ایک کشش پائی جاتی جو چیزوں کو نیچے کی جانب کھینچتی ہے۔ اب اگر کوئی شخص کشش ثقل کے قانون کو نہ مانے یا اسے ماننے میں کوئی غلط فہمی ہوجائے اور اونچی بلڈنگ سے چھلانگ لگادے یا غلطی سے گر جائے تو اس نے ایک حق کا انکار کیا ۔اس انکار کی سزا اس کے زخمی ہونے یا موت کی صورت میں نکلتی ہے۔دوسری جانب وہ لوگ جو اس قانون ثقل کی پاسداری کرتے ہیں، انہیں اس حق کو ماننے کا انعام یہ ملتا ہے کہ و ہ باآسانی حرکت کرتے ہیں اور نت نئی چیزیں ایجاد کرکے فضاؤں تک کو مسخر کرلیتے ہیں۔
یہی معاملہ معاشی قوانین کا بھی ہے۔ قانون طلب ( Law of Demand ) یہ بیان کرتا ہے کہ کسی شے کی قیمت میں اضافے سے اس شے کی طلب یا ڈیمانڈ کم ہوجاتی ہے۔ چنانچہ اگر کوئی بیچنے والا اپنی شے کی قیمت میں بے پناہ اضافہ کرلے تو اس نے ایک معاشی حقیقت یا سچائی کا انکار کیا اور اس کی خلاف ورزی کی۔ نتیجے کے طور پر اس شے کی طلب کم ہوکر اس کی فروخت یعنی سیل اور پرافٹ میں عمومی حالات میں کمی آجائے گی۔ دوسری جانب وہ بیچنے والا فائدہ میں رہتا ہے جس نے اس قانون طلب کو مد نظر رکھ کر قیمتوں کو تعین کیا ۔
یہی حق باطل کا اصول سماجی میدان میں بھی کارفرما ہے۔کسی شخص کو قتل کرنا سماجی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ کوئی شخص کسی کو جانتے بوجھتے غیر قانونی طور پر قتل کرتا ہے تو وہ اس سماجی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ لہٰذاوہ اس حق کی خلاف ورزی پر سزا کا مستحق ہے۔ عین ممکن ہے یہ سزا اسے اسی دنیا میں مل جائے۔ اور اگر اس دنیا میں نہ پائے تو دوسری دنیا میں وہ انکار حق کی سزا بھگتتا ہے۔
یہی معاملہ مذہبی حق کا بھی ہے۔ اگر ایک شخص جانتے بوجھتے پیغمبر کا انکار کرتا ہے تو وہ حق کا انکار کررہا ہے۔ چنانچہ ایک مخصوص مدت کے بعد انکار حق کی پاداش میں خدائی قانون حرکت میں آتا ہے اور اسی دنیا میں پیغمبر کے انکار کرنے والے مخاطبین کا قلع قمع کردیا جاتا ہے۔ البتہ پیغمبر کی غیر موجودگی میں انکار کرنے والوں کی سزا دوسری دنیا تک موخر کردی جاتی ہے۔ دوسری جانب پیغمبر پر ایمان لانے والوں کو انعام و اکرام سے نوازا جاتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ حق کا تعلق زندگی کے ہر شعبے سے ہے۔ اس کوماننے کی صورت میں قانون جزا اور اس کی خلا ف ورزی پر سزا کا قانون حرکت میں آجاتا ہے۔ یہ جزا و سزا اسی دنیا یا دوسری دنیا میں ظہور پذیر ہوجاتی ہے۔اس کی تفصیل میرے مقالے ” الحق ” میں دیکھی جاسکتی ہے جو عنقریب شائع ہوجائے گا۔

4۔ آیت 144 میں قبلے کو بدلنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ تو پھر آیت 149 اور 150 میں دوبارہ مسجدالحرام کی جانب رخ کرنے کا کیوں کہا جارہا ہے؟
جواب : آیت ۱۴۴ میں حالت حضر یعنی قیام میں اپنا رخ کعبے کی جانب کرنے کا حکم ہے۔ لیکن یہود نے بعد میں یہ کیا تھا کہ وہ سفر میں اپنا رخ بیت المقدس کی بجائے جہاں چاہیں کرلینا چاہتے تھے۔ تو آیت ۱۴۹ اور ۱۵۰ میں حالت سفر میں بھی رخ کعبہ کی جانب کرنے کا حکم دیا گیا۔
5۔ آیت 148 میں کہا جارہا ہے کہ
ہر ایک کے لیے ایک رخ ہے ، جس کی طرف وہ مڑتا ہے
یہاں رخ سے مراد کیا ہے؟
اگر اس آیت کو پورا دیکھیں تو بتایا جارہا ہے
وَلِكُلٍّ وِّجْهَةٌ ھُوَ مُوَلِّيْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِ ڲ اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ١٤٨؁
ہر ایک کے لیے ایک رخ ہے ، جس کی طرف وہ مڑتا ہے ۔ پس تم بھلائیوں کی طرف سبقت کرو ۔ جہاں بھی تم ہو گے ، اللہ تمہیں پا لے گا۔ اس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ۔
یہاں رخ سے مراد شاکلہ یعنی طریقہ ہے۔ یہ مفہوم سورہ بنی اسرائل کی آیت ۸۴ میں آیا ہے کہ
قُلْ كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰي شَاكِلَتِهٖ ۭ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِيْلًا 84؀ۧ
اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) ، ان لوگوں سے کہہ دو کہ” ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کر رہا ہے، اب یہ تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ سیدھی راہ پر کون ہے۔”
تو اس آیت کا مفہوم یہ ہوا کہ ہر شخص کی زندگی کسی خاص رخ پر ہوتی ہے، کوئی مادیت پرستی کی جانب رخ کیے ہوئے ہے، کوئی ہٹ دھرمی کو وتیرہ بنائے ہوئے ہے، کوئی بیت المقدس کے ظاہر ہی کو سب کچھ سمجھے ہوئے ہے تو تم بھی کہیں کعبے کی جانب رخ کو سب کچھ نہ سمجھ لینا۔ اصل طریقہ ظاہرپرستی نہیں بلکہ حق پرستی ہے۔ ہر شخص اپنے مزاج کے مطابق رخ کرتا اور زندگی کی ڈائریکشن متعین کرتا ہے تو تم بھلائیوں کی جانب سبقت لے جانے کا رخ کرو۔ یہی وہ حیات طیبہ ہے جو خدا کو مطلوب ہے۔ یہی وہ رخ ہے جو اس کو اصل میں پسند ہے۔ تو ہم سب اسرا کے ممبران سے بھی یہی مطلوب ہے کہ ہم اپنے ظاہر و باطن کو خدا کی جانب لگادیں، اس کی رضا کے لیے ساری توانائیاں لگادیں ۔ پھر وہ اس کا اجر ہمیں اتنا دے گا کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ جزاکم اللہ خیرا

جوابات ختم ۔
نیچے سیشن ۱۴ کی آیات اور ان کا ترجمہ ہے
قَدْ نَرٰى تَـقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاۗءِ ۚ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىھَا ۠فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۭوَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ شَطْرَهٗ ۭ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَـقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ ۭ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُوْنَ ١٤٤؁
وَلَىِٕنْ اَتَيْتَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰيَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ ۚ وَمَآ اَنْتَ بِتَابِــعٍ قِبْلَتَهُمْ ۚ وَمَا بَعْضُهُمْ بِتَابِــعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ ۭ وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَاۗءَھُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙاِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ ١٤٥؁ۘ
اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاۗءَھُمْ ۭ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنْهُمْ لَيَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ ١٤٦؀۩
اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ ١٤٧؁ۧ
وَلِكُلٍّ وِّجْهَةٌ ھُوَ مُوَلِّيْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِ ڲ اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ١٤٨؁
وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۭ وَاِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ ۭ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ١٤٩؁
وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۭ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ شَطْرَهٗ ۙ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّــةٌ ڎ اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ ۤ فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَاخْشَوْنِيْ ۤ وَلِاُتِمَّ نِعْمَتِىْ عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ ١٥٠؀ڒ
كَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ ١٥١؀ړ
ترجمہ :
آیت 144:
یہ تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں ۔ لو، ہم اسی قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں، جسے تم پسند کرتے ہو ۔ مسجد حرام کی طرف رخ پھیر دو ۔ اب جہاں کہیں تم ہو ، اسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرو ۔ یہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی تھی ، خوب جانتے ہیں کہ یہ ان کے رب ہی کی طرف سے ہے اور برحق ہے، مگر اس کے باوجود جو کچھ یہ کر رہے ہیں، اللہ اس سے غافل نہیں ہے۔
آیت 145:
تم ان اہل کتاب کے پاس خواہ کوئی نشانی لے آؤ ، ممکن نہیں کہ یہ تمہارے قبلے کی پیروی کرنے لگیں، اور نہ تمہارے لیے یہ ممکن ہے کہ ان کے قبلے کی پیروی کرو، اور ان میں سے کوئی گروہ بھی دوسرے کے قبلے کی پیروی کے لیے تیار نہیں، اور اگر تم نے اس علم کے بعد ، جو تمہارے پاس آچکا ہے ، ان کی خواہشات کی پیروی کی ، تو یقیناً تمہارا شمار ظالموں میں ہوگا۔
آیت 146
جِن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے ، وہ اسے ایسا پہچانتے ہیں، جیسا اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں،مگر ان میں سے ایک گروہ جانتے بوجھتے حق کو چھپا رہا ہے۔
آیت 147
یہ قطعیِ ایک امرِ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے ، لہٰذا اس کے متعلق تم ہرگز کسی شک میں نہ پڑو ۔
آیت 148
ہر ایک کے لیے ایک رخ ہے ، جس کی طرف وہ مڑتا ہے ۔ پس تم بھلائیوں کی طرف سبقت کرو ۔ جہاں بھی تم ہو گے ، اللہ تمہیں پا لے گا۔ اس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ۔
آیت 149
تمہارا گزر جس مقام سے بھی ہو ، وہیں سے اپنا رخ﴿نماز کے وقت﴾ مسجد حرام کی طرف پھیر دو، کیونکہ یہ تمہارے رب کا بالکل برحق فیصلہ ہے اور اللہ تم لوگوں کے اعمال سے بے خبر نہیں ہے ۔
آیت 150
اور جہاں سے بھی تمہارا گزر ہو ، اپنا رخ مسجد حرام ہی کی طرف پھیراکرو ، اور جہاں بھی تم ہو، اسی کی طرف منہ کرکے نماز پڑھو تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجّت نہ ملے ۔ہاں جو ظالم ہیں ، ان کی زبان کسی حال میں بند نہ ہوگی۔ تو ان سے تم نہ ڈرو ، بلکہ مجھ سے ڈرو ۔ اور اس لیے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کردوں اور اس توقع پر کہ میرے اس حکم کی پیروی سے تم اسی طرح فلاح کا راستہ پاؤ گے۔
آیت 151
جس طرح ﴿تمہیں اس چیز سے فلاح نصیب ہوئی کہ ﴾ میں نے تمہارے درمیان خود تم میں سے ایک رسول بھیجا ، جو تمہیں میری آیات سناتا ہے ، تمہارے زندگیوں کو سنوارتا ہے، تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے ، اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے ، جو تم نہ جانتے تھے ۔
سوالات
1۔ آیت 145 میں ہے کہ
تم ان اہل کتاب کے پاس خواہ کوئی نشانی لے آؤ ، ممکن نہیں کہ یہ تمہارے قبلے کی پیروی کرنے لگیں
لیکن ہم جانتے ہیں کہ اہل کتاب میں سے بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا اور مسلمانوں ہی کے قبلے کی پیروی کی۔ تو کیا یہاں کیا قرآن کی اس آیت میں اور حقیقت میں تضاد نہیں ؟
2۔ آیت 146 میں بیان ہوتا ہے:
جِن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے ، وہ اسے ایسا پہچانتے ہیں، جیسا اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں،مگر ان میں سے ایک گروہ جانتے بوجھتے حق کو چھپا رہا ہے۔
یہاں "اسے "سے مراد کیا ہے یعنی کس کو بیٹوں کی طرح پہنچانتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو، کعبے کو یا قرآن کو؟ مولانا مودودی نے ” اسے ” سے مراد کعبہ لیا ہے یعنی وہ کعبے کو اس طرح پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو۔ آپ کا کیا خیال ہے؟
3۔ آیت 147 میں ہے کہ
یہ قطعیِ ایک امرِ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے ، لہٰذا اس کے متعلق تم ہرگز کسی شک میں نہ پڑو ۔
یہاں حق سے کیا مراد ہے نیز کیا حق صرف مذہبی معنی میں ہی ہوتا ہے یا دنیاوی معنوں میں بھی حق اور باطل کا معاملہ ہوتا ہے؟
4۔ آیت 144 میں قبلے کو بدلنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ تو پھر آیت 149 اور 150 میں دوبارہ مسجدالحرام کی جانب رخ کرنے کا کیوں کہا جارہا ہے؟
5۔ آیت 148 میں کہا جارہا ہے کہ
ہر ایک کے لیے ایک رخ ہے ، جس کی طرف وہ مڑتا ہے
یہاں رخ سے مراد کیا ہے؟
درخواست کرتا ہوں کہ جوابات اگلے سنڈے یعنی 15 جنوری تک عنایت کردیجے
ڈاکٹر محمد عقیل
8 جنوری 2017

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s