فیصلہ سازی


فیصلہ سازی
Decision Making
ایک لطیفہ ہے کہ ایک ڈرائیور کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ اس نے پچیس لوگوں کو اپنی بس تلے کچل دیا تھا۔ اس سے پولیس آفیسر سے پوچھا:
"آخر تم نے کس طرح پچیس لوگوں پر گاڑی چڑھادی حالانکہ تم

دوسری طرف بھی گاڑی کا رخ موڑ سکتے تھے؟”
” سر جی ! میری گاڑی کے بریک فیل ہوچکے تھے میرے دائیں جانب بارات تھی اور بائیں جانب صرف دو افراد ۔ میں نے دو افراد کی جانب گاڑی موڑ لی ۔ ”
"ہاں لیکن ایکسڈنٹ میں تو پورے پچیس افراد ہلاک ہوگئے؟” پولیس آفیسر نے غصے سے کہا۔
” جی جناب ، جب میں نے بس کو دو آدمیوں کی جانب لے جانے کا فیصلہ کیا توسارے باراتی ا ن دو آدمیوں میں گھس گئے۔ ”
اس لطیفے میں ایک پیغام پوشیدہ ہے اور وہ یہ کہ ہمیں اپنی زندگی میں فیصلہ نہیں کرنا بلکہ درست فیصلہ کرنا چاہئے۔ ہم سب اپنی زندگی کے مینجر ہیں۔ ہم ہر دوسرے لمحے جو کام کررہے ہیں وہ فیصلہ سازی ہے۔ فیصلہ کرنے کا عمل ایک ڈرائیور ہی نے نہیں، ایک ڈاکٹر، انجنئیر، قانون دان، طالب علم، استاد ، مرد اور عورت ہر ایک کو کرنا پڑتا ہے۔ ہم سب کو اپنے کیرئیر، جاب ، شادی بیاہ جیسے اہم فیصلہ کرنا ہوتے ہیں۔ اجتماعی سطح پر حکومتیں بین الاقوامی سطح پر فیصلے کررہی ہوتی ہیں۔
درست فیصلہ کی اس اہمیت کے باوجود اس کے باوجود ہم میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے کہ فیصلہ سازی کس طرح کی جاتی ہے۔ چنانچہ ہماری زندگی کے اکثر فیصلے سائنسی اصولوں کی بجائے جذبات، تعصبات، رغبات اور اٹکل بچو بنیادوں پر ہوتے ہیں۔ اس کے اثرات ہماری زندگی پر بہت دور رس مرتب ہوتے ہیں۔
فیصلہ سازی کے مراحل
فیصلے کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک روزمرہ کے فیصلے اور دوسرے اہم فیصلے۔اہم فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کرنے ہوتے ہیں ۔ ذیل میں ہم فیصلہ سازی کے سائنسی طریقے کو ایک کیس اسٹڈی کے ذریعے بیان کررہے ہیں۔ اس کے بعد کچھ سوالات ہیں۔ جن کا آپ سے جواب مطلوب ہے۔
۱۔ مسئلہ یا موقع کو بیان کریں
سب سے پہلے ہمیں اس مسئلے یا موقع کو پہچاننا اور بیان کرنا ہے جس کے بارے میں ہم فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک طالب علم کہ لیے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کس پیشے کو اختیار کرے، ایک خاتون کو آئے ہوئے کئی رشتوں میں سے کسی ایک کو منتخب کرنا ہے، کسی نے کوئی جاب تبدیل کرنی ہے وغیرہ۔ تو سب سے پہلے اس موقع یا مسئلہ کو بیان کریں جس پر آپ نے فیصلہ کرنا ہے۔
مثال :مثال کے طور پر ایک طالب علم نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ مستقبل میں کیا تعلیم حاصل کرے کہ ایک موزوں پیشہ اپناسکے۔
۲۔ معلومات جمع کریں
اگلا مرحلہ معلومات اکھٹی کرنے کے ہوتا ہے۔ ہمیں جو بھی معاملہ درپیش ہے اس کے متعلق معلومات حاصل کی جائیں۔ لیکن معلومات حاصل کرنے سے قبل یہ بھی پتا ہونا چاہئے کہ مطلوبہ علم کہاں سے حاصل ہوگا۔ آج گھر میں کیا پکے گا ؟ اس فیصلہ کا ڈیٹا اسٹیٹ بینک سے حاصل کیا جائے تو ظاہر ہے یہ ایک لطیفہ ہی ہوگا۔ اسی طرح پچھلے پچاس سالوں میں پاکستان میں کیا شرح سود رہی اس کو اگر گھر میں بیٹھی ہوئی دادی اماں سے پوچھا جائے تو دوسرا لطیفہ۔
مثال: اوپر والی مثال میں ایک طالب علم اپنے کیرئیر کا انتخاب کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے معلومات کے ذرائع اس کے والدین، اساتذہ، پروفشنل بھائی بہن یا رشتہ دار یا کیرئیر کاؤنسلنگ کے ادارے ہوسکتے ہیں۔
۳۔ معلومات کا جائزہ لیں
اگلا مرحلہ صورت حال کا جائزہ لینا ہے۔ یعنی یہ دیکھنا ہے کہ اس مسئلے کے لیے کیا کیا آپشنز آ پ کے پاس موجود ہیں۔ اس سلسلے میں حاصل کردہ معلومات کو سمجھنا اور ان کی تشریح کرنا بہت اہم ہے۔
مثال: ہماری مثال میں ایک طالب علم معلومات حاصل کرتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ اس کے پاس پاکستان میں جو پیشے موجود ہیں ان میں ڈاکٹر، انجنئیر، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، ایڈمنسٹریٹر، ٹیچنگ، وکالت وغیرہ جیسے پیشے موجود ہیں۔ لیکن یہاں ان آپشنز کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ مثال کے طور پر ایک طالب علم کے ذہن میں یہ واضح ہی نہیں کہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کیا کام کرتا ہے ، یا اسے پتا ہی نہیں کہ وکالت کیا ہوتی ہے تو وہ ان آپشنز کو غلط سمجھے گا اور اس سے نتیجہ بھی غلط نکلے گا۔ تو معلومات کو سمجھنا اور اس کی درست تشریح کرنا بہت اہم ہے۔
۴۔ متبادل آپشنز سیٹ کریں
جب معلومات اچھی طرح سمجھ آجائے تو ہم اس قابل ہوجاتے ہیں کہ اپنے لیے آپشنز سیٹ کرسکیں ۔ اس مرحلے میں آپنشز کا انتخاب نہیں کرنا بلکہ زیادہ سے زیادہ آپشنز لکھے جائیں ۔ اگر معلومات کی کمی یا کسی اور بنا پر کوئی آپشن نہ بیان کیا گیا تو ممکن ہے کہ فیصلہ ہی غلط ہوجائے۔
مثال: ہماری مثال میں ایک طالب علم معلومات اکھٹی کرنے کے بعد اپنے لیے جو آپشنز لکھتا ہے وہ یہ ہیں۔ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، ایڈمنسٹریٹر، بینکر، ٹیچنگ ۔ البتہ وہ ڈاکٹر اور انجنئیر کے آپشنز کو نکال دیتا ہے کیونکہ اس نے انٹرمیڈیٹ کامرس میں کیا ہے جس کے بعد یہ دونوں شعبے اختیار نہیں کیے جاسکتے۔
۵۔ آپشنز کا تجزیہ کریں
اس مرحلے میں ایک ایک آپشن کا جائزہ لیا جائے گا کہ ہمارے حالات کے مطابق وہ آپشن کس حد تک موزوں ہے یا نہیں۔ اس سلسلے میں ایک ایک آپشن کا تجزیہ کرکے اس کے مثبت اور منفی پوائینٹس کو دیکھا جائے گا۔
مثال:
یہاں وہ طالب علم اس طرح تجزیہ کرتا ہے :
۱۔ بنک کی جاب گوکہ مطلقا حرام نہیں لیکن وہ احتیاط کے پیش نظر اس شعبے میں نہیں جانا چاہتا۔
۲۔ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی جاب بہت پرکشش ہے اور اس میں تنخواہ لاکھوں میں ملتی ہے ۔نیز اس سے ایڈمنسٹریٹر کی جاب بھی مل سکتی ہے۔
۳۔ ٹیچنگ میں نہ تو اتنا پیسہ ہے اور نہ ہی اسٹیٹس۔ اس لیے وہ اس شعبے میں بھی شاید نہ چل پائے۔
۴۔ ایڈمنسٹریٹر کا آپشن اچھا معلوم ہورہا ہے کیونکہ اس میں کچھ انتظامی صلاحیت بھی ہے اور اسے دلچسپی بھی ہے ۔ نیز آج کل ایم بی اے آسانی سے ہوجاتا ہے جس کے بعد یہ جاب بلاکسی پریشانی کے مل سکتی ہے۔
۶۔ سب سے اچھا آپشن منتخب کریں
اوپر دیے گئے تجزیے کے مطابق بہترین آپشن وہ ہے جس ہمارے حالات کے تحت سب سے زیادہ مثبت پہلو رکھے اور سب سے کم منفی پہلو۔
مثال: چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور ایم بی اے کرنے کے کے دو آپشنز بہتر لگ رہے ہیں۔ اب ان دو میں سے کسی ایک کا فیصلہ کرنا ہے۔ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بننا یقینی طور پر ایک محفوظ معاشی مستقبل کی ضمانت ہے ۔ طالب علم نے جب جائزہ لیا تو علم ہوا کہ سی اے کرنے کے لیے اکاؤنٹنگ کا علم ، صلاحیت اور رحجان ہونا ضروری ہے ورنہ چارٹرڈ اکاونٹنسی کا امتحان برسوں محنت کے باوجود پاس نہیں ہوتا۔وہ یہ دیکھتا ہے کہ سی اے کرنے کی صلاحیت اور رحجان اس میں موجود نہیں ت تو وہ ایم بی اے کرکے ایڈمنسٹریٹر بننے کے روٹ کو اختیار کرلیتا ہے۔
۷۔ فیصلہ کریں اور عمل کریں
یہاں تجزیہ کے بعد فیصلہ کرلینا ہے۔ فیصلہ کرنا صرف بہترین آپشن کو منتخب کرنے کا نام ہی نہیں بلکہ اس فیصلہ پر عمل درآمد کے طریقہ کار دستیاب وسائل میں طے کرنا بھی شامل ہے۔
مثال:اوپر بیان کیے گئے تجزیہ کے بعد وہ ایم بی اے کرنے کا فیصلہ کرلیتا ہے۔ اور اس کا طریقہ کار وہ یہ طے کرتا ہے کہ سب سے پہلے ان یونی ورسٹیوں کو دیکھے جہاں ایم بی اے ہوتا ہے۔ اس کے بعد ان میں سے بہترین یونی ورسٹی کو اپنے حالات کے لحاظ سے منتخب کرلے۔ اس فیصلے کہ لیے پہلے اسٹیپ سے دوبارہ شروع کرنا ہوگا۔
۸۔ اللہ پر توکل
آخری مرحلہ بہت اہم ہے۔ اگر کسی شخص نے اوپر بیان کیے گئے مراحل پورے نہیں کیے اور اس نے محض توکل کرکے کوئی اہم فیصلہ کرڈالا تو یہ توکل نہیں بلکہ حماقت ہے۔ اپنے حصے کا کام کیے بنا توکل کا تصور نہ تو قرآن دیتا ہے اور ہی سنت رسول سے ثابت ہے۔
اسی طرح جب کسی شخص نے اپنے حصے کا کام کرلیا اور اللہ سے مدد طلب نہ کی تو یہ تکبر ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ایک شخص نے اپنے حصے کا کام کرلیا تو خدا کی کیا ضرورت؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم کسی کام کو کرنے کے صرف وہی پہلو مد نظر رکھ سکتے ہیں جو ہم کسی حد تک کنٹرو ل کرسکتے ہیں۔ لیکن ہمارے فیصلوں پر بے شمار ایسے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں کہ نہیں ہم قابو کرہی نہیں سکتے۔ ان عوامل کو موافق بنانے کے لیے اللہ سے دعا کی جاتی اور اس پر بھروسہ رکھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر طالب علم نے ایم بی اے بھی کرلیا اور اچھے جی پی اے سے کرلیا۔ لیکن اچانک اس کی صحت اتنی خراب ہوگئی کہ اس کا ایم بی اے کرنا نہ کرنا برابر ہوگیا۔ صحت کی خرابی وہ عنصر ہے جو وہ قابو نہیں کرسکتا تھا جس کی بنا پر اس کی ساری پلاننگ ناکام ہوگئی۔ اسی کے لیے دعا کی جاتی اور خدا سے مدد طلب کی جاتی ہے۔
پروفیسر محمد عقیل

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s