سورہ المنافقون کا خلاصہ


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورہ المنافقون کا خلاصہ
ڈاکٹر محمد عقیل
جب یہ دھوکے باز منافق تمہاری محفلوں میں آتے ہیں تو تمہاری ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے بڑھ چڑھ کر گواہی دیتے ہیں آپ اللہ کے رسول ہیں۔ حالانکہ تمہاری رسالت ان کی گواہی کی محتاج نہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ تم اس کے رسول ہو۔ ان کی جھوٹی گواہی کے جواب میں اللہ بھی گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق جھوٹے ہیں اور یہ تمہیں دل سے رسول نہیں مانتے

۔
یہ اپنے غلط کرتوتوں کو صحیح ثابت کرنے کے لیے جھوٹی قسمیں کھاتے اور غلط سلط گواہی دیتے ہیں تاکہ اللہ کی سیدھی راہ سے لوگوں کو دھوکا دے کر بھٹکا دیں۔ انہیں پتا ہی نہیں کہ یہ کتنا برا کام کررہے ہیں جو ان کے اپنے لیے بھی تباہ کن ہے۔
یہ ایسا اس لیے کررہے ہیں کہ پہلے تو یہ بحالت مجبوری ایمان لائے ۔اور جب ان کو اس ایمان کے تقاضے پورا کرنے کو کہا گیا تو انکار کردیا۔اس سے ان کے ظاہر وباطن میں تضاد پیدا ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ ان کے گناہوں کی سیاہی نے ان کے دل کو پوری طرح گھیر لیا اور اس پر مہر لگ گئی۔ اب یہ حق کو سننے ، دیکھنے، جاننے ور ماننے کی صلاحیت کھوبیٹھے ہیں۔
ان کا ظاہر ی حال تو ایسا ہے کہ تم ان کی شکل و صورت ، جسم اورچال ڈھال دیکھو تو شاندارشخصیت کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ جاؤ۔ اگر یہ لوگ بولنا شروع کریں تو ان کی لفاظی اور جوش خطابت کو سحر زدہ ہوکر سنتے ہی چلے جاؤ۔ لیکن یہ تو لکڑی پر بنے نقش و نگار کی مانند ہیں جو دیکھنے میں نہایت حسین ہیں لیکن اندر سے بے روح اور بے جان ۔ یہ خوف کے مارے تمہاری بات چیت کرنے تک کو سمجھتے ہیں ان کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں ۔ ان کی ظاہری شخصیت اور باتوں سے متاثر نہ ہوجانا، یہی اصلی دشمن ہیں، تو ان سے محتاط رہ کر بچتے رہنا اور ہوشیا رہنا۔عنقریب اللہ انہیں ہلاک کرے گا خواہ یہ بھاگ کر کہیں بھی چلے جائیں۔
ان کے نفاق کا اصل سبب تکبر ہے۔ جب ان سے کہاجاتا ہے کہ چلو جو ہوا سو ہوا، اب ماضی کو بھولو اور توبہ کرنے کے لیے چلو اللہ کے رسول کے پاس تاکہ وہ تمہارے لیے اللہ سے مغفرت طلب کریں تو وہ تکبر سے اپنا سرجھٹکتے ہیں اور تم دیکھتے ہو کہ وہ معافی مانگنے سے رک جاتے ہیں کیونکہ و ہ اپنی اکڑ اور جھوٹی انا کو نہیں چھوڑنا چاہتے۔
اب وہ جس مقام پر پہنچ گئے ہیں تو اے نبی تم ان کے لیے مغفرت کی دعا کرو یا نہ کرو ان کے لیے برابر ہے اور اللہ بھی ان معافی نہ مانگنے والوں کو ہرگز معاف نہیں کرے گا کیونکہ اللہ اس قسم کے متکبر اور انا پرستوں کو زبردستی ہدایت نہیں دیتا۔
ان کے تکبر کا سبب مال ، اولاد اور اسٹیٹس ہیں۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ زمین کے خزانوں کے مالک یہی ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ رسول کے ساتھیوں پر خرچ کرنا اور ان کو مالی امداد دینا بند کردو تاکہ یہ لوگ غریب اور نادار ہوکر رہ جائیں اور ہماری حکومت دوبارہ مدینے پر قائم ہو جائے۔یہ بے وقوف نہیں جانتے کہ زمین اور آسمانوں کی تمام دولت اور وسائل کا اصل مالک تو اللہ ہے ۔ یہ خود کو ہی عزت دار سمجھتے اور تمہیں حقیر گردانتے ہیں۔ تو یہ جنگ سے واپسی پر اپنے ساتھیوں سے کہتے ہیں کہ "اب ہم ہی مدینے میں رہیں گے کیونکہ ہم عزت والے ہیں اور اب ہم ان حقیر و نادار مسلمانوں کو نکا ل باہر کریں گے۔” یہ نادان جان ہی نہیں سکتے کہ عزت کا اصل مالک تو اللہ ہے اور اس نے یہ عزت اپنے رسول اور اپنے اوپر ایمان رکھنے والوں کے لیے خاص کررکھی ہے۔
تو اے(آج کے ) مسلمانو، سن لو، ان منافقین کی گمراہی کی وجہ تکبر اور انا پرستی ہے اور یہ گھمنڈ ان میں مال ، اولاد اور وسائل کی کثرت کی بنا پر آیا ہے۔ تو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا شاندار مکان ، کار، بنک بیلنس، موبائل، کمپیوٹر ، لیپ ٹاپ، کپڑوں کی چمک دمک ، کھیت کھلیان، اعلی ڈگریاں، علم و فن کی مہارت،اولاد کی طاقت ، ماں باپ کی جائداد، بیوی یا شوہر کی شان و شوکت تمہیں خدا کی یاد سے غافل کردیں ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ سب کچھ تم کو اس پرفریب تکبر میں مبتلا کردیں کہ یہ سب کچھ تمہارا ہے۔ حالانکہ یہ سب کچھ خدا کا ہے جو اس نے تمہیں کچھ وقت کے لیے امانت کے طور پر دیا ہے۔ تو اگر تم نے یہ سمجھا تو تم بھی ان مدینے کے منافقین کی طرح نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجاوگے کہ ان کی دنیا بھی برباد ہوئی اورو آخرت بھی ہاتھ سے گئی۔
اس نفاق کے مرض سے اگر بچنا چاہتے ہو تو جو مال ہم نے علم ، صحت، وقت ، رقم یا کسی اور شکل میں تمہیں دیا ہے اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرواتنا خرچ کرو کہ اس کی محبت تمہارے دل سے نکل جائے۔ اور ہاں، جلد خرچ کرو اس سے قبل کہ موت آدھکمے اور تم یہ کہنے لگو کہ اے رب ، تو ہمیں اور مہلت دیتا تو ہم خرچ کردیتے۔ یاد رکھو جب موت کا وقت آتا ہے تو تو کسی کو مہلت نہیں دی جاتی اور اللہ جانتا ہے کہ تم موت سے پہلے کیا کیا کرتے رہے ۔

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s