مصیبت اور نعمت – سورہ الحدید کی روشنی میں


مصیبت اور نعمت – سورہ الحدید کی روشنی میں
ڈاکٹر محمد عقیل
سورہ الحدید کی چار آیات بہت خوبی سے انسانی کے امتحا ن میں اللہ کی جانب سے شامل کیے جانے والی مصیبتوں اور نعمتوں کے بارے میں بتاتی ہیں کہ یہ مصیبتیں کیوں نازل ہوتی ہیں اور نعمتیں کون دیتا ہے؟ ان مصیبتوں پر کیا رویہ ہونا چاہیےاور نعمتوں کی شکر گذاری کیسے کرنی چاہیے ۔ انسان کس طرح حیوانی سطح سے بلند ہوکر خد ا کا قرب حاصل کرسکتا ہے/ سورہ الحدید کی یہ

چار آیات کا مجموعہ آیت ۲۰ سے شروع ہوتا ہے اور آیت ۲۴ پر ختم ہوجاتا ہے۔
بیسیوں آیت میں انسانی زندگی کا لائف سائکل ڈسکس ہوا ہے۔انسانی زندگی کا پہلا اسٹیج لہو و لعب یعنی کھیل تماشے کا ہے۔ یہاں بچپن کی زندگی مراد ہے جس میں انسان بچے کی صورت میں ہوتا اور ہر قسم کی ذمہ داریوں سے بے نیاز ہوتا ہے۔ دوسرا اسٹیج زینت و تفاخر مرحلہ ہے یعنی جوانی کا دور۔ اب انسان میں ایک مقابلے کا رحجان پیدا ہوتا، وہ کیرئیر بناتا اور آگے بڑھنے کی جدوجہد کرتا ہے۔ تیسرا اسٹیج ادھیڑ عمر کا اسٹیج ہے جس میں عمومی طور جوانی کے مقابلے میں مال و الاد کی کثرت ہوتی ہے ۔ اس کے بعد بڑھاپا اور موت کا اسٹیج ہے جس کا ذکر نہیں کیا اور وہ حذف ہے البتہ اس کا ذکر آیت کے اگلے حصے سے واضح ہوجاتا ہے۔
انسانی زندگی کا یہ لائف سائکل بالکل نباتاتی اور حیوانی زندگی کے لائف سائیکل سے ملتا جلتا ہے۔اسی لیے اگلے حصے میں بتایا کہ انسانی زندگی کے ان چار مراحل کی مثال پودوں کی زندگی میں گذرنے والے اسٹیجز کے مشابہ ہے۔ جب بارش ہوتی ہے تو نباتات کی زندگی کا پہلا اسٹیج شروع ہوتا یعنی بیج سے کونپل پھوٹتی ہے۔چنانچہ کفار یعنی آخرت کی زندگی کا انکار کرنے والے دنیا پرست اس مادی ترقی کو ہی واحد حقیقت سمجھ کر بے خوش ہوتے ہیں۔ اس کے بعد یہ فصل لہلہاتی ہوئی کھیتی میں بدل جاتی ہے جو جوانی کی علامت ہے۔ اس کے بعد کھیتی پک کر زرد ہوجاتی ہے جو ادھیڑ پن کا اسٹیج ہے۔ آخر میں کھیتی کٹ جاتی ہے تو وہ بھس بن جاتی ہے یہ لائف سائکل کا آخری اسٹیج ہے۔
چنانچہ اس آیت کے پہلے سیٹ میں انسانی اور دوسرے سیٹ میں نباتاتی زندگی کا لائف سائکل بیان کرکے یہ واضح کردیا کہ دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ ایک پودا بھی انہی مراحل سے گذرتا ہے جس سے انسان ۔ لیکن یہ تو مادی زندگی ہے جس کا انجام محض چند دن کی جوانی کی خوشی اور پھر پودے نے تو ہمیشہ کے لیے فنا ہوجانا ہے لیکن تم نے نہیں۔ تمہارا انجام یا تو مادیت سے اوپر نہ اٹھنے کی بنا پر شدید عذاب ۔ اور اگر تم نے خود کو اس دھوکے کی پرکشش مادی دنیا سے بلند کرلیا تو اللہ کی مغفرت اور رضا تمہاری منتظر ہے۔چنانچہ اگر ابدی زندگی میں برے انجام سے بچنا ہے تو اس حیوانی سطح سے اوپر اٹھنا ہوگا۔
اگلی آیت میں یہ واضح کردیا کہ اگر اس مادی اور حیوانی سطح سے بلند ہوکر اٹھنا ہے ابدی زندگی اور ابدی جوانی و نعمت کے لیے بھاگ دوڑ کرنا ہوگی۔ اس مقصد کے لیے آخرت کی زندگی کو اصل مرکز بنانا ہوگا۔ تو پھر تم لوگ حیوانی سطح سے اوپر اٹھو اور دوڑو اس مغفرت اور جنت کی جانب جس کی وسعت زمین اور آسمانوں کے برابر ہے۔ یہ جنت ان لوگوں کے لیے ہے جو حق کی دعوت پانے کے بعد کے بعد اللہ پر ایمان لے آتے ہیں اور رسول پر یقین رکھتے ہیں۔ اور یہ اللہ کا وہ فضل ہے جو وہ اپنی حکمت سے اس کو دیتا ہے جو اس کا مستحق ہوتا ہے۔ یعنی حیوانی زندگی میں تو سب کو بلاتخصیص ملتا ہے یہاں انسان کو اس کے ایمان و عمل کے مطابق ملتا ہے۔
اگلی آیت میں ہے کہ جو آپڑنے والی پڑ جاتی ہے۔ یہاں لفظ ” اصاب ” استعمال ہوا ہے جس کا مطلب مصیبت نہیں بلکہ پڑجانے والی یا نازل ہوجانے والی ہے۔ یہاں پڑجانے والی سے مراد آسمان سے نازل ہونے والی یعنی من جانب اللہ کوئی بھی تدبیر ہوسکتی ہے۔ تو جب بھی کوئی پڑجانے والی مصیبت [یا نعمت ] آ پڑتی ہے تو خواہ وہ آسمانوں سے نازل ہوئی ہو یا زمین سے وارد ہوئی ہو یا تمہارے اپنے نفس میں ظاہر ہوئی ہو، یہ سب کچھ ان کے نزول سے پہلے ہی ایک کتاب میں لکھا ہوا ہےاور یہ اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔
یہاں اگر غور سے دیکھیں تو اللہ تعالی یہ فرمارہے ہیں کہ انسان جب حیوانی زندگی کے سائکل سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے تو اب اسے دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ جب تک وہ اپنی خواہشات کی رو میں پستیوں میں گرتا چلا گیا تو اسے کوئی دقت نہیں تھی کیونکہ اس نے خود کو پستیوں میں گرنے کے لیے چھوڑ رکھا تھا۔ لیکن جب وہ اس سطح سے اٹھنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے محنت کرنی پڑتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے قول اور ایمان کا ٹیسٹ بھی دینا پڑتا ہے۔ چنانچہ اس پر آسمان سے بھی مصیبتیں نازل ہوسکتی ہیں اور زمین سے بھی۔ یہ مصیبتیں یوں تو ہر ایک پر نازل ہوتی ہیں خواہ وہ مومن ہو یا غیر مومن۔ لیکن مومن کو یہ تسلی دی جارہی ہے کہ یہ وہ مصیبتیں ہیں جو مقرر ہیں اور اس میں انسان کا کوئی بہت زیادہ براہ راست کردار نہیں۔
جو مصیبتیں آسمان سے نازل ہوتی ہیں ان میں طوفان، بجلی کا گرنا ، شدید بارش، بے انتہا گرمی یا سردی، برفباری وغیرہ شامل ہیں۔ جبکہ وہ مصبیتیں جو زمین سے وارد ہوتی ہیں ان میں سیلاب، زلزلہ، وبا، قحط یا قدرت کی جانب سے کوئی بڑا اجتماعی فیصلہ ہوتا ہے ۔مصیبتوں کی تیسری قسم اجتماعی نہیں بلکہ انفرادی نوعیت کی ہوتی ہے۔ چنانچہ کسی عزیز کا فوت ہوجانا، کسی بیماری کا آجانا، کسی حادثے کا ہوجانا، کسی مصیبت میں پھنس جانا وغیرہ اس میں شامل ہیں۔
بہرحال مصیبتیں کسی بھی نوعیت کی ہوں، اصل سمجھنے کی بات یہ ہے کہ یہ وہ مصیبتوں کی وہ قسمیں ہیں جن کے نزول میں انسان کا کوئی براہ راست کردار نہیں ہوتا۔چنانچہ وہ مصیبتیں جو انسان کے اپنے اعمال کی بنا پر آتی ہیں وہ یہاں کسی طور زیر بحث نہیں۔
یہ معاملہ صرف مصبیتوں ہی کا نہیں بلکہ نعمتوں کا بھی ہے۔ یعنی یہ وہ براہ راست آسمان سے نازل ہونے والی نعمتیں یا زمین میں پید ا ہونے والے وسائل ہیں جو سرتاسر اللہ کی جانب سے آتے ہیں ۔یعنی جو مصیبتیں اور آلام اوپر بیان کیے گئے ہیں اگر ان کی نفی ہوجائے تو یہی ٹلنے والی مصیبت نعمت میں بدل جائے گی۔ مثال کے طور پر آسمان سے رحمت کی بارش کا ہونا ، پھلوں کا اگنا، فصل کا آنا، رزق کا بڑھ جانا، موسم کا موافق ہوجانا، زلزلہ ، سیلاب ، قحط اور بلاوّں کا ٹل جانا اور بیماریوں کا آنے سے پہلے ہی دور ہوجانا وہ نعمتیں ہیں جن میں انسان کا کوئی بالواسطہ رول نہیں۔
ان سب مصیبتوں اور نعمتوں کے بارے میں بتادیا کہ یہ سب کچھ پہلے ایک کتاب میں لکھا ہوا ہے اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کتاب کیا ہے؟ جدید سائنسی تحقیق کے بعد اس بات کو جزوی طور پر سمجھنا بہت آسان ہوگیا ہے۔ ہم آج جین کی تحقیق کو جانتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارے ڈی این اے کوڈ بہت کچھ لکھا ہوتا ہے۔ یہ وہ انفارمیشن کوڈ ہے جسے ہم کتاب کے ایک پہلو سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ ہمارے ڈین این اے میں لکھا ہوتا ہے کہ ہماری شکل ، صورت، رنگت ، قد وغیرہ کیا ہوگا؟ ہمیں کو ن کون سی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑے گا؟ اس کا مزاج ، عادات و اطوار کیسے ہونگے وغیرہ۔چنانچہ جب اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھا ہے تو ڈی این اے کوڈ اس عظیم کتاب کا حصہ ہے جو انسانی نفس سے متعلق تقدیریعنی پیمانے کو بیان کرتا ہے۔
اس عظیم کتاب یعنی کے کچھ حصے ایسے ہیں جس میں کائنات پر نازل ہونے والی مصیبتوں اور نعمتوں کے بارے میں لکھا ہوا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تقدیر کا تعلق ڈی این اے کی کوڈنگ سے ہو یا آسمان کے دیگر قوانین سے، انسان کا اخلاقی وجود اس تقدیر سے بالکل آزاد ہے۔ یعنی ڈی این کی کوئی کوڈنگ آج تک دریافت نہیں ہوئی کہ جس کی بنا پر انسان مجبور محض ہوگیا ہو کہ اس نے ہر صورت میں شر کرنا اور خیر سے گریز کرنا ہے۔ یعنی انسان کے لیے یہ تو مقرر کردیا گیا کہ اس کے ماں باپ کون ہونگے لیکن یہ مقرر نہیں کیا گیا کہ اس نے ایک برا انسان ہی بننا ہے۔
اب آگے کی آیت میں یہ بتایا کہ اللہ نے یہ بات تمہیں کیوں بتائی کہ یہ آسمانی مصیبتیں اور نعمتیں اللہ نے کیوں مقرر کرکھی ہیں۔ اس لیے کہ اگر کوئی اس نوعیت کی مصیبت تم پر نازل ہو تو اس پر تم مغموم و مایوس ہوکر ہی نہ بیٹھ جاوّ اور ہمت ہار بیٹھو۔ تمہیں سمجھنا چاہیے کہ یہ تو اس آزمائش کا لازمی حصہ ہے جو حیوانی سطح سے اٹھنے کے لیے لازمی طور پر کامیابی سے جھیلنی ہوتی ہے ۔ تو اب یہ مصیبت تم پر آسمان سے آئی ہے جس میں تمہار ا کوئی قصور نہیں لیکن یہ آزمائش ہے۔ اس پر صبر کرلو تو جنت کی شہریت کی درخواست دینے کے اہل بن جاوگے۔
جس طرح مصبیتیں آسمان سے آتی ہیں تو نعمتیں بھی آسمان ہی سے آتی ہیں۔ تو اگر تمہیں نعمتیں مل جائیں تو ان سبب بھی اپنی تدبیر، عقل ، ذہانت یا قابلیت نہ سمجھنا بلکہ انہیں بھی من جانب اللہ ہی ماننا۔ اس سے تمہیں حقیقت کا ادراک رہے گا ور تکبر نہیں پیدا ہوگا۔ اور اگر تکبر پید ا ہوگیا تو جنت میں داخلہ ممکن نہیں کیونکہ اللہ متکبر کو قطعا پسند نہیں کرتے۔
آگے ان متکبروں کی ایک اہم صفت بیا ن کردی کہ یہ لوگ چونکہ مال ، دولت، اولاد، جائدا د اور علم کے ملنے کی وجہ اپنی قابلیت سمجھتے ہیں تو پھر یہ اس نعمت کو بھی دبا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر یہ مال و دولت میں سے خرچ ہی نہیں کرتے کیونکہ یہ اسے اپنا حق سمجھتے ہیں، پھر یہ علم ملنے کے بعد لوگوں کو حقیر جانتے اور پوچھنے والے کی تحقیر کرتے اور اسے اپنا علم شئیر کرنے سے بلاوجہ گریز کرتے ہیں۔ اور چونکہ یہ سوسائیٹی کے بڑے لوگوں میں شمار ہوتے ہیں تو یہ اپنے رویے سے باقی لوگوں کے لیے بھی بخل اور کنجوسی او ر وسائل پر قابض ہونے کا رول ماڈل بنادیتے ہیں۔ حقیقت میں یہ لوگ پلٹ گئے ہیں دوبارہ اسی حیوانی زندگی کی جانب۔ تو یہ پلٹ جائیں تو خدا بھی ان حیوانی زندگی کے شوقین لوگوں سے بے نیاز ہے کیونکہ وہ تو پہلے ہی تمام اچھی صفات والا ہے اور وہ کسی کی اطاعت و عبادت کا محتاج نہیں۔
آیات کا ترجمہ ہے:
خوب جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل تماشا، زینت و آرائش، تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ جیسے بارش ہوئی تو اس کی نباتات نے کاشتکاروں کو خوش کردیا پھر وہ جوبن پر آتی ہے پھر تو اسے زرد پڑی ہوئی دیکھتا ہے۔ پھر (آخر کار) وہ بھُس بن جاتی ہے۔ جبکہ آخرت میں (ایسی غفلت کی زندگی کا بدلہ) سخت عذاب ہے۔ اور (ایمان والوں کے لئے) اللہ کی بخشش اور اس کی رضا ہے۔ اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سامان ہے۔
تم اپنے پروردگار کی مغفرت اور اس جنت کو حاصل کرنے کےلئے ایک دوسرے سے آگے نکل جاؤ جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کے برابر ہے۔ وہ ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
کوئی بھی مصیبت جو زمین میں آتی ہے یا خود تمہارے نفوس کو پہنچتی ہے، وہ ہمارے پیدا کرنے سے پہلے ہی ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے (اور) یہ بات بلاشبہ اللہ کے لئے آسان کام ہے
یہ اس لئے کہ جو کچھ تمہیں نہ مل سکے اس پر تم غم نہ کیا کرو اور جو کچھ اللہ تمہیں دے دے اس پر اترایا نہ کرو اور اللہ کسی بھی خود پسند اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا
جو خود بھی بخل کرتے اور لوگوں کو بخل کا حکم دیتے ہیں اور جو منہ موڑے تو اللہ تو ہے ہی بے نیاز اور اور وہ اپنی ذات میں محمود ہے۔
اِعْلَمُوْٓا اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّلَهْوٌ وَّزِيْنَةٌ وَّتَفَاخُرٌۢ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ ۭ كَمَثَلِ غَيْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ يَهِيْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُوْنُ حُطَامًا ۭوَفِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيْدٌ ۙ وَّمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانٌ ۭ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ 20؀
سَابِقُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ ۭ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ 21؀
مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِيْبَةٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِيْٓ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا ۭ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرٌ 22۝ښ
لِّكَيْلَا تَاْسَوْا عَلٰي مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوْا بِمَآ اٰتٰىكُمْ ۭ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُـــوْرِۨ 23۝ۙ
الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ وَيَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ 24؀

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s