روزہ ، رمضان اور قرآن


روزہ ، رمضان اور قرآن
ڈاکٹرمحمدعقیل
عام طور پر رمضان اور روزوں کے ذکر میں ہم مختلف لوگوں کی باتیں بیان کرتے ہیں کہ روزہ کا فلسفہ کیا ہے ؟ رمضان میں کیا کرنا چاہیے؟ تقوی کیا چیز ہے ؟ وغیرہ۔ ان تمام باتوں کی بنیاد اکثر اوقات قران و سنت ہی ہوتے ہیں۔ البتہ

آج ہم یہ دیکھیں گے کہ قرآن نے جب روزوں اور رمضان کو بیان کیا تو اس کی پریزنٹیشن کی ترتیب اور فوکس کیا تھا۔
رمضان اور روزوں کا سب سے تفصیلی بیان قرآن میں سورہ البقرہ کی آیات ۱۸۳ سے لے کر ۱۸۷ تک ہے۔ ان پانچ آیات میں تفصیل سے رمضان اور روزوں کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ان کی تفصیل یہ ہے۔
۱۔ سب سے پہلے یہ بتایا گیا کہ روزہ فرض کیے گئے اور یہ کوئی پہلی بار نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی روزے دیگر امتوں پر فرض کیے گئے ۔ یہ بتانے کا مقصدحوصلہ افزائی بھی ہے اور تنبیہہ بھی۔ حوصلہ افزائی اس پہلو سے ہے کہ پہلے بھی لوگ روزے رکھتے رہے ہیں تو تم بھی روزے رکھو اور یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ تنبیہہ یہ کہ چونکہ پہلے بھی لوگ رکھتے رہے ہیں اس لیے یہ کوئی عذر نہیں کہ بہت مشکل کام ہے ہم نہیں رکھ سکتے وغیرہ۔ جب وہ رکھ سکتے ہیں تو تم بھی رکھ سکتے ہو۔
۲۔ دوسری بات روزے کا مقصد بیان کیا گیا کہ اس کا اصل مقصد تقوی ہے۔ تقوی کے دو پہلو ہیں، ایک ظاہری اور دوسرا باطنی۔ باطنی پہلو ایک نفسیاتی کیفیت کا نام ہے جس میں انسان خدا کا خوف رکھتا ، اس کا لحاظ رکھتا اور اس کی ناراضگی سے بچنا چاہتا ہے۔ اس کا ظاہری طور پر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اپنا عمل اس طرح کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ خدا کی ناراضگی سے بچے۔ لیکن عمل درست کرنے کے لیے تربیت درکار ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ روزہ کے ذریعے نفس کو قابو رکھتا ہے تاکہ اپنی سوچ اور عمل خدا کی رضا کے مطابق کرلے۔
۳۔ آگے یہ بتایا گیا رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہونا شروع ہوا۔ یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے انسانوں کے لیے کہ عالم کا پروردگار ان سے مخاطب ہے۔ چنانچہ اسی شکرگذاری کے جذبے کے تحت پوری امت مسلمہ پر رمضان کے روزے فرض کردیے گئے تاکہ اس ہدایت پر اللہ کا شکر ادا کیا جائے اور اللہ کی بڑئی بیان کی جائے۔ اسی لیے قرآن اور رمضان کا گہرا تعلق ہے۔ صرف زبانی طور پر الحمد للہ کہہ لینے سے یہ حق ادا نہیں ہوتا ۔رمضان میں قرآن کو سمجھ کر پڑھنا ، سننا، ڈسکس کرنا اور اس پر عمل کرنا ہی دراصل اس شکرگذاری کا عملی اور حقیقی اظہار ہے ۔
۴۔ اس کے بعد مریض اور مسافرین کو چھوٹ دی جارہی ہے کہ وہ رمضان کے روزے بعد میں رکھ لیں۔ ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ اللہ نرمی چاہتا ہے سختی نہیں۔ ورنہ تو وہ تمام جہانوں کا رب اور حقیقی بادشاہ ہے جو کسی کے سامنے جوابدہ نہیں۔ وہ چاہتا تو دنیاوی بادشاہوں کے طرح سختی کا رویہ روا رکھتا، ان سے بدسلوکی کرتا، ان کو ہر طرح سے مشقت میں ڈالتا تب بھی کوئی اس سے پوچھنے والا نہ تھا۔ لیکن یہ اس کی شفقت و محبت ہے کہ ماں سے بھی زیادہ اپنے بندوں کا خیال رکھتااور بیماری و تکلیف میں اپنی شریعت وقانون ہی کو نرم کر دیتا ہے۔
۵۔ اگلی آیت دعا سے متعلق ہے۔ چونکہ رمضان کا اصل مقصد خدا ور بندے کے درمیان تعلق کو مضبوط کرنا ہے، اسی لیے اللہ کو پکارنے سے متعلق چند اصول بیان کردیے گئے ہیں۔ جب بھی بندہ خدا سے بات کرنا چاہتا، اس سے اپنا کوئی مسئلہ بیان کرنا چاہتا یااس کی جانب رجوع کرنا چاہتا ہے تو وہ اسے کہیں نظر ہی نہیں آتا ۔ زیادہ سے زیادہ جو تصور قائم ہوتا ہے وہ یہ کہ خدا آسمان میں کہیں دور بیٹھا ہے۔یہ دوری کا تصور انسان کو زمین میں ان زمینی ہستیوں کو تلاش کرنے پر مجبور کردیتا ہے جو اس دور بیٹھے خدا تک اس کی بات پہنچا سکیں۔ یہی شرک کی ایک بڑی وجہ ہے۔چنانچہ پہلی بات اللہ نے بیان کی کہ میں دور نہیں بہت قریب ہوں، میں تو تمہاری شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں۔ میں تمہارے ساتھ موجود ہوں ، جب تم دو ہوتے ہو تو تیسرا للہ ہوتا ہے۔ جب میں اتنا قریب ہوں تو کسی سہارے کی ضرورت نہیں ، براہ راست مجھ سے ہی بات کرو، مجھ سے اپنی امیدیں، مسائل، پریشانیاں ڈسکس کرو ۔
پھر یہ فرمایا کہ کوئی پکارنے والا جب پکارتا ہے تو میں براہ راست سنتا ہوں۔ یعنی خدا کا دربار ہر وقت ہر کسی کے سامنے موجود ہے جہاں خدا اپنے عرش پر جلوہ افروز ہے اور اس کے کارندے یعنی فرشتے ادب سے سر جھکائے کھڑے ہیں۔ ہر انسان جب بھی چاہے اس دربار میں جاکر اپنی بات کہہ دے۔ نہ اسے لائن لگانی ہے ، نہ وزرا کو بادشاہ سے ملنے کے لیے رشوت دینی ہے ، نہ کسی اور تاخیر کا سامنا کرنا ہے۔
آگے یہ بھی فرمادیا کہ میں نہ صرف سنتا ہوں بلکہ جواب بھی دیتا ہوں۔ خدا جواب کس طرح دیتا ہے یہ ایک طویل موضوع ہے۔ البتہ خدا کسی کی پکار سننے کے بعد تین طرح کے فیصلہ کرسکتا ہے۔ ایک تو یہ کہ دعا یعنی درخواست کو من و عن مان لیا جائے، دووسرا یہ کہ اسے کچھ اعتراضات لگا کر واپس کردیا جائے، تیسرا یہ کہ اسے رد کردیا جائے قبولیت کی صورت میں فرشتوں کو اس پر عمل درآمد کا حکم ہوتا ہے اور دعا کی درخواست اپنی معینہ مدت پر پوری ہوجاتی ہے۔ اعتراضات لگاکر واپس کرنے کا مطلب ہوتا ہے کہ دعا میں ابھی مطلوبہ خلوص یا عمل کی کمی ہے اسے پورا کیا جائے۔ رد کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دعا مانگنے والے کے حق میں یہ دعا مناسب نہیں یا دعا کی مطلوبہ شرائط پوری نہیں ہورہی ہیں۔ اس لیے اسے رد کردیا جاتا ہے۔ مانگنے والے کے لیے حکم ہے کہ وہ دعا کی عدم قبولیت کی صورت میں اپنی اخلاص اور عمل کا جائزہ لیتا رہے اور مطلوبہ کمی کو پورا کرکے دوبارہ دعا کرے۔ یہ بار بار مانگنا ہی تعلق باللہ کی مضبوطی ہے۔
آخر میں یہ فرمایا کہ جب میں سنتا بھی ہوں اور جواب بھی دیتا ہوں تو پھر مجھ پر ایمان یعنی یقین رکھیں اورا سی یقین کے بعد ہی وہ ہدایت پاسکیں گے۔ یعنی بات قرآن کی ہورہی تھی جو عالم کے پروردگار کی جانب سے ایک ہدایت ہے۔ لیکن بتادیا کہ درست راہ یقین کے بغیر ممکن نہیں۔ جس کو خدا کے قریب ہونے اور دعا قبول کرنے کا یقین نہیں تو اسے قرآن بھی ہدایت نہیں دے سکتا اور وہ یونہی وسیلہ تلاش کرنے میں سرگردا ں رہتا ہے۔
۶۔ آگلی آیت میں رمضان کی راتوں میں شوہر و بیوی کے تعلق کی اجازت دی جارہی ہے۔ اس سے قبل یہ بات واضح نہیں تھی کہ رمضان کی راتوں میں یہ تعلق قائم کرنا جائز ہے یا نہیں۔ اس لیے کچھ لوگ وضاحت سے قبل ہی یہ تعلق قائم کررہے تھے جسے اللہ نے خیانت سے تعبیر کیا ۔ نیز میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا۔ ایسا لباس جو ایک دوسرے کی شرمگاہوں کی حفاظت کرے اور دنیا کے سامنے انہیں ظاہرہونے سے بچائے۔اور ساتھ ہی یہ لباس انہیں فیشن و عریانی کے بدلتے ہوئے موسموں کے منفی اثرات سے بچائے رکھے۔
البتہ اعتکاف کے وقت مردو زن کے تعلق کی نہ صرف نفی کردی بلکہ اسے اللہ کی حدود قرادے دیا۔ اعتکاف دراصل خدا اور بندے کے درمیان ایک پرائیویسی کا تعلق ہے۔ اس تعلق کے درمیان کسی اور شرکت گوار ا نہیں حتی کہ لائف پارٹنر کی بھی نہیں۔
خلاصہ
روزے کوئی نئی چیز نہیں بلکہ یہ پہلی امت پر بھی فرض تھے تاکہ نفس کے سرکش گھوڑے کو قابو میں کرکے اسے خدا کی ظاہر وباطنی عبادت پر مجبور کیا جاسکے۔ رمضان میں چونکہ قرآن نازل ہوا س لیے روزہ رکھنے کی ایک اور وجہ شکر گذاری کا اظہار کرنا ہے اور یہ شکر گذاری قرآن کو رمضان میں خصوصی توجہ دے کر ہی ظاہر ہوسکتی ہے۔ رمضان کا ایک اور مقصد اللہ سے براہ راست تعلق قائم کرنا ہے اور خدا وہ بادشاہ ہے جس تک کوئی بھی اپنی بات کبھی بھی پہنچاسکتا ہے۔ تو رمضان کے مقاصد اللہ سے تعلق میں مضبوطی، قرآن سے گہرا تعلق ، شکرگذاری اور تقوی کا حصول ہیں۔ جس نے یہ پالیا اس نے سب کچھ پالیا۔ اور جو ان سے محروم رہا ، وہ نہ صرف جسمانی طور پر بھوکا پیاسا رہا بلکہ روحانی طور پر بھی بھوکا اور پیاسا ہی رہا۔

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s