سورہ لہب کا خلاصہ


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورہ لہب کا خلاصہ
ڈاکٹر محمد عقیل
شان و شوکت والے متکبر اور خودسر ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے ۔ اس کی سرداری ، اقتدار اور مددگار سب تمام ہوئے اور یہ خود بھی نامراد ہوا۔ اس کا مال ، دولت، عزت اور اعلی اسٹیٹس اور جو کچھ بھی اس نے ساری زندگی لگا کر

کمایا وہ اس کے کچھ کام نہ آیا۔
یہ سب کچھ چھن جانا اصل سزا نہیں بلکہ اس عظیم عذاب کی ابتدا ہے جب وہ اپنی جھوٹی انا، بے انتہا تکبر اور اخلاق سے عاری غلیظ وجود کے ساتھ شعلوں سے بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈالا جائے گا۔ اور وہ یہاں تنہا نہیں ہوگا۔ اس کی وہ بیوی بھی اس کے ساتھ ہوگی جو اسے حق کی مخالفت کے لیے بھڑکاتی تھی، جو نبی کی ہجو کرتی تھی، جواس کے راستوں کو پرخار کرکے خوش ہوتی تھی۔ وہ دنیا میں شاندار ہار پہن کر خوش ہوتی تھی تو ہم اس کی عزت افزائی اس طرح کریں گے کہ اس کے گلے میں ایک رسی ہوگی جسے پکڑ کر جہنم کے داروغہ لیے پھریں گے۔
سورہ کا پس منظر
یہ سورہ قرآن کی واحد سورہ ہے جس میں کسی دشمن کا نام لے کر اس کی بربادی کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ سورہ کس موقع پر نازل ہوئی ؟ اس پر عام مفسرین کا کہنا یہی ہے کہ یہ نبوت کے ابتدا ئی زمانے میں نازل ہوئی جب ابولہب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بددعا کی۔ لیکن سورہ میں جس طرح جلالی انداز میں ابولہب کی مذمت کی گئی اور اس کے لیے جہنم کی وعید سنائی گئی ہے تو اس سے علم ہوتا ہے کہ یہ بالکل ابتدائی زمانے کی سورہ نہیں۔
اتنی سخت زبان استعمال ہونے کی وجہ یہی معلوم ہوتی ہے کہ ابولہب نے ایک عرصے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ برا سلوک کیا، آپ کو اذیت دی، آپ کی ہمسائگی کے باوجود آپ پر ظلم و زیادتی کی۔حتی کہ شعب بن ابی طالب میں بائیکاٹ میں یہی ابو لہب پیش پیش تھا جس کی بنا پر حضرت خدیجہ اور ابوطالب فوت ہوئے۔
اس ظلم و زیادتی میں ابولہب ہی نہیں بلکہ اس کی بیوی بھی پیش پیش تھی جو نہ صرف اپنے شوہر کو نبی کریم کے خلاف بھڑکاتی ، بلکہ خود بھی آگے بڑھ کر اقدام کرتی تھی اور کبھی آپ کی راہ میں کانٹے ڈالتی تو کبھی گندگی۔ یہ دونوں میاں بیوی اس قدر اس دشمنی میں آگے بڑھ چکے تھے کہ انہوں نے اپنے دونوں بیٹوں میں یہی نفرت منتقل کی ۔ نبی کریم کی دو صاحبزادیاں ابولہب کے دو بیٹوں عتبہ اور عتیبہ کی منکوحہ تھیں لیکن ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ ان دونوں بیٹوں نے بے دردی سے ان معصوم بچیوں کو طلاق دے دی اورنبی کریم سے بدزبانی بھی کی۔
گویا کہ پورا خاندان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نہ صرف ذاتی دشمن تھا بلکہ ان کے مشن کا بھی مخالف تھا۔ اس مخالفت کے اسباب دیکھیں تو اس سورہ میں نمایاں ہیں۔ پہلا سبب تو مشرکانہ نظام کو معیشت کا مرکز سمجھنا تھا ۔یعنی ابو لہب کو علم تھا کہ اگر اسلام حاوی آجاتا ہے تو اقتدار اس کے ہاتھ میں نہیں رہے گا ۔ چنانچہ وہ پوری طاقت کے ساتھ اس مشرکانہ نظام کی حفاظت کرنا چاہتا تھا ۔
دوسری وجہ ابولہب کا مالدار ہونا تھا۔ اس نے دیکھا کہ اسلام قبول کرنے والے زیادہ تر لوگ تو غریب اور غلام طبقے سےتعلق رکھتے ہیں تواسے گوارا نہ ہوا کہ مسلمان ہوکر ان لوگوں کو اپنے برابر جگہ دے۔
بہرحال جب یہ سورہ ناز ل ہوئی تو اس کے بعد یہ پیشین گوئی مکمل طور پر پوری ہوگئی۔ ابوطالب کے انتقال کے بعد ابولہب سردار بنا اور اسی کی سرداری کے دور میں نبی کریم اپنے ساتھیوں کے ساتھ مدینے ہجرت کرگئے۔ ایک سال بعد غزوہ بدر ہوئی جس میں مشرکین نے مسلمانوں پر حملہ کردیا۔ اس جنگ میں ابولہب نے شرکت نہ کی اور اپنی جگہ دو کرائے کے غلاموں کو بھیج دیا۔ کہتے ہیں کہ اس سورہ کی بنا پر اسے خوف تھا کہ وہ مارا جائے گا۔
غزوہ بدر اس سورہ کی تفسیر ہے۔ ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹنے کا مطلب اس کی اصل اقتدارکی طاقت تھی جو مشرکین کے سرداروں کی حمایت کی بنا پر اسے حاصل تھی۔ غزوہ بدر ایک عجیب جنگ ہے جس میں قریش کی ٹاپ کی لیڈرشپ ختم ہوگئی ۔مارے جانے والے ۷۰ مشرکین میں سے کم و بیش سارے ہی سردار تھے۔ یہ اس سورہ کی پہلی آیت کی پیشین گوئی تھی جو حرف بحرف پوری ہوئی۔ ابو لہب خود اس جنگ میں ڈر کے مارے نہیں آیا لیکن غزوہ بدر کے چند دنوں بعد وہ عدسہ یا چیچک کی بیماری میں مبتلا ہوگیا اور مرگیا۔
اس کی بیماری چونکہ چھوت کی بیماری تھی اس لیے اس کی اولاد سمیت کوئی اسے ہاتھ تک لگانے کو تیار نہ تھا کہ اسے دفن کرے۔ لیکن لوگوں نے اس کی اولاد کو غیرت دلائی تو انہوں نے چند غلاموں کوپیسے دیے جنہوں نے اس کی لاش کو دھکیل کر گڑھے میں پھینک دیا۔ اس کا اس طرح مارا جانا دوسری آیت کی تشریح ہے کہ اس کے کام کچھ نہیں آیا نہ اس کا مال، نہ عزت، نہ اقتدار اور وہ اس ذلت آمیز طریقے سے گڑھے میں دھکیل دیا گیا ۔
اگلی آیات میں یہ بتادیا کہ یہ تو حق کی مخالفت کرنے کا دنیوی عذاب ہے۔ آخرت میں وہ اور اس کی بیوی دونوں جہنم کی آگ میں ہونگے جہاں بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلے ان کے منتظر ہیں۔
سورہ کا سبق
اس سورہ کا آج کے دور کا سبق امیر ، مالدار، عزت دار، شہرت والے اور اقتدار کے حامل لوگوں کے لیے ہے۔ جب بھی حق ان کے سامنے آتا ہے تو وہ کچھ تقاضے کرتا ہے۔ وہ انسان کو انا، تکبر اور تعصب چھوڑ کر عنزو انکساری، حق پرستی اور خدا کے حکم کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے۔ بعض اوقات یہ تقاضا اس کے اقتدار ، ما ل اور دولت کی قربانی بھی مانگتا ہے۔ جو لوگ انا ، اقتدار اور دولت کی قربانی نہیں دیتے وہ بعض اوقات دعوت حق کے شدید مخالف ہوجاتے ہیں۔یہ سورہ اعلان کررہی ہے کہ ان کی مخالفت جتنی زیادہ بڑھتی جائے گی وہ انجام کے اعتبار سے ابولہب کے قریب ہوتے جائیں گے۔

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s