فیس بک پر جھوٹے لائکس کا فتنہ


فیس بک پر جھوٹے لائکس کا فتنہ
ڈاکٹر محمد عقیل
فیس بک کی کئی آزمائشوں میں ایک اہم فتنہ لائکس کا فتنہ ہے۔ عام طور پر ہم سب ایک دوسرے کی پوسٹوں کو لائک کرتے ہیں تو اس کے پیچھے کئی اسباب ہوتے ہیں جن میں کسی کی تعریف کرنا، حوصلہ افزائی کرنا، اپنے دلی جذبات کا اظہار کرنا یا پھر محض بتانا ہوتا ہے کہ ہم نے پڑھ لیا ہے۔ اس عمل میں عمومی طور

پر کوئی قباحت نہیں۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے کہ جب ہم جھوٹے لائکس اور کمنٹس کررہے ہوتے ہیں ۔ ایسا کرنے کا سبب یہ ہوتا ہے کہ سامنے والا بھی جواب میں ہماری پوسٹوں کو لائک کرے اور اچھے کمنٹس کرے ۔ گویا کہ یہ لائکس اور کمنٹس کی ایک باہمی تجار ت یا( Mutual Admiration) ہورہی ہوتی ہے۔ اسے فارسی میں میں کہتے ہیں کہ
من ترا حاجی بگوئم تو مرا حاجی بگو
یا اسے انگلش میں کہتے ہیں:
You scratch my back and I’ll scratch yours
اگر اس قسم کے معالات ایک حد میں رہیں یہ تو زیادہ نقصان دہ نہیں۔ لیکن ایک حد سے زیادہ جب یہ عمل بڑھ جائے اور انسان ہر وقت محض جھوٹے لائکس اور مبالغے پر مبنی کمنٹس کرتا رہے تو اس سے دو طرفہ نقصان ہوتا ہے۔
پہلا نقصان تو اس شخص کو ہوتا ہے جو یہ کام کررہا ہوتا ہے۔ اس کے اندر ایک قسم کا دوغلہ پن، منافقت اور چاپلوسی کا رویہ جنم لے سکتا ہے۔ چنانچہ ایسا شخص اپنے ظاہر میں ایک بہت ملنسار، سلجھا ہوا، خوش اخلاق اور محبت کرنے والا شخص نظر آتا ہے ۔ لیکن وہ چونکہ یہ سب کچھ ایک خاص مقصد کے لیے مبالغہ آمیزی سے کام رہا ہوتا ہے تو اس کا باطن اندر سے ایک مختلف شخصیت کا حامل ہوتا ہے۔ ظاہرو باطن کا یہ تضاد جب بڑھتا جاتا ہے تو زندگی کے دوسرے معاملات میں بھی یہ احاطہ کرنے لگتا ہے اور یہ منافقانہ طرز عمل اس پر حاوی ہونے لگ جاتا ہے۔
اس کا دوسرا نقصان اس شخص کو ہوتا ہے جس کی جھوٹی تعریف کی گئی ہو۔ وہ شخص غلط طور پر خود کو ویسا ہی سمجھنے لگتا ہے جیسا کہ تعریف کرنے والے لوگ اسے غلط طور پر دکھا رہے ہوتےہیں۔ وہ شخص خود کو اسی دھوکے میں مبتلا کردیتا ہے جس میں تعریف کرنے والے مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔ بعض اوقات وہ جانتا ہے کہ یہ سب کچھ جھوٹ ہے، دھوکہ ہے، فریب ہے لیکن وہ اس کے باوجود اس پرفریب تعریف سے باہر نہیں نکلنا چاہتا۔ اس کے بعد یہ ہوتا ہے کہ وہ شخص عملی زندگی میں بھی خود کو وہی سمجھنے لگ جاتا ہے جیسا کہ جھوٹی تعریفوں اور کمنٹس نے اسے سمجھایا ہوتا ہے۔اس سے جو نقصان ہوتا ہے اس کا اسے انداز ہ تک نہیں ہوتا۔ اسی بات کو ایک روایت میں بڑی خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے:
حضرت ابو موسیٰ ( رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے ، کہا : نبی کریم (صلی اللہ علہت وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو سنا، وہ کسی آدمی کی تعریف کررہا تھا، تعریف مںا اسے بہت بڑھا چڑھا رہا تھا تو آپ (صلی اللہ علہک وآلہ وسلم) نے فرمایا :” تم نے اس کو ہلاک کرڈالا یا تم نے اس آدمی کی کمرتوڑ دی۔ ” (مسلم ، حدیث نمبر حدیث نمبر:7504)
گویا کہ اس کا نقصان سب سے زیادہ ایسا سمجھنے والے ہی کو ہوتا ہے۔ ایک شخص کو اگر یہ یقین دلایا جائے کہ تم ماہر ڈرائیور ہو اور تم کار چلا سکتے ہو اور اگر وہ اس تعریف کے جھانسے میں آبھی جائے تو بھی وہ کار نہیں چلا سکتا۔ اور جب بھی زندگی کے عملی میدان میں وہ کار چلائے تو حادثے کے علاوہ کچھ نہیں حاصل ہوگا۔
جھوٹی یا مبالغہ آمیز تعریف کو سمجھنے کے لیے فرض کریں ایک شخص نے کوئی کوٹ لکھا یا کوئی تحریر لکھی۔ اس تحریر میں ممکن ہے کہ بے شمار زبان و بیان، مضمون ، تجزیے اور تراکیب کی غلطیاں ہوں اور یہ بات پڑھنے والوں کو پتا بھی ہو۔ لیکن چونکہ وہ شخص چونکہ اکثر پڑھنے والو ں کا دوست ہے اور ان کی پوسٹوں کو بھی لائک کرتا ہے تو وہ بھی اس کی پوسٹوں کو لائک کرکے بے حد تعریف کے کمنٹس لکھ دیتے ہیں۔ اس کے بعد وہ شخص کچھ عرصے بعد اپنے آپ کو بہت بڑا لکھاری، تجزیہ نگار، مفکر، عالم دین اور پتا نہیں کیا کیا سمجھنے شروع کر سکتا ہے۔
ان جھوٹی تعریفوں اور ایموشنل لائکس کا ایک اور نقصان بہت تباہ کن ہے۔ یہ جھوٹی تعریفوں اور بناوٹی کمنٹس کا سلسلہ جب ایک لڑکے اور لڑکی کے درمیان ہوتا ہے تو ایٹم بم سے زیادہ خطرناک ہوجاتا ہے۔ عام طور پر نوجوان لڑکے اور لڑکیا ں تعریفوں سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنی شناخت قائم کرنے کے عمل سے گذررہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں کوئی بھی غلط کردار کا لڑکا کسی معصوم لڑکی کو باآسانی ورغلا دیتا ہے یا کوئی لڑکی باآسانی کسی لڑکے کو غلط اقدام اٹھانے پر مجبور کرسکتی ہے۔ خاص طور پر ایک فلرٹ کرنے والا لڑکا جانتا ہے کہ لڑکی کی خوبصورتی، وجاہت، حسن، لباس، کلام یا کسی اور پہلو کی تعریف میں مبالغہ آمیزی پیدا کرکے بہت آسانی سے اسے جذباتی طور پر اپنا غلام بناسکتاہے۔
جھوٹی تعریفوں کا ایک اور پہلو مذہبی ہے۔ اکثر مذہبی اسکالرز یا اسکالز سمجھے جانے والے لوگوں کے ان باکس میں خواتین وحضرات کے میسجز آتے ہیں۔عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ خواتین کے نفسیاتی مسائل نسبتا زیادہ ہوتے ہیں اس لیے وہ نفسیاتی اشوز کو مذہبی سمجھ کراس شخص کے ساتھ ڈسکس کررہی ہوتی ہیں جس کو وہ اپنی دانست میں مذہبی یا ایک سمجھدار اور سلجھا ہوا شخص سمجھتی ہیں۔ جوں جوں مسائل کو ڈسکس کیا جارہا ہوتا ہے تو خاتون کا نفسیاتی طور پر اس شخص پر انحصار بڑھتا جاتا ہے۔ یہاں شیطان کی دراندازی کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
اگر اس مذہبی شخص کی شخصیت میں خامی ہو یا وہ دانائی اور حکمت سے کام نہ لے تو خاتون بہت زیادہ اس شخص پر انحصار کرنے لگ جاتی ہے۔ یہ معاملہ ایسے شخص کے لیے بھی ایک آزمائش ہوتا ہے۔ اس کا نفس اسے یہ سب کچھ اچھا کرکے دکھا تا ہے کہ کوئی خاتون ا اس پر انحصار کررہی ہے۔ چنانچہ وہ جانتے بوجھتے بعض ایسی غیر اخلاقی حرکتیں کرسکتا ہے جو بظاہر تو بے ضرر ہوتی ہیں لیکن حقیقت میں ایک مذہبی شخص کو زیب نہیں دیتیں۔ ایسے شخص پر اس وقت دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ایک تو یہ اسے خود نفس کی آلودگی سے بچنا ہوتا ہے اور دوسرا یہ کہ اسے دوسرے فریق کو بھی ممکنہ آلودگی سے بچانا ہونا ہے۔
اب اس مضمون کے بعدچند سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ سوالات اور ان کے مختصر جوا ب یہ ہیں:
۱۔کیا فیس بک پر پوسٹوں کو لائک ہی نہ کیا جائے؟
ضرور لائک کیا جائے۔ لائک کا مطلب صرف پسند کرنا ہی نہیں بلکہ اکنالج (Acknowledge) کرنا بھی ہوتا ہے کہ ہم نے پوسٹ پڑھ لی ہے۔ البتہ جذباتی ایماٹی کونز (Emoticons) جیسے لو(Love)، اسمائل (Smile)، تعریفی کمنٹس وغیرہ کو اسی وقت استعمال کیا جائےجب واقعتا پوسٹ کے مواد میں کوئی ایسی بات ہو جس نے آپ کو مجبور کردیا ہو۔ اسی طرح لائکس محض اس لیے نہیں کرنے چاہئیں کہ آپ کو بھی جواب میں لائکس ملیں۔
۲۔ بعض اوقات ہم پوسٹ سے اتفاق نہیں کرتے البتہ حوصلہ افزائی کے لیے اچھے کمنٹس لکھ دیتے ہیں۔ تو کیا یہ غلط ہے؟
حوصلہ افزائی کے لیے بھی کمنٹس لکھنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ البتہ یہ کمنٹس ایسے ہوں کہ اس میں جھوٹ یا مبالغہ کا عنصر شامل نہ ہو نیز اس اسلوب میں بات بیان ہو کہ ہمار ا دوست کہیں کسی غلط فہمی ، تکبر یا انا پرستی میں مبتلا نہ ہوجائے۔ اسی بات کو روایت میں یوں بیان کیا گیا ہے:
۔۔۔۔۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” اگر تم مںس سے کسی نے لا محالہ اپنے بھائی کی تعریف کرنی ہو تو اس طرح کہے : مںل سمجھتا ہوں کہ فلاں (اس طرح ہے) اگر وہ واقعی اس کو ایسا سمجھتا ہو (یا پھر کہے) اور مں اللہ (کے علم) کے مقابلے مںس کسی کی خوبی با ن نہں کرتا (مسلم حدیث نمبر:7502)
البتہ وہ پوسٹ جسے ہم خود غلط سمجھتے ہوں ، اس پر دادو تحسین کے ڈونگرے برسانا غلط ہے۔ ایک غلط پوسٹ کے جواب میں یہ لکھنا کہ بہترین پوسٹ ہے ، یہ جھوٹ ہوگا۔ البتہ آپ اس پوسٹ پر کوئی منفی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے اور اپنا کمنٹ بھی پوسٹ کرنا چاہتے ہیں تو جزاک اللہ، اللہ ہدایت عطا فرمائیں، یا اس قسم کی کوئی بات لکھ سکتے ہیں جس سے پوسٹ کرنے والے کو بھی گراں نہ گذرے، جھوٹ کا گمان بھی نہ ہو اور آپ اپنا کمنٹ بھی پوسٹ کردیں۔
۳۔ اگر کسی کی پوسٹ میں کوئی غلط بات ہو تو کیا ہم اپنے کمنٹ میں اس غلطی کی نشاندہی کر سکتے ہیں؟
اگر پوسٹ میں غلط بات ہو تو اس پر رد عمل کے کئی طریقے ہیں۔ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ خاموشی اختیار کی جائے۔ یہ اس وقت موزوں ہوتا ہے جب آپ کو علم ہو کہ مخاطب آپ کے منفی کمنٹس کو اصلاحی طور پر لینے کی بجائے انتقامی طور پر لے گا۔ ایسا ایک دو مرتبہ کے تجربے سے پتا چل جاتا ہے۔
دوسرا حل یہ ہے کہ کمنٹ کا جواب پبلک میں دیا جائے ۔ ایسا کرنے کے لیے یہ احتیاط لازمی ہے کہ الفاظ کا چناؤ بہت اچھا ہو اور لہجہ اتنا سافٹ ہو کہ اس سے نفرت، تکبر ، حسد، کینہ یا بدگمانی کی بجائے اصلاحی عمل ٹپک رہا ہو۔ جیسے ایک شفیق باپ اپنے بیٹے کو نصیحت کرتا ہے۔ ایسا کرنا بعض اوقات اس وقت بھی ضروری ہوجاتا ہے جب پبلک کو بھی پوسٹ کے اس غلط پہلو سے آگاہ کرنا لازم ہوتا ہے۔
تیسرا حل یہ ہے کہ پوسٹ کرنے والے کو ان باکس میں میسج کردیا جائے کہ یہ پہلو غلط معلوم ہوتا ہے۔ یہ اس وقت بہتر ہوتا ہے جب منفی کمنٹس سے مخاطب اپنی ہتک محسوس کوتا ہو یا اصلاح کی بجائے فساد کا امکان زیادہ ہو۔ لیکن ایسا کرتے وقت بھی بات کو اس طرح پیش کیا جائے کہ سامنے والا کچھ غلط محسوس نہ کرے۔
چوتھا حل یہ ہوسکتا ہے کہ پوسٹ کی غلطی واضح کرنے کے لیے ان باکس میں بات کی جائے لیکن سختی کا عمل اپنایا جائے اور سخت لہجے میں اس پر بات واضح کی جائے۔ ایسا اس وقت مناسب ہے جبکہ مخاطب سے رشتہ استاد ، سینئیر ، بڑے بھائی باپ یا ماں کا ہو۔ لیکن ایساا سی وقت مناسب ہے کہ سامنے والا ہمیں وہ عزت دیتا ہو جو ہم اس سے توقع کررہے ہیں۔ لیکن ایسا بہت ہی اہم اور ناگزیر کیسز میں کرنا چاہیے۔
ان تما م کیسز میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جس طرح ہماری رائے کے مطابق اس کی پوسٹ کا کوئی پہلو غلط ہے تو عین ممکن ہے کہ وہ شخص اس کو دل و جان سے درست سمجھ رہا ہو ۔ اس با ت کا بھی امکان ہے کہ ہماری رائے ہی غلط ہو۔ چنانچہ اس احتمال کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ہماری رائے درست ہے اس امکان کے ساتھ کہ وہ غلط بھی ہوسکتی ہے۔
۴۔ اگر کوئی ہماری تعریف کرے تو کیا اس پر خوش نہیں ہونا چاہیے؟
کسی کی تعریف پر خوش ہونا ایک فطری معاملہ ہے۔ البتہ یہ خوشی اس وقت بہت خطرناک بن جاتی ہے جب ہم اسے نشے کی طرح انجوائے کرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اس کی نشانی یہ ہے کہ جب ہمیں کسی خاص شخص یا خاص لوگوں کی تعریف کچھ عرصے نہ ملے اور ہم دل میں ملول ہونے لگیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ ہم اس تعریف کے عادی ہوچکے ہیں۔ یہ رویہ بذات خود ایک خطرناک معاملہ ہے اور اس کا وہی نقصان ہوتا ہے جو ہیروئین کے نشے کا ہوتا ہے۔ اس طرح ہم تعریف کرنے والو ں کے ہاتھوں یرغمال بن سکتے ہیں اور بعض اوقات ان کی جائزو ناجائز مطالبات کو ماننے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
۵۔ ہمیں کس طرح علم ہو کہ سامنے والا شخص جھوٹی تعریف کررہا ہے؟
اگر ہماری تعریف صرف ایک خاص شخص ہی کررہا ہے اور باقی لوگ یہ نہیں کررہے تو اس پر ضرور سوچنا چاہیے۔ اسی طرح اگر ہمیں اچھے کمنٹس اور اور لائکس اس وقت مل رہے ہیں جب ہم دوسروں کو کی پوسٹوں کو لائک کرتے ہیں تب بھی متنبہ ہوجانا چاہیے۔ اسی طرح یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ لائک کرنے والے کا آپ سے کیا مفاد وابستہ ہے۔ اگر آپ خاتون ہیں اور وہ ایک محض فیس بکی مرد ، اور و ہ آپ کی معمول کی تحریروں اور کمنٹس پر وارفتگی کا شکار ہورہا ہے تو بھی متنبہ ہوجانا چاہیے اور بالخصوص اس وقت تو خاص طور پر جب لائکس کے معاملات ان باکس تک آپہنچیں۔
۶۔ کیا کسی اجنبی مرد کا عورت سے یا نامحرم عور ت کا مرد سے ان باکس میں بات کرنا جائز نہیں؟
اس معاملے میں کوئی قانون تو وضع نہیں کیانہیں کیا جاسکتا۔ بعض اوقات یہ بات چیت کسی دفتری معاملے میں بھی ہورہی ہوتی ہے۔ البتہ چند علامات جب ظاہر ہونے لگیں تو متنبہ ہوجانا چاہیے۔ پہلا یہ کہ معاملات بے تکلفی کی حد تک نہ چلے جائیں کہ دونوں اپنی چیٹ کو دوسروں سے چھپانے یا ڈیلیٹ کرنے لگ جائیں۔ دوسرا یہ کہ لائکس کا نشہ اتنا طاری نہ ہوجائے کہ اس کے بنا زندگی ادھوری نظر آنے لگ جائے۔
۷۔ اکثر خواتین فیس بک پر ان مذہبی یا سماجی اسکالرز سے اپنے ذاتی مسائل ڈسکس کرتی ہیں جنہیں وہ اپنی دانست میں اسکالرز سمجھتی ہیں۔ اس میں کس احتیاط کا مظاہر کرنا چاہیے؟
یہ ایک بہت نازک معاملہ ہے۔ ہماری سوسائٹی میں کاؤنسلنگ کا کوئی ادارہ نہیں ۔ نیز ہماری سوسائٹی میں نفسیاتی ماہرین کی آڑ میں اکثر اوقات صرف پیسہ کمانے کا عمل جاری ہے۔ اس لیے لوگ بالعموم ایسے سہارے تلاش کرتے ہیں جہاں وہ اپنے مسائل بیان کرسکیں۔ اس سلسلے میں اکثر انہی لوگوں کا انتخاب ہوتا ہے جن کی پوسٹیں اکثر لوگ لائک کررہے ہوتے ہیں اور وہ کچھ معقول بات کررہے ہوتے ہیں۔
مرد حضرات کی بنسبت خواتین کے اشوز عام طور پر زیادہ ہوتے ہیں جن میں رازداری رکھی جاتی ہے۔ جس طرح عملی دنیا میں اچھے برے دونوں قسم کے لوگ ہوتے ہیں ، ایسے ہی فیس بک پر بھی اچھے برے لوگ ہوتے ہیں۔برے لوگ ایسی خواتین کی تاک میں رہتے ہیں۔ وہ جب ان سے نفسیاتی طور پر قریب ہوجاتی ہیں تو ایسے لوگ ان سے ناجائز فائدہ اٹھاتے، انہیں بلیک میل کرتے اور ان کو ہراساں کرتے ہیں۔
کچھ خواتین توجان بوجھ کر چاہتی ہیں کہ ان سے فلرٹ کیا جائے، ان پر تو سوائے انا للہ پڑھنے کے کچھ نہیں کیا جاسکتا ۔ البتہ وہ خواتین جو کسی ممکنہ خطرے سے بچنا چاہتی ہیں ان کے لیے یہ ہدایات ہیں:
۱۔ سب سے پہلے تو اگر کوئی پرائیویسی کا رزاداری کا کوئی معاملہ ڈسکس کرنا ہو تو کسی خاتون اسکالر ہی کو تلاش کیا جائے۔ ایسی خواتین فیس بک پر کم تو ہیں لیکن معدوم نہیں۔
۲۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو کسی ادارے سے وابستہ فرد کو تلاش کرنا چاہیے۔ ایک فرد کی نسبت اس شخص کا زیادہ اعتبار ہوتا ہے جو کسی ادارے سے وابستہ ہو اور وہاں خواتین بھی کافی تعداد میں موجود ہوں۔
۳۔ کسی بھی اسکالر سے اگر بات کرنی ہے تو کوشش کی جائے کہ ان باکس میں کوئی دوسری خاتون بھی موجود ہو ، یعنی بالکل تنہائی نہ ہو۔
۴۔ اگر اسکالر پر پورا اطمینا ن نہیں تو اپنی نام کی آئی ڈی کی بجائے کسی فرضی نام کی آئی ڈی سے بات کی جائے اور اپنی شناخت ظاہر کرنے کی بجائے توجہ اس مسئلہ تک ہی رکھی جائے۔ تاکہ کسی قسم کی بلیک میلنگ سے بچا جاسکے۔
۵۔ بعض اوقات خواتین بھی مردوں کے ساتھ فلرٹ کرتی ہیں۔ چنانچہ مردوں کو بھی اس معاملے میں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کہ وہ تعریف و توصیف کے جھانسے میں آکر کوئی غلط اقدام نہ کربیٹھیں۔
۸۔ تعریف کے نشے سے کس طرح بچا جائے کہ ہمارے اندر تکبر، انا، خودپرستی ، نرگسیت (narcissism)، خودفریبی یا کوئی اور غلط فہمی پیدا نہ ہوجائے؟
ایک مشہور مذہبی عالم نے درست کہا تھا کہ خدا کی راہ میں چلنے والوں کے دل میں سب سے آخری بیماری جو نکلتی ہے وہ حب جاہ یعنی چاہے جانے کی تمنا ہے۔ چاہا جانا کوئی غلط جذبہ نہیں بلکہ یہی جذبہ بہت سی تخلیقات کا سبب بنتا ہے۔ لیکن یہ خواہش اگر ایک حد سے زیادہ بڑھ جائے تو بجائے فائدے کے نقصان دیتی ہے۔ اس کا حل یہی ہے کہ اپنی کسی بھی تعریف کے اچھے پہلووں کا رخ اللہ کی جانب کردیا جائے۔ یہ بات خود کو بار بار باور کرائی جائے کہ جو کچھ بھی ہمارے اندرصلاحیت ہے اس کا اصل منبع اللہ کی ذات ہے۔ چنانچہ اصل تعریف اللہ ہی کے لیے ہے ۔ اس کے علاوہ تعریف ہونے کے باوجود اپنی کمیوں پر نظر رکھتے رہنا چاہیے اور اللہ سے دعاگو رہنا چاہیے کہ ہم تعریف کے فتنے سے محفوظ رہیں۔
اس کے علاوہ خود کو اپنے مخلص اور سمجھدار دوستوں کے سامنے رکھ کر رائے لینی چاہیے ۔ ان کو شخصیت کے ان پہلووں پر تنقید کے لیے آمادہ کرنا چاہیے جو تعریف کی وجہ سے اوجھل ہورہے ہوں۔ اس طرح اصلاح کا عمل جاری و ساری رہتا ہے۔ بصورت دیگر انسان عملی یا عملی دنیا کا فرعون، ہامان، نمرود ،ابوجہل اور ابولہب بن جاتا ہے اور اسے خبر تک نہیں ہوتی۔

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s