فطرت و وحی


اداریہ
میرے دوستو! مذہب کا مفہوم ہے ” راستہ”۔ یعنی مذہب دراصل وہ راستہ ہے جس کے ذریعے خدا تک پہنچا جاتا ہے۔کم و بیش ہر مذہب اپنی نسبت خدا سے کرتا ہے کہ وہی سچا اور واحد راستہ ہے۔ ہر مذہب دیگر مذاہب کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتا اور خود کو سراپا حق بنا کر پیش کرتا ہے۔ہر مذہب دیگر مذاہب کے ماننے والوں سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ باطل مذہب کو چھوڑ کر دین حق کو قبول کرلیں۔ ہر مذہب کے پاس اپنی صداقت کو بیان کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ دلائل

موجود ہوتے ہیں۔
دوستو ! سوال یہ ہے کہ اگر مذہب ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے خدا تک پہنچا جاسکتا ہے تو وہ کون سا مذہب ہے؟ ظاہر ہے انسان جہاں پیدا ہوتا ہے اسی مذہب کو حق سمجھتااور باقی کو باطل گردانتا ہے۔ شعور کی عمر کو پہنچتے پہنچتے اس کا ذہن ایک خاص طرز میں ڈھل چکا ہوتا ہے کہ وہ غیر جانبدارہوکر عقائد کا جائزہ لینے کی صلاحیت کھوبیٹھتا ہے۔
دوستو! ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مذہب ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے خدا تک پہنچا جاسکتا ہے تو یہ راستہ خدا نے سب کو یکساں طور پر کیوں نہیں بتایا؟ کیوں ایسا نہ ہو اکہ خدا کے پیغمبر سب قوموں کے پاس آتے اور براہ راست ایک ایک شخص کو مخاطب کرکے انہیں تعلیم دیتے، انہیں تزکیہ و تربیت کے مراحل سے گذارتے؟
اس کا جواب بالعموم مذہب کے ماننے والے یہ دیتے ہیں کہ خدا نے انسانوں تک یہ ہدایت پہنچادی، اب انسانوں کا کام ہے کہ اسے باقی انسانوں تک پہنچائیں۔لیکن اس پر سوال یہ ہے کہ اتنا اہم کام خدا نے دوسرے انسانوں کے ہاتھ میں کیوں دے دیا؟ اگر راستے یعنی مذہب کو جانے بنا خدا تک پہنچا ہی نہیں جاسکتا تو یہ راستہ بتانا تو خدا کی ذمہ داری تھی ۔ جس طر ح انسان کو آکسیجن فراہم کرنے کا کام خدا نے انسانوں کے ہاتھ میں نہیں دیا ، اسی طرح مذہب بھی آکسیجن کی مانند بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم ہے جس کے نہ ملنے پر دوسری دنیا کی زندگی کی سانس ممکن نہیں۔
اس سوال پر مزید غور کریں اور غیر جانب دار ہوکر سوچیں تو گتھیاں سلجھنے کی بجائے الجھتی چلی جاتی ہیں۔ ہاں اگر ہم اپنے مذہب کی عصبیت کے تحت یہ بات سوچیں تو پھر تو اس کا جواب دینا بہت آسان ہے کہ ہمارا مذہب حق ہے باقی مذاہب کے ماننے والوں کا یہ فرض ہے کہ وہ حق تلاش کریں اور ان عقائد کو تسلیم کرلیں جو ہمارا برحق مذہب پیش کرتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے یہ بات سب ہی خود کو سراپا حق سمجھتے ہوئے دوسرو ں پر ان باتوں ا اطلاق کررہے ہوتے ہیں اس لیے نتیجہ ڈھاک کے تین پات۔
سوال یہ ہے کہ وہ ایسا کون سا پیغام ہے جو خدا نے تمام انسانوں کو کامن دیا ہے، جس میں عرب و عجم، ہندوستان پاکستان، جدیدو قدیم دنیا ، عورت مرد، تعلیم و غیر تعلیم یافتہ کسی میں کوئی تمیز روا نہیں رکھی؟ وہ کونسی ہدایت ہے جو کاغذ کے صفحوں پر نہیں بلکہ انسان کے اندر ہی کسی جینیٹک کوڈ میں لکھی ہوئی ہے جو ہر لمحہ اسے راہ دکھاتی ، صحیح و غلط کے بارے میں بتاتی اور خدا کی ہدایت کو واضح کرتی ہے؟وہ کون سی تعلیم ہے جس میں مذہبی لیڈر شپ درمیان میں نہیں آتی اور نہ اس کی تشریح کی ضرورت ہوتی ہے؟ وہ کونسی تعلیم ہے جو انسانیت کا کامن ورثہ ہے اور جس میں کوئی اختلاف ، کوئی ابہام کوئی بحث نہیں؟
یہ تعلیم انسان کی فطرت میں ودیعت کردہ خیر و شر کا بنیاری تصور ہے جسے ہم ضمیر، فطرت، نفس لوامہ یا کسی اور نام سے موسوم کرسکتے ہیں۔ یہ وہ تعلیم ہے جو دنیا کے ہر انسان کو خدا نے براہ راست دی ہے۔ یہ وہ کسوٹی ہے جس پر انسان کا ہر عمل پرکھا جارہا ہے، یہ وہ تعلیم ہے جو کسی واسطے کی محتاج نہیں، اور یہی وہ تعلیم ہے جس پر بعض اوقات وحی کو بھی پرکھا جاتا اور اس کے مستند یا غیر مستند ہونے کا فیصلہ کا جاتا ہے۔یہی وہ دین ہے جو پوری انسانیت کا ایک مشترکہ اثاثہ ہے اور یہی وہ داخلی وحی ہے جس کی یاددہانی کرانے کے لیے خارج سے پیغمبر آتے رہے ہیں۔
البتہ فطرت یا ڈی این اے میں موجود اس خیر و شر کی تعلیم میں کچھ محدودیتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کا اطلاق مختلف معاشروں میں مختلف ہوتا ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ تصور غیبی دنیا کے بارے میں کوئی بات یقین سے نہیں بیان کرتا کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا، جنت و جہنم کیا ہیں وغیرہ۔ نیز یہ تصور بعض اوقات مسخ ہوجاتا ہے جیسے ہم جنس پرستی۔
اس وقت خارجی وحی کا کام شروع ہوتا ہے۔ وحی سب سے پہلے اس کے اطلاق کو موضوعی سے معروضی یعنی آبجیکٹو انداز میں حتمی طور پر بیان کرتی ہے۔ وہ ان غیبی امور کو خدا کی جانب سے بیان کرتی ہے جو انسان عقل و فطرت کے ذریعے معلوم ہی نہیں کرسکتا، وحی ایک ایسی فضا پیدا کرتی ہے جس کے ذریعے فطرت کے تصورات کو مسخ ہونے سے بچایا جاتا ہے۔
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے ایک شخص جب تک کوئی مخصوص مذہب قبول نہ کرے تو وہ امتحان کے دائرے ہی میں نہیں ہے اور وہ جہنمی ہے۔ لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو ہر انسان کا بنیادی امتحان اسی فطرت کے ذریعے دی جانے والی تعلیم سے ہورہا ہے۔ مذہب یا درست وحی تک رسائی ایک دوسرا مرحلہ ہے۔ اگر کسی کو درست مذہب کی دعوت پہنچ جائے اور بات اس کی سمجھ میں آجائے تو اسی فطری مذہب کا تقاضا ہے وہ اس کو مانے کیونکہ حق اس پر واضح ہوچکا ہے۔
میرے دوستو! مذہبی راہنماؤں کی اکثریت کی غلطی یہ رہی کہ انہوں نے ان دائروں کو ملحوظ خاطر نہ رکھا اور خیر و شر کے بنیادی شعور کو فطرت کی بجائے وحی سے اخذ کرنے کی کوشش کی۔ یوں خدا کی ابتدائی وحی پس پشت چلی گئی اور جو وحی اس کی وضاحت کے لیے آئی تھی اسے بنیادی تصور کرلیا گیا ۔لیکن اگر ہم فطرت و وحی کو ان کے درست مقام پر رکھ کر سمجھیں تو دنیا میں مذہب و مسلک کے نام پر کوئی لڑائی جھگڑا نہ ہو۔
میرے دوستو!خدا نے اپنا کام کردیا۔ اس نے ہر انسان کے اندر خیر و شر کا بنیادی شعور ودیعت کردیا۔اس نے ہر شخص کے اندر ہی داخلی وحی مہیا کردی۔ اس نے ہر انسان تک اپنا امتحانی پرچہ پہنچادیا۔ اس کے بعد اس کے ابہام کو خارجی وحی کی تعلیمات سے دور کردیا۔ ہمارا کام اس داخلی اور خارجی وحی کو سمجھنا اور اس پر سر تسلیم خم کردینا ہے۔ یہی اصل اسلام ہے یعنی اطاعت و فرماں برداری۔ بس یہی آج کا مختصر پیغام ہے۔
ڈاکٹر محمد عقیل

Advertisements

One response to this post.

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s