کیا تو ایسے شخص کو دنیا میں بھیجے گا جو قتل و غارت گری کرے گا؟

ڈاکٹر محمد عقیل
” میں زمین میں ایک بااقتدار مخلوق بھیجنے والا ہو ں۔ تم سب اس کے آگے جھکے رہنا اور اس کے ارادہ و اختیار میں بے جا مداخلت مت کرنا”۔ خدا نے فرشتوں سے کہا۔

فرشتوں میں سراسیمگی پھیل گئی۔ انہوں نے انسان کےآزادانہ اختیار کی تصویر اپنے کمپیوٹر نما دماغ میں بنا کر یہ اندازہ لگالیا تھا کہ اس سے زمین میں قتل غارت گری مچے گی۔ چنانچہ انہوں نے اپنا کنسرن انتہائی مودبانہ انداز میں خدا کے سامنے رکھ دیا ۔

” آپ کہ ایسی مخلوق کو کیوں پیدا کررہے ہیں جو زمین میں فساد کرے اور خون بہائے ؟ اگر مقصد اطاعت اور تکوینی امور چلانا ہی ہے تو ہم پہلے ہی آپ کی اطاعت خوش دلی سے کررہے ہیں اور آپ کو ہر عیب سے مبرا مانتے ہیں اور آپ پر کوئی اعتراض بھی نہیں کرتے؟ “

فرشتوں کا ایہ اعتراض غلط نہ تھا لیکن یہ صرف انسان کی شخصیت کا محض ایک رخ تھا جو فرشتے اپنے محدود علم اور پروگرامنگ کی بنا پر جان پائے تھے۔ انہیں علم ہی نہ تھا کہ خدا کا اصل منصوبہ کیا ہے۔ چنانچہ خدا نے انہیں سمجھانے کے لیے سب سے پہلے تو انہیں ان کی محدود علمیت سے آگاہ کیا :

” دیکھو ، جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ تم انسان کے اختیار کی ایک ہی رخ سے واقف ہو۔یقینا ایسا ہے کہ انسان آزادی پاکر منفی صفات کی جانب بھی رغبت کرے گا۔ وہ حسد، نفرت، کینہ ، بغض اور عداوت کی بنا پر خون خرابے کا مرتکب ہوگا۔ لیکن حقیقت میں اس کے اقتدار کی کئی اور جہتیں بھی ہیں۔”

اس کے بعد خدا نے آدم کو انسان کی مثبت صفات سے آگاہ کیا کہ کس طرح وہ ایثا ر، قربانی، ہمدردی، اطاعت اور محبت کا پیکر ہوگا۔ پھر فرشتوں سے کہا ۔

” اب ان ساری صفات کو سامنے رکھ کر بتاو کہ انسان کے کتنے روپ یا صفات ہوں گی؟کیا وہ صرف ایک قاتل،ظالم جابر، ڈاکو اورلٹیرا ہی بنے گا یا انہی میں خداپرست عابد، فلاح پھیلانے والے لیڈر، ہدایت دینے والے پیغمبر، دنیا سے بے رغبت ولی اور شخصیت سنوارنے والے عالم بھی پیدا ہوں گے؟”

فرشتے خاموش تھے۔ انہیں علم ہوگیا تھا کہ ان کی پروگرامنگ نے تصویر کا ایک ہی رخ دکھایا ہے اور مثبت پہلو یکسر نظر انداز ہوگیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے معذرت خواہانہ لہجے میں کہا:

“اے اللہ! تمام غلطیوں سے پاک تو صرف آپ ہی کی ذات ہے اور ہمیں تو صرف اتنا ہی علم ہے جتنا آپ نے ہمیں سکھا رکھا ہے ، پورے علم و حکمت والے تو بس آپ ہی ہیں۔”

اب خدا نے آدم کو مخاطب کرکے کہا:

” اچھا تم انہیں انسان کے وہ نام یا مثبت خصوصیات بتادو جن کی بنا پر میں نے انسان کو پیدا کیا ہے۔”

آدم نے بتایا کہ اس خون خرابہ کرنے والی مخلوق میں وہ لوگ بھی ہوں گے جو اپنے رب کا حکم مانیں گے، یہ رب کے لیے سارا دن بھوکے پیاسے رہیں گے، یہ اس کے لیے راتوں کو قیام کریں گے، یہ اس کے لیے اپنا مال لٹادیں گے، یہ اس کے لیے اپنی جان نچھاور کردیں گے لیکن اطاعت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

آدم نے بتا یا کہ ایسے بھی لوگ ہوں گے جو دوسروں کے سکون کے لیے اپنا سکون غارت کریں گے، جو دوسروں کو زندگی دینے کے لیے اپنی زندگی کی قربانی دیں گے، جو دوسروں کے امن کے لیے اپنا امن تباہ کردیں گے۔ غرض آدم نے فرشتوں کو انسان کے تمام مثبت پہلووں اور صفات سے آگاہ کیا۔

اس کے بعد خدا نے ارشاد فرمایا :

” دیکھو ، یہی وہ غیب ہے جسے تم اپنی محدودیت کی بنا پر نہیں جان سکتے ۔ تمہاری بات درست ہے کہ یہاں ہٹلر جیسے فاشسٹ، چنگیز خان سے قاتل، فرعون جیسے جابر اور نمرود جیسے آمر پیدا ہوں گے ۔ لیکن ساتھ ہی موسیٰ جیسا کلیم بھی ہوگا۔ ایوب جیسا صبر بھی ہوگا، ابراہیم جیسا خلیل بھی ہوگا، محمد جیسا رحمت للعالمین بھی ہوگا۔ یہاں ان پیغمبروں کے اصحاب بھی ہوں گے۔ یہاں میرے دوست بھی ہوں گے۔ یہاں میرے ماننے والے ، میرے نام لیوا ور میرے چاہنے والے بھی ہوں گے۔ یہ اسی آزادنہ اختیار کے ساتھ مجھے پہچانیں گے، مجھے مانیں گے، مجھے چاہیں گے۔ جواب میں میں بھی انہیں جنت کی ابدی بادشاہت دوں گا۔یہ اصل محفل انہی لوگوں کو چننے کے لیے سجائی جارہی ہے۔پس میں ہی وہ سب باتیں جانتا ہوں جو تم چھپاتے ہو یا ظاہر کرتے ہو۔

Advertisements

One response to this post.

  1. Posted by ABDUL RASHEED kHAN on 12/06/2018 at 4:59 صبح

    The address from Allah (swt) to the angles regarding the creation of Adam/mankind Dr. Aqil Muhammad present in simple words to under stand the Allah (Swt), How he Guide the mankind through the Holy Prophets and their guided followers. It is very nice to see the article. Abdul Rasheed Khan, Virginia-USA. . .

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: