میں اور وہ۔بس یہی زندگی ہے


میں اور وہ۔بس یہی زندگی ہے
ڈاکٹر محمد عقیل
زندگی کی کہانی صرف دو لفظوں کا مجموعہ ہے۔” میں اور وہ "۔ جو میں ہوں وہ بس "میں "ہوں اور جو میں نہیں وہ بس ” وہ” ہے۔ ہم میں سے ہر انسان کا معاملہ یہی ہے۔ ایک طرف ہماری اپنی ذات ہے تو دوسری طرف اس ذات سے باہر کی دنیا۔ زندگی بس انہی دو لفظوں کو سمجھ لینے کا نام ہے۔ اپنی ذات کو جاننا دراصل ” میں ” کو جان لینا ہے ۔ جبکہ اپنی ذات سے باہر کی دنیا کو جاننا اس سماج کو جان لینا ہے

۔
خود کو جاننا کیا ہے؟ یہ ہمارے چہرے ، جسم اور ظاہری وجود کی شناخت نہیں ۔ بلکہ یہ اس "میں "کی شناخت ہے جو ہمارے اندر بستی ہے۔ یہ ہمارا باطنی وجود ہے۔ یہی ہماری میں ، خودی اور انا ہے جو موت کے بعد بھی نہیں مرتی۔ ہم اپنے آپ کو جانے بنا زندگی نہیں گزار سکتے کیوں کہ یہی وہ شعور ہے جو ہمیں جانوروں سے ممتاز کرتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس وجود کو ظاہری آنکھوں سے نہیں دیکھا جاسکتا۔ اس وجود سمجھنے کے لیےہمیں دل کی آنکھیں کھولنا ہونگی۔ ان دل کی آنکھوں کو جدید سائنس میں مائینڈ سائنس کہتے ہیں۔
ہمارے وجود سے باہر بھی ایک دنیا ہے جسے ہم سماج ، سوسائٹی ، معاشرہ یا کسی بھی نام سے جان سکتے ہیں۔ یہاں سورج ، چاند ، تارے، جانور ، چرند ، پرند ہی نہیں بلکہ ماں باپ، بہن بھائی، بیوی اولاد، دوست احباب،دفتر ، گھر سب بستے ہیں۔ بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہیں کہ اسی دنیا میں کہیں خدا بھی بستا ہے۔ اس دنیا کی سمجھ کے بنا بھی زندگی ممکن نہیں کیونکہ ہم خود بھی اسی دنیا میں رہتے ہیں۔ اس سماج کی اپنے اصول، اپنا میکنزم اور اپنا نظام ہے۔ اسے جانے بنا بھی ہم زندگی کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔
پس اگر زندگی دو لفظوں کی کہانی ہے تو علم بھی دو لفظوں کا مجموعہ ہے۔ ایک اپنی ذات کا علم اور دوسرا اپنی ذات سے باہر کا علم ۔ اپنی ذات کا علم مائینڈ سائنس ہے تو ذات سے باہر کا علم سوشل سائنس۔ یہاں ایک سوال یہ ابھرتا ہے کہ مذہب اور خدا کا علم کہاں گیا۔ وہ دراصل انہی دونوں میں موجود ہے۔ خدا نے انسان کو دو طرح سے ہدایت دی ہے۔ ایک وہ ہدایت جو ہماری فطرت میں پیوست کردی گئی۔ اس میں خدا کا بنیادی تصور ، صحیح اور غلط کا شعور، انسانی کی جبلتیں اور دیگر بنیادی الہام آجاتے ہیں۔ باطن میں مذہب اور خدا کا یہ تصور مائینڈ سائنس کے ذریعے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ خدا اور مذہب کے تصور کا دوسرا ماخذ وحی کا ہے جو ہمارے خارج سے آتی ہے۔ یہ وحی آج سوشل سائنس ہی کے موضوعات میں سے ایک موضوع ہے۔
پس زندگی دو لفظوں کا علم ہے اپنی ذات کی پہچان اور خارج کی پہچان ۔ اس علم کو حاصل کرنے کے دو طریقے ہیں ایک مائینڈ سائنس کے ذریعے خود کو جاننا اور سوشل سائنس کے ذریعے خارج کو جاننا۔ جس نے یہ جان لیا اور اپنے وجود کو ان قوانین کے مطابق ہم آہنگ کردیا ، وہ دنیا میں بھی فلاح پاگیا اور آخرت میں بھی۔ اور جو ان کو نہ جان پایا یا جانننے کے باوجود نہ مان پایا تو وہ دنیا میں بھی خسارے میں ہے اور آخرت میں بھی۔
ہمارے ادارے کا بنیادی مقصد اپنی ذات اور اس سے باہر کی دنیا کو سمجھنا ، ان کے قوانین جاننا ، ان کی تربیت حاصل کرنا اور اس کے مطابق اپنی اور دوسروں کی زندگی بہتر بنانا ہے تاکہ ہم دنیا میں سرخرو ہوکر ایک مطمئین نفس بن کر جی سکیں اور آخرت میں بھی اپنا ایک ترقی یافتہ وجود خدا کے حضور پیش کرسکیں۔
اوریب انسٹٹیوٹ آف مائینڈ اینڈ سوشل سائنس
https://www.oims.pk/
ڈاکٹر محمد عقیل
۳ نومبر ۲۰۱۸

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s