علم کے درجات


تحریر : ڈاکٹر محمد عقیل

"علم کے کتنے درجات ہوتے ہیں؟”
حضرت نے مجھ سے پوچھا۔ سوال بڑا اچانک تھا اور ادب بھی ملحوظ خاطر تھا اس لیے یہی جواب بن پڑا۔

"حضرت ہی بہتر جانتے ہیں؟”
"علم کے کتنے درجات ہوتے ہیں؟”
دوبارہ ذرا سخت لہجے میں پوچھا گیا۔ اب میں سمجھ گیا کہ جواب دینا ہی پڑے گا۔ تو میں نے عرض کیا:
” حضرت، علم کے تین درجات ہوتے ہیں، ایک علم الیقین ، ایک عین الیقین اور ایک حق الیقین۔”
"یہ علم کے درجات نہیں بلکہ کیفیات ہیں۔” وہاں سے جواب ملا ۔ اب میں خاموش ہوگیا تاکہ حضرت کا جواب سن سکوں۔
” جان لو، علم کے سات درجات ہوتے ہیں۔ پہلا درجہ لاعلمی یا جہالت ہے جسے ہم زندگی سے پہلے کی کیفیت یعنی موت سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ یہ علم کا پہلا زینہ ہے۔ یہ جانے بنا کہ میں نہیں جانتا، کوئی جاننے کا عمل شروع ہی نہیں کرسکتا۔
سن لو، دوسرا درجہ علم کی ابتدا کا ہے۔ یہ علم کا تعارف ہے۔ یہ علم کی زندگی کا آغاز ہے۔ اس کو ہم مچھلی کی سطح کے علم سے تشبیہہ دے سکتے ہیں جو کائنات میں صرف مقید پانی کا علم رکھتی ہے اور زمین و آسمان سے ناواقف ہوتی ہے۔
تعارف حاصل کرنے کے بعد تیسرا درجہ ان باتوں کو جاننا ہے جو فائدہ پہنچاتی ہیں اور جن میں دلچسپی ہوتی ہے۔یہ جانوروں کی سطح کا علم ہے جو نہ صرف پانی بلکہ اس سے اوپر کی دنیا یعنی زمین کا بھی علم رکھتے ہیں۔
چوتھا درجہ ان باتوں کو جاننا ہے جو نقصان پہنچاتی ہیں اور جن سے بچنا لازمی ہوتا ہے۔ یہ پرندوں کی سطح کا علم ہے جو نہ صرف زیرزمین پانی اور زمین کا علم رکھتے ہیں بلکہ آسمان کی بلندیوں تک بھی ایک حد تک پرواز کرتے ہیں۔
پانچواں درجہ نفع و نقصان سے ماورا باتوں کو بھی جاننا ہے۔ یہ انسان کا درجہ ہے جو بیک وقت زمین کی تہہ، زمین کی سطح ، آسمانوں وسعتوں کا علم جاننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
چھٹا درجہ مادی کائنات کی ڈائمنشنز سے نکل کر اس دنیا کا علم بھی حاصل کرنا ہے جو حواس سے ماورا ہے۔ یہ فرشتوں کا درجہ ہے۔
ساتواں اور آخری درجہ اس منبع کا علم ہے جہاں سے یہ تما م علم نکلتا ہے۔ جو اس منبع کا علم حاصل کرلیتا ہے تو اسے علم ہوتا ہے کہ اسے کچھ علم ہی نہیں۔یہ تمام علم کی موت ہے۔ گویا جس موت سے علم کی ابتدا ہوئی تھی اسی موت پر علم کا اختتام ہوگیا۔لیکن یہ جاننا کہ میں کچھ نہیں جانتا اب جہالت نہیں بلکہ علم کی معراج ہے۔ ”
میں ہمہ تن گوش تھا اور باتیں سمجھنے کی کوشش کررہا تھا۔ اچانک حضرت نے ایک اور سوال پوچھ لیا۔
” کوئی شخص علم کے ایک درجے سے اگلے درجے میں کس طرح منتقل ہوتا ہے؟”
” جب وہ ایک مرحلہ مکمل کرلیتا ہے تو اگلے مرحلے میں پہنچ جاتا ہے۔” میں نے جواب دیا ۔
” بالکل درست، بس اس میں ایک بات کا اضافہ اور کرلو ۔ وہ یہ کہ ایک شخص مختلف فیلڈز میں بیک وقت مختلف درجوں میں ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک ڈاکٹر اپنی فیلڈ میں تو علم کے ساتویں درجے میں ہو لیکن عین ممکن ہے وہ اکنامکس کے بارے میں ابھی دوسرے درجے میں ہو۔” حضرت نے جواب دیا۔
” میں ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ آپ نے علم کو پرندوں جانوروں انسانوں اور فرشتوں کے علم سے کیوں تشبیہہ دی ہے جبکہ جانور بھی تو نفع کے ساتھ ساتھ نقصان والی باتوں کا علم رکھتے ہیں؟”
” دراصل جانوروں اور مچھلی یا پرندوں کے علم کا مطلب یہ نہیں کہ یہ علم جانوروں کا ہے یا پرندوں کا ہے یا مچھلی کا ہے۔ بلکہ یہ علم کی سیڑھیاں سمجھانے کے لیے بیان کیا گیا ہے۔ سب سے پہلی سیڑھی زیر زمین پانی کی دنیا ہے جس کو مچھلی کی سطح کے علم سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کے بعد زمین کی سطح کا علم ہے جو چوپایوں کی دنیا ہے۔ اس سے اوپر آسمانی فضا کی سطح ہے جو پرندوں کی دنیا ہے۔ اس سے اوپر ان تمام سطحوں کی تین ڈائمنشنز کا علم ہے جو انسان کی دنیا ہے۔ اس کے بعد روحانی ڈائمنشنز ہیں جو فرشتوں کی دنیا ہےاور اس کے بعد علم کا منبع ہے جو حقیقی صاحب علم کی دنیا ہے۔”
” کیا ایک انسان فرشتوں کا علم حاصل کرسکتا ہے؟” میں نے ایک اور سوال پوچھا۔
” اسے یوں کہنا چاہیے کہ کیا ایک انسان فرشتوں کی دنیا کا علم حاصل کرسکتا ہے؟ تو جواب اثبات میں ہے۔ لیکن وہ یہ علم اتنا ہی حاصل کرسکتا ہے جتنی اجازت ہوتی ہے۔ اس کی مثال پیغمبروں کا فرشتوں کے ساتھ مکالمہ ہے۔ جیسے حضرت خضر علیہ السلا م نے حضرت موسی علیہ السلام کو تعلیم دی یا معراج میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملٹی ڈائمنشن دنیا دکھائی گئی۔ ”
اب بات میری سمجھ آچکی تھی اور میں اس سوچ میں غلطاں تھا کہ میں خود علم کی کس سطح پر ہوں۔

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s