زندگی ایک آزمائش


عبدالرشید خان
23جنوری 2015ء کی سہ پہر تھی ۔میں اپنی فیملی کے ساتھ کعبہ شریف میں باب عبدالعزیز کے سامنے نماز عصر سے فارغ ہوا ہی تھا کہ ایک اعلانیہ سننے میں آیا جس میں سعودی عرب کے بادشاہ جناب شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی نماز جنازہ کی اطلاع دی گئی تھی ۔جب نماز شروع ہوئی تلاوت کے دوران امام کعبہ کی روتے ہوئےہچکیاں سنائی دیں کیونکہ تلاوت کا نفس مضمون ہی موت تھا۔ نماز جنازہ سے فارغ ہوئےہی تھے کہ پیچھے مڑکر دیکھا تو کلاک ٹاور پر ایک بڑا ٹی وی نصب تھا جس میں شاہ عبداللہ کی نماز جنازہ

کا منظر دیکھایا جا رہا تھاجو ریاض میں ہورہی تھی ۔ان کا جسم ایک عام کفن میں ملبوس ایک بڑی جائے نماز پر زمین پر رکھا تھا ۔آج ان کی موت کے ساتھ ان کی بادشاہت کا اختتام ہو چکا تھا۔ نماز کی صفوں میں شاہی خاندان کے افراد قریبی احباب اور سیکورٹی اہل کار شامل تھے ۔یہ لوگ عام زندگی میں بادشاہ سے نظر ملاکر بات تک نہیں کرسکتے تھے ۔ آج وہی لوگ ان کی نماز جنازہ پڑھ رہے تھے اور ان کے لئے دعائےمغفرت کر رہے تھے ۔ بادشاہ کی عمر 90 سال تھی اور انھوں نےاپنی عمر کےآخری دس سال بادشاہ کی حیثیت سے ملک کاانتظام سنبھالا۔یہ ہم سب کےلئے لمحہ فکریہ ہے کہ آج یہ بادشاہوں کے بادشاہ کے حضور میں حاضر ہوگئےہیں جہاں ہر شخص کو جانا ہے شاہ ہو یا گدا ہو یا عام آدمی ہر ایک کو اپناحساب دیناہے۔ ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ مجھے یہ آیات یاد آگئیں:
"لوگو، اگر تمہیں زندگی بعد موت کے بارے میں کچھ شک ہے۔ تو تمہیں معلوم ہو کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہے، پھر نطفے سے، پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر گوشت کی بوٹی سے جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور بے شکل بھی ۔(یہ ہم اس لیے بتا رہے ہیں) تاکہ تم پر حقیقت واضح کر دیں ہم جس (نطفے) کو چاہتے ہیں ایک وقت خاص تک رحموں میں ٹھیرائے رکھتے ہیں۔پھر تم کو ایک بچّے کی صورت میں نکال لاتے ہیں ۔(پھر تمہیں پرورش کرتے ہیں) تاکہ تم اپنی پُوری جوانی کو پہنچو اور تم میں سے کوئی پہلے ہی واپس بلا لیا جاتا ہے اور کوئی بدترین عمر کی طرف پھیر دیا جاتا ہے تاکہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے ۔اور تم دیکھتے ہو کہ زمین سوکھی پڑی ہےپھر جہاں ہم نے اُس پر مینہ برسایا کہ یکایک وہ پھبک اٹھی اور پھول گئی اور اس نے ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگلنی شروع کر دیں۔”( الحج 22:5)
ہماری موجودہ زندگی عارضی اور ناپائدار ہے مگر ہم اُس کو بھول گئے ہیں جواپنی ذات پاک میں یکتا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور وہ اکیلا ہی ہر چیز کا پیدا کرنےوالا ہے جس کے قبضے میں ہماری جان ہے ۔ ہم نےان پیغامات کو پس ِپشت ڈال دیا ہےجو اس نےاپنے پیارے رسولوں کے توسط سے ہم تک پہنچائے ۔ ہم دنیاوی لہوولعب میں اِس طرح مگن ہیں کہ جیسے ہمیں کبھی موت نہیں آئے گی اورجیسےہماری اس عارضی زندگی کی کوئی ایکسپائریشن ڈیٹ نہیں ہے ۔حقیقت تو یہ ہے کہ ہم تو بس آن کال سسٹم پر زندہ ہیں جب ہمارے رب کی طرف سے بلاوہ آئے گا توہم بے چوں چراں روانہ ہو جائیں گے۔ اس سارے پراسس میں ہمارا کوئی اختیار نہیں۔موت ہماری مستقل زندگی کا گیٹ وے ہے۔
” اور کوئی کہتا ہے کہ اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔ (201) ایسے لوگ اپنی کمائی کے مطابق (دونوں جگہ) حصہ پائیں گے اور اللہ کو حساب چکاتے کچھ دیر نہیں لگتی "(البقرہ2:201,202)
"سُنو! جو اللہ کے دوست ہیں، جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقویٰ کا رویہ اختیار کیا۔(62) ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے ۔(63) دُنیا اور آخرت دونوں زندگیوں میں ان کے لیے بشارت ہی بشارت ہے ۔اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں یہی بڑی کامیابی ہے۔( یونس 10:62,63,64)
انسانی زندگی بہت مختصر ہے جیسا کہ آیت قرآنی سے ثابت ہے۔ کسی کی عمر لمحات،دنوں یامہینوں پر محیط ہوتی ہے اور کسی کی عمر بزرگی اور اس کے بد ترین حصے کی طرف دھکیل دی جاتی ہے ۔اوسط عمر ساٹھ سال سے اسی سال ہے۔ بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو سو سال یا اس سے آگے پہنچتے ہوں ۔انسان اس مختصر سی زندگی کو معیاری بنانے کے لئے اعلیٰ تعلیم حاصل کرتا ہے۔ اچھے روزگار اورسوسائٹی میں اعلیٰ مقام حاصل کرنے کے لئے دن رات تگ و دو میں لگا رہتا ہے۔اسی دوڑ میں آدھی سے زیادہ زندگی صرف کردیتا ہےاور اس کشمکش میں بسا اوقات اپنے خالق حقیقی کو بھی بھول جاتا ہے۔کچھ لوگ دنیا میں اپنےمقا صد حاصل کرلیتے ہیں اور کچھ راستے ہی میں رہ جاتے ہیں۔کچھ حادثات کی نذر ہو جاتے ہیں ۔کچھ موذی امراض میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور کچھ بدترین عمر یعنی بڑھاپےمیں داخل ہوجاتے ہیں ۔اگر انسان سمجھے تو درحقیقت ہماری موجودہ زندگی دارالامتحان ہے نہ کہ دارالاجزاء و سزاء۔
"حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے ۔(6) اور وہ خود اِس پر گواہ ہے (7) اور وہ مال و دولت کی محبت میں بری طرح مبتلا ہے ۔(8) (العادیات100:6,7,8)
ہمیں اپنے دین کے بنیادیعقائد پر کاربند رہنا ہے کہ وہ مالک پروردگار اپنی ذات پاک میں واحد لاشریک ہے ۔ محمدﷺاس کے آخری رسول ہیں۔ ان کی لائی ہوئی شریعت کی تعمیل ہم پر واجب ہے۔قرآن پاک کی صورت میں ہمیں ہر طرح کی رہنمائی کے لئے ضابطہ حیات دے دیا گیا ہے۔جس پر عمل کرکے ہمیں اپنی ابدی زندگی کو سنوارناہے۔خودپر عائد تمام عبادات و فرائض کی تکمیل کرنی ہے۔اخلاقیاتاور معاملات کا بدرجہ اتم خیال رکھنا ہے کیونکہ معاشرہ اخلاقیات اور معاملات کی درستگی کے بغیر نا مکمل ہے۔مثلاً ایک دوسرے کے دکھ درد میں کام آنا،دوسروں کی تکلیف کو خود محسوس کرنا،رزق حلال کمانا یعنی معاشی تگ و دو میں جائز اور نا جائز کا خیال رکھنا وغیرہ۔ جس نے دنیاوی معاملات میں قرآن کو رہبر بنایا اورنبی ﷺکی سنت پر عمل کیا ،اس کے لئے جنت کی بشارت ہے ۔جو نہ ختم ہونےوالی عیش و آرام کی زندگی ہوگی۔ یہی اس ذات پاک کی گارنٹی ہے اور جس نے احکام الہی کے بر عکس عمل کیااور بے راہ روی اختیار کی اس کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا جہاں تاحیات آگ میں جلتے رہنا ہوگا۔
"جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، یقیناً اُن پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ "نہ ڈرو، نہ غم کرو، اور خوش ہو جاؤ اُس جنت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے ۔(30) ہم اِس دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی، وہاں جو کچھ تم چاہو گے تمہیں ملے گا اور ہر چیز جس کی تم تمنا کرو گے وہ تمہاری ہوگی ۔(31) یہ ہے سامان ضیافت اُس ہستی کی طرف سے جو غفور اور رحیم ہے”( فصلت 41:30,31,32)
” زمانے کی قسم ۔ (1) انسان درحقیقت بڑے خسارے میں ہے۔ (2) سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے، اور نیک اعمال کرتے رہے۔اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔ (3)(العصر 103:1,2,3)
"جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اترا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ حق شناسی کے اثر سے اُن کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو جاتی ہیں ۔وہ بول اٹھتے ہیں کہ پروردگار! ہم ایمان لائے، ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے” (83) (المائدہ 5:83)
"یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں سب لوگوں کے لیے اور ہدایت اور رحمت اُن لوگوں کے لیے جو یقین لائیں ۔(20) (الجاثیہ 45:20)
"اے انسان، تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہے، اور اُس سے ملنے والا ہے۔” (6) (الانشقاق 84:6)
ابدی زندگی
قرآنی شواہد اور جنت کی ابدی زندگی کی گارنٹی
"دوڑ کر چلو اُ س راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور اُس جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے۔اور وہ اُن خدا ترس لوگوں کے لیے مہیا کی گئی ۔” (آل عمران 3:133 )
"اے ہمارے رب !اور داخل کر اُن کو ہمیشہ رہنے والی اُن جنتوں میں جن کا تو نے اُن سے وعدہ کیا ہے۔ اور اُن کے والدین اور بیویوں اور اولاد میں سے جو صالح ہوں (اُن کو بھی وہاں اُن کے ساتھ پہنچا دے) ۔تو بلا شبہ قادر مطلق اور حکیم ہے (8)( غافر 40:8)
"جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کو ہم جنت کی بلند و بالا عمارتوں میں رکھیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔کیا ہی عمدہ اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے۔( العنکبوت 29:58)
"پھر جیسا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے اعمال کی جزا میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے اس کی کسی متنفس کو خبر نہیں ہے۔(السجدہ 32:17)
"سدا بہار باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ جزا ہے اُس شخص کی جو پاکیزگی اختیار کرے۔( طہٰ20:76)
"جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیا٫ اور صدیقین اور شہدا٫ اور صالحین۔ کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں ۔(النساء 4:69)
"اور جو لوگ اپنے رب کی نافرمانی سے پرہیز کرتے تھے انہیں گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا ۔یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے۔اور اس کے دروازے پہلے ہی کھولے جا چکے ہوں گے۔ تو اُس کے منتظمین ان سے کہیں گے کہ "سلام ہو تم پر، بہت اچھے رہے، داخل ہو جاؤ اس میں ہمیشہ کے لیے” (الزمر39:73
دائیں بازو والے۔سو دائیں بازو والوں (کی خوش نصیبی) کا کیا کہنا !
"ان مومن مردوں اور عورتوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ انہیں ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان سدا بہار باغوں میں ان کے لیے پاکیزہ قیام گاہیں ہوں گی۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ کی خوشنودی انہیں حاصل ہوگی یہی بڑی کامیابی ہے۔( التوبہ 9:72)
"یعنی ایسے باغ جو اُن کی ابدی قیام گاہ ہوں گے وہ خود بھی ان میں داخل ہوں گے اور ان کے آباؤ اجداد اور اُن کی بیویوں اور اُن کی اولاد میں سے جو جو صالح ہیں وہ بھی اُن کے ساتھ وہاں جائیں گے ملائکہ ہر طرف سے اُن کے استقبال کے لیے آئیں گے (23) اور اُن سے کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہے، تم نے دنیا میں جس طرح صبر سے کام لیا اُس کی بدولت آج تم اِس کے مستحق ہوئے ہو۔ پس کیا ہی خوب ہے یہ آخرت کا گھر! "(الرعد 13:23,24)
"دائمی قیام کی جنتیں۔جن میں وہ داخل ہوں گےان کےنیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔اور سب کچھ وہاں عین اُن کی خواہش کے مطابق ہوگا۔ یہ جزا دیتا ہے اللہ متقیوں کو۔ (31) اُن متقیوں کو جن کی روحیں پاکیزگی کی حالت میں جب ملائکہ قبض کرتے ہیں تو کہتے ہیں سلام ہو تم پر، جاؤ جنت میں اپنے اعمال کے بدلے” (النحل 16:31,32)
” اُن کے آگے سونے کے تھال اور ساغر گردش کرائے جائیں گے۔ اور ہر من بھاتی اور نگاہوں کو لذت دینے والی چیز وہاں موجود ہو گی۔ ان سے کہا جائے گا کہ تم اب یہاں ہمیشہ رہو گے۔ (71) تم اِس جنت کے وارث اپنے اُن اعمال کی وجہ سے ہوئے ہو جو تم دنیا میں کرتے رہے۔( الزخرف 43:71,72)
(اور ان کے لیے خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی۔ (22) ایسی حسین جیسے چھپا کر رکھے ہوئے موتی ۔(23) یہ سب کچھ اُن اعمال کی جزا کے طور پر انہیں ملے گا جو وہ دنیا میں کرتے رہے تھے۔ (24) ( الواقعہ 56:22,23,24)

اور بائیں بازو والے۔بائیں بازو والوں کی بد نصیبی کا کیا پوچھنا!
” اور بائیں بازو والے۔بائیں بازو والوں کی بد نصیبی کا کیا پوچھنا۔ (41) وہ لو کی لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی (42) اور کالے دھوئیں کے سائے میں ہوں گے۔ (43) (الواقعہ 56:41,42,43)
” اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈال لیا وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ (103) (المؤمنون 23:103)
” یقین جانو، جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے اور ان کے مقابلہ میں سرکشی کی ہے ان کے لیے آسمان کے دروازے ہرگز نہ کھولے جائیں گے۔ اُن کا جنت میں جانا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا سوئی کے ناکے سے اونٹ کا گزرنا ۔مجرموں کو ہمارے ہاں ایسا ہی بدلہ ملا کرتا ہے۔ (40) ان کے لیے تو جہنم کا بچھونا ہوگا اور جہنم ہی کا اوڑھنا ہوگا۔یہ ہے وہ جزا جو ہم ظالموں کو دیا کرتے ہیں (41)(الاعراف 7:40,41)
"پس اے محمدﷺ! جن لوگوں نے تمہاری دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، اُن سے کہہ دو کہ قریب ہے وہ وقت، جب تم مغلوب ہو جاؤ گے۔ اور جہنم کی طرف ہانکے جاؤ گے اور جہنم بڑا ہی برا ٹھکانا ہے ۔(12) (آل عمران 3:12)
"ا ِس طرح جن لوگوں نے کفر و بغاوت کا طریقہ اختیار کیا اور ظلم وستم پر اتر آئے اللہ ان کو ہرگز معاف نہ کرے گا اور انہیں کوئی راستہ(168) بجز جہنم کے راستہ کے نہ دکھائے گا ۔جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اللہ کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔169 (النساء 4:168,169 )
"جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے۔ اور جسے وہ گمراہی میں ڈال دے تو اسکے سوا ایسے لوگوں کے لیے تو کوئی حامی و ناصر نہیں پا سکتا ۔ان لوگوں کو ہم قیامت کے روز اوندھے منہ کھینچ لائیں گے۔اندھے، گونگے اور بہرے ہیں۔ اُن کا ٹھکانا جہنم ہے جب کبھی اس کی آگ دھیمی ہونے لگے گی ہم اسے اور بھڑکا دیں گے(الاسرء 17:97)

ترتیب: عبدالرشید خان
ورجینیا امریکہ

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s