ووکیشنل ایجوکیشن اور پاکستان کا عمومی رویہ

اگر کوئی نوجوان ہمارے ملک میں الیکٹریشن بننا چاہے، کار مکینک بننا چاہے، پلمبر بننا چاہے یا اسی طرح کے کسی اور شعبے میں آنا چاہے تو اسے مارکیٹ میں بیٹھے ہوئے کسی روایتی استاد سے یہ کام سیکھنا پڑے گا۔ ویسے بھی اس طرح کے تمام شعبوں میں زیادہ تر وہی نوجوان آتے ہیں جو یا تو میٹرک میں فیل ہوجاتے ہیں یا پھر ساتویں آٹھویں کلاس سے ہی بھاگ کر مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں کوئی کام سکھا دیا جائے۔ لہٰذا ان نوجوانوں کو تعلیمی میدان میں نااہل اور بھگوڑا تصور کرتے ہوئے روایتی استاد کی دکان پر چھوڑ دیا جاتا ہے

۔
دکان پر پہلے چار چھ مہینے اس سے صفائی کروائی جاتی ہے، پھر اگلے چھ مہینے اوزار پکڑانے پر مامور کردیا جاتا ہے، اور یوں آہستہ آہستہ اسے فنی رموز سے آگاہ کرنے کا عمل شروع ہوتا ہے۔ اگر نوجوان کے نصیب اچھے ہوں اور استاد نیک دل ہو تو تین چار سال میں نوجوان کاریگر بن جاتا ہے۔کاریگر بننے کے بعد نوجوان اپنی دکان کھول لیتا ہے اور دکان کی صفائی ستھرائی کے لیے کوئی مناسب سا شاگرد ڈھونڈ لیتا ہے اور پھر اسے بھی اسی طرح کام سکھاتا ہے، جس طرح سے اس نے خود سیکھا ہوتا ہے۔
ووکیشنل تعلیم کے اس نظام کو ہم نان فارمل ٹریننگ کا نام دے سکتے ہیں۔ لیکن ہمارے ملک میں نان فارمل ٹریننگ کے علاوہ بھی ووکیشنل ٹریننگ کا ایک نظام موجود ہے جسے ہم فارمل ووکیشنل ٹریننگ کہہ سکتے ہیں۔اگر ہم صوبہ پنجاب کی بات کریں تو یہاں کئی ووکیشنل اور ٹیکنیکل کالج ہیں، جہاں طلبا کو الیکٹریشن، اے سی، فریج اور اسی طرح کے دوسرے کام سکھانے کےلیے داخلہ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح لڑکیوں کو بھی بیوٹیشن اور اس سے ملتے جلتے کورسز کروائے جاتے ہیں۔حکومت پنجاب نے ووکیشنل ایجوکیشن سسٹم کو فعال بنانے کےلیے ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اتھارٹی بھی قائم کر رکھی ہے جو ووکیشنل اداروں کے معاملات کو دیکھتی ہے۔
طلبا کو ان کالجوں میں باقاعدہ داخل کیا جاتا ہے، جہاں انہیں فنی تربیت کے ساتھ ساتھ متعلقہ فن کی تھیوری بھی پڑھائی جاتی ہے۔ کورس کی مدت پوری ہونے پر طلبا کا امتحان لیا جاتا ہے، جسے پاس کرنے پر انہیں ڈپلومہ جاری کردیا جاتا ہے۔ ہنر کے لحاظ سے یہ کورسز 6 ماہ سے لے کر دو سال تک کے ہوسکتے ہیں۔
گزشتہ حکومت نے ووکیشنل ٹریننگ کے اس نظام پر خاصی توجہ دی ہے۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں بھی طلبا کو ویٹرنری اسسٹنٹ، فیڈ ٹیکنالوجی اور اسی طرح کے دیگر کئی کورسز کروائے جارہے ہیں۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ووکیشنل ٹریننگ کا فارمل سسٹم ہمارے ملک میں کس حد تک موثر ہے؟
اس بات کو سمجھنے کےلیے میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں جب 2014 میں ایف ایم ریڈیو لانچ ہوا تو مجھے ریڈیو کے معاملات دیکھنے کی ذمے داری سونپی گئی۔ پبلک سیکٹر ریڈیو ہونے کی وجہ سے ضروری تھا کہ ہم نشر کرنے سے پہلے اپنے پروگرام کی ریکارڈنگ کریں۔ ظاہر ہے جب پروگرام ریکارڈ ہونا تھا تو پھر اسے ایڈٹ کرنے کی بھی ضرورت تھی، جس کےلیے ہمیں ایک وائس ایڈیٹر چاہیے تھا۔
ہم نے انتظامیہ سے درخواست کی اور ہمیں کوالیفائڈ وائس ایڈیٹر بھرتی کرنے کی منظوری مل گئی۔ اب سرکاری کاغذوں میں کوالیفائڈ صرف اسی شخص کو تسلیم کیا جاسکتا تھا جس کے پاس کسی رجسٹرڈ ادارے کی کوئی نہ کوئی سند ہوتی۔ وائس ایڈیٹر کی بھرتی کے حوالے سے ہمارا یہ تجربہ بڑا دلچسپ رہا۔ کیونکہ جس امیدوار کے پاس ڈپلومہ ہوتا تھا، اسے وائس ایڈیٹنگ کا کام نہیں آتا تھا، اور جسے کام آتا تھا، اس کے پاس ڈپلومہ نہیں ہوتا تھا۔
میں نے آپ کو صرف ایک مثال دی ہے۔ ہمارے ہاں زیادہ تر ٹیکنیکل ڈپلومہ ہولڈر کے پاس تسلی بخش مہارت نہیں ہوتی۔ ڈپلومہ تو ڈپلومہ، ہمارے ہاں تو ڈگریاں رکھنے والوں کا بھی یہی حال ہے۔ یہاں سیکڑوں کی تعداد میں طلبا کمپیوٹر سائنس کی ڈگریاں لے کر نکلتے ہیں لیکن کم ہی لوگ ہوں گے جو کوئی ویب سائٹ بنا لیتے ہوں گے یا کمپیوٹرپروگرامنگ کرلیتے ہوں گے۔ ان کے پاس ڈگری تو ہوتی ہے لیکن مطلوبہ مہارت نہیں ہوتی۔ دراصل یہ ہمارے ملک کی ٹیکنیکل اور ووکیشنل ایجوکیشن کا ایک مستقل المیہ ہے۔
فارمل ووکیشنل ٹریننگ نہ ہونے یا غیر موثر ہونے کی وجہ سے صارفین کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
آپ نے کوئی الیکٹریشن بلایا ہے تو جوڑ لگانے سے زیادہ وہ کچھ نہیں جانتا۔ پلمبر بلایا ہے تو اس سے لیکیج بند نہیں ہوتی۔ پلستر کرنے کےلیے مستری بلوایا ہے تو اسے ڈھنگ سے پلستر نہیں کرنا آتا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ مارکیٹ میں جو ٹیکنیکل لیبر دستیاب ہے اس کی پروفیشنل طریقے سے کوئی ٹریننگ ہی نہیں ہوئی۔ دو چار ماہ کسی استاد کے ساتھ کام کیا، کسی بات پر ناراضگی ہوئی۔ الگ ہوئے تو اگلے محلے میں پہنچ کر استاد بن گئے۔
اب اگر اس طرح کا کوئی استاد آپ کے گھر میں سینیٹری کا کام کرگیا تو پھر آپ کی بلڈنگ کا اللہ ہی حافظ ہے۔ یہ تو تھی ہمارے پیارے وطن میں ووکیشنل ٹریننگ کی صورت حال۔ آئیے! اب ہم آسٹریلیا، جرمنی اور چین میں ووکیشنل ٹریننگ کا سرسری سا جائزہ لیتے ہیں۔
سب سے پہلے آسٹریلیا کی مثال لیجئے۔
آسٹریلیا میں کوئی فرد پلمبر، الیکٹریشن یا کار مکینک وغیرہ کا کام نہیں کرسکتا، جب تک کہ وہ کسی رجسٹرڈ ادارے سے تربیت لے کر سند حاصل نہ کرلے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں کام کرنے والا کاریگر نہ صرف یہ کہ اپنے شعبے کی جدید تکنیک سے واقف ہوتا ہے بلکہ وہ پریکٹیکل کے ساتھ ساتھ اپنے کام کی تھیوری سے بھی واقف ہوتا ہے۔ ظاہر ہے جب ایک آدمی اپنے کام کی تھیوری کو سمجھتا ہے تو وہ کام میں پیش آنے والے ہر طرح کے مسائل کو بہتر طریقے سے حل کرسکتا ہے۔
لہٰذا اگر آپ نے حجام کی دکان بنانی ہے، ٹیلرنگ کا کام کرنا ہے یا آٹوموبائل مکینک وغیرہ بننا ہے، تو آپ کو کسی نہ کسی ادارے میں داخلہ لینا پڑے گا۔ ادارے سے تربیت حاصل کرنے کے بعد امیدوار کو لائسنس جاری کیا جاتا ہے، جس کی بنیاد پر بازار میں وہ اپنی دکان کھول سکتا ہے۔ لیکن آسٹریلیا میں ووکیشنل سند یافتہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ آنکھیں بند کرکے اس شخص کی مہارت پر اعتماد کرسکتے ہیں اور آپ کا کام انتہائی تسلی بخش ہوگا۔
پنجاب میں بھی اگر کوئی شخص پیسٹی سائیڈ کی دکان بنانا چاہتا ہے تو پہلے اس کو پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے پیش کیے جانے والے مختصر مدت کے کورس میں داخلہ لینا پڑتا ہے۔ امیدوار داخلہ فیس دیتا ہے، ریگولر کلاسیں لیتا ہے اور کورس مکمل ہونے کے بعد محکمہ اسے ایک سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے اور اسی سرٹیفیکیٹ کی بنیاد پر وہ بازار میں پیسٹی سائیڈ کی دکان کھولتا ہے۔ ہمارے ہاں جتنے بھی لوگ پیسٹی سائیڈ کی دکانیں بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں، ان سب کے پاس کوئی نہ کوئی سرٹیفکیٹ لازمی ہوتا ہے، بصورت دیگر ان کے خلاف محکمانہ کارروائی ہوجاتی ہے۔ یہی معاملہ ہمارے ہاں میڈیکل اسٹور بنانے کے حوالے سے بھی ہے۔
آسٹریلیا میں کاریگر اگر سندیافتہ ہوتا ہے تو اس کی اجرت بھی اچھی خاصی ہوتی ہے۔
میرے برادر نے 90 کی دہائی میں آسٹریلیا سے سوفٹ ویئر انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ پچھلے 20 سال سے وہ آسٹریلیا میں ہی بطور سوفٹ وئیر انجینئر کام کر رہے ہیں۔ ایک دفعہ میں نے ان سے سوال کیا کہ کیا آپ اپنے پروفیشن سے مطمئن ہیں؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ نہیں۔
میں نے پوچھا کہ اگر آپ کو دوبارہ موقع ملے تو آپ کیا بننا پسند کریں گے۔
تو انہوں نے جواب دیا کہ میں وہاں پلمبر بننا پسند کروں گا۔ میرے سوال کا جواب سن کر ساتھ بیٹھے ہوئے تمام لوگ کھلکھلا کر ہنس پڑے۔
ظاہر ہے ہم تو پلمبری کے پیشے کو اپنے معاشرے کے حساب سے ہی دیکھیں گے۔ جب کہ آسٹریلیا میں پلمبر بننا معاشرے کے حوالے سے ایک باعزت اور پیسہ کمانے کے اعتبار سے ایک اہم پیشہ ہے۔ وہاں کال کرنے پر پلمبر اپنی گاڑی میں آتا ہے۔ اس نے اپنا یونیفارم پہنا ہوا ہوتا ہے، وہ ہر طرح کے اوزاروں سے لیس ہوتا ہے اور کام کرنے کے بعد آپ کی جیب کافی ہلکی کرجاتا ہے۔ آسٹریلیا کے بارے میں عام طور پر یہ بات کہی جاتی ہے کہ وہاں ٹول یعنی اوزار سستا اور مزدوری مہنگی ہے۔ وہاں لوگ اوزار خرید کر خود کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ کیونکہ اوزار تو آپ نے ایک مرتبہ خرید کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آسٹریلیا میں ووکیشنل ٹریننگ نہ صرف یہ کہ انتہائی منظم ہے بلکہ اس شعبے کو ایک باعزت پروفیشن بھی سمجھا جاتا ہے۔اب دوسری مثال جرمنی کی ہے
جرمنی نے اپنے ملک میں جنرل اور پروفیشنل ایجوکیشن کی طرح ووکیشنل ایجوکیشن کا بھی ایک جامع سسٹم بنا رکھا ہے۔
ضمنی بات یہ ہے کہ اول اول میرے لیے اس بات کو قبول کرنا بڑا مشکل تھا کہ لوگوں کو جنرل یا پروفیشنل ایجوکیشن کے بجائے ووکیشنل ایجوکیشن کی طرف راغب کیا جائے۔ چونکہ جنرل اور پروفیشنل ایجوکیشن کو ہمارے ہاں زیادہ معتبر سمجھا جاتا ہے، لہٰذا میں سوچتا تھا کہ ہر آدمی کو کم از ماسٹرز کرنا چاہیے یا کوئی پروفیشنل ڈگری حاصل کرنی چاہیے۔ چونکہ میں خود پروفیشنل تعلیم حاصل کر رہا تھا تو دوسروں کےلیے بھی ویسی ہی سوچ رکھتا تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میں اس نتیجے پر پہنچا کہ اللہ تعالی نے انسانوں کے اندر مختلف طرح کے رجحانات رکھے ہوتے ہیں۔ ایک آدمی جنرل ایجوکیشن کی طرف مائل ہے تو دوسرا آدمی ووکیشنل سائیڈ کو زیادہ پسند کرتا ہے۔
ہمارے ملک میں مسئلہ یہ ہے کہ جنرل ایجوکیشن کےلیے تو ہم نے ایک سسٹم بنایا ہوا ہے، لیکن ووکیشنل ٹریننگ کےلیے ہم نے کوئی جامع سسٹم نہیں بنایا ہوا۔ جبکہ پاکستان کے برعکس جرمنی میں ووکیشنل ٹریننگ کا بھی ایک زبردست سسٹم موجود ہے۔ یوں سمجھیے کہ اگر جرمنی میں ایک طالب علم نے مڈل یا میٹرک کرلیا ہے اور اب وہ کوئی کام سیکھنا چاہتا ہے تو اس کےلیے وہ متعلقہ کالج کو داخلے کےلیے درخواست دے گا۔
سمجھنے کےلیے فرض کرلیجیے کہ آپ نے فیصل آباد میں کسی ووکیشنل کالج کو کار مکینک بننے کےلیے درخواست دی ہے۔ کالج آپ کا داخلہ کرنے کے بعد آپ کو کام سیکھنے کےلیے (انٹرن شپ) سوزوکی موٹر ورکشاپ پر بھیج دے گا۔ جہاں ہفتے کے 3 دن آپ کام سیکھیں گے جبکہ باقی 3 دن آپ ووکیشنل کالج میں کار انجن کی تھیوری پڑھنے کے علاوہ ریاضی اور سائنس وغیرہ بھی پڑھیں گے۔ سوزوکی موٹر ورکشاپ آپ کو ماہانہ تنخواہ دینے کی بھی پابند ہوگی۔ اس طرح آپ کی ٹریننگ اور تعلیم ساتھ ساتھ چلیں گے۔ جب آپ کی دو یا تین سال کی ٹریننگ اور ووکیشنل کالج کی تعلیم مکمل ہوجائے گی تو امتحان پاس کرنے کے بعد آپ کو سند جاری کردی جائے گی۔ اور اس سند کی بنیاد پر آپ ملازمت کرسکتے ہیں یا پھر اپنی ورکشاپ بناسکتے ہیں۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ورکشاپ والوں کو اس کا کیا فائدہ ہوگا؟
جرمنی میں حکومت نے ٹیکنیکل شاپ رکھنے والوں کو پابند کیا ہوا ہے کہ وہ سال میں نوجوانوں کی ایک مخصوص تعداد کو ٹریننگ دیں گے۔ خلاف ورزی کی صورت میں انہیں حکومتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا، ورکشاپ والوں کے پاس جب اور جتنی گنجائش ہوتی ہے، ووکیشنل کالج کو لکھ بھیجا جاتا ہے۔ اور کالج، نوجوانوں کو کام سیکھنے کےلیے ورکشاپ پر بھیج دیتا ہے۔ جرمنی میں ووکیشنل ٹریننگ سسٹم کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ ووکیشنل ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد اگر آپ چاہیں تو دوبارہ جنرل یا پروفیشنل ایجوکیشن کی طرف جاسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ نے میٹرک کے بعد دو سال کی ووکیشنل ٹریننگ لی ہے تو کالج سے ملنے والی سند ایف اے، ایس ایس سی کے برابر مانی جائے گی۔ اور اس سند کی بنیاد پر آپ انجینئرنگ کی ڈگری میں داخلہ لینے کے بھی اہل ہوتے ہیں۔
یعنی اگر کوئی طالب علم ووکیشنل ٹریننگ کا راستہ اختیار کرے تو آگے چل کر انجینئر بننے کا راستہ اس کےلیے بند نہیں ہوتا۔ اسی طرح اگر وہ جنرل ایجوکیشن میں جانا چاہے تو اس کےلیے وہ راستہ بھی کھلا رکھا گیا ہے۔
لیکن ہمارے ہاں ووکیشنل ٹریننگ کرنے والوں کےلیے اعلیٰ تعلیم کے راستے یا تو بالکل بند ہیں یا پھر انتہائی محدود ہیں۔ میرے برادر جرمنی میں بطور انجنیئر کام کرتے ہیں، وہ سی ٹی اسکین مشینیں بنانے والی کمپنی سیمن کے شعبہ ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ میں جاب کرتے ہیں۔ ان کا یہ مشاہدہ ہے کہ جرمنی میں وہ لوگ جو ووکیشنل ٹریننگ والے راستے سے انجینئر بنتے ہیں، وہ ان لوگوں سے زیادہ کامیاب ہیں جو جنرل ایجوکیشن سے انجینئرنگ ڈگری میں چلے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ووکیشنل ٹریننگ والے چینل سے انجینئر بننے والے لوگوں کی مجموعی صلاحیت خاص طور پر تکنیکی مسائل کے حل اور تخلیق کاری میں وہ دوسروں سے زیادہ بہتر سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ جرمنی کا ووکیشنل ٹریننگ کا نظام نہ صرف یہ کہ طلبا کو بہتر فنی تربیت فراہم کرتا ہے بلکہ انہیں آگے بڑھانے کےلیے بھی ہر طرح کے تعلیمی دروازے کھلے رکھتا ہے۔
تیسری اور آخری مثال چائنا کی ہے۔
امریکا کی ایک ملٹی نیشنل کمپنی نے اپنی بہت ساری مینوفیکچرنگ انڈسٹری چائنا شفٹ کردی ہیں۔ میں اس کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کا ٹیلی ویژن انٹرویو دیکھ رہا تھا۔ میزبان نے سوال کیا کہ آپ نے اپنی زیادہ تر انڈسٹری چائنا شفٹ کردی ہے، آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ کیا وہاں لیبر سستی ہے؟
چیف ایگزیکٹو نے جواب دیا کہ اگر ہم امریکا میں کسی ٹیکنیکل جاب کےلیے درخواستیں طلب کریں تو ہمیں 100 سے زیادہ درخواستیں موصول نہیں ہوتیں۔ لیکن اگر ہم اسی جاب کےلیے چائنا میں درخواستیں طلب کریں تو کم از کم ایک ہزار لوگ درخواستیں دیتے ہیں اور پھر ان ایک ہزار درخواستوں میں سے ہم بہترین صلاحیت کے لوگوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ باصلاحیت لوگوں کا مطلب بہترین کام اور بہترین کام کا مطلب کمپنی کی کامیابی۔
چیف ایگزیکٹو کا ماننا تھا کہ چائنا کی ترقی کے پیچھے بنیادی طور پر وہاں کی ووکیشنل ایجوکیشن کا ہاتھ ہے۔ ہم سب دیکھتے ہیں کہ چائنا فنی اعتبار سے ساری دنیا کو پیچھے چھوڑ رہا ہے۔
ویسے بھی اگر دیکھا جائے تو ووکیشنل ٹریننگ حاصل کرنے والے افراد کا، کام کرنے کے حوالے سے رویہ زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ وہ کسی بھی کام کو سر انجام دینے میں اپنی ہتک نہیں سمجھتے۔ جبکہ ماسٹرز یا ایم فل کرنے والا آدمی ایک آدھ مخصوص ملازمت کے علاوہ نوکری یا کام کرنا اپنی ہتک سمجھتا ہے۔
اگر ہم زرعی تعلیم کے حوالے سے بات کریں تو زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ایگری کلچر کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس تعلیم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ فارغ التحصیل افراد توسیعی و تحقیقی خدمات کے علاوہ عملی زراعت کو اپنائیں، تاکہ وطن عزیز کی زراعت پڑھے لکھے اور پروفیشنل لوگوں کے ہاتھ میں آئے۔
ہم نے دو سال پہلے پنجاب کی تین زرعی یونیورسٹیوں کا ایک سروے کیا تھا، جس میں ایم ایس سی ایگری کلچر کرنے والے طلبا سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ڈگری حاصل کرنے کے بعد کاشتکاری کو بطور پیشہ اپنائیں گے؟ 80 فیصد سے زائد طلبا نے یہ جواب دیا کہ وہ کاشتکاری بالکل نہیں کریں گے۔
زیادہ تر طالب علموں کا یہ کہنا تھا کہ اگر ہم اپنے گاؤں میں جا کر زراعت کرنا شروع کردیں گے تو گاؤں والے ہمیں جینے نہیں دیں گے۔ بہت سے طالب علموں کی سوچ یہ تھی کہ ان کے والدین ہی انہیں یہ کام کرنے نہیں دیں گے۔ والدین کہیں گے کہ اگر آپ نے کاشتکاری ہی کرنا تھی تو پھر زرعی یونیورسٹی جا کر چار چھ سال ضائع کرنے کی کیا ضرورت تھی، کیونکہ زراعت تو ایک ان پڑھ آدمی بھی کرسکتا ہے۔
البتہ ہمارا مشاہدہ ہے کہ ووکیشنل یا ٹیکنیکل ایجوکیشن حاصل کرنے والے طلبا اور والدین کے ہاں اس طرح کی سوچ بہت کم پائی جاتی ہے۔ اور ان کا محنت اور کام کی طرف رویہ زیادہ مثبت ہوتا ہے۔
میرے خیال میں جرمنی کا ووکیشنل ٹریننگ والا ماڈل، قابل تقلید ہے۔ پاکستان میں تجربہ کار لوگوں کی کمی نہیں ہے۔ ملکوں ملکوں گھومنے والے لوگ موجود ہیں، جن کی ٹیکنیکل اور ووکیشنل ایجوکیشن پر بڑی گہری نظر ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں ایک ایسا ووکیشنل ٹریننگ سسٹم قائم کیا جائے جو جرمنی کے نظام کی خوبیاں رکھنے کے ساتھ ساتھ پاکستانی مزاج کے ساتھ مطابقت بھی رکھتا ہو۔
ڈاکٹر شوکت علی بشکریہ ایکسپریس اخبار

Advertisements

2 responses to this post.

  1. Posted by ABDUL RASHEED kHAN on 02/04/2019 at 4:15 صبح

    بہت عمدہ ٹاپک ہے جس پر آپ نے قلم اٹھایااور بہت جدید معلومات اس بلاگ کے پڑھنے والوں کو فراھم کیں جو ہمارے ملک کی ترقی کیلۓ ناگزیر ہے. ہمارے ملک میں ٹیکنیکل انسٹیٹیوشن کی تعداد میں اضافہ ہونا چاہۓ اور عوام اور خواص کا شعور بیدار کرنے کیلۓ سیمینار منعقد کرنا بہت ضروری ہے

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s