لیبر ڈے اور ہم


ڈاکٹر محمد عقیل
لیبر کے حوالے سے ہمارے ہاں چند غلط تصورات پائے جاتے ہیں۔ پہلا تصور لیبر کو مزدور سمجھنا ہے۔ ہمارے ہاں لیبر سے مراد اینٹیں اٹھانے والامزدور ،نائی ، موچی یا ہاتھ سے کام کرنے والا کوئی شخص سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ اکنامکس میں لیبر سے مراد ہر وہ شخص ہے جو اپنی سروسز یعنی خدمات دے کر اس کے بدلے میں اجرت یا سیلری لیتا ہے۔

اس تعریف کے تحت ایک مینجر ، پائلٹ، ڈاکٹر، انجنئیر، استاد، فوجی،پولیس، کمشنر،وزیر سب شامل ہیں۔
دوسرا غلط تصور یہ ہے کہ مزدورکو صرف محنت کرنے والا ہونا چاہیے۔ بے شک مزدور کو محنت کرنا چاہیے لیکن لیبر کو کام بھی آنا چاہیے۔ایک پلمبر سارا دن ایک نل سے اپنی روکنے کی محنت کرتا رہے لیکن اسے کام ہی نہ آتا ہو تو محنت کس کام کی؟ اس کے علاوہ لیبر کا صحت مند ہونا ضروری ہے کیونکہ صحت کے بنا ایک ماہر استاد یا ڈاکٹر اپنی خدمات انجام نہیں دے سکتا۔ اسی کے ساتھ ساتھ لیبر کا دیانت دار ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ ایک ماہر ترین ڈاکٹر بھی ہمارے لیے نقصان دہ ہے جو فراڈ کرکے مریضوں سے رقم بٹورے ۔ان تمام پروفیشنل اور اخلاقی خوبیوں کے حامل شخص کو اکنامکس کی اصطلاح میں ہیومن کیپٹل کہتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کا ہیومن کیپٹل انڈیکس میں ۱۳۴ نمبر ہے جو انڈیا ، سری لنکا، بنگلہ دیش حتی کے افغانستان سے بھی کم ہے۔
ہمارے بیشتر مسائل ان اسکلڈ ، غیر تربیت یافتہ اور اخلاقی اقدار سے عاری لیبرز کی وجہ سے ہیں۔ ہمارا ٹریفک کا نظام جدید ٹیکنالوجی سے نابلد ٹریفک پولیس کی کی بنا پر تباہ ہے، ہمارا تعلیمی نظام اساتذہ کی نااہلی یا ٹیوشن مافیا کی بنا پر تباہ حال ہے، ہماری نظام سیاست وزیروں اور مشیروں کی کی اپنے شعبے میں نااہلی یا عدم دلچسپی کی بنا پر زبوں حالی کا شکار ہے، ہمارا پانی کا مسئلہ واٹر بورڈ کے ملازمین کی کرپشن کی بنا پر ہے، ہمارے جرائم قانون نافذ کرنے والے اداروں میں مطلوبہ اسکلز یا اخلاقی معیار نہ ہونے کی بنا پر ہے وغیرہ۔
پاکستان میں لیبرز کا جی ڈی پی میں سب سے زیادہ کنٹری بیوشن ہے جو ساٹھ فی صد سے بھی زائد ہے ۔ اگر ہم اپنے لیبر میں وہ پروفیشنل اسکلز پیدا کردیں جو دنیا کو درکار ہیں ، وہ اخلاقی اچھائیاں پیدا کرلیں جو لازمی سمجھی جاتی ہیں،وہ صحت حاصل کرلیں جو بلا تعطل کام کرنے کے لیے ضروری ہے تو ہم پاکستان کے بے شمار مسائل حل کرسکتے ہیں۔اسی کے ساتھ ساتھ ہم وہ لیبر ایکسپورٹ کرسکتے ہیں جو اسکلڈ ہونے کی بنا پر زیادہ رقم کما سکتے اور قیمتی زر مبادلہ پاکستان بھیج سکتے ہیں۔ سنگاپور کے باہر کام کرنے والے لیبرز تعداد میں اوورسیز پاکستانیوں سے بہت کم ہیں لیکن ان کی ریمٹنسز ہم سے کہیں زیادہ ہیں اور فرق وہی ہے اوپر بیان کیا گیا ہے۔
یہ سب پڑھنے کے بعد ممکن ہے آپ اتفاق کرنے کے بعد کندھے اچکا کریہ کہہ دیں کہ یہ تو حکومت کے کرنے کا کام ہے ہم کیا کریں۔ ایسا نہیں۔ سب کچھ حکومت کا کام نہیں ہوتا، کچھ ہمارا کام بھی ہوتا ہے۔ اگر ہم دیکھیں تو ہم میں سے اکثر کسی نہ کسی جگہ اپنی سروسز دے رہے ہیں۔ اگر ہم بحیثیت لیبر اپنے اندر یہ پروفیشنل اور اخلاقی خصوصیات پیدا کرلیں اور اس کے مطابق کام کریں تو ہم اپنے اردگردچند کلومیٹر تک حالات بہتر کرسکتے ہیں۔ اور اگر اکثریت یہ کام کرنے لگ جائے تو ہر ایک کا چند کلومیٹر مل کر پورا پاکستان بن سکتا ہے۔

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s