توجہ کا اکرام


اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ نماز پڑھتے وقت ہماری توجہ نماز کی بجاۓ دوسری جانب مبذول ہو جاتی ہے. اس میں شیطانی وسوسوں کا بھی بڑا دخل ہے کہ ابلیس نے اللہ تعالیٰ سے انسان کو ورغلانے کاوعدہ کیا تھا.اور وہ آپ کا دھیان دوسری طرف مبذول کرانے میں کامیاب ہو جاتا ہے.

دوسری وجہ یہ کہ یہ ایک فطری عمل اورآپ کی اپنی کمزوری بھی ہے کہ جس طرف آپ کا دل و دماغ لگا ہوتا ہے. ظاہر ہے وہی چیزیں آپ کے دماغ پرمسلط ہوں گی اور دھیان اسی جانب جاۓ گا. حالانکہ آپ زبان سے تلاوت کر رہے ہیں مگر آپ کی توجہ اس طرف چلی جاتی ہے جو کام آپ نے کرنے ہوتے ہیں یا جو کام آپ نےابھی ختم کئے ہوتے ہیں اور سب سے بڑی چیز یہ کہ ہم دنیا میں اتنے منہمک ہیں کہ دنیاوی کاموں کواپنی اولین ترجیحات میں رکھا ہوتاہے اور اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی عبادت آٹومیٹک ثانوی پوزیشن اختیار کرلیتی ہے. ہم زبانی طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت , تلاوت یا تسبیحات کر رہے ہوتے ہیں مگر دماغ دوسری طرف تیز رفتاری سےاپنے دنیاوی پراجیکٹ پر کام کررہا ہوتا ہے. جوں ہی آپ کی عبادت , تلاوت ,تسبیہات مکمل ہوئیں آپ کا دنیاوی پراجیکٹ بھی آٹو میٹک تکمیل کی حدود تک پہنچ چکا ہوتا ہے
آپ نے نوٹ کیا ہے کہ جب آپ ریڈیو سن رہے ہوں تو کہ آپ جس اسٹیشن کی نشریات سن رہے ہوں تو اس کے ساتھ والے اسٹیشن سےدھیمی انداز میں آٹومیٹک نشریات سنائی دے رہی ہوتی ہیں کیونکہ دوسرے اسٹیشن کی فریکوئینسی زیادہ طاقتور ہے اس لئے بیک وقت دو مختلف آوازیں سنائی دے رہی ہوتی ہیں انسانی سوچ اوراسکی فوقیت کا مسئلہ بھی ایسا ہی ہے کہ ہم زبان سے تلاوت کر رہے ہوتے ہیں رکوع و سجود کر رہے ہوتے ہیں مگر ہمارے دماغ میں وہ خیالات آتے ہیں. جو کام ہم ختم کرچکے ہوتے ہیں یا ہم کرنے والے ہوتے ہیں یا ہم ان چیزوں کے بارے میں سوچ رہے ہوتے ہیں اور وہ تمام منصوبے ہم نماز کی تکمیل ہونےتک مکمل کرلیتے ہیں. کیوں کہ ہمارا دماغ ریڈیو کی فریکوئینسی کی طرح دنیاوی مسائل کی طرف الجھا ہوا ہوتا ہے اور ہمارے مسائل ہماری تلاوت پر فوقیت پا جاتے ہیں
آپ کسی ویب سائٹ کو ٹائپ کریں اور وہ نقطہ لگانا بھول جائیں جو "ڈاٹ کام” کہلاتا ہے. آپ پوری کوشش کرتے رہیں مگر وہ ویب سائٹ کھل ہی نہیں سکتی جب تک آپ وہ نقطہ نہ لگائیں . یہی وہ نقطہ ہے جو اللہ اور بندے کے درمیان حائل ہےجسے ہم توجہ اور یکسوئی کہتے ہیں. اگر آپ کی نماز کے دوران اللہ کی یاد اور اسکی بندگی کی لگن اتنی طاقتور ہو کہ آپ کے دنیاوی مسائل پر ہاوی ہوجائے . تو یہی آپ کی کامیابی ہے .عبادت میں توجہ اور یکسوئی کا ہونا ہی اصل معراج ہے.
آپ گلاب کے پھول کو ہاتھ میں لیں اور اس کی خوبصورتی کو دیکھیں اور اس کو سونگھیں. اس کی خوبصورتی سے آپ لطف اندوز ہوں گے
اور اس کی خوشبو آپ کے دل و دماغ کو معطر کر دے گی. جس سے خوشی اور لذت حاصل ہو گی یہ گلاب کا پھول آپ کو کیوں اچھا لگا اور اس کی خوشبو سےآپ کس طرح محظوظ ہوئے. کیوں کہ آپ نے اس کو غور سے اور توجہ سے دیکھا اور سونگھا
آدھی رات، یا اس سے کچھ کم کر لو یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو، اور قرآن کو خوب ٹھیر ٹھیر کر پڑھو. المزمل 73:3,4
اپنی نمازوں کی نگہداشت رکھو، خصوصاً ایسی نماز کی جو محاسن صلوٰۃ کی جا مع ہو اللہ کے آگے اس طرح کھڑے ہو، جیسے فر ماں بردار غلام کھڑ ے ہوتے ہیں. البقرہ 2:238
اس سے کہیں زیادہ تسکین آپ کو اس وقت حاصل ہوگی جب آپ نماز میں تلاوت کو اس انداز اور توجہ سے کر رہے ہوں کہ جیسے اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہیں اور اللہ آپ کودیکھ رہا ہے یہ وہ عمل ہے جو آپ کے دل و دماغ میں سرائیت کر جائے گااس عمل کا کوئی پیمانہ نہیں صرف توجہ اور یکسوئی درکار ہے. آپ دیکھیں گے کہ آپ کی عبادت اور عمل قبولیت کے اس درجے کےقریب سے قریب تر ہوتا جائے گا.اور رب ذوالجلال کی طرف توجہ مرکوز کرلیں تو ہم اس اجر عظیم کے حقدار بن جائیں گے جس کا اس نے ہم سے وعدہ کیا ہے
اور اے نبیؐ، میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں، تو اُنہیں بتا دو کہ میں ان سے قریب ہی ہوں پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے، میں اُس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں لہٰذا انہیں چاہیے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں یہ بات تم اُنہیں سنا
دو، شاید کہ وہ راہ راست پالیں. البقرہ 2:186
ترتیب وتالیف: عبدالرشید خان
ورجینیا امریکہ

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s