قاری قرآن اور حکمت


عبدالرشید خان

قرآن مجید کی تلاوت کے ثواب کے ضمن میں درج ذیل آیت کا حوالہ اکثر دیا جاتا ہے:
"اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کرپڑھو. اب جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکتے ہو پڑھ لیا کرو۔”المزمل:73:4,20
اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب حکمت اور ضابطہ حیات، قرآن کی صورت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے توسط سے نسل انسانی کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا-بہت سے لوگ تو اسے پڑھنا ہی نہیں جانتےمگر ایک بہت بڑی تعداد جو قرآن پڑھتی ہے وہ صرف اور صرف ثواب کی نیت سے قرآن پڑھتے ہیں اور ثواب ہی حاصل کرنا مقصودہوتا ہے ۔ یہ اگرچہ مستحسن ہے لیکن اصل مقصد ہدایت کا حصول ہے۔بہت کم لوگ ہیں جو ترجمہ کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرتے ہوں گے ۔سب سے افضل طریقہ یہ ہے کہ قرآن کو سمجھ کر پڑھا جائے، اس سے ہدایت حاصل کی جائے اور پھر اس پر عمل کرنے کی پوری سعی کی جائے۔یہی اللہ تعالیٰ کوبھی مقصود ہے۔
ارشاد ِ ربانی ہے:
"یہ اس کتاب کی آیات ہیں جو حکمت و دانش سے لبریز ہیں۔” یونس 10:01

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s