معاشی کرائسس – میں کیا کروں ؟


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ڈاکٹر محمد عقیل
” سر جی، حالات جتنے خراب ہورہے ہیں اس سے یوں لگ رہا ہے کہ ہم حرام کمانے پر مجبور ہوجائیں گے۔”
میرے گھر کام کرنے والے ایک مزدور نے بتایا۔وہ کہنے لگا۔
” آج ہی ایک عورت روتے ہوئے بتارہی تھی کہ حالات سے مجبور ہوکر آج وہ اپنی تین بیٹیوں کو دہاڑ ی پر لگا کر آئی ہے۔”
میں کانپ کر رہ گیا

۔
میں سوچنے لگا کہ اس مزدور کو نہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے سے کوئی سروکار ہے نہ مالی خسارے کا کوئی علم، یہ نہ تو حکمرانوں کی کرپشن کا ذمہ دار ہے اور نہ ان کی نااہلی کا سبب ہے۔ اسے جو غرض ہے وہ اس بات سے ہے کہ اس کسی طرح اس کے گھر کا خرچہ چلتا رہے۔
مہنگائی کی شرح ڈبل ڈجٹ کو چھو ر ہی ہے، تجاوزات کے نام پر آپریشن نے لوگوں سے ان کے جمے ہوئے کاروبار چھین لیے ہیں، قوت خرید میں کمی اور سود کی بڑھتی ہوئی شرح نے کاروبار کو مشکل تر بنادیا ہے، بے اعتمادی کے باعث غیر ملکی تو کیا ملکی سرمایہ کاروں نے بھی ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ کاربنانے والی کمپنیوں نے اپنی پراڈکشن بند کردی ہے، امپورٹ کے بزنس تباہی کا شکار ہیں، ایکسپورٹ میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے، تنخواہ دار طبقے کی سیلری مہنگائی نے کم کردی ہے، قوت خرید کی کی کمی نے چلتے ہوئے کاروبار ٹھپ کردیے ہیں۔ اس بے روزگاری، مہنگائی اور غیر یقینی کی بنا پر خودکشی کی شرح جو ۲۷ فی صد تھی اس سال بڑھ کر ۱۵۰ فی صدہوچکی ہے۔
اس صورت حال میں کیا کیا جائے؟یہ معاملہ نہ تو سابقہ حکمرانوں کی کرپشن کی داستانیں سنانے سے حل ہوگا نہ موجود حاکموں کی نااہلی کا چرچہ کرنے سے سنبھلے گا۔ کم انکم والے طبقے کے لیے تو اس صورت حال میں جینے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ یہ و ہ لوگ ہیں جو حکومت کی تبدیلی یا ان کے اقدامات کے انتظار میں نہیں بیٹھے رہ سکتے۔
یہ مضمون ان لوگوں کے لیے ہے جو آج کل کے حالات اور معیشت کے جبر کا شکار اورپریشان حال ہیں۔بالخصوص وہ سفید پوش طبقہ جو گھٹ گھٹ کر جی رہا ہے اور اپنی ضرورت کسی سے کہہ بھی نہیں سکتا ۔ اس مضمون میں ہم ان تدابیر کو بیان کرنے کی کوشش کریں جس سے ایک عام آدمی اس صورت س نبٹنے اور حالات سے نبرد آزما ہونے کے قابل ہوجائے ۔
دولت کے حصول کے لیے اگر ہم قرآن کے صفاتی نظام کو دیکھیں تو چار اہم پہلو سامنے آتے ہیں۔ جو لوگ معاشی کرائسس کا شکار ہیں وہ جائزہ لیں کہ ان چار میں سے کس پہلو سے وہ کسی کوتاہی، کمی یا مشکل کا شکار ہیں ۔ اس کے بعد وہ اقدامات کریں تو ان کرائسس کو مینج اور ان سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔ان چار پہلووں پر ہم نے ایک تفصیلی اور طویل مقالہ بھی لکھا ہے۔ جو لوگ اس کی تفصیل جاننا چاہتے ہیں وہ اس مقالے کا مطالعہ کرلیں جس کا نام ہے:” دولت کی فراہمی کا خدائی نظام "۔یہ اس لنک پر موجود ہے
https://aqilkhans.files.wordpress.com/2019/10/divine-system-of-wealth-distribution-final.pdf?fbclid=IwAR2HxAP4IUrHAnOonrsg_wOEHLedbBwjOnqIVl1EX-_aQX6q8f6bvzCtuEI

پہلا اسٹیج : کاروبار یا ملازمت کا آئیڈیا
وہ لوگ جو کسی ملازمت کی تلاش میں ہیں یا کسی بزنس کی ابتدا کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے سب سے پہلا مرحلہ یہ ہے کہ وہ مشاہدہ کریں کہ کون سا بزنس ماڈل ان کو سوٹ کرے گا یا کو ن سی جاب ان کے لیے مناسب ہے۔ یعنی یہاں صفت الشہید، السمیع اور البصیر کے موثر استعمال کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ان لوگوں کا مشاہدہ کریں جو کامیاب بزنس مین یا کامیاب پروفیشلنز ہیں۔ ان کی مدد سے اپنے لیے کسی مناسب بزنس یا ملازمت کا انتخاب کرلیں۔

دوسرا اسٹیج : دولت کے لیے داخلی وسائل
اگلا مرحلہ اس بات کا جائزہ لینا ہے کہ کیا اس مطلوبہ بزنس کے لیے وسائل دستیاب ہیں یا نہیں؟ یہ جائزہ وہ لوگ بھی لے سکتے ہیں جن کے چلتے ہوئے کاروبار اور ملازمت ختم ہوگئے۔ اس مرحلے میں یہ دیکھا جائے آیا یہ کاروبار یا ملازمت کے لیے موجودہ اسکلز یا صلاحیتیں موجود ہیں یا نہیں۔ بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی یا زمانے کی تبدیلی کی بنا پر پرانی کاروباری اسکلز زیادہ موثر نہیں رہتیں۔ چنانچہ دو ر حاضر کے حساب سے ان اسکلز کو اپڈیٹ کیا جائے۔ اس کے لیے یو ٹیوب اور دیگر لٹریچر سے مدد لی جاسکتی ہے۔
اسی طرح اللہ کے کرم کو دعوت دینے کے لیے اللہ سے دعا کرنا بھی اسی پراسیس کا حصہ ہے ۔ بعض اوقات ہماری کسی اخلاقی کوتاہی ، بدزبانی، ظالمانہ رائے زنی، ظلم و زیادتی یا بے ایمانی کی بنا پر اللہ کا کرم ہم سے چھن جاتا ہے۔ ایسی صورت میں ہمیں پہلے تو اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ کہیں اس معاملے میں تو کوئی غلطی نہیں ہوئی۔ اگر ایسا ہے تو اس کی اصلاح کی جائے اور معافی کے ساتھ ساتھ تلافی بھی ممکن ہو تو وہ کی جائے۔ اس کے بعد اللہ سے دعا کی جائے تو امید ہے اللہ اپنے کرم سے ضرور نوازیں گے۔
تیسرا اسٹیج : کاروبار یا ملازمت کے لیے خارجی عوامل
داخلی رحجان کا جائزہ لینے کے بعد اس بات یہ دیکھا جائے کہ کوئی ایسا فیکٹر تو نہیں جو خارجی ماحول میں ملازمت یا کاروبار کی راہ میں حائل ہو۔ مثال کی طور پر حکومتی پالیسی میں تبدیلی ایک اہم فیکٹر ہوسکتا ہے۔ یا عین ممکن ہے کوئی کاروباری حریف آگیا ہو اور اس نے مارکیٹ پر اپنی اجارہ داری قائم کرلی ہو۔ بہرحال ، اس بات کا تعین کیا جائے کہ وہ کون سی وجوہات ہیں یا ہوسکتی ہیں جو خارجی ماحول میں کاروبار یا ملازمت کے حصول کےلیے ضروری ہیں۔ان تمام عوامل کا بغور جائزہ لینا ضروری ہے جسے صفت اللطیف کہتے ہیں۔
خارجی ماحول میں سب سے اہم چیز صفت القوی ہے۔ انسان کو دولت کے حصول میں آگے بڑھنے کے لیے ایک خارجی قوت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جیسے کاروبار کرنے کے لیے تعلقات بہت اہم ہیں۔ یا ملازمت کے لیے بھی اچھے تعلقات کا ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ کاروبار اور ملازمت میں ان لنکس یا تعلقات پر ایک نظر دوڑائی جائے جو اس مشکل سے نکالنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ جب ایسا ہوجائے تو بزنس اسٹیبلش ہوجاتا ہے۔
چوتھا اسٹیج : دولت میں اضافہ اور دوام
جب داخلی سطح پر پلاننگ ہوجائے اور خارجی سطح پر بھی معاملات حل ہوجائیں تو پھر بزنس یا ملازمت کے قیام کا اسٹیج ہے۔ یہاں ان لوگوں کو متوجہ ہونا چاہیے جن کی ملازمت یا بزنس قائم ہوچکا ہے لیکن اس کے استحکام کے لیے کام کرنا اور اس سے منافع کو بڑھانا اور اسےدوام دینا مقصود ہے۔
اس اسٹیج پر سب سے اہم چیز تقوی اور اپنی ذات کا تزکیہ کرنا اور خود کو اخلاقی برائیوں سے پاک کرنا ہے۔ جوں جوں اس میں اس ملازمت یا کاروبار کے حساب سے تقوی اور پاکی پیدا ہوتی چلی جائے گی، اس کی کریڈیبلٹیبڑھتی جائے گی اور اس کی دولت میں اضافے کے ساتھ ساتھ دوام بھی حاصل ہوتا جائے گا۔
خلاصہ
کسی بھی معاشی پریشانی کا حل دولت کا حصول ہے۔ اس حصول کے لیے یہ جائزہ لیاجائے کہ ہم دولت کمانے کے کس اسٹیج پر ہیں۔ اس کے بعد اس اسٹیج کے تقاضے معلوم کرکے وہ عوامل تلاش کریں جو ناکامی یا رکاوٹ کا باعث ہیں۔ آخر میں ان عوامل کو حل کرکے اس کمی کو دور کیا جاسکتا ہے۔

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s