کرونا وائرس-عذاب یا آزمائش


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ڈاکٹر محمد عقیل
جب بھی کوئی قدرتی آفت یا یا وبا پھیلتی ہے تو ہمارے ہاں یہ بحث بڑی زور وشور سے شروع ہوجاتی ہے کہ یہ عذاب ہے، آزمائش ہے یا محض نیچر کا رد عمل۔ قدامت پسند مذہبی طبقے کا پورا زور ہوتا ہے کہ اسے عذاب الٰہی ثابت کرکے لوگوں کو ڈرا دھمکا کر ان مذہبی رسومات کی جانب راغب کیا جائے جس سے لوگ دور ہوتے جارہے ہیں۔جدید مذہبی طبقہ اسے عذاب لکھنے سے گریز کرتا ہے اور اسے محض آزمائش قرار دیتا ہے۔دوسری جانب عقلیت پسند ان دونوں نقطہ نظر پر پھبتیاں کستے اور کئی عقلی سوالات پیدا کرکے اسے نیچر کی کارستانی قرار

دینے پر تل جاتے ہیں۔
حقیقت کیا ہے؟بالخصوص اگر کرونا وائرس کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ سوال ذہن میں اٹھتا ہے کہ آیا یہ خدا کا عذاب ہے یا آزمائش ہے یا محض نیچر کا مدو جذر ؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں فرشتوں کی نوعیت اور ان پر ایمان کے مفہوم کو سمجھنا ہوگا۔ فرشتے وہ نیچرل فورسز ہیں جن کے ذریعے خدا اس کائنات کا نطام چلارہا ہے۔ چنانچہ کسی بھی وبا کے پھیلاؤ یا روک کے پیچھے یہی مشنری کارفرما ہوتی ہے۔
قرآن میں خدا پر ایمان کے فورا بعد فرشتوں پر ایمان لانے کا حکم ہے(سورہ بقرہ )۔ فرشتوں پر ایمان لانے کا کیا مطلب ہے؟ ہمارے مروجہ اسلامی لٹریچر میں فرشتوں کا رول محض وحی لانے والی ایک مخلوق کے طور پر کیا گیا ہے ۔ یا زیادہ سے زیادہ چار فرشتوں کا ذکر ہے جو نیچر کے سسٹم کو چلانے، صور پھونکنے، جان نکالنے اور پیغام رسانی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ جبکہ قرآن میں فرشتوں کے دیگر افعال بھی بیان ہوئے ہیں۔
اس بات کو سمجھنے کے لیے ہم مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کی مثال لے سکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے انسان نے روبوٹ تیار کیے ہیں جو انسانوں کی جگہ کام کرنے کی کسی حد تک صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان روبوٹس میں مشین لینگویج موجود ہے اور ایک پروگرام فیڈ کیا گیا ہے۔ جس کے ذریعے یہ فیصلہ کرسکتے، کسی مسئلے کو سلجھاسکتے اور کسی معاملے پر ایکشن کر سکتے ہیں ۔
یوں تو خدائی نظام کی مکمل تفہیم ہمارے موجودہ علم کے بس کی بات نہیں لیکن سمجھنے کے لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ فرشتے دراصل خدائی روبوٹس ہیں جن میں خدا نے پروگرام فیڈ کیا ہوا ہے جس کے مطابق یہ فیصلہ کرتے اور عمل کرتے ہیں۔ اہم بات یہ نہیں کہ ان کو کائناتی قوتیں قراردیا جائے ، نورانی مخلوق مانا جائے ،نظر نہ آنے والے روبوٹس تصور کیا جائے یا کچھ اور ۔ اصل سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ان کا کام کیا ہے؟ دنیا کے تمام معروف مذاہب کا اجماع ہے کہ یہ خدا کی بیوروکریسی ہے جس کے ذریعے خدا اس کائنات پر حکومت کررہا ہے۔ خدا ان کا محتاج نہیں۔ لیکن ہم ایک اور آرٹیکل میں بیان کرچکے ہیں کہ خدا اپنے کام ایک پروسیجر ، قاعدہ اور قانون کے تحت انجام دیتا ہے اس لیے فرشتوں کی یہ حیثیت خدا نے خود مقرر کی ہے، ہم نے نہیں۔
سوال یہ ہے کہ اس میں فرشتے کہاں سے آگئے؟ تو جناب ، نیچر کا یہ سارا عمل جن کائناتی قوتوں کے تحت ہورہا ہے وہ فرشتے ہی ہیں جو خدا کی عطا کردہ انٹیلی جینس کے تحت یہ سارے کام کررہے ہوتے ہیں۔ چنانچہ دنیا میں کہیں پر بھی کوئی وبا پھیلتی ہے تو کسی نہ کسی نیچر کے قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہوتی ہے جس کا ری ایکشن مخصوص وقت میں سامنے آجاتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ نیچر حلال و حرام کے مذہبی تصور کی بنیاد پر نہیں قائم ہوتی بلکہ یونی ورسل اخلاقی میزان کے قوانین کی پابند ہوتی ہے جو خدا ہی نے بنائے ہیں۔ چنانچہ کرونا وائرس، سارس، سوائن فلو، ایڈز ، ایبولا، کانگو یا اس سے بڑھ کر گلوبل وارمنگ سب سے کے پیچھے کچھ نہ کچھ مادی اسباب موجود ہیں جو جلد یا بدیر سامنے آجاتے ہیں۔

اس پر ایک اعتراض یہ ہے کہ کرونا ، ایڈز یا دیگر وباؤں کے ذمہ دار تو دوسرے لوگ ہوتے ہیں لیکن بھگتنا سب کو پڑتا ہے۔ آخر یہ کیسا انصاف ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ میزان اجتماعی سطح پر عدل و انصاف کے عین مطابق ہے۔ بلب ایڈیسن نے بنایا، استعمال سب کرتے ہیں، جہاز رائٹ برادرز نے تخلیق کیا، اڑان سب بھرتے ہیں، دوائی ایک ملک میں ایجاد ہوتی ہے، اس کا فائدہ سب اٹھاتے ہیں وغیرہ۔ تو نیچر کا اصول ہے کہ اگر ہم دوسروں کے اچھے کاموں سے استفادہ کرسکتے ہیں تو ان کے برے کرموں کا کڑوا پھل بھی کھائیں۔ یہی نیچر کا بیلنس ہے۔
دوبارہ اسی سوال پر آتے ہیں۔ مان لیا کہ کوئی بھی وبا نیچر کی کسی خلاف ورزی کے سبب پیدا ہوتی ہے۔ لیکن کیا فرشتے صرف نیچر کی خلاف ورزی کو ہی ملحوظ خاطر رکھتے ہیں یا پھر ان کی پروگرامنگ میں کچھ اور عوامل بھی ہوتے ہیں جن کے تحت وہ کسی وبا کے پھیلاؤ یا روک پر خدا کے حکم سے فیصلہ کرتے ہیں۔
اس کا حتمی جواب تو اللہ ہی کے پاس ہے البتہ قرآن سے چند اصول سامنے آتے ہیں۔ جس طرح یہ کائنات مادی اصولوں پر کھڑی ہے اور ان کی خلاف ورزی پر نیچر کا رد عمل سامنے آتا ہے، اسی طرح یہ کائنات اخلاقی اصولوں پر بھی کھڑی ہے جسے قرآن میزان کہتا ہے( سورہ الرحمٰن)۔ اس میزان کی خلاف ورزی اخلاقی نیچر کی خلاف ورزی ہے اور ان پر اسی نیچر پر معمور فرشتے کام کرتے ہیں۔
پیغمبروں کی مخاطب اقوام جن میں حضرت نوح، صالح، شیعب، لوط اور دیگر پیغمبروں کی اقوام مختلف پہلووں سےشرک، مادہ پرستی، راہزنی، جنسی بے راوہ روی ، مالی کرپشن اور دیگر جرائم کا شکار تھیں۔ یہ اس اخلاقی میزان کی خلاف ورزی تھی جس پر یہ کائنات قائم ہے۔ چنانچہ ان کو براہ راست سمجھانے کے بعد خدا نے اسی نیچر کے ذریعے ان کا خاتمہ کردیا۔
پیغمبری سلسلے کے انقطاع کے بعد ایسا نہیں کہ یہ اخلاقی میزان ختم ہوگئی۔ آج بھی دنیا اسی اصول پر قائم ہے جس پر صدیوں پہلے تھی۔ چنانچہ جو قوم بھی اس اخلاقی میزان میں گڑ بڑ کرتی ہے، اسے اسی درجے کا ری ایکشن بھگتنا پڑتا ہے جو کبھی قدرتی آفات کی شکل میں ہوتا ہے تو کبھی کسی اور شکل میں۔ البتہ پیغمبر کے مخاطب قوم اور آج کے دور میں فرق ہے۔ پیغمبر کی موجودگی میں چونکہ اخلاقیات کا حق بالکل واضح ہوجاتا ہے اور خود خدا اس کی پشت پر کھڑا ہوتا ہے اس لیے انکار کی صورت میں قوم کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ آج کے دور میں چونکہ پیغمبر موجود نہیں ہوتا اس لیے اخلاقی انحراف کا اثر آہستہ آہستہ نمودار ہوتا ہے۔
یہاں ایک منطقی مغالطہ اکثر مسلمانوں کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ جنسی بے راہ روی تو مغربی ملکوں میں زیادہ ہے، شراب وہ پیتے ہیں، زنا وہ کرتے ہیں ، شرک میں وہ مبتلا ہیں تو پھر ان پرعذاب کیوں نہیں آتا اور ہم جو موحد بھی ہیں اور مومن بھی ، پھر بھی ہم ہی کیوں بار بار پکڑے جاتے ہیں۔یہ سوچ اسی متکبرانہ نسل پرستی کی غماز ہے جو یہود میں پائی جاتی تھی کہ ہم چہیتی قوم ہیں اور باقی جہنمی ۔
اس مغالطے کو ٹھنڈے دل ودماغ سے سمجھنا پڑے گا۔ اخلاقی میزان یعنی یونی ورسل حق کی آزمائش میں سب سے پہلے کسی قوم پر وہ باتیں ماننا لازمی ہے جس کو و ہ حق سمجھتی ہے۔ یہ وہ حق ہے جو اسے فطرت کی روشنی سے ملا یا پھر سوسائٹی کے نظم اجتماعی نے دیا۔ ضروری نہیں کہ اس کے پاس سو فی صد حق موجود ہو ، لیکن جتنا اخلاقی علم ہے اسی کے مطابق وہ قوم مکلف ہے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو مغربی ودیگر اقوام جن باتوں کو اخلاقی ، معاشرتی، قانونی لحاظ سے درست سمجھتے ہیں وہ ان کی اکثریت پر عمل کرتے ہیں۔ دوسری جانب اکثر مسلم اقوام اس پہلے ٹیسٹ میں بری طرح ناکام معلوم ہوتی ہیں۔ وہ جن باتوں کو حق سمجھ کر دنیا سے منوانا چاہتے ہیں، خود اس پر عمل نہیں کرتے ۔ اخلاقیات سے روگردانی، قانون کا عدم احترام، مسلمہ مذہبی تعلیمات کو پس پشت ڈال دینا، قرآن کو خدا کی کتاب کہنے کے باوجود اس کو نظر انداز کرکے اس کی توہین کرنا یہ وہ چند جرائم ہیں جو ہم میں کامن ہیں۔ سب سے بڑا جرم یہ کہ غیر مسلم اقوام کو دعوت دیے بنا ان پر وہ مذہبی قوانین لاگو کرنا جس کے ابھی وہ مکلف ہی نہیں بنے۔
گویا پہلا ٹیسٹ نفاق اور ایمان کا ہے۔نیچر کا ایمان مذہبی ایمان سے مختلف ہے۔ نیچر کا ایمان یہ ہے کہ جو حق معلوم ہے اسے تسلیم کرکے اس پر عمل کیا جائے۔ جبکہ نفاق یہ ہے کہ جس بات کو حق جانا جاتا ہے اس پر عمل نہ کیا جائے۔اب اخلاقی میزان کو برقرار رکھنے پر معمور فرشتے اسی سسٹم کے تحت کام کرتے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ وبا کے پھیلاؤ یا روک کا پہلا معیار ہے قوم کا اجتماعی نطام ۔ وہ قومیں جو نیچر کے قوانین کے مطابق تیار ، منظم اور ٹیکنالوجی سے آراستہ ہوتی ہیں ، ان پر ان وباؤں کا اثر نسبتا کم ہوتا ہے۔ جبکہ وہ قومیں جو جہالت ، پسماندگی اور بے نظمی کا شکار ہوتی ہیں ان پر ان کا حملہ جاندار ہوتا ہے۔ چنانچہ ایبولا، کانگو، سوائن فلو یا زلزلہ، طوفان ، سیلاب اور اس قسم کی دیگر آفتوں میں زیادہ نقصان پسماندہ اقوام ہی کا ہوتا ہے۔
دوسرا معیار اخلاقی میزان کا معاملہ ہے۔ جو قوم جتنی زیادہ اخلاقی میزان کی پاسداری کرتی نظر آئے گی، اس پر نیچر کا عذاب کم سے کم مسلط ہوگا اور اخلاقی نیچر کی خلاف ورزی کرنے والی اقوام کا انجام بد سے بدتر۔اسی بنا پر اپنے قول پر عمل کرنے والی اقوام کے بالمقابل نفاق پر مبنی معاشرے زیادہ تر آفتوں کا شکار ہوتے ہیں۔
تیسرا معیار قانون مکافات عمل ہے۔ اگر کسی قوم نے ماضی میں کوئی بڑی زیادتی کی ہے یا اخلاقی میزان کی بڑی خلاف ورزی کی ہے تو نیچر کا رد عمل اس قوم پر سامنے آئے گا بے شک اس میں برسوں لگ جائیں۔ چنانچہ کسی آفت کے پھیلاؤ کے وقت یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ قوم کسی مکافات عمل کے نرغے میں تو نہیں؟ اگر ایسا ہے تو بھی کسی وبا یا آفت کا پھیلاؤ اسی مناسبت سے فرشتے کنٹرول کرتے ہیں۔
تو ہم کسی بھی وبا کے بارے میں یہ متعین کریں کہ یہ آزمائش ہے، عذاب ہے یا نیچر کا رد عمل ؟ تو یہ ان تینوں ہی معاملات کا مجموعہ ہوتا ہے۔ کوئی بھی وبا کسی نہ کسی کوتاہی کا نتیجہ ہوتی ہے ان معنوں میں اس کوتاہی کی سزا وبا کے پھیلاؤ کی شکل میں ملتی ہے، ان معنوں میں اسے عذاب یا سزا کہا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ یہ نیچر کا رد عمل بھی ہے ۔ ساتھ ہی یہ آزمائش بھی ہے۔ یہ ان لوگوں کی آزمائش ہے جو اس کا شکار ہیں کہ کیسے اس چیلنج سے نبرد آزما ہوں۔ یہ ان لوگوں کا بھی امتحان ہے جو اس میں مبتلا نہیں ہوئے ۔ ان کی آزمائش یہ ہے کہ کس طرح خود کو بچائیں اور اس کا شکار ہونے والے لوگوں کی مدد کریں۔
ھذا ماعندی والعلم عنداللہ

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s