کیا کرونا ایک وارننگ ہے؟


کیا کرونا وائرس کی عالمی وبا بھی نیچر کا کوئی ری ایکشن ہے؟کیا یہ نیچر کی کوئی وارننگ ہے؟ اگر ہاں تو انسان سے ایسی کون سی غلطی ہوئی کہ نیچر نے اتنا شدید رد عمل دکھایا؟ اس سوال کا جواب ہمیں تاریخ میں وا ضح طور پر نظر آتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دوہرارہی ہے

۔
جنگ عظیم اول کے بعد سپینش فلو آیا جس میں دنیا کی آبادی کا ایک بڑا حصہ موت کے منہ میں چلا گیا۔ان دونوں سانحات کے باوجود انسان نہ سنبھلا اور بالآخر تیسری جنگ عظیم ہوگئی اور اس طرح بیسویں صدی کے نصف تک دنیا 162 ملین لوگوں سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ اس وقت کے جرائم نیشنلزم ، فاشزم ، غریب ممالک پر ناجائز تسلط، سرمایہ دارروں کا دولت کے وسائل پر قبضہ یہ وہ چند جرائم تھے جن کی بنیاد پر دنیا اخلاقی انحطاط کا شکا رہوگئی۔ پھر دنیا کوعقل آئی اور فلاح کے بنیادی اصول کے تحت اقوام متحدہ ،ورلڈ بینک، آئی ایم ایف ، انٹرنیشنل ٹریڈ آرگنائزیشن اور دیگر اداروں کا وجود عمل میں آیا۔
آج کے حالات کچھ مختلف نہیں۔ گذشتہ سو سالوں میں گلوبلائزیشن کے دور میں فلاح کے بنیادی اصول کی اجتماعی اور انفرادی دونوں سطحوں پر خلاف ورزی ہوئی۔ سیاست ، معشیت، معاشرت اور اخلاقیات میں انسان کی مجموعی کارکردگی بہت پریشان کن رہی۔ سیاست ظلم و ستم کا کا دوسر انام بن گئی، معیشت دولت کی عدم مساوات جیسے ظالمانہ اصول پر کھڑی ہوگئی،معاشرت میں خود غرضی اور بیمار لائف اسٹائل پر تعمیر ہونے لگی۔
اسپینش فلو سن 1920 میں اپنے عروج پر جاکر ختم ہوا۔ ٹھیک سو سال کے بعد آج نیچر نے یہی ری ایکشن دکھایا ہے۔ یہ انسانوں کے لیے نیچر کی ایک وارننگ ہے جو اس نے ” فلاح ” کے بنیادی اصول کی خلاف ورزی پر شدت کے ساتھ جاری کی ہے۔ اگر انسانیت معیشت، معاشرت سیاست اور دیگر زندگی کے میدا ن میں ظلم ختم نہیں کرتی اور فلاح کو بنیادی حیثیت سے قائم نہیں کرتی تو تاریخ ایک مرتبہ پھر خود کو دوہرا سکتی ہے۔
جو باتیں اس وائرس کے ساتھ اور اس کے بعد سامنے نظر آرہی ہیں وہ معاشی بحران ہے جس کا آغاز ہوچکا ہے اور جلد یا بدیر یہ قوموں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اس معاشی بحران کے ساتھ ہی لاقانونیت اور سول وار جنم لے سکتی ہے۔ اس جنگ کا عالمی سطح پر منتقل ہونا خطرناک تو ہے لیکن خارج از امکان نہیں۔ اس کے بعد دوسری جنگ عظیم کی طرح تیسری عالمی جنگ شروع ہوسکتی ہے جس کا انجام یا تو دنیا کا مکمل خاتمہ ہوگا یا پھر عین ممکن ہے کچھ لوگ بچ جائیں ۔ جو لوگ بچ جائیں گے وہ پتھر کے زمانے میں پہنچ جائیں گے اور اگر وہاں بھی اجتماعی فلاح کے نظام کو نافذ نہ کیا گیا تو بچھے کچھے لوگ بھی آپس میں لڑ کر فنا ہوجائیں گے۔
اس وارننگ سے اگر ہوشیار ہونا ہے تو اجتماعی اور انفرادی سطح پر فلاح و بہبود کے اصول کو مان کر از سر نو دنیا کی تعمیر ہے۔ ورنہ نیچر کے ری ایکشن کو کوئی نہیں روک سکتا الا یہ کہ اللہ ہی براہ راست مداخلت کرے۔ اس صورت حا ل میں ہمیں کیا کرنا چاہیے، اس کی ےتفصیل ” کرونا وائرس: کیا کیا جائے” نامی اگلے آرٹیکل میں ملاحظہ فرمائیے ۔
ڈاکٹر محمد عقیل

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s