کرونا وائرس: کیا کیا جائے؟


نیچر کے مادی قوانین پر تو سائنس دان تحقیق کرہی رہے ہیں اور جلد یا بدیر اس بیماری کا علاج دنیا میں آجائے گا۔ اصل مسئلہ اس کا علاج نہیں بلکہ ان غیر مادی و اخلاقی قوانین کو ایڈریس کرنا ہے جو نگاہوں سے اوجھل ہیں ۔ ان پر ریسرچ کرنا درحقیقت اہل مذہب اور سماجی اسکالرز کی ذمہ داری ہے ۔

مذہبی علما کی اکثریت تو رسومات میں کھوچکی ہے اور جدید دور کے تقاضوں سے نبٹنے کے لیے مطلوبہ استعداد ہی نہیں رکھتی۔ سماجی علما ء اس حقیقت کو ماننے سے انکاری ہیں کہ نیچر کا رد عمل ان اخلاقی قوانین پر بھی ہوسکتا ہے۔ مقدمہ ابن خلدون نے قوموں کے عروج و زوال پر جو اصول بیان کیے ہیں وہ اخلاقی ہی ہیں ۔ چونکہ دنیا اب ایک گلوبل ولیج بن چکی اس لیے اب یہ قوموں کا عروج زوال عالمی عروج و زوا ل بن چکا ہے۔
اس پر ریسرچ کی ضرورت ہے کہ وہ کون کون اخلاقی معیارات ہیں جو نیچر کے کوڈ سے ہم آہنگ ہیں اور کون سے معاملات نیچر کو ری ایکٹ کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جب بھی اجتماعی فلاح کے اصول کو نظر انداز کیا گیا ور ظلم و ستم کو فروغ دیا گیا ، نیچر نے ری ایکٹ کیا۔دوسری جانب جب بھی فلاح کو بنیادی مرکزی خیال بنایا گیا ، نیچر نے انسانوں کی مدد کی اور انہیں ارتقا کے مراحل سے گذارتے ہوئے آج اس جدید دور میں لے آئی۔
دوسری جانب غریب قومیں جس استحصال کا شکار ہوئیں ان میں وہ خود اس جرم میں شریک معلوم ہوتی ہے۔ نااہلی، ڈسپلن کی خلاف ورزی، کود غرضی، شارٹ ٹرم سوچ، سستی، کاہلی، بدعنوانی ، لالچ اور نام نہاد نسلی یا مذہبی برتری کا احسا س وہ جرائم ہیں جو پسماندہ قوموں میں بالعموم پائے جاتے ہیں۔
ان تمام اصولوں کو نظر انداز کرکے نیچر کے رد عمل سے نہیں نبٹا جاسکتا۔ یہ بات انفرادی سطح پر سمجھنے کی بھی ہے اور اجتماعی سطح پر بھی۔
ڈاکٹر محمد عقیل

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s