کرونا وائرس-نیچر کا انتقام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
درسگاہیں بند ، سوشل تقریبات معدوم ، عباداتی مراکز خالی، سڑکیں سنسان اور بازار ویران غرض ہر طرف ہو کا عالم ہے۔ لوگ ہاتھ ملانے سے گریزاں اور ایک دوسرے سے دور بھاگ رہے ہیں۔عوام تو عوام ، سربراہان مملکت گوشہ نشین

ہونے میں عافیت محسوس کررہے ہیں۔
یہ سب کیا ہے؟ مذہبی لوگوں کے ذہن میں سوال گونج رہا ہے کہ اگر خدا ہے تو وہ کیوں مداخلت نہیں کررہا اور کیوں انسانوں کو اس بے بسی کے عالم میں مرتے دیکھ رہا ہے؟غیر مذہبی لوگ سوچ رہے ہیں کہ آخر کب سائنس ترقی پاکر ان وباؤں کو پیدا ہونے سےقبل ہی ختم کرے گی؟ سائنسدان اس تحقیق میں غلطاں ہیں کہ یہ وائرس کیوں پھوٹا اور اس کا علاج کیا ہے؟ مفکرین حیران ہیں کہ آیا نیچر کا عمل محض ایک عمل ہے یا رد عمل؟ کیا یہ محض اسباب و علل کی اندھی کارستانی ہے یا اس کے پیچھے کوئی باشعور قوت ہے؟ دانشور پریشان ہیں کہ اس کے ذمہ نیچر کی اندھی طاقتیں ہیں یا انسانوں کا کوئی عمل ؟ آئیے ان سوالوں کا جواب تاریخ ، عقل اور نیچر کے قوانین کی روشنی میں تلاش کرتے ہیں۔
پہلا مقدمہ یہ ہے مذہب اس نیچر کے پیچھے خدا کا خفیہ ہاتھ بیان کرتا ہے جبکہ غیر مذہبی مکتبہ فکر اسی نیچر کو اصل محرک مانتا ہے۔ گویا خواہ مذہبی لوگ ہوں یا غیر مذہبی اشخاص سب جس چیز پر متفق ہیں وہ ہے قدرت یا نیچر کے قوانین ۔ اس لیے اگر ہم نیچر کے قوانین پر متفق ہوجائیں تو دونوں مکاتب فکر کو ایڈریس کیا جاسکتا اور ان تمام سوالوں کا جواب دیا جاسکتا ہے۔
نیچر کے قوانین
سب سے پہلے ہم نیچر کے چند قوانین کا جائزہ لیتے ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ نیچر یا قدرت فزکس، کیمسٹری ، بائیلوجی اور دیگر مادی قوانین پر کھڑی ہے اور یہ تمام قوانین بیلنس یا توازن کے اصول پر قائم ہیں۔ جب بھی انسان ان قوانین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا ہے تو نیچر ری ایکٹ کرکے اس کا رسپانس دیتی ہے۔ مثلا کوئی اگر کشش ثقل کے اصول کا خیال نہ کرے تو اونچی جگہ سے چھلانگ لگانے پر وہ زخمی یا موت سے ہمکنار ہوجاتا ہے، جب وہ زہریلی غذا کھاتا تو ہے نقصان اٹھا تا ہے، جب وہ آگ کے استعمال میں بے احتیاطی کرتا ہے تو جل کر رارکھ ہوجاتا ہے۔ہوائی جہاز نیوٹن کے تیسرے قانون کی خلاف ورزی کرے تو زمیں بوس ہوجاتا ہے، پانی کا جہاز ارشمیدس کے قانون کے تحت نہ چلے تو سمندر برد ہوتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ نیچر ان مادی قوانین کے علاوہ کس اصول پر کھڑی ہے اور کن غیر مادی بنیادوں پر اس کا بیلنس برقرار رہتا ہے؟ اس کے ساتھ ساتھ نیچر غیر مادی اصولو ں پر بھی کھڑی ہے۔ اس کائنات کا پچانوے فی صد سے زائد حصہ وہ ہے جو مادی دنیا میں شامل نہیں اور جسے ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کہا جاتا ہے۔اس کی موجوگی کی بنا پر یہ بات یقینی ہے یہ غیر مادی بنیادوں پر قائم ہے اور انہی بنیادوں پر مادی قوانین وجود میں آتے ہیں جن سے بیلنس یا توازن پیدا ہوتا ہے۔
چنانچہ نیچر غیر مادی بنیادوں پر بھی کھڑی ہے ۔ ان بنیادوں میں سب سے اہم اخلاقی بنیادیں ہیں۔مشاہدے سے معلوم ہوتا ہے کہ نیچر فلاح یعنی ویلفئیر کے اخلاقی اصول پر کھڑی ہے اور اس فلاح کا بنیاد ی مقصد مخلوق کو ایک ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جس کے ذریعے مخلوق کو ارتقا کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کیا جاسکے۔ یہی وجہ ہے کہ سورج ہزاروں سالوں سے خود کو جلا کر حرارت اور روشنی فراہم کررہا، درخت خود دھوپ جھیل کر سایہ اور ایسے پھل فراہم کرتا ہے جو وہ خود نہیں کھاسکتا، بادل بارش کے ذریعے دھرتی کو سیراب کرتا، زمین اپنا سینہ چاک کرکے غذا فراہم کرتی ہے۔
چنانچہ دوسرا مقدمہ یہ ہے کہ کائنات مادی قوانین کی طرح کچھ اخلاقی اور غیر مادی اصولوں پر کھڑی ہے اور یہ اصول فلاح ، بے غرضی اور نفع بخشی کا اصول ہے۔نیچر اس اصول پر بھی اسی طرح ری ایکٹ کرتی ہے جیسے مادی قوانین کی خلاف ورزی پر۔جب بھی انسان یا اس کے مخصوص طبقات نے خودغرضی، وسائل کے ضیاع، طاقت کا بے جا استعمال ، عدم مساوات اور ظلم وستم کے ذریعے کائنات کےاس توازن کو چھیڑنے کی کوشش کی، نیچر نے ر ی ایکشن کے ذریعے انسان کو نہ صرف وارننگ دی بلکہ اس کی سزا بھی دی۔
مثال ے طور پر انسان نے ترقی کے نام پر ماحول میں آلودہ گیسوں کے ذریعے اوزون کو نقصان پہنچایا تو نیچر نے گلوبل وارمنگ کے ذریعے اس کا جواب دیا۔ جب خودغرضی کی بنیاد پر درختوں کا قتل عام کیا گیا تو ہیٹ ویو نے ناطقہ باندھ دیا۔جب جنگلوں کو تمدن کے دھوکے میں صاف کردیا گیا تو سیلابوں نے انسانی بستیوں کا صفایا کردیا، جب انسانوں نے گندگی پھیلائی تو وبائی امراض کے ذریعے نیچر نے تنبیہہ کی ۔
تاریخ کا ظلم اور نیچر کا رد عمل
کیا کرونا وائرس کی عالمی وبا بھی نیچر کا کوئی ری ایکشن ہے؟کیا یہ نیچر کی کوئی وارننگ ہے؟ اگر ہاں تو انسان سے ایسی کون سی غلطی ہوئی کہ نیچر نے اتنا شدید رد عمل دکھایا؟ اس سوال کا جواب ہمیں تاریخ میں وا ضح طور پر نظر آتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دوہرارہی ہے۔
انسان کی جدید تاریخ کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جس کی بنیاد پر بے پناہ ایجادات ہوئیں اور لائف اسٹائل یکسر تبدیل ہوکر رہ گیا۔ پہلا صنعتی انقلاب اسٹیم انجن کی دریافت جو ۱۷۶۰ میں ہوئی سے شروع ہوکر ۱۸۵۰ پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ اس انقلاب کا زیادہ تر اثر برطانیہ میں رہا اور بتدریج یورپ میں پھیلا۔دوسرا صنعتی انقلاب ۱۸۷۰ سے شروع ہوکر کم و بیش ۱۹۱۴ تک جاری رہا اور اس کی بنیاد بجلی کااستعمال تھا۔ اس کے بعد تیسرا انڈسٹریل انقلاب شروع ۱۹۶۹ میں ہوتا ہے ۔ اسے انفارمیشن ایج بھی کہا جاتا ہے اور اس کی بنیاد کمپیوٹر ہے۔ اب انسان چوتھے انڈسٹریل ایج کے دروازے پر دستک دے رہا ہے جسے مصنوعی ذہانت کا دور یا سائبر ایج کہا جاسکتا ہے۔
ہم بہت زیادہ ماضی میں نہیں جاتے اور صرف اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ جب انسان دوسرے انڈسٹریل انقلاب سے انفارمیشن ایج میں داخل ہوا تو کیا ہوا تھا اور کیوں ہوا تھا؟ اگر ہم یہ بات سمجھ لیں تو موجودہ کرونا وائرس کی وبا کا پس منظر بھی سمجھ میں آجائے گا اور اس بات کا بھی کسی حد تک اندازہ ہوجائے گا نیچر کے کیا ارادے ہیں ، کیا ہونے والا ہے اس کاتدارک کیسے ممکن ہے؟
آئیے،پہلے صنعتی انقلاب( ۱۷۶۰-۱۸۵۰) اور دوسرے صنعتی انقلاب (۱۸۷۰-۱۹۱۴) کا جائزہ لیتے ہیں کہ کس طرح اس دور میں انسان نے نیچر کے بیلنس کو متاثر کرنے کی کوشش کی اور نیچر نے کس طرح ری ایکٹ کرکے انسانیت کو وارننگ دی۔ اس دور میں اسٹیم انجن کی دریافت کے بعد انڈسٹری کے دور کا آغاز ہوگیا۔ اسی کے ساتھ ساتھ ساتھ ایجادات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا۔اس سے انسان کا لائف اسٹائل یکسر تبدیل ہوگیا اور آسانی اور تعیش کے ایک نئے دور نے سانسیں لینا شروع کیں۔
یہ تمام دریافتیں اور ایجادات تمام انسانوں کی فلاح کے لیے تھیں۔ لیکن ماضی کی طرح اس دور میں بھی مخصوص طبقات نے ان پر قبضہ جمانا شروع کردیا اور انہیں محض اپنی دولت، عیش و عشرت، طاقت ، ہوس اقتدار اور سلطنت کے عروج کے لیے حاصل کرنے کی جنگ شروع کردی۔ چنانچہ صنعت کاروں نے مزدوروں کا بری طرح استحصال کرکے ان کی لاشوں پر اپنا تاج محل تعمیر کرنا شروع کیا۔ سرمایہ داروں نے دولت جمع کرنے کی ہوس میں امیر ی اور غریبی کی ناقابل بیان فصیل کھڑی کردی۔
عالمی سطح پر یہ دور اپنے ساتھ ظلم پر مبنی نظام لے کر آیا۔ عالمی طاقتوں نے غریب ملکوں کا اپنی کالونی بنانا شروع کردیا۔ قوم پرستوں نے اپنے اقتدار کے حصول کے لیے ایجادات کا رخ آتشی اسلحے کی جناب موڑ دیا۔بین الاقوامی تاجروں نے تجارت کے نام پر غریب قوموں کی دولت اپنے ملک منتقل کرنی شروع کردی۔
گویا اس دور کے استحصالی طبقات اور ریاستوں نے خود غرضی، مادیت پرستی ، نسل پرستی، ظلم و زیادتی اور استحصال کی نئی داستانیں رقم کیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ اس انڈسٹریل ایج نے گیسوں کے اخراج سے ماحول کو تباہ کرنا شروع کردیا۔ چنانچہ نیچر نے ری ایکٹ کیا۔
سب سے پہلا ری ایکشن پہلی جنگ عظیم تھی جس کا آغاز بظاہر ایک قتل سے ہوا لیکن حقیقت میں اس کے پیچھے یہی عوامل تھے جو اوپر بیان ہوئے۔ یہ جنگ ۱۹۱۴ میں شروع ہوئی اور ۱۹۱۸ میں ختم ہوئی اور اس میں ۱۷ ملین لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
اسی پیریڈ کے دوران ایک اور بڑا جھٹکا نیچر کی جانب سے دیا گیا جو کرونا وائرس سے ملتا جلتا ہے۔ یہ کم و بیش سو سال قبل کا واقعہ ہے جب یورپ میں ایک فلو پھیلا جس کا نام اسپینش فلو کہلاتا ہے۔ اس کا آغاز جنوری ۱۹۱۸ میں ہوا اور اختتام دسمبر ۱۹۲۰ میں ہوا۔ اس فلو سے یورپ، امریکہ ، چائنا سمیت پوری دنیا میں تباہی پھیل گئی اور جدید تحقیق کے مطابق اس میں سو ملین کے قریب لوگ موت سے ہمکنار ہوئے۔ یوں دنیا کی پانچ فی صد سے زیادہ آبادی اس فلو کے نتیجے میں ختم ہوگئی۔ اسی کے ساتھ ساتھ کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوا۔یہ فلو مختلف لہروں کی صورت میں دنیا پر مختلف وقفوں سے دنیا پر مسلط رہا اور یہ دنیا کی چند تباہ کن وباؤں میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔
لیکن معاملہ یہاں نہیں تھما استحصال کا سلسلہ عالمی سطح پر جاری رہا۔سرمایہ دارانہ نظام جو استحصال پر مبنی تھا اس نے امریکہ میں ۱۹۲۹ میں عظیم معاشی ڈپریشن کو جنم دیا ۔ اس کے بعد ہی یورپ میں فاشزم اور نازی ازم کو ہوا دی۔ یہاں تک کہ ۱۹۳۹ میں دوسری جنگ عظیم شروع ہوگئی جو ۱۹۴۵ تک جار ی رہی۔ اس جنگ میں ۷۵ ملین لوگ ہلاک ہوئے جو اس وقت کی آبادی کا تین فی صد ہے۔یہ جنگ نیشنلزم ، فاشزم، مٹیلرزم ، خود غرضی ، ظلم ، استحصال اور جبر جیسے رویوں کا نتیجہ تھی۔ اس جنگ میں انڈسٹریل رولیوشن کا حصہ بننے والے تمام ہی طبقات نے بالواسطہ یا بلاواسطہ حصہ لیا جن میں سرمایہ دار، صنعت کار، سائنسدان، سیاست دان، ریاستیں، فوج اور عوام شامل تھے۔
یوں ہم دیکھیں تو ۱۹۱۴ سے لے کر ۱۹۴۵ تک ان تین بڑے واقعات کے ذریعے نیچر نے انسانوں کو اس بیلنس اور توازن کو بگاڑنے کی سزا دی۔ بیسیویں صدی میں لگ بھگ ۲۰۰ ملین لوگ جنگوں اور وباؤں کے باعث ہلکا ہوئے جو اس وقت کی آبادی کا کم بیش نو فی صد تھے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ نیچر نے یہ سزا ان کے گذشتہ سو سالوں کے اعمال کے جواب میں دی۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد انسانوں اور استحصالی طبقات کے پاس سبق لینے کے اور خود سدھارنے کے علاوہ کوئی آپشن نہ تھا۔ اس کے مغربی ملکوں نے قبضہ کیے ہوئے ممالک کو آزاد کرنا شروع کردیا۔ جنگ کی بجائے ڈائلاگ کے لیے لیگ آف نیشن کی جگہ اقوام متحدہ وجود میں آیا۔ یورپ میں تفرقے کو ختم کرنے کے لیے یوروپین اکنامک کمیونٹی بنی جسے آج یوروپین یونین کہتے ہیں۔ تباہ شدہ یورپ کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے ورلڈ بینک کو بنایا گیا جبکہ بیلنس آف پے منٹ کے خسارے کو ختم کرنے میں مدد دینے کے لیے آئی ایم ایف بنا۔ انٹرنیشنل تجارت کو سپورٹ کرنے کے لیے انٹرنیشنل ٹریڈ ارگنائزیشن وجود میں آئی۔ ان سب اداروں کا مقصد ماضی کی خطاؤں سے توبہ کرکے نسل پرستی، فاشزم، ظلم اور استحصال کا خاتمہ اور ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد و یگانگت کی فضا قائم کرنا تھا۔ یعنی یہ وہی فلاح کا اصول تھا جس پر نیچر کھڑی ہے اور انسانوں کو کھڑا ہونے کی دعوت دیتی ہے ۔
گویا جو بات انسان آسانی سے نہیں سمجھ پائے وہ نیچر نے اپنے ری ایکشن کے ذریعے سمجھادی کہ نیچر کا نظام توازن کے اصول پر قائم ہے جس کی بنیاد فلاح ہے۔ جو بھی فلاح کے اصول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نیچر کے تواز ن کو برباد کرتا ہے وہ خود برباد ہوجاتا ہے۔ اور جو اس توازن کو برقرار رکھتا ہے، وہ ارتقا کے مراحل طے کرتا ہوا آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔
موجودہ کرونا وائرس اور انسانیت کا مستقبل
ایک تحقیق کے مطابق نیچر نے کم و بیش سو بعد دوبارہ انسانوں کو جھنجوڑنا شروع کیا ہے۔ وہ اسپینش فلو جو سو سال قبل آیا تھا ، آج دوبارہ کسی نئے وائرس کے ذریعے انسانوں پر مسلط کردیا گیا ہے۔ آخر وہ کون سے بڑے جرائم ہیں جن کی بنا پر نیچر یہ قدم لینے پر مجبور ہوئی؟
ہم نے دوسری جنگ عظیم کے بعد کچھ عرصے تک درست سمت میں قدم بڑھایااور انسان کی مجموعی فلاح کو مد نظر رکھا۔ لیکن کچھ عرصے بعد وہی قوتیں حرکت میں آگئیں جو ترقی میں اپنا حصہ اپنی استطاعت سے زیادہ لینے کی کوشش کرتی ہیں خواہ اس کے لیے انہیں کسی بھی حد تک جانا پڑے۔
سوویت یونین نے جبر پر مبنی ایک نظام اپنا یا جس کا بعد میں خاتمہ ہوگیا۔ اس سرد جنگ کے خاتمے کا ایک منفی اثر یہ ہوا کہ سرمایہ دارنہ نظام دوبارہ آزاد ہوگیا اور وہ تحریک جو ویلفئیر اسٹیٹس کے قیام سے شروع ہوئی تھی ، دم توڑ گئی۔ ترقی یافتہ قوموں نے اپنی قوم کے لیے تو عدل و انصاف پر مبنی نطام نافذ کیا لیکن کمزور قوموں کو آزادانہ تجارت، قرض، اسلحہ، ٹیکنالوجی اور سائنسی ترقی کے بل بوتے پر غلام بنانا شروع کردیا۔ یوں عالمی سطح پر معاشی اورسماجی ناہمواریوں کی ظالمانہ داستان دہرائی جانے لگی۔
عالمی ادارے جن کا مقصد کمزوروں کی مدد کرنا تھا وہ خود طاقتور کے ہاتھوں یرغمال بن گئے۔ چنانچہ اقوام متحدہ کی کوئی خاص حیثیت نہ رہی، آئی ایم ایف معاشی ترقی کی بجائے استحصال کرنے لگا، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن تجارت کے فروغ کی آڑ میں غریب ملکوں کو مزید غریب لگی۔ وہ ممالک جو نیچرل ریسورسز میں مالا مال تھے وہاں طاقتور ملکوں نے ڈیرے ڈال لیے اور ان کے ریسورسز پر کبھی جنگ اور کبھی چال کے ذریعے قبضہ کرلیا۔ جو ممالک غریب تھے وہاں چند طاقتور طبقوں کو اقتدار دے کر طاقتور ممالک نے اپنے بالواسطہ اقتدار کو طول دینے کا آغاز کیا۔
کنزیومرزم کے نام پر ملٹی نیشنل کمپنیوں نے اپنے بزنس کولامتناہی طور پر طول دینا شروع کیا۔ دولت کی تقسیم کا یہ معاملہ ہوا کہ دنیا کی آدھی دولت محض ایک سے دو فی صد امیر ترین لوگوں کے ہاتھ میں مرکوز ہوگئی۔ آج دنیا میں ۶۰۰ ملین سے زائد لوگ ایسے ہیں جو غربت کی سطح سے نیچے زندگ بسر کررہے ہیں۔ معاشی وسائل محض چند مخصوص گروہوں کے ہاتھ میں یرغمال بن چکے ہیں ۔ اس کی بنیاد پر ایک بڑی آبادی کا استحصال ہورہا ہے۔
سیاست میں بھی یہی عدم مساوات موجود ہے۔ بڑے ممالک اور طاقتیں اپنے اسلحے اور ٹیکنالوجی کے نشے میں بدمست ہوکر جس پر چاہتی ہیں چڑھائی کردیتی ہیں۔ یہ سیاسی چپقلش اس قدر بڑھ چکی ہے کہ مڈل ایسٹ بالخصوص شام عالمی طاقتوں کا اکھاڑا بن چکا ہے اور ظم و ستم کی انتہا ہورہی ہے۔
اس جدید دور میں مذہب کی کارکردگی بھی مایوس کن رہی مذہب نے اس صدی میں خدا اور بندے اور بندے اور بندے کے تعلق پر فوکس کرنے کی بجائے فرسودہ رسومات ہی کو مذہب بنا کر پیش کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ توکل، تقدیر، نجات ، عبادت اور مقصد حیات کی غلط تشریح کرکے لوگوں کو صحیح راہ دکھانے کی بجائے انہیں گمراہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یوں مذہب کا ادارہ عالمی سطح پر اپنی حیثیت کھو بیٹھا اور اس کا اثر چند مخصوص حلقوں تک محدود رہ گیا۔
بعض مذاہب نے دنیا پر قبضہ کرنے کے خواب کو فوکس کرکے دنیا میں فساد برپا کرنے کی کوشش کی۔ اس کے نتیجے میں تو مذہب کے نام پر دو مسلم ریاستوں نے پراکسی وار لڑی اور دنیا کے ایک بڑے خطے کو متاثر کیے رکھا۔ مکافات عمل کے باعث یہ جنگ کی آگ اب ان کے گھروں تک آپہنچی ہے اور وہ خود اس سے نبٹنے کی تگ و دو کررہے ہیں۔
غریب ملکوں کے اندرونی حالات بھی کچھ تسلی بخش نہیں رہے۔ ان میں چند مخصوص گروہوں نے سیاست اور وسائل پر ناجائز قبضہ برقرار رکھا ۔ اس کی عوام ایک جانب مظلوم رہی۔ البتہ عوام کی اکثریت اخلاقی گراوٹ ، کاہلی اور سستی کا شکار رہی جس کی بنا پر دوسرے گروہوں کو اس پر تسلط کا موقع ملا گیا۔
نیچر کی چارج شیٹ
ہم نے بیان کیا کہ نیچر دو بنیادی اصولوں پر کھڑی ہے۔ پہلا اصول مادی قوانین کا ہے اور دوسرا اخلاقی قوانین کا۔ مادی قوانین سائنس کے زمرے میں آتے ہیں اور اخلاقی قوانین اخلاقیات کے زمرے میں۔ جب ان دو اصولوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو نیچر ری ایکٹ کرتی ہے۔
گذشتہ سو سالوں میں گلوبلائزیشن کے دور میں فلاح کے بنیادی اصول کی اجتماعی اور انفرادی دونوں سطحوں پر خلاف ورزی ہوئی۔ سیاست ، معشیت، معاشرت اور اخلاقیات میں انسان کی مجموعی کارکردگی بہت پریشان کن رہی۔ سیاست ظلم و ستم کا کا دوسر انام بن گئی، معیشت دولت کی عدم مساوات پ جیسے ظالمانہ اصول پر کھڑی ہوگئی،معاشرت میں خود غرضی اور بیمار لائف اسٹائل پر تعمیر ہونے لگی۔
چنانچہ آج نیچر نے ری ایکٹ کرکے اس گلوبلائزیشن پر مبنی دنیا کو وارننگ دی ہے۔ اس وبا نے گلوبلائزیشن کے ہر اس پہلو کو نشانہ بنایا ہے جو اس عالمی ظلم کا باعث ہے۔ اس کا پہلا نشانہ نام نہاد انفارمیشن ایج کے نام پر ہونے والی ترقی ہے جس نے انسانوں کو انسانوں سے دور کرکے مادیت اور مشینوں کے قریب کردیا اور اسے خودغرض مخلوق بنادیا۔اسی لیے سب سے پہلے سوشل تعلقات پر ضرب لگائی گئی ہے۔ انسان نے گلوبلائزیشن اور سوشل میڈیا کی بنا پر انسان نے تمام تعلقات کو پس پشت ڈال دیا اور وہ بس موبائل، مشینوں اور مادیت کا کر ہوکر رہ گیا۔ اب یہی انسان آئیسولیشن یعنی قید تنہائی میں مشینوں کے ساتھ قید ہے اور اسے انسانی رشتوں کی اہمیت یاد دلائی جارہی ہے۔
دوسری ضرب معیشت پر لگائی گئی ہے اور و ہ نظام جو ظلم پر مبنی تھا اس کا لاک ڈاؤن ہوچکا ہے۔ محلات ویران ہوگئے، اونچی عمارتیں سنسان، بازار سائیں سائیں کررہے ہیں ، پرتعیش ہوٹلیں بند ہوچلیں، سامان عیش و عشرت فراہم کرنے کے اڈے اجڑ گئے ، قیمتی ملبوسات حقیر ہوگئے اور پرتعیش رہن سہن اور آرام دہ طرز زندگی سب پر قدغن لگ چکی ۔
ایک اور ضرب دولت کی تقسیم کے نظام پر لگی ہے۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے ظالمانہ نظام پر مبنی تجارت بند ہوچکی ۔ اشیاء و خدمات کی وہ تجارت کا وہ طوفان جس کا مقصد غریب ملکوں کو منڈی بناکر ان کی دولت اپنے ملک میں منتقل کرنا تھا ، تھم چکا ہے۔
نیچر کی اس وارننگ میں صنعتی ترقی کے نام پر تباہی مچانے والوں کے لیے بھی ایک وارننگ ہے جنہوں نے درختوں کا قتل عام کیا، تمدن کے نام پر جنگلات کی جڑ کاٹ دی، گیسوں سے گلوبل وارمنگ پیدا کی ۔اس میں ایک وارننگ سرمایہ داروں سے متعلق بھی ہے جن کی زندگی کا واحد کا مقصد ہر قسم کی فلاح سے بالاتر ہوکرمنافع کی کو زیادہ سے زیادہ کرنا تھا۔ آج وہ اپنے دیوالیے کو روکنے کی جستجو کررہے ہیں۔
یہ ان ریاستوں کے لیے بھی ایک وارننگ ہے جنہوں نے اسلحے کی ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ شروع کرکے اپنے سارے وسائل دفا ع کے نام چند مخصوص طبقات کے لیےپر وقف کردیے اور صحت جیسے اہم شعبے کو یکسر نظر انداز کردیا۔ اب نیچر پیغام دے رہی ہے کہ دفاع کی ایک اور سرحد ہے جو انسان کی صحت سے ہوکر گذرتی ہے۔ اس پر دفاع کے لیے فوج نہیں بلکہ ڈاکٹروں کی فوج پر خرچ کرنا ضروری ہے۔
نیچر کی یہ وارننگ مذہب کے لیے بھی ہے جس کا بنیادی مقصد انسان کو مقصد حیات سے آگاہ کرنا ، خدا اور بندے کے تعلق کو بیان کرنا اور بندے اور بندے کے تعلق کو مضبوط کرنا تھا۔ لیکن مذہب کے نمائیندے بالعموم اس مقصد میں ناکام رہے۔ آج دنیا بھر کی عبادت گاہیں بند ہیں جو اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ نیچر کا خدا مذہبی کرتا دھرتا لوگوں کے کارناموں سے بحیثیت مجموعی خوش نہیں۔
نیچر کی یہ وارننگ عالمی سربراہوں کے لیے بھی ہے جو اس ظالمانہ نظام کے راہنما ہیں۔ ان کا کام تو ایک باپ کی حیثیت سے کمزوروں پر دست شفقت رکھنا اور دنیا سے ظلم و استحصال کا خاتمہ تھا ۔ اسی بنا پر نیچر نے بعض سربراہان کو متاثر کرکے بتایا کہ یہ بھی اس ری ایکشن کا ایک سبب ہیں۔
آج کی تاریخ اس وائرس سے متاثر ہونے والے زیادہ تر وہ ممالک اور اقوام ہیں جو گلوبلائزیشن کے لیڈر ہیں۔ لیکن غریب ممالک بھی اس سے مستثنی نہیں۔ یہ وائرس ان کے لیے ایک پیغام ہے کہ ان پر ہونے والے ظلم و ستم کی تمام ذمہ داری طاقتور اقوام پر ہی لاگو نہیں ہوتی، و ہ خود بھی اس کے قصور وار ہیں۔ انہوں نے خود اپنی سستی، کاہلی،جہالت، بے نظمی اور غلط فیصلہ سازی سے اپنی حالت کو بگاڑنے میں اہم کردار عطا کیا تو خدا کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ اپنی حالت نہ بدلے۔
آگے کیا ہونے والا ہے؟
تیسرے صنعتی انقلاب سے پہلے ہونے والے واقعات کا پیٹرن بہت اہم ہے۔ پہلی جنگ عظیم ، اس کے بعد اسپینش فلو اور بالاآخر دوسری جنگ عظیم۔ اس صدی کا پیٹرن بھی ایک اندازے کے مطابق ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔ گذشتہ ایک دہائی سے مڈل ایسٹ اور شام میں جاری جنگ میں کم و بیش تمام ہی عالمی طاقتیں بالواسطہ یا بلا مواسطہ ملوث ہوچکی ہیں۔ اسے ہم پہلی جنگ عظیم کہہ سکتے ہیں۔ اس کے بعد اسپیشن فلو کی طرز پر کرونا وائرس کی یلغار ہے جس کی ابھی ابتدا ہے۔ ماہرین کے اندازے بتارہے ہیں کہ دنیا کی آبادی کا کوئی بیس فی صد حصہ اس دنیا غائب معدوم ہوسکتا ہے۔ اس کے بعد معاشی کرائسس کا آنالازمی ہے۔ اس کرائسس کے نتیجے میں طاقتور اور کمزوروں کے درمیان بقا کی جنگ شروع ہوجائے گی جو تیسری عالمی جنگ کو جنم دے سکتی ہے۔
لیکن یہ جنگ دوسری جنگ عظیم کی طرح روایتی ہتھیاروں سے نہیں لڑی جائے گی۔ اس کے پیچھے وہ مہلک ایٹم بم ہیں جن سے دنیا کئی مرتبہ تباہ ہوسکتی ہے۔ اس جنگ میں بچنے والے لوگ ارتقا کے اگلے نہیں بلکہ پچھلے مرحلے میں واپس چلے جائیں گے جسے ہم پتھر کے دور سے تعبیر کرتے ہیں۔
نیچر ہمیں مسلسل وارننگ دے رہی ہے کہ ہم اجتماعی فلاح کے تصور پر اپنی اخلاقیات مرتب کرلیں لیکن ایسا نہیں ہورہا۔ دنیا کی سیاست ، معیشت ، معاشرت اور طرز زندگی نیچر کے خلاف چلی جارہی ہے۔ ایک وقت آئے گا یہ چھوٹی چھوٹی وارننگز بڑی سزا میں تبدیل ہوجائیں گی اور ہم دوبارہ اسی دور میں واپس چلے جائیں گے جہاں سے ہزاروں برس پہلے ارتقا کیا تھا۔
کیا کیا جائے؟
نیچر کے مادی قوانین پر تو سائنس دان تحقیق کرہی رہے ہیں اور جلد یا بدیر اس بیماری کا علاج دنیا میں آجائے گا۔ اصل مسئلہ اس کا علاج نہیں بلکہ ان غیر مادی و اخلاقی قوانین کو ایڈریس کرنا ہے جو نگاہوں سے اوجھل ہیں ۔ ان پر ریسرچ کرنا درحقیقت اہل مذہب اور سماجی اسکالرز کی ذمہ داری ہے ۔ مذہبی علما کی اکثریت تو رسومات میں کھوچکی ہے اور جدید دور کے تقاضوں سے نبٹنے کے لیے مطلوبہ استعداد ہی نہیں رکھتی۔ سماجی علما ء اس حقیقت کو ماننے سے انکاری ہیں کہ نیچر کا رد عمل ان اخلاقی قوانین پر بھی ہوسکتا ہے۔ مقدمہ ابن خلدون نے قوموں کے عروج و زوال پر جو اصول بیان کیے ہیں وہ اخلاقی ہی ہیں ۔ چونکہ دنیا اب ایک گلوبل ولیج بن چکی اس لیے اب یہ قوموں کا عروج زوال عالمی عروج و زوا ل بن چکا ہے۔
اس پر ریسرچ کی ضرورت ہے کہ وہ کون سے اخلاقی معیارات ہیں جو نیچر کے کوڈ سے ہم آہنگ ہیں اور کون سے معاملات نیچر کو ری ایکٹ کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جب بھی اجتماعی فلاح کے اصول کو نظر انداز کیا گیا ور ظلم و ستم کو فروغ دیا گیا ، نیچر نے ری ایکٹ کیا۔دوسری جانب جب بھی فلاح کو بنیادی مرکزی خیال بنایا گیا ، نیچر نے انسانوں کی مدد کی اور انہیں ارتقا کے مراحل سے گذارتے ہوئے آج اس جدید دور میں لے آئی۔
دوسری جانب غریب قومیں جس استحصال کا شکار ہوئیں ان میں وہ خود اس جرم میں شریک معلوم ہوتی ہے۔ نااہلی، ڈسپلن کی خلاف ورزی، کود غرضی، شارٹ ٹرم سوچ، سستی، کاہلی، بدعنوانی ، لالچ اور نام نہاد نسلی یا مذہبی برتری کا احساس وہ جرائم ہیں جو پسماندہ قوموں میں بالعموم پائے جاتے ہیں۔
ان تمام اصولوں کو نظر انداز کرکے نیچر کے رد عمل سے نہیں نبٹا جاسکتا۔ یہ بات انفرادی سطح پر سمجھنے کی بھی ہے اور اجتماعی سطح پر بھی۔
آخری سوال ۔ خدا کہاں ہے؟
یہ وہ سوال ہے جو بالعموم مذہبی ذہنوں میں گونجتا ہے۔ اس سوال کی اول تو کوئی گنجائش ہی نہیں لیکن یہ پھر بھی ہر اس قسم کے واقعے کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے نیچر اور خدا میں تضاد کا تصور ہے۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ نیچر تو اسباب و علل کے قوانین کے تحت کام کررہی ہے اور خدا کا خدا ہونا اس وقت مانا جائے گا جب وہ ان اسباب سے ماورا ہوکر کام کرے۔ یہاں ایک منطقی مغالطہ پیدا ہوجاتا ہے کہ جو کام اسبا ب کے ذریعے ہو وہ نیچر کے تحت ہے جو اس سے ماورا ہو وہ خدا کے ذمے۔
مذہب کا بنیادی مقدمہ یہی ہے کہ ہر شے کا خالق ہے تو نیچر، اس کے قوانین اور اس کے اطلاق سب کا خالق اور چلانے والا خدا ہی ہے۔چنانچہ نیچر کے تحت ہونے والے تمام قوانین خدا ہی نے بنائے ہیں اور خدا ہی انہیں بالواسطہ یا براہ راست کنٹرول کررہا ہے۔
اس پر ایک منطقی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر خدا ہی سب کچھ دیکھ رہا ہے تو وہ اس وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی اقدام کیوں نہیں کرتا؟ یہ سوال بھی اسی منطقی مغالطے کے تحت پیدا ہوتا ہے۔ سائنس جن قوانین پر کام کرتی ہے وہ خدا ہی کے بنائے ہوئے ہیں۔ چنانچہ خداہی کسی کو انسپائر کرکے اس کا علاج سجھا دیتا ہے اور یوں بیماری کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ بظاہر اس کا خاتمہ اسباب کے تحت ہوتا ہے لیکن اس کے پیچھے خدا ہی کا ہاتھ ہوتا ہے۔
اس پر ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا تو سراپا خیر ہے، آخر اس نے یہ واائرس یا اس قسم کی وبا پیدا ہی کیوں کی کہ لاکھوں انسانوں کی زندگی داؤ پر لگ گئی؟ یہ دراصل خیرو شر کے محدود تصور کی بنا پر سوال پیدا ہوتا ہے۔ خیر و شر کا تصور ایک اضافی معاملہ ہے اور یہ اس وقت تک اضافی رہتا ہے جب تک کامل معلومات نہ ہوں۔ مثال کے طور پر ایک شیر جب کسی ہرن کا شکار کرتا ہے تو شیر کے لیے یہ سراپا خیر ہے کیونکہ اس کی بقا کے لیے یہ شکار لازمی ہے۔ دوسری جانب ہرن کے لیے یہ شر ہے کیونکہ اس سے اس کی جان چلی جاتی ہے۔
کرونا وائرس انسانوں کی نگاہ سے دیکھیں تو یہ شر ہے البتہ اسے بڑے کینوس پر دیکھا جائے تو اسی تباہی سے وہ خیر سامنے آتے ہیں جن کا احاطہ ممکن نہیں۔ اس کی مثال ماضی میں اسپینش فلو سے لی جاسکتی ہے ۔ اس وقت انسانیت نسل پرستی، فاشزم، ارتکاز دولت، ظلم اور ستم پر مبنی نظا م چلارہی تھی۔۱۹۲۰ میں اسپیشن فلو نے ان آبادی کے بڑے حصے کو ختم کرکے انسانوں کو سوچنے کا موقع دیا۔ نہ ماننے پر دوسری جنگ عظیم ہوئی اور اس کے بعد انسانوں کو وہ بات سمجھ آئی جو وہ آسانی سے سمجھ نہیں پائے۔اس کے بعد انسا نوں نے جو ترقی کی وہ انہی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کا نتیجہ تھی۔

پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نیچر تو اسباب و علل کے تحت کام کرتی ہے ۔ اگر کائنات انہی مادی قوانین کے تحت چل رہی ہے تو خدا کی کیا ضرورت؟ نیچر یقینا خدا کے قوانین کے تحت چل رہی ہے لیکن یہ چل نہیں رہی بلکہ خدا اسے چلارہا ہے۔ خدا کا اصول محض مادی نہیں بلکہ اخلاقی بھی ہے۔ چنانچہ نیچر کا ری ایکشن جہاں جہاں مادی قوانین کے مطابق ہوتا ہے وہاں اخلاقی اور غیر مادی اصولوں پر بھی فیصلہ ہوتا ہے۔
ایک اور سوال یہ کہ اگر معاملہ اخلاقی یا مذہبی بنیادوں پر بھی ہے تو پھر خدا مغربی اقوام کو کیوں تباہ نہیں کرتا جہاں جنسی فحاشی، شراب، جوا، سور، شرک اور دیگر برائیاں عام ہیں؟ اس مغالطے کو ٹھنڈے دل ودماغ سے سمجھنا پڑے گا۔ اخلاقی میزان یعنی یونی ورسل حق کی آزمائش میں سب سے پہلے کسی قوم پر وہ باتیں ماننا لازمی ہے جس کو و ہ حق سمجھتی ہے۔ یہ وہ حق ہے جو اسے فطرت کی روشنی سے ملا یا پھر سوسائٹی کے نظم اجتماعی نے دیا۔ ضروری نہیں کہ اس کے پاس سو فی صد حق موجود ہو ، لیکن جتنا اخلاقی علم ہے اسی کے مطابق وہ قوم مکلف ہے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو مغربی ودیگر اقوام جن باتوں کو اخلاقی ، معاشرتی، قانونی لحاظ سے درست سمجھتے ہیں وہ ان کی اکثریت پر عمل کرتے ہیں۔ دوسری جانب اکثر مسلم اقوام اس پہلے ٹیسٹ میں بری طرح ناکام معلوم ہوتی ہیں۔ وہ جن باتوں کو حق سمجھ کر دنیا سے منوانا چاہتے ہیں، خود اس پر عمل نہیں کرتے ۔ اخلاقیات سے روگردانی، قانون کا عدم احترام، مسلمہ مذہبی تعلیمات کو پس پشت ڈال دینا، قرآن کو خدا کی کتاب کہنے کے باوجود اس کو نظر انداز کرکے اس کی توہین کرنا یہ وہ چند جرائم ہیں جو ہم میں کامن ہیں۔ سب سے بڑا جرم یہ کہ غیر مسلم اقوام کو دعوت دیے بنا ان پر وہ مذہبی قوانین لاگو کرنا جس کے ابھی وہ مکلف ہی نہیں بنے۔
یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ اکثر مذاہب ان آفات سے نبٹنے کے لیے وظیفے وغیرہ بتاتے ہیں۔ کیا ان سے کچھ اثر پڑ سکتا ہے؟ دیکھیں، انسان محض ایک مادی مخلوق نہیں بلکہ اس کی ایک نفسیات بھی ہوتی ہے او ر اس نفسیات کا اثر اس کے مادی وجود پر بھی پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص ایک مکمل یقین سے ایک معمولی دواکھاتا ہے تو یہ یقین پلے سیبو افیکٹ کے قانون کے مطابق بہت تیزی سے کام کرتا ہے اور اس کا مرض دور ہوجاتا ہے۔ چنانچہ وہ وظیفے جن میں کوئی اخلاقی برائی نہ ہو اور یہ عالم اسباب میں تدبیر کرنے کے بعد کیے جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس خدا کی ضرورت ہی کیا جو اسباب کے تحت کام کرتا ہے؟ خدا اسباب سے ماورا ہے اور اسباب اس کے تحت کام کرتے ہیں۔ لیکن عالم اسباب بھی خدا کا بنایا ہوا ہے۔ اس کو ماننا خدا ہی کو ماننا ہے۔ نیز ایک وقت آتا ہے کہ جب اسباب اور تدبیر ناکام ہوجاتے ہیں تو خدا جس طرح چاہے تو اپنے بندے کی مدد کرتا ہے۔ لیکن یہ مدد اسی وقت آتی ہے جب اسباب کی دنیا میں انسان اپنی سی کوشش کرچکا ہو اور دعا کی قبولیت کی شرائط پوری کرچکا ہوا۔
ایک اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر نیچر کا یہ ری ایکشن انسانوں کے اجتماعی کوتاہیوں کے سبب آیا ہے تو اس میںہمارا کیا قصور؟ اس کے ذمہ دار تو زیادہ تر ترقی یافتہ اور مغربی اقوام ہیں۔ اس کا جواب نیچر ہی کے ایک اصول میں موجود ہے۔ مغربی اور ترقی یافتہ اقوام جو ایجاد یا اچھا کام کرتی ہیں اس کا کچھ نہ کچھ فائدہ یہ غیر ترقی یافتہ قومیں بھی اٹھاتی ہیں۔ بس جب وہ ان کے اچھے کام سے استفادہ کرنے کا حق رکھتی ہیں تو برے کام سے نقصان بھی اٹھانا اسی اصول کے تحت ہے۔
ایک اور سوال یہ کہ اب انسانیت اس وبا میں پھنس چکی ہے تو کیا کوئی توبہ و استغفار اس معاملے میں مددگار ہوسکتی ہے؟ دیکھا جائے تو نیچر کا یہ ری ایکشن گذشتہ سو سال کے اعمال کا نتیجہ ہے۔ چنانچہ جو بھی ری ایکشن ہونا ہے اسے کم تو کیا جاسکتا ہے ، لیکن ختم بالکل نہیں کیا جاسکتا۔ اجتماعی توبہ کا مقصد گلوبلائزیشن کے ان گناہوں سے توبہ کرنا ہے جو نیچر کے خلاف تھے۔ انفرادی سطح پر بھی فلاح کے اصول کو اپنانا اس کا علاج ہے۔ لیکن علاج کا اثر ہونے میں وقت لگتا ہے۔ اس لیے فوری طور پر شاید کوئی ریلیف نہ ملے لیکن اس وبا کے بعد اصلاح سے انسانی ارتقا آگے بڑھنے کی امید ہے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں مزید تباہی۔
آخری سوال یہ کہ اس پورے معاملے میں مذہبی لوگ بالخصوص مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے۔ دیکھیں مسلمان اس دنیا کو ویسے بھی ایک عارضی جگہ سمجھتا اور اسے دارالامتحان مانتا ہے۔ اب یہ اس کی علم کا امتحان بھی ہے اور عمل کی آزمائش بھی۔ یہاں اسے خدا کے وجود، اس کی صفات، توکل، تفویض، رضا ،صبر اور تقدیر جیسے تصورات کا علمی امتحان درپیش ہے۔دوسری جانب اللہ سے تعلق اور اس کے بندوں کو فلاح پہنچانے کا عملی امتحان بھی درپیش ہے۔ یہ ایک جہاد ہے جس میں ہار اور جیت اتنی اہم نہیں بلکہ یہ اہم ہے کہ ہم کس نیت سے اس جنگ میں کودے اور کس طرح اپنی بہترین صلاحیتوں کا اظہار کیا۔

ڈاکٹر محمد عقیل

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s