کرونا وائرس ۔خدا کہاں ہے؟


اگر خدا ہے تو کرونا وائرس کیوں آیا؟ وہ تو سراپا خیر ہے تو پھر یہ شر اس نے کیوں پیدا کیا کہ انسان پریشان پھر رہے ہیں؟ کروڑوں لوگ خوف میں بیٹھے ہیں اور خدا کو کوئی پروا ہی نہیں؟ اگر یہ سب کچھ نیچر کے قوانین ہی نے کرنا ہے اور اس کا علاج عالم اسباب ہی میں دریافت ہونا ہے تو خدا کی کیا ضرورت؟ یہ و ہ چند سوالات ہیں جو جدید ذہن میں مستقل پیدا ہورہے ہیں ۔
یہ وہ سوال ہے جو بالعموم مذہبی ذہنوں میں گونجتا ہے۔

اس سوال کی اول تو کوئی گنجائش ہی نہیں لیکن یہ پھر بھی ہر اس قسم کے واقعے کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے نیچر اور خدا میں تضاد کا تصور ہے۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ نیچر تو اسباب و علل کے قوانین کے تحت کام کررہی ہے اور خدا کا خدا ہونا اس وقت مانا جائے گا جب وہ ان اسباب سے ماورا ہوکر کام کرے۔ یہاں ایک منطقی مغالطہ پیدا ہوجاتا ہے کہ جو کام اسبا ب کے ذریعے ہو وہ نیچر کے تحت ہے جو اس سے ماورا ہو وہ خدا کے ذمے۔
مذہب کا بنیادی مقدمہ یہی ہے کہ ہر شے کا خالق ہے تو نیچر، اس کے قوانین اور اس کے اطلاق سب کا خالق اور چلانے والا خدا ہی ہے۔چنانچہ نیچر کے تحت ہونے والے تمام قوانین خدا ہی نے بنائے ہیں اور خدا ہی انہیں بالواسطہ یا براہ راست کنٹرول کررہا ہے۔
اس پر ایک منطقی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر خدا ہی سب کچھ دیکھ رہا ہے تو وہ اس وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی اقدام کیوں نہیں کرتا؟ یہ سوال بھی اسی منطقی مغالطے کے تحت پیدا ہوتا ہے۔ سائنس جن قوانین پر کام کرتی ہے وہ خدا ہی کے بنائے ہوئے ہیں۔ چنانچہ خداہی کسی کو انسپائر کرکے اس کا علاج سجھا دیتا ہے اور یوں بیماری کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ بظاہر اس کا خاتمہ اسباب کے تحت ہوتا ہے لیکن اس کے پیچھے خدا ہی کا ہاتھ ہوتا ہے۔
اس پر ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا تو سراپا خیر ہے، آخر اس نے یہ واائرس یا اس قسم کی وبا پیدا ہی کیوں کی کہ لاکھوں انسانوں کی زندگی داؤ پر لگ گئی؟ یہ دراصل خیرو شر کے محدود تصور کی بنا پر سوال پیدا ہوتا ہے۔ خیر و شر کا تصور ایک اضافی معاملہ ہے اور یہ اس وقت تک اضافی رہتا ہے جب تک کامل معلومات نہ ہوں۔ مثال کے طور پر ایک شیر جب کسی ہرن کا شکار کرتا ہے تو شیر کے لیے یہ سراپا خیر ہے کیونکہ اس کی بقا کے لیے یہ شکار لازمی ہے۔ دوسری جانب ہرن کے لیے یہ شر ہے کیونکہ اس سے اس کی جان چلی جاتی ہے۔
کرونا وائرس انسانوں کی نگاہ سے دیکھیں تو یہ شر ہے البتہ اسے بڑے کینوس پر دیکھا جائے تو اسی تباہی سے وہ خیر سامنے آتے ہیں جن کا احاطہ ممکن نہیں۔ اس کی مثال ماضی میں اسپینش فلو سے لی جاسکتی ہے ۔ اس وقت انسانیت نسل پرستی، فاشزم، ارتکاز دولت، ظلم اور ستم پر مبنی نظا م چلارہی تھی۔۱۹۲۰ میں اسپیشن فلو نے ان آبادی کے بڑے حصے کو ختم کرکے انسانوں کو سوچنے کا موقع دیا۔ نہ ماننے پر دوسری جنگ عظیم ہوئی اور اس کے بعد انسانوں کو وہ بات سمجھ آئی جو وہ آسانی سے سمجھ نہیں پائے۔اس کے بعد انسا نوں نے جو ترقی کی وہ انہی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کا نتیجہ تھی۔
پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نیچر تو اسباب و علل کے تحت کام کرتی ہے ۔ اگر کائنات انہی مادی قوانین کے تحت چل رہی ہے تو خدا کی کیا ضرورت؟ نیچر یقینا خدا کے قوانین کے تحت چل رہی ہے لیکن یہ چل نہیں رہی بلکہ اسے خدا چلارہا ہے۔ خدا کا اصول محض مادی نہیں بلکہ اخلاقی بھی ہے۔ چنانچہ نیچر کا ری ایکشن جہاں جہاں مادی قوانین کے مطابق ہوتا ہے وہاں اخلاقی اور غیر مادی اصولوں پر بھی فیصلہ ہوتا ہے۔
ایک اور سوال یہ کہ اگر معاملہ اخلاقی یا مذہبی بنیادوں پر بھی ہے تو پھر خدا مغربی اقوام کو کیوں تباہ نہیں کرتا جہاں جنسی فحاشی، شراب، جوا، سور، شرک اور دیگر برائیاں عام ہیں؟ اس مغالطے کو ٹھنڈے دل ودماغ سے سمجھنا پڑے گا۔ اخلاقی میزان یعنی یونی ورسل حق کی آزمائش میں سب سے پہلے کسی قوم پر وہ باتیں ماننا لازمی ہے جس کو و ہ حق سمجھتی ہے۔ یہ وہ حق ہے جو اسے فطرت کی روشنی سے ملا یا پھر سوسائٹی کے نظم اجتماعی نے دیا۔ ضروری نہیں کہ اس کے پاس سو فی صد حق موجود ہو ، لیکن جتنا اخلاقی علم ہے اسی کے مطابق وہ قوم مکلف ہے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو مغربی ودیگر اقوام جن باتوں کو اخلاقی ، معاشرتی، قانونی لحاظ سے درست سمجھتے ہیں وہ ان کی اکثریت پر عمل کرتے ہیں۔ دوسری جانب اکثر مسلم اقوام اس پہلے ٹیسٹ میں بری طرح ناکام معلوم ہوتی ہیں۔ وہ جن باتوں کو حق سمجھ کر دنیا سے منوانا چاہتے ہیں، خود اس پر عمل نہیں کرتے ۔ اخلاقیات سے روگردانی، قانون کا عدم احترام، مسلمہ مذہبی تعلیمات کو پس پشت ڈال دینا، قرآن کو خدا کی کتاب کہنے کے باوجود اس کو نظر انداز کرکے اس کی توہین کرنا یہ وہ چند جرائم ہیں جو ہم میں کامن ہیں۔ سب سے بڑا جرم یہ کہ غیر مسلم اقوام کو دعوت دیے بنا ان پر وہ مذہبی قوانین لاگو کرنا جس کے ابھی وہ مکلف ہی نہیں بنے۔
یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ اکثر مذاہب ان آفات سے نبٹنے کے لیے وظیفے وغیرہ بتاتے ہیں۔ کیا ان سے کچھ اثر پڑ سکتا ہے؟ دیکھیں، انسان محض ایک مادی مخلوق نہیں بلکہ اس کی ایک نفسیات بھی ہوتی ہے او ر اس نفسیات کا اثر اس کے مادی وجود پر بھی پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص ایک مکمل یقین سے ایک معمولی دواکھاتا ہے تو یہ یقین پلے سیبو افیکٹ(placebo effect) کے قانون کے مطابق بہت تیزی سے کام کرتا ہے اور اس کا مرض دور ہوجاتا ہے۔ چنانچہ وہ وظیفے جن میں کوئی اخلاقی برائی نہ ہو اور یہ عالم اسباب میں تدبیر کرنے کے بعد کیے جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں ۔
ایک اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس خدا کی ضرورت ہی کیا جو اسباب کے تحت کام کرتا ہے؟ خدا اسباب سے ماورا ہے اور اسباب اس کے تحت کام کرتے ہیں۔ لیکن عالم اسباب بھی خدا کا بنایا ہوا ہے۔ اس کو ماننا خدا ہی کو ماننا ہے۔ نیز ایک وقت آتا ہے کہ جب اسباب اور تدبیر ناکام ہوجاتے ہیں تو خدا جس طرح چاہے , اپنے بندے کی مدد کرسکتا ہے۔ لیکن یہ مدد اسی وقت آتی ہے جب اسباب کی دنیا میں انسان اپنی سی کوشش کرچکا ہو اور دعا کی قبولیت کی شرائط پوری کرچکا ہوا۔
ایک اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر نیچر کا یہ ری ایکشن انسانوں کے اجتماعی کوتاہیوں کے سبب آیا ہے تو اس میں ہمارا کیا قصور؟ اس کے ذمہ دار تو زیادہ تر ترقی یافتہ اور مغربی اقوام ہیں۔ اس کا جواب نیچر ہی کے ایک اصول میں موجود ہے۔ مغربی اور ترقی یافتہ اقوام جو ایجاد یا اچھا کام کرتی ہیں اس کا کچھ نہ کچھ فائدہ یہ غیر ترقی یافتہ قومیں بھی اٹھاتی ہیں۔ بس جب وہ ان کے اچھے کام سے استفادہ کرنے کا حق رکھتی ہیں تو برے کام سے نقصان بھی اٹھانا اسی اصول کے تحت ہے۔
ایک اور سوال یہ کہ اب انسانیت اس وبا میں پھنس چکی ہے تو کیا کوئی توبہ و استغفار اس معاملے میں مددگار ہوسکتی ہے؟ دیکھا جائے تو نیچر کا یہ ری ایکشن گذشتہ سو سال کے اعمال کا نتیجہ ہے۔ چنانچہ جو بھی ری ایکشن ہونا ہے اسے کم تو کیا جاسکتا ہے ، لیکن ختم بالکل نہیں کیا جاسکتا۔ اجتماعی توبہ کا مقصد گلوبلائزیشن کے ان گناہوں سے توبہ کرنا ہے جو نیچر کے خلاف تھے۔ انفرادی سطح پر بھی فلاح کے اصول کو اپنانا اس کا علاج ہے۔ لیکن علاج کا اثر ہونے میں وقت لگتا ہے۔ اس لیے فوری طور پر اگر کوئی ریلیف نہ بھی ملے تو اس وبا کے بعد اصلاح سے انسانی ارتقا آگے بڑھنے کی امید ہے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں مزید تباہی۔
آخری سوال یہ کہ اس پورے معاملے میں مذہبی لوگ بالخصوص مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے۔ دیکھیں مسلمان اس دنیا کو ویسے بھی ایک عارضی جگہ سمجھتا اور اسے دارالامتحان مانتا ہے۔ اب یہ اس کی علم کا امتحان بھی ہے اور عمل کی آزمائش بھی۔ یہاں اسے خدا کے وجود، اس کی صفات، توکل، تفویض، رضا ،صبر اور تقدیر جیسے تصورات کا علمی امتحان درپیش ہے۔دوسری جانب اللہ سے تعلق اور اس کے بندوں کو فلاح پہنچانے کا عملی امتحان بھی درپیش ہے۔ یہ ایک جہاد ہے جس میں ہار اور جیت اتنی اہم نہیں بلکہ یہ اہم ہے کہ ہم کس نیت سے اس جنگ میں کودے اور کس طرح اپنی بہترین صلاحیتوں کا اظہار کیا۔

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s