کیا اللہ کسی نفس کو اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ دیتا ہے؟


آج کل کے حالات میں جب لاکھوں لوگ کرونا کی وبا کا شکار ہوچکے اور ہزاروں موت کے منہ میں پہنچ گئے تو لوگ خدا کی ذات پر کئی سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ان میں ایک سوال اس آیت کے متعلق بھی ہے جو سورہ بقر ہ کی آخری آیت ہے ۔

اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔
اس آیت کی بنیاد پر لوگ کئی سوالات کرتے ہیں کہ اگر ایسا ہے تو ہمارا مشاہدہ تو اس آیت سے مختلف ہے۔ ہم نے تو دیکھا کہ زینب کے قتل کے وقت جس طرح اس بچی کو تشدد کرکے ہلاک کیا گیا تو وہ تکلیف اس کی طاقت سے زیادہ تھی۔ اسی طرح اس کے گھر والوں کو جو اذیت سہنی پڑی وہ ان کی استطاعت سے باہر تھی۔ یہی معاملہ باقی کیسز کا بھی ہے جس میں ایک ڈاکو زندگی بھر کی جمع پونجی لوٹ کر لے جاتے ہیں، کسی کا جوان بیٹا فائرنگ سے مارا جاتا ہے، کسی کی جوان بیٹی کو اغوا کرکے ریپ کردیا جاتا ہے وغیرہ۔
اسی طرح قدرتی آفات بھی تکلیف مالا یطاق دیتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ ان میں کبھی زلزلہ مکان ومکین کو زمیں بوس کردیتا، سمندر کی موجیں بستیاں اجارڈیتیں، طوفان کچے گھروں کو تاش کے پتوں کی طرح بکھیر دیتے، وبائیں ہنستے بستے گھر کو ویران کردیتی ہیں۔ اگر یہ سب کچھ انسان کی استطاعت سے زیادہ نہیں تو کیا ہے؟
یہ دراصل اس آیت کی غلط تشریح ہے۔ اس آیت کے سیاق و سباق میں جائیں تو بات کچھ اور ہی بیان ہورہی ہے۔ اس آیت کے سیاق و سباق کو دیکھا جائے تو علم ہوتا ہے کہ یہاں اللہ کی جانب سے بوجھ ڈالنے کا کوئی عمومی قانون بیان نہیں ہورہا جس کا اطلاق اوپر بیان کردہ تمام واقعات پر کیا جاسکے۔ اس آیت کا سادہ مفہوم یہ ہے کہ اللہ کسی شخص پر ایمان اور شریعت کے حوالے سے اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ یعنی وہ اس سے کوئی ایسی بات نہیں منوانا چاہتا جو اس کے لیے ممکن نہ ہو۔ گویا اس آیت کے ایک خصوصی معنی ہیں کہ اللہ تعالی شریعت واحکامات کے معاملے میں کسی نفس پر اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ یہی وجہ ہے کہ سفر میں نماز قصر کرنے کا حکم ہے، جان پر بن جائے تو حرام تک کھانے کی اجازت ہے،بیماری ہو تو روزہ قضا کیا جاسکتا ہے وغیرہ۔
چنانچہ اس آیت کا ان تمام واقعات پر اطلاق نہیں کیا جاسکتا جو اوپر بیان ہوئے ہیں۔ لیکن سوال ایک نیا رخ لے لیتا ہے ۔ کیا خدا شریعت کے علاوہ باقی معاملات میں انسان کی استطاعت سے زیادہ بوجھ ڈالتا ہے جیسا کہ زینب کے واقعے سے ظاہر ہے یا قدرتی آفات سے ظاہر ہوتا ہے؟
اس جواب کے دو حصے ہیں۔ ایک وہ معاملات جن میں انسان کی براہ راست یا بالواسطہ مداخلت ہے اور دوسرے وہ معاملات جن میں قدرت براہ راست ملوث ہے۔ پہلی صورت زینب کے قتل ، چوری، ڈاکے ، قتل یا اسی نوعیت کے کسی جرم کی ہے جو متاثرہ شخص کو مالی، جسمانی اور نفسیاتی اذیت میں اس درجے میں مبتلا کردیتی ہے جو اس کی برداشت سے باہر ہوتی ہے۔ ان معاملات میں دیکھا جائے تو خدا یہ تکلیف نہیں پہنچارہا بلکہ یہ ان انسانوں کی بنا پر مل رہی ہے جنہیں آزادی و اختیار دیا گیا ہے۔ اس لیے اسے خدا کی جانب منسوب نہیں کیا جاسکتا۔
پھر بھی کچھ لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ہر کام خدا کی مشیت کے تحت ہوتا ہے تو خدا نے ان لوگو ں کو اتنا ارادہ و اختیار دیا ہی کیوں؟ ایسا آزمائش و امتحان کے لیے لازمی تھا۔ البتہ ان جرائم پیشہ لوگوں کے برے اعمال پر مکافات عمل کا قانون حرکت میں آجاتا ہے اور جلد یا بدیر اس دنیا میں یہ دوسری دنیا میں ان کو کیے کی سزا مل جاتی ہے اور مظلوم شخص کو اس کا اجر مل جاتا ہے۔
دوسرے معاملات وہ قدرتی آفات ہیں جن میں براہ راست قدرت کا دخل ہوتا ہے اور انسان کا ارادہ شامل نہیں ہوتا۔ ان معاملات میں بھی خدا براہ راست مداخلت نہیں کرتا اور یہ سب کچھ ان قوانین کے تحت ہورہا ہوتا ہے جن پر نیچر چل رہی ہے۔ ہم ایک اور جگہ یہ واضح کرچکے ہیں نیچر کن اخلاقی اور مادی اصولوں پر ری ایکٹ کرتی اور تباہی کا باعث بنتی ہے۔نیچر کی اس تخریب کے پیچھے تعمیر چھپی ہوتی ہے۔ قدرت اس جھٹکے کے ذریعے انسانوں کو بعض معاملات پر متبنہ کرنا چاہتی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت کا مفہوم محض ان احکامات کی حدتک ہے جو دین اور شریعت سے متعلق ہیں۔ رہی بات باقی معاملات کی تو وہ ان کی ابتدا خدا نہیں کرتا بلکہ یا تو وہ انسان کی آزادی کے غلط استعمال کی بنا پر وجود میں آتے ہیں یا پھر نیچر کے قوانین کے تحت پیدا ہوتے ہیں۔ ان دونوں معاملات میں انسا ن کو اس کی استطاعت سے زیادہ تکلیف مل سکتی ہے اور یہ اصول اس آیت کے خلاف نہیں۔
ڈاکٹر محمد عقیل

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s