صفت صبر اللہ کے لئے نہیں۔ اللہ پاک قرآن مجید کے مطابق بردبار ہے۔

الحلیم اللہ کی صفات میں ایک اہم صفت ہے۔ اس کے لغوی معنی ہیں بردباری کرنے والا، تحمل کرنے والا۔ حلم کا مطلب ہے جوش غضب سے اپنے نفس کو روکنا۔ اس کے معنی کو مزید کھولا جائے تو حلیم سے مراد وہ شخصیت ہوتی ہے جس میں جلد بازی نہ ہو، جو تحمل اور عزم کے ساتھ کسی بھی عمل کے مقابلے میں فوری رد عمل کا اظہار نہ کرے، وہ شخصیت جو جلد بازی سے کام خراب نہ کردے، وہ جسے اپنے اعصاب پر پورا قابو ہو، وہ جو اپنے آپ کو اچانک رد عمل سے روک کر رکھے اور ٹھنڈے دماغ سے فیصلہ کرے، وہ جو جذبات سے مغلوب نہ ہو۔اللہ کی صفت الحلیم سے مراد وہ ہستی ہے جو اپنی مخلوق پر ظاہری اورپوشیدہ انداز میں اپنی رحمت نازل کرتا رہتا اور ان کی نافرمانیوں اور مخالفت کے باوجود ان شفقت کرتا اور ان کی کوتاہیوں سے درگذر کرتا ہے.صبر اور حلم میں فرقعام طور پر صبر اور تحمل کو مترادف کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔لیکن درحقیقت صبر اور حلم میں فرق ہے۔ حلم ایک صفت ہے جو کسیشخص میں ایک پوشیدہ قوت کی طرح موجود ہوتی ہے۔ صبر ایک فعل یا کام ہے جو مخصوص انجام دینا ہوتا ہے۔ کسی شخص میں تحمل کی بنیادی قوت موجود نہ ہو تو اس کے لیے صبر کرنا یعنی مخصوص حالات میں خود پر قابو رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔اللہ تعالی نے اپنے لیے صفت حلم بیان کی ہے لیکن کہیں یہ نہیں آیا کہ اللہتعالی صابر بھی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صبر ناموافق اور ناقابل کنٹرول حالات میں خود پر قابو رکھنے کا نام ہے۔ اللہ تعالی کے لیے تو کوئی بھی حالات ناموافق نہیں کیونکہ آپ تو مسبب الاسبا ب ہیں۔ اسی لیے اللہ کے لیے صابر کی صفت بیان نہیں ہوئی ہے.

کامران نثار۔

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: