سانپ خدا کے حکم سے کاٹتا ہے؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

یہ سولہ قبل  کی ایک  سرد رات تھی اور میں اپنے دوستوں کے ساتھ  نورانی شاہ کے پہاڑوں میں  ایڈوینچر پر تھا۔انسانی مزاروں سے تو دلچسپی نہ تھی البتہ  خدائی پہاڑوں سے ضرور تھی۔ رات کافی سناٹا تھا اور ارد گرد کے پہاڑ دیو ہیکل جن کی مانند لگ رہے تھے۔ سونے  سے قبل ایک مقامی بلوچ سے بات چیت ہورہی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کیا یہاں سانپ ہوتے ہیں؟ اس نے کہا کہ ہاں ہوتے ہیں لیکن وہ خدا کے حکم سے ہی کاٹتے ہیں۔

وہ یہ بات کہہ کر چپ ہوگیا اور میں گہری سوچ میں گم ہوگیا۔ایک لحاظ سے اس کی بات درست تھی۔ خدا کا حکم کیا ہے؟ کیا ہر مرتبہ جب سانپ کاٹنے کا ارادہ کرتا ہے تو خدابراہ راست متوجہ ہوتا اور سانپ کو کاٹنے  کی اجازت دیتا یا حکم  دیتا  ہے ؟وہ کن بنیادوں  پر اجازت دیتا اور جب منع کردیتا ہے؟

سانپ کی ایک نیچر ہے جو مخصوص قوانین کے تحت کام کرتی ہے۔ سانپ اسی وقت کاٹتا ہے جب اسے کوئی  خطرہ محسوس ہو یا غذا کی ضرورت ہو۔اب جو کوئی بھی سانپ کے مقابلے میں حفاظتی تدبیر اختیار نہ کرے تو تو  یہ نیچر کے احتیاط کے  ضابطے کی خلاف ورزی ہے  ۔اب جو انسان یا کوئی اور ان قوانین کے تحت سانپ کے نرغے میں آگیا اور خود کو بچا نہ پایا تو سانپ ظاہر ہے اسے ڈس لے گا۔

گویا خدا کے حکم  سے وہ قوانین  ، ضوابط، اصول اور قاعدے تخلیق ہوئے جس کے ذریعے سانپ کے ڈسنے کا واقعہ یا کوئی بھی واقعہ جنم لیتا ہے۔یہاں خدا نے سانپ کو کاٹنے کا حکم براہ راست  نہیں دیا بلکہ سانپ کو کچھ قوانین کے تحت تخلیق کیا اور ان سے بچنے کے لیے حفاظت کے  ضابطے بھی بنادیے۔ اب جس نے ان ضابطوں کی خلاف ورزی کی اور سانپ نے اسے کاٹ لیا تو اسے کہا جائے گا کہ یہ خدا کی  اس اجازت سے ہوا جو اس نے اپنے  نیچر کے قانون کو دے رکھی ہے۔ گویا یہ سارا کام خود بخود نیچر کے قوانین کے تحت ہورہا ہے اور خدا بار سانپ کو حکم نہیں دیتا کہ فلاں کو کاٹو اور فلاں کو نہیں کاٹو۔دنیا میں ہر کام خدا کے حکم سے ہوتا ہے۔ اس کا یہی مطلب ہے کہ ہر کام خدا کے بنائے ہوئے قانون کے تحت ہوتا ہے ۔البتہ چونکہ خدا ان قوانین کا خالق ہے اور اس کائنات کا چیف ایگزیکٹو ہے اس لیے جب چاہے ان  مرئی قوانین سے بالاتر ہوکر کسی اور غیر مرئی قانون کے تحت معاملہ کرسکتا ہے لیکن بالعموم وہ ایسا نہیں کرتا۔

اس موقع پر یہ جاننا ضروری ہے کہ اس قانون میں  چند مستثنی معاملات بھی شامل ہیں۔   جب کسی کے لئے اللہ کی اسکیم کے مطابق کوئی واقعہ پیش آنا ضروری ہو تو ، نظام الٰہی سانپ کو کسی شخص کو کاٹنے پر مجبور کرسکتا ہے یا اسے کاٹنے سے بچا سکتا  ہے۔گویا  کہ یہ معاملہ اس نظام کے عمومی قانون میں مداخلت کرکے کسی مخصوص سمت میں لے جانے کا ہے اور قانون الٰہی میں استثنی ٰ بھی قانون ہی کا حصہ ہے۔ 

ڈاکٹر محمد عقیل

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: