جلنے والا فرش

اکٹر محمد عقیل

کسی بستی میں ایک بہت امیر شخص رہتا تھا۔ یوں تو اس کے پاس سب کچھ تھا  لیکن اس کی دلچسپی زندگی سے ختم ہوتی جارہی تھی۔ اسے نہ بھوک لگتی تھی اور نہ ہی  صحیح طرح نیند آتی تھی۔ بس ہر وقت ایک پژمردگی، سستی اور کاہلی کی سی کیفیت رہتی۔ کئی حکیموں کا علاج کروالیا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ایک دن کسی دور دراز علاقے میں کسی نے ایک ماہر حکیم کا پتا بتایا۔ حکیم نے علاج کرنے پر آمادگی ظاہر کرلی لیکن شرط رکھی  کہ میرے طریقہ علاج پر تم کوئی اعتراض نہیں کروگے ۔ وہ مرتا کیا نہ کرتا کی مصداق تیار ہوگیا۔

حکیم نے کہا کہ صبح ایک مقام پر چلنا ہے لیکن تم اکیلے چلوگے اور کوئی ساتھ نہ ہوگا۔ صبح وہ روانہ ہوئے اور حکیم اسے ایک دورکسی سنسان جگہ پر لے آیا۔ وہاں ایک چھوٹا سا کمرہ بنا تھا اور کچھ بھی نہ تھا۔ حکیم نے اس سے اندر داخل ہونے کا کہا۔ جونہی وہ شخص اندر داخل ہوا، حکیم نے باہر سے کنڈی لگا کر کمرہ بند کردیا۔ وہ شخص گھبرایا۔ اچانک اسے محسوس ہوا کہ اس کے پیر جل رہے ہیں۔ اس نے کمرے کے چاروں طرف بھاگنا شروع کردیا تاکہ کوئی ٹھنڈی جگہ مل جائے لیکن وہ ناکام رہا۔ بس وہ پیروں کو جلنے سے بچانے کے لیے اچھل کود کرنے لگا۔ کافی دیر تک وہ یونہی اچھلتا اور شور مچاتا رہا لیکن کچھ حاصل نہ ہوا ۔ یہاں تک کہ نیم  بے ہوش ہوکر گر گیا۔

جب آنکھ کھلی تو خود اپنے گھر  میں موجود پایا۔ اس نے فورا حکم دیا کہ اس ناہنجار حکیم کو تلاش کیا جائے۔ ہرکارے  اسے لانے کے لیے  نکل گئے۔ اچانک اس شخص کو محسوس ہوا کہ خلاف معمول اسے بھوک لگ رہی ہے۔ اس نے  مدتوں بعد جی بھر کر کھانا کھایا۔ اس کے ساتھ ہی اس نے محسوس کیا کہ اس کے جسم میں ایک چستی آگئی ہے اور دل میں ایک خوشی کی لہر ہے۔ وہ اپنے پیروں کی تکلیف بھول گیا اور حکیم کو سزا دینے کی بجائے انعام دینے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ حکیم کا طریقہ علاج سمجھ چکا تھا۔

یہ کہانی آپ سب نے شاید بچپن میں پڑھی ہوگی لیکن اس سائیبر ایج میں ہم سب اسی کہانی کا  مرکزی کردار بنتے جارہے ہیں۔ ہماری فزیکل ایکٹوٹی کم و بیش ختم ہوتی جارہی ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ جسمانی نظام کی درستگی پندرہ بیس منٹ کی ورزش یا واک کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ واک ہمیں دل، شوگر، بلڈ پریشر اور دیگر بیماریوں سے بچاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جسمانی ایکسرسائز سے کئی ہارمون خارج ہوتے ہیں جو ہمارے موڈ کو بہتر بناتےاور جینے کی امنگ اور خوشی پیدا کرتے ہیں۔

ہم یہ سب جاننے کے باوجود نہیں مانتے۔ پھر انجام یہ کہ نیچر کا قانون حرکت میں آتا ہے جو ہمیں بیماریوں  کے جلتے ہوئے فرش پر لاکھڑا کرتا ہے۔ اس فرش پر تکلیف کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر اور لیبارٹریوں کا چکر لگانا مقدر بن جاتا ہے۔ یہ وہی چکر تھے جو وہ  واک کی شکل میں کرلیتا تو آج اس طواف سے محفوظ رہتا۔

پس  عقلمند وہی ہے جو خود  کو سدھا ر لے اس سے پہلے کہ نیچر اسے جلنے والے فرش پر کھڑا کردے اور وہ حسرت کی تصویر بن جائے۔  

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: