حوروں سے متعلق چند وضاحتیں  

(حوروں کے چاہنے والوں سے معذرت کے ساتھ)

حوروں کا ذکر مذہبی ہی نہیں غیر مذہبی حلقوں میں بھی بڑی دلچسپی سے کیا جاتا  اور اسے مذاق کا موضوع بنایا جاتا ہے۔ اس معاملے  میں سنجیدہ حلقے بھی اس  معاملے  کو درست طور پر بیان نہیں کرپاتے اور یوں ملحدین اور عقلیت پرستوں کو قرآن پر پھبتی کسنے کا موقع مل جاتا ہے۔ اس ضمن میں چند حقیقتوں کو جاننا بہت ضروری ہے۔

سوال نمبر ۱۔ جنت کے بارے میں جو نقشہ منبروں پر بیان کیا جاتا ہے وہ ایسا  ہے کہ گویا کوئی عیش و عشرت کا مقام ہے۔ کیا واقعی ایسا ہے اور کیا انسان اسی عیش و عشرت کے حصول کے لیے دنیا میں خدا کی عبادت اور مخلوق کی خدمت کرتا ہے؟

جواب : جنت کے معاملے کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ انسان کا اصل مقصد جنت کا حصول نہیں بلکہ خدا سے ملاقات کرنا اور اس کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ اس کو یوں سمجھنا چاہیے کہ ایک شخص کو اپنے محبوب سے ملنا ہے ، وہ دن رات اس کی یاد میں غرق رہتا  اور ہر ایک سے اپنے محبوب کا پتا پوچھتا ہے۔ کوئی اسے بتاتا ہے کہ اگر تم فلاں باغ میں پہنچ گئے تو وہاں تمہیں محبوب مل جائے گا۔ جنت کا معاملہ بھی یہی ہے۔ جنت وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے محبوب سے ملاقات کرسکتا ہے۔ جنت کی نعمتیں دراصل اس ضیافت اور میزبانی کا بیان ہیں جو خدائے رب ذوالجلال کی جانب سے  اپنے مہمانوں کو ہمیشہ کے لیے پیش کردی جائیں گی۔جیسے ہم کسی کے ہاں مہمان کے طور پر جاتے ہیں تو وہ ہماری خاطر تواضع کرتے ہیں لیکن اصل مقصد ملاقات ہوتی ہے ، چائے اور بسکٹ نہیں۔  یعنی اصل مقصد رب سے ملاقات ہے جبکہ باقی نعمتیں اس ملاقات کی ضیافت۔

سوال ۲: رب سے ملاقات سے کیا ملے گا؟

جواب: یہ کوئی سادہ سی  بات نہیں ۔ خدا سے ملاقات کا مطلب خدا کو دیکھنے کی صلاحیت پیدا کرلینا  اور خدا کو پالینا ہے۔ یہ پانا حقیقی معنوں میں خدا کی رفاقت ہے اور جب خدا رفیق بن جائے تو انسان بھی  خدا کی کچھ صفات کا محدود معنوں میں حامل بن جاتا اور اس سطح پر پہنچ جاتا ہے کہ پھر جو وہ چاہے وہ ہوجاتا ہے۔  

سوال ۳:قرآ ن میں حوروں کا جابجا  ذکر ہے ۔ کیا اس سے  آزادانہ جنسی اختلاط کی جانب اشارہ نہیں ملتا؟

حواب۔ یہ ایک غلط فہمی ہے کہ حوروں سے آزادانہ جنسی اختلاط کرنے کا معاملہ ہے۔ جیسے سورہ الدخان کی آیت ۵۴ میں بیان ہوتا ہے کہ ہم  ان کا جوڑا بڑی آنکھوں والی حوروں سے بنادیں گے۔ یہ وہی اسلوب ہے جو دنیا میں نکاح کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ وہاں جوڑے بنانے کا  بیان ہے نہ کہ آزاد اختلاط کا بیان۔دوسری جانب سورہ رحمان میں بیان ہوتا ہے کہ یہ حوریں خیموں میں مقیم ہونگی جو اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ باقاعدہ پرائیویسی موجود ہوگی۔ سورہ رحمان ہی میں ہے کہ وہ نیچے نگاہوں والی پاکیزہ  حوریں ہونگیں جو اس ان کی شرم و حیا اور عفت کو بیان کرتا ہے۔ چنانچہ یہ تاثر لینا کسی طور درست نہیں کہ یہ وہ  آزادی پر مبنی ماڈل ہے جس پر آج مغرب قائم ہے۔

دوسری با ت یہ کہ حوروں  کے ساتھ جوڑے بنائے جانے کا مقصد محض جنسی لذت  کا حصول سمجھنا بھی غلط ہے۔ اس دنیاکی زندگی میں انسان کو سماجی حیوان کہا گیا ہے یعنی وہ جوڑوں کی شکل میں گروپ بنا کر رہتا ہے تاکہ اپنا دکھ سکھ شئیر کرسکے۔ جنت میں دکھ تو نہیں البتہ دوستی کا اپنا ایک لطف ہوتا ہے۔ چنانچہ ہم جنس بیویوں کی شکل میں اس حظ کو بیان کیا گیا ہے۔

سوال ۴: کیا یہ حوریں  انسان ہونگی یا کسی اور جنس سے ان کا تعلق ہوگا؟

جواب:  اس سے پہلے یہ جاننا لازمی ہے کہ یہ حوریں ہماری  طرح انسان ہونگی یا ان کا تعلق کسی اور  جنس سے ہوگا۔ قرآن میں ان حوروں کے حسن کا تو صراحت سے بیان موجود ہے لیکن یہ بات نہیں لکھی کہ وہ انسان ہونگی، جن ہونگی یا کوئی فرشتے کی جنس سے کوئی عورتیں۔ ہمارے موجودہ علم کے مطابق انسان کسی غیر انسانی مخلوق سے اختلاط نہ تو کرسکتا ہے اور ہی اس سے حظ اٹھاسکتا ہے۔ اسی طرح  سورہ ص میں بیان ہوتا ہے کہ  ان کے پاس نیچی نگاہ رکھنے والی اور ہم عمر عورتیں ہوں گی۔جس طرح ہم آہنگی کے لیے ہم عمر ہونا لازمی ہے اس سے کہیں زیادہ لازمی یہ بھی ہے کہ انسانوں کے لیے انسان اور جنات کے لیے جنات ہی کے جوڑے ہوں۔ اس لیے قرین قیاس یہ ہے کہ انسانوں کے لیے حوریں انسان ہی ہونگیں ۔ البتہ ان کو ایک خاص طریقے سے ڈھال کر ان کے حسن کو ملکوتی حسن میں تبدیل کردیا جائے گا(سورہ واقعہ آیت ۳۵)۔

سوال ۵: یہ حوریں کیا ہماری بیویاں ہی ہونگی؟

جواب: دونوں ہی باتیں ممکن ہیں۔ سورہ الزخرف آیت ۷۰ میں  بیان ہوتا ہے کہ  (ان سے کہا جائے گا) تم اور تمہاری بیویاں عزت و احترام کے ساتھ بہشت میں داخل ہوجاؤ۔ یہاں ان بیوی یا شوہر کی جانب اشارہ ہے جو دنیا میں بھی میاں بیوی تھے اور دونوں جنت کے لیے کوالی فائی کرگئے۔ سورہ الدخان کی آیت   ۵۴ اس بات کو واضح کرتی ہے کہ وہاں بڑی آنکھوں والی خواتین (حوروں ) سے ان کا نکاح کردیا جائے گا۔ یہ غالبا وہ انسان ہونگے جن کی دنیوی بیوی یا شوہر یا تو تھے ہی نہیں یا  اگر تھے تو ان میں سے کوئی ایک  جنت میں نہیں پہنچ پایا۔ 

سوال ۶: اگر مردوں کے لیے حوریں ہیں تو عورتوں کے لیے کیا ہے؟

جواب۔ قرآن میں جگہ جگہ ازواج کا ذکر ہے جو مردو عورت دونوں پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی اگر حوریں وہ انسان ہی ہیں جو جنت میں پہنچ گئیں تو جب ان کا نکاح کیا جائے تو کسی انسان ہی سے کیا جائے گا۔ یا اگر وہ اپنے شوہر کے ساتھ پہنچی تو اس کا جوڑ ا اپنے دنیاوی شوہر ہی کے ساتھ ہوگا۔ بالفرض اگر مان بھی لیا جائے گا کہ مردوں کو حوروں کی شکل میں کچھ اضافی دیا گیا ہے تو سورہ ق میں بیان ہوتا ہے کہ لھم مایشاون فیھا کہ وہ وہاں جو چاہیں گے مل جائے گا۔ تو اگر کسی عورت کو مردوں کی اضافی  حوروں پر اعتراض ہوگا تو وہ اس آیت میں بیا کردہ  اصول کے تحت اس اعتراض کو رفع کرسکتی ہے۔

سوال ۷: کیا مردوں کو ایک سے زیادہ   حوریں یا عورتیں جنت میں ملیں گی؟

جواب : قرآن میں جہاں یہ بیان ہوا ہے وہاں تمہارے لیے پاکیزہ بیویا ں  ہونگی۔ تو اس سے بالعمو م یہ تاثر لیا جاتا ہے کہ یہ ایک سے زائد بیویوں کی جانب اشارہ ہے۔ لیکن جملہ یوں ہے کہ تم (بہت سے  مردوں کے لیے )  بیویاں ہونگیں۔ تو اس تناظر میں یہ حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا ہے ایک مردکو ایک سے زیادہ عورتیں یا حوریں عطا کی جائیں گی۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کو جنت میں رکھا گیا تو وہاں بھی ان کی ایک ہی بیوی تھی۔

البتہ بعض روایات میں متعدد حوروں کا ذکر ہے۔ معاملہ کچھ بھی ہو،   لھم مایشاون فیھا یعنی وہاں جوتم چاہو گے مل جائے گا، کے اصول کے تحت بعید نہیں کہ ایک مردکا نکاح متعدد عورتوں سے کردیا جائے۔

سوال ۸: آپ نے کہا کہ جنت میں آزادانہ جنسی اختلاط نہیں ہوگا اور دوسری جانب آپ کہتے ہیں کہ وہاں ہم جو چاہیں گے ملے گا تو اگر کوئی آزادانہ جنسی اختلاط ر مصر ہو تو پھر کیا ہوگا؟

جواب:  جنتی لوگ دنیا  میں آزادی ہونے کے باوجود خود کو آزادانہ جنسی اختلاط سے روکتے تھے کہ رب کی منشا یہ نہیں۔ تو جنت میں ہم وہی چاہیں گے جو ہمارے رب کی منشا ہوگی۔ یعنی وہاں کوئی ایسی خواہش ہی پیدا نہیں ہوسکتی جو ہمارے رب کی منشا کے خلاف ہو۔

ڈاکٹر محمد عقیل

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: