قربانی آج کے دور میں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 انسان کی تاریخ کو چار حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلا پتھر کا زمانہ، دوسرا زرعی دور، تیسرا انڈسٹریل ایج اور چوتھا انفارمیشن ایج۔ جب انسان نے پتھر کے دور سے زرعی ایج(Agriculture Age)  میں قدم رکھا تو  اس زرعی دور کی بنیاد دو اہم ستونوں  پر تھی۔ ایک زمین پر کاشتکاری کے ذریعے  غذا حاصل کرنے کا فن  اور دوسرا مویشی یعنی پالتو جانوروں کو نشونما دے کر  غذا اور سواری کا بندوبست کرنے کا ہنر۔ مویشی جن میں گائے،  بکری ، مرغی ، اونٹ ، بھیڑ وغیرہ شامل تھیں ، ان کے ذریعے دودھ، انڈے اور گوشت  حاصل کیا جاتا تھا ۔ دوسری جانب   بیل، گائے، اونٹ، گھوڑے، گدھے، خچر وغیرہ    جیسے طاقتور  مویشیوں کو سواری  ، کھیتی باڑی اور اشیاء کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا کام لیا جاتا تھا۔ یوں بالواسطہ طور پر دولت زرعی معاشرے میں سونا، چاندی ، دینار یا کاغذ کی کرنسی کی بجائے ان مویشیوں اور اناج کی صورت میں ذخیرہ ہوتی تھی ۔ جس کے پاس زیادہ زمینیں ، فصل یا  مویشی کثرت سے  ہوتے تھے وہی اس معاشرے میں ایک امیر اور شان و شوکت والا  شخص کہلاتا تھا۔ اس کی  ایک مثال حضرت ایوب علیہ السلام کی ہے جن کے بارے میں بائبل  کتاب ایوب میں مذکور ہے کہ  حضرت ایوب سات ہزار بھیڑوں  تین ہزار اونٹوں  پانچ سو جوڑے  بیلوں  اور پانچ سو گدھیوں  کے  مالک تھے۔ ان کے  پاس بہت سے  خادم تھے۔ ایوب مشرق کے سب سے  زیادہ دولتمند شخص تھے۔

انسانی تاریخ کی   سب سے پہلی  مذہبی قربانی کا ذکر ہابیل اور قابیل کی داستان کی صورت میں ملتا ہے جو بائبل اور قرآن دونوں میں مذکور ہے۔ ہابیل قربانی کے لیے پہلوٹھی کی بھیڑ لایا اور قابیل کچھ اناج لے کر آیا۔اس سے علم ہوتا ہے کہ قربانی کا یہ واقعہ زرعی دورکی ابتدا  میں پیش آیا جب انسان مویشی اور اناج کا استعمال سیکھ چکا تھا۔  ہابیل کی قربانی اس کی نیت میں اخلاص بنا پر قبول ہوئی اور قابیل کی قربانی رد ہوگئی۔ قربانی کی قبولیت اس بنا پر نہیں تھی  کہ بھیڑ خدا کے نزدیک کوئی مقبول شے اور اناج غیر مقبول تھا،  بلکہ واحد وجہ تقوی تھی۔ اس سے علم ہوتا ہے کہ قربانی کے لیے خدا کے نزدیک کسی مخصوص شے، فارم،  رسم یا پروسیجر کے تحت کرنا لازمی نہیں ، بس نیت کا  خالص ہونا لازمی ہے۔

قربانی کی رسم دور ابراہیمی میں اپنے منتہائے کمال کو پہنچی  جب حضرت ابراہیم  نے اپنے ایک خواب  کو حکم خداوندی  سمجھ کر اپنے اکلوتےبیٹے کو قربان کرنے کی کوشش کی ۔ عین وقت پر خدا نے آپ کو بیٹے کی قربانی سے  روک دیا اوراس کی بجائے ایک بھیڑ کو ذبح کرنے کا حکم دیا  ۔ یوں مویشیوں کی  قربانی ابراہیم  علیہ السلام کے ماننے والوں میں ایک روایت کے طور پر جاری ہوگئی۔ اس سے قبل قدیم مشرکانہ مذاہب میں دیوتاوں کے نام پر بچوں اور خواتین تک کو قربان کردیا جاتا تھا جس کا مقصد پنڈتوں اور پجاریو ں کے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل تھا۔ اگر معبود کے نام پر انسانوں کو ذبح کرنا خدا کو واقعی مطلوب اور مرغوب تھا تو سب سے پہلے تو پنڈت اور پروہت ہی خود کو قربانی کے لیے پیش کرتے لیکن معاملہ اس کے برعکس رہا۔ بہرحال ، حضرت ابراہیم  کی قربانی کے ذریعے قربانی کی اسپرٹ کو اللہ کے لیے برقرار رکھا گیا جس میں  انسانی ذبح کو  ممنوع  قرار دے کر قربانی کے عمل کو واضح طور پر  مویشیوں تک محدود کردیا گیا۔

حضرت ابراہیم کے بعد ان کی نسل  کی ایک شاخ یعنی بنی اسرائیل میں  قربانی کی رسم  جاری رہی کہ تاکہ ذبیحے کا  گوشت صحرائے سینا میں  موجود مہاجرین بالخصوص غرباء  کے لیے غذا کا ذریعہ بنا رہے۔ بعد میں بھی یہ روایت یروشلم میں اسرائیلی سلطنت کے قیام  اور اس کے بعد جاری رہی۔ حضرت ابراہیم کی  نسل کی دوسری شاخ بنی اسماعیل کے ہاں بھی قربانی کو ایک خاص اہمیت حاصل تھی اور جانوروں کو مختلف مواقع پر ذبح کرکے غریبوں میں تقسیم کاجاتا تھا۔ البتہ اس کا مقصد مخصوص بتوں کی خوشنودی حاصل کرنا ہوتا تھا۔

نبی کریم کے دور میں بھی قربانی  کو بالخصوص حج  اور عمرے کے ساتھ منسلک کردیا گیا تاکہ دودراز علاقوں سے حج و عمرے کے لیے آنے والے زائرین کی غذا کا  بندوبست ہوتا رہے اور لوگ اللہ کی خوش نودی کی خاطر ہدی کے جانور لوگوں کی فلاح کے لیے قربان کرتے رہیں۔ مکے کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی  اللہ کے نام پر قربانی کے عمل کو عیدالاضحی کے ذریعے ایک سنت کے طور پر جاری کیا گیا ۔  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں عیدالاضحی کی قربانی کا  غور سے جائزہ لیں  تو اس   کے پیچھے کئی اہم مقاصد پوشیدہ تھے۔

سب سے بڑا مقصد اللہ کی رضا کا حصول تھا ۔حضرت ابراہیم نے جس سپرٹ کے ساتھ اپنے اکلوتے بیٹے کو خدا کے حضور قربانی کے لیے پیش کیا، اسی جذبے کے تحت  مسلمان بھی جانور قربان کرکے اس وعدے کا علامتی اظہار کرتے تھے کہ وہ وقت پڑنے پر  اللہ کی رضا کے لیے  اپنی جان اور مال کو قربان کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔  جیسا کہ اوپر بتایا گیا کہ اس زمانے میں لین دین  کرنسی یا دینار  کے ذریعے بہت کم ہوتا تھا اور جانور  اس معاشرے میں  اثاثے کا درجہ رکھتےتھے ۔ اسی بنا پر زکوٰۃ بھی دینار یا سکوں کی بجائے براہ راست جانوروں کی شکل میں وصول کی جاتی تھی۔یہ جانور نہ صرف غذا اور سواری کے کام آتے بلکہ امراء کی شان و شوکت کا ذریعہ تھے۔ خصوصی طور پر اونٹ کو دیکھا جائے تو اس کی حیثیت آج کے دور میں ایک کار  یا ٹرانسپورٹ  کی طرح تھی جو نہ صرف  سواری کے کام آتی ہے بلکہ شان و شوکت کا بھی ذریعہ ہے۔ اونٹ    اور دیگر مویشی اللہ کی راہ میں ذبح کرنا ایک بڑی قربانی تھی جس کے ذریعے انسان نہ صرف اپنا ایک قیمتی اثاثہ (Asset)  بلکہ شان و شوکت بھی اللہ کی راہ میں قربان کررہا ہوتا تھا۔ اس نفس کشی کے ذریعے تقوی کا حصول ہی قربانی کا اصل مقصد تھا کیونکہ قرآن نے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ  گوشت اور خون تو اللہ تک پہنچتا ہی نہیں۔

دوسرا اہم مقصد راہ میں  گوشت کی صورت میں انفاق  اور لوگو ں کی فلاح کا تھا۔ کم و بیش تمام ہی مذاہب میں قربانی کا تصور بعض اختلافات کے ساتھ موجود رہا۔ ان جانوروں کو خدا کے نام پر ذبح کرنے کا اصل  مقصد یہی تھا کہ وہ دولت جو مخصوص ہاتھوں میں مرتکز ہورہی ہے اسے سوسائیٹی کے غریب اور نادار طبقے میں گھمایا جائے تاکہ وہ بھی اس سے مستفید ہوں۔

جانور ذبح کرنے کے بعد اس کا گوشت اس زمانے میں طویل عرصے تک محفوظ نہیں کیا جاسکتا تھا اور لامحالہ اسے کچھ دنوں میں یا تو خود استعمال کرنا ہوتا یا تقسیم کرنا لازمی  ہوتا تھا۔ اس تقسیم  سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے لوگ غریب اور نادار ہی ہوتے تھے۔ گویا یہ  جانوروں کے انفاق کا ایک طریقہ تھا جس سے جانوروں کی صورت میں جمع کی گئی دولت کو غرباء تک پہنچانے کا ایک معاشی نظا م تھا۔ ان جانوروں کی کھالیں لباس وغیرہ میں استعمال کی جاتی تھیں۔ جانوروں کے کثیر تعداد میں ذبح ہونے کے بعد اس کمی کو پورا کرنے کے لیے اگلے سال  بریڈنگ کا عمل زیادہ تیزی سے کیا جاتااور یوں جانور وں کی کثیر تعداد دوبارہ مارکیٹ میں دستیاب ہوتی تھی۔  مختصرا یہ کہ قربانی کا مقصد اپنا مال جو جانوروں کی صورت میں ذخیرہ ہوتی تھی، اسے   قربان کرکے مخلوق کو فائدہ پہنچانا مقصود تھا۔ یہ ایک بہت ہی موثر تدبیر تھی جو جانوروں کی صورت میں جمع شدہ دولت (Circulation of Animal Wealth)کی معاشرے میں گردش کا ایک اہم ذریعہ تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کے جتنے بھی مذاہب کا ریکارڈ ہمیں ملتا ہے ان  سب کا تعلق زرعی دور سے ہے۔اسی بنا پر کم و بیش ہر مذہب میں یہ قربانی کسی نہ کسی صورت میں موجود نظر آتی ہے۔  البتہ آ ج کا دور زرعی دور نہیں بلکہ انڈسٹریل  اور انفارمشین ایج ہے۔ آج کے دور میں اب دولت جانوروں کی صورت میں ذخیرہ نہیں ہوتی بلکہ یہ کرنسی، بنک اکاونٹ ، مکان ، زمین،  فیکٹری، بزنس ،سونا اور دیگر اثاثوں کی صورت میں ذخیرہ ہوتی ہے۔ یعنی جو حیثیت کل ان مویشیوں کو حاصل تھی وہی آج  کے دور میں کرنسی، بنک اکاونٹ، فیکٹری اور کاروبار کو حاصل ہے۔

اگر ہم قدیم زمانے کے مویشیوں کا آج کے اثاثوں سے موازنہ کریں  تو اونٹ گویا آج کی کار یا ٹرانسپورٹ  ہے جس کے ذریعے انسان اور اشیاء کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا ہے۔ اونٹنی ، گائے، بکری، مرغی وغیرہ  کی حیثیت  ایک چھوٹی سے فیکٹری کی ہے جو دودھ ، دہی، انڈے اور گوشت کی پیداوار میں معاون ہوتی ہے۔ بیل  یا گائے کی حیثیت فیکٹر آف پراڈکشن یا ایک ایسی مشین کی ہے جو نہ صرف ہل چلانے میں کام آتی ہے بلکہ اس سے جانوروں کی بریڈنگ کرکے  دولت میں اضافہ کیا جاتا ہے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو آج کے دور میں  دولت کی سرکولیشن  اور اللہ کی رضا کے لیے جانور خرید کر قربان کرنا لازم نہیں ۔ آج کے دور میں اللہ کی قربت کے لیے  غریبوں کی فلاح کے بہت سے دیگر آپشنز موجود ہیں ۔ ان میں  رقم کے ذریعے براہ راست  غریبوں کی مدد کرنا ، ملازمت کے لیے سکلز پیدا  کرنا، ان کی صحت پر خرچ کرنا ، ان کے لیے راشن کا مستقل بندوبست کرنا، رہاِئش فراہم کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ چنانچہ ہمارے نزدیک آج کے دور میں قربانی کا عمل  اللہ کی رضا کے لیے نیک نیتی کے ساتھ کسی بھی غریب کی کوئی ضرورت پورا کرنے سے مکمل ہوجاتا ہے۔ رقم کا تعین ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق کرسکتا ہے۔

اس نقطہ نظر پر ایک اعتراض یہ وارد ہوسکتا ہے کہ جانوروں کی قربانی سے ان غریب لوگوں کی مدد ہوجاتی ہے جو جانوروں کو پالتے، ذبح کرتے  اور پھر منافع حاصل کرتے ہیں۔ دیکھا جائے تو جو لوگ جانوروں کو پالتے اور قربانی کے سیزن میں بیچتے ہیں وہ کوئی غریب لوگ نہیں ہوتے۔ اگر غریب ہوتے تو ان جانوروں  کو  پالنے کا بندوبست نہ کرپاتے۔ ان میں سے اکثر  درحقیقت بیوپاری  یا وہ مڈل مین ہوتے ہیں جو اس کاروبار میں باقاعدہ انوسٹمنٹ کرتے اور قربانی کے بعد اپنا منافع کھرا کرکے  اپنا معیار زندگی بہتر بناتے ہیں۔ دوسری جانب اصل مستحقین جو جانوروں کو پالتے ہیں وہ اس منافع سے بالعموم محروم ہی معلوم ہوتے ہیں۔

ایک اور اعتراض یہ کیا جاسکتا ہے کہ ان دنوں میں ان غرباء تک گوشت پہنچ جاتا ہے جنہیں سار ا سال گوشت نہیں ملتا۔ یہ بھی ایک مغالطہ ہے۔ غریب کا اصل مسئلہ گوشت  کا حصول نہیں بلکہ اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل ہے۔ٹرائی بیون  کے مطابق پاکستان میں سن 2021 میں کم  و بیش ساڑھے چار سو ارب روپے قربانی کے عمل پر خرچ کیے گئے [1]۔   اس سے بے شک ایک معاشی سرگرمی نے جنم لیا لیکن غربت کے خاتمے  اور غریبوں پر کوئی دیرپا اثرات مرتب نہیں ہوئے۔ جیسا کہ  پائیڈ کے وائس چانسلر کا کہنا ہے کہ قربانی بلاشبہ معاشی سرگرمیوں  کا باعث بنتی ہے لیکن   یہ ایک عارضی عمل ہوتا ہے اور اس سے معیشت پر دیرپا اور گہرے اثرات  مرتب  نہیں ہوتے ہیں[2]۔

   اس رقم کا موازنہ اگر ہم صحت اور تعلیم  پر خرچ کی جانے والی رقم سے کریں تو حیرت انگیز حقائق سامنے آتے ہیں۔ سال 2021میں قربانی  کے ذریعے پیدا ہونے والی معاشی سرگرمیاں لگ بھگ  ساڑھے چار سو بلین روپے ہوئی   ہیں ۔ پورے پاکستان کے وفاقی اور تمام صوبوں کے بجٹ کو جمع کرلیا جائے تو  تعلیم پر خرچ ہونے والی رقم   کا رواں سا ل کا تخمینہ کم و بیش 1212 بلین روپے ہے ۔ گویا قربانی کی رقم سے  پورے پاکستان میں سرکاری ایجوکیشن کے اخراجات کا ایک تہائی حصہ فائنانس کیا جاسکتا ہے۔  اسی طرح اگر ہم وفاق اور چاروں  صوبوں کے صحت پر خرچ ہونے والے اخراجات کو جمع کریں تو یہ  کم وبیش 463 بلین روپے بنتے ہیں ۔ گویا قربانی کی رقم سے کم و بیش  صحت کے تمام  سرکاری اخراجات  پورے کیے جاسکتے ہیں۔

اگر قربانی پر خرچ ہونے والے اخراجات  جو ساڑھے چار سو  بلین روپے ہیں ،انہیں  تعلیم ، صحت، اسکلز ڈیولپمنٹ  یا روزگار کی فراہمی کے لیے مختص کریں تو   مستقل بنیادوں پر غریبوں کے  راشن کا بندوبست ہوسکتا،  لاکھوں کے علاج کے لیے  وسائل مہیا کیے جاسکتے  اور غریب بچوں  ایجوکیشن   کے وسائل پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ اس ضمن میں  کمیونٹیز ، این جی اوز ، برادری اور خاندا ن سطح پر بھی  قربانی کی رقم جمع کی جاسکتی اور تعلیم، روزگار اور صحت جیسے معاملات  پر یہ رقم خرچ کرکے غریبوں کی معاشی حالت کو لانگ ٹرم بنیادوں پر بدلا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ عوامی فلاح کا یہ  کام انفرادی سطح پر بھی کیا جاسکتا ہے ۔

اس نقطہ نظر پر سب سے بڑا اعتراض یہ کیا جاسکتا ہے کہ قربانی  ایک عبادت کے جسے رسم کے طور پر اللہ کی راہ میں پیش کیا جاتا ہے ۔ ہم اوپر بیان کرچکے ہیں کہ قربانی کا اصل مقصد جو قرآن میں بیان ہوا ہے وہ تقوی کا حصول ہے اور خون اور گوشت تو اللہ کے پاس نہیں پہنچتا۔ نیز ہابیل اور قابیل کی قربانی سے بھی یہ بات ظاہر ہے کہ خدا کے نزدیک قربانی  کسی مخصوص ہیت میں ہونی لازمی نہیں۔ اس لیے اس رقم کو کسی بھی غریب کی بالواسطہ یا براہ راست مدد کے لیے استعمال کیا جائے اور اس کا مقصد تقوی کا حصول ہی ہو تو اللہ کے نزدیک یہ بھی قابل قبول عمل ہے۔ اللہ تو محض ناخن کاٹنے پر قربانی کا اجر دے دیتا ہے تو رقم خرچ کرنے پر کیوں وہ کسی کا اجر روکے گا۔

البتہ ان دلائل کے باوجود اگر کوئی شخص قربانی کو مروجہ طریقہ ہی سے کرنا  پسند کرتا ہے تو اسے اس بات کا پورا حق حاصل ہے کہ وہ ایسا کرے ۔ البتہ یہ بات یا د رکھنی چاہیے کہ قربانی کا یہ عمل مسلمانوں میں ایک سنت کے طور پر جاری ہے۔ ماسوائے حنفی مسلک کے  کم و بیش تمام مسالک کے ہاں قربانی ایک آپشنل عبادت ہے۔   اسی طرح قربانی کا اصل مقصد ذہن میں رکھنا چاہیے اور وہ ہے تقوی کا حصول۔ جدید شہری زندگی میں جانوروں کو گھروں ، گلی ، محلے  میں باندھنا اور ذبح کرنا کئی پہلووں سے قربانی کی روح اور تقوی کے منافی ہے۔ جانور کو راستے میں باندھ کر راستے بلاک کرنا، محلے میں گندگی پھیلانا،  خون گلی میں بہا کر  مختلف بیکٹیریا اور وائرس کی پیدائش کا سبب بننا یا خون اور چکنائی سے سیوریج کے نظام کو تباہ کرنا  خدا کی رضا کی بجائے اس کی ناراضگی کو دعوت دینے کے مترادف ہے اور اس سے لوگوں کی اجتماعی فلاح کی بجائے انہیں ایذا پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ چنانچہ وہ لوگ جو قربانی کرنا ہی چاہتے ہیں انہیں چاہیے کہ شہروں قربانی مخصوص سلاٹر ہاوس ہی میں کی جائے جو شہر سے دور ہوں۔

آخر میں یہی عرض ہے کہ یہ ایک نقطہ نظر ہے جس کو دلائل کے ساتھ رد یا قبول کیا جاسکتا ہے۔ البتہ اس کی بنیاد پر  روایتی طور پر قربانی کا فریضہ ادا کرنے والو ں کی تضحیک یا تقصیر کی کوئی  گنجائش نہیں۔ انہیں حق حاصل ہے کہ جس رائے کو وہ درست سمجھتے ہوں اس پر عمل کریں۔ اسی طرح جو لوگ جانور کی قربانی کی بجائے اس رقم کو کسی اور فلاحی کاموں میں استعمال کرنا چاہتے ہیں ، ان پر بھی کسی طعنے ، تشنیع اور الزامات کی کوئی گنجائش نہیں۔ دونوں اپنی قربانی خدا کے حضور پیش کررہے ہیں ، اب یہ خدا اور بندے کے درمیان کا معاملہ ہے کہ وہ کس کی قربانی قبول کرے ۔

تحریر : ڈاکٹر محمد عقیل


[1] https://tribune.com.pk/story/2311908/rs450b-spent-on-eid-this-year

[2] https://www.independenturdu.com/node/42421

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: