Archive for the ‘آخرت’ Category

انٹرایکٹیو فہم القرآن کورس ۔۔ آٹھواں سیشن ۔۔ خلاصہ

انٹرایکٹو فہم القرآن کورس
آٹھواں سیشن
سورہ البقرہ آیت نمبر 47 تا 66
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آیات نمبر ۴۳ سے سورہ بقرہ میں ایک نئے سلسلے کا آغاز ہوچکا ہے۔ یہ اصل خطاب ہے جو بنی اسرائل سے کیا جارہا ہے۔ گذشتہ آیات میں اسی خطاب کی تمہید باندھی گئی تھی۔ جیسا کہ گذشتہ آیات میں ہم نے پڑھا تھا کہ بنی اسرائل کی حیثیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل ایک امت وسط ہی کی تھی جس کے ذمے اللہ کا پیغام باقی انسانیت کو پہنچانا تھا۔ لیکن بنی اسرائل اپنی ذمہ دار ی نہ نبھا سکے اور اب انہیں معزول کرکے امت وسط کی حیثیت بنی اسماعیل کو دینی تھی۔ چنانچہ یہ ایک چارج شیٹ یا الزامات کی فہرست ہے جو بنی اسرائل کو دی جارہی ہے۔
ان آیات میں وہ احسانات یاد لائے جارہے ، ان کی نافرمانیاں گنوائی جارہیں اور ان کے کفران نعمت کے روئیے کو ایڈریس کیا جارہا ہے۔ یہ بتایا جارہا ہے کہ تمہیں تمام عالم پر فضیلت دی تھی اور تم نے کیا کیا؟ خود کو نسلی تفاخر میں مبتلا کردیا۔ تمہیں فرعون کی غلامی سے نجات دی اور ایک آزاد زندگی عطا کی لیکن تم نے اس احسان کو نہیں مانا۔ تم نے موسی علیہ السلام کی غیر موجودگی میں بچھڑے کو معبود بنالیا، تو کبھی خدا کو آنکھوں سے دیکھنا کی ضد کی ۔ کبھی پیغمبروں کو ناحق قتل کیا تو کبھی من و سلوی کو حقیر جانا تو کبھی عجزو انکساری کی بجائے تکبر کے قول کو اہمیت دی۔ کبھی نبیوں کو ناحق قتل کیا تو کبھی نسلی امتیاز کی بنا پر جنت و جہنم کے فیصلے کرنے لگے۔ پھر تم نے سبت کے موقع پر کس طر ح حیلہ کرکے حرام کو حلال کرلیا۔
یہ ان آیات کا خلاصہ ہے۔ اگر ان آیات کو دیکھا جائے تو یہ بنی اسماعیل یعنی ہم پر بھی کافی حد تک منطبق ہوتی ہیں۔ہم مسلمانوں کو خود سے سوال کرنا چاہئے کہ آیا ہم بھی نسلی تفاخر کا تو شکار نہیں؟ کیا ہم بھی خود کو چہیتی امت تو نہیں سمجھتے جس کے لئے عمل صالح کی کوئی قید نہیں؟کیا ہم بھی تو سود یا دیگر فقہی امور میں سبت والوں کی طرح کوئی حیلہ تو نہیں کررہے؟ کیا ایسا تو نہیں جس طرح خدا بنی اسرائل سے ناراض تھا ویسے ہی خدا بنی اسماعیل یعنی ہم سے بھی ناراض ہو ؟
سوالات کے جوابات:
۱۔ آیت نمبر ۴۷ میں اللہ نے فرمایا کہ بنی اسرائل کو تمام عالم پر فضیلت دی تھی۔ تو یہ کس قسم کی فضیلت تھی ؟
اس فضیلت سے مراد یہی امت وسط ہونے کی حیثیت تھی۔ بنی اسرائل میں پے درپے پیغمبر آتے رہے اور ان پر یہ لازم تھا کہ اپنے ارد گرد کی اقوام تک خدا کی توحید کا پیغما پہنچائیں۔ یہاں فضیلت سے مراد نسلی برتری یا مادی ترقی نہیں تھی۔
۲۔ بنی اسرائل ہی میں ایک مدت تک پیغمبر مبعوث ہوتے رہے۔ اور آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسماعیل میں۔ یعنی پیغمبر آل ابراہیم میں ہی مبعوث ہوتے رہے؟ اس کی کیا وجہ تھی؟ اور کیا یہ ایک طرح سے اللہ کی جانب سے نعوذباللہ جانبداری نہیں تھی کہ صرف آل ابراہیم میں ہی پیغمبر آتے رہیں؟
نہیں ایسا نہیں تھا۔ خدا نے تمدنی ارتقا کے ساتھ ساتھ مختلف ماڈلز انسانوں کی ہدایت کے لئے بنائے۔ ایک ماڈل تو یہ تھا کہ مختلف اقوام میں پیغمبر آتے رہے اور انہیں خدا کی تعلیمات سے روشناس کراتے رہے۔ ان میں حضرت نوح ، حضرت صالح، حضرت شعیب ، حضرت ھود اور حضرت لوط علہیم السلام شامل تھے۔
ان پیغمبروں کی دعوت کے کچھ عرصے بعد ہی لوگ دوبارہ سے ان برائیوں میں مبتلا ہوجاتے تھے جن سے ان کے پیغمبر منع کرکے گئے تھے۔ اس صورت حال میں اللہ نے یہ طے کیا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جس کی بنیاد توحید پر ہو۔ بے شک اس میں برائیاں آجائیں لیکن اس کی خالص تعلیمات میں تھیوری میں اصل پیغا محفوظ رہے گا۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد کا انتخاب کیا گیا۔ اس کی ایک شاخ بنی اسرائل تھی اور دوسری بنی اسماعیل۔ دونوں توحید کے علمبردار تھے۔ بنی اسرائل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت کئی خرابیاں پیدا ہوگئی تھیں لیکن یہ نظری طور پر کبھی شرک کو قبول نہیں کرپائے جیسے دیگر اقوام نے کرلیا تھا۔ایسے ہی بنی اسماعیل خدا کو تو مانتے تھے لیکن کچھ سفارشیوں کے ساتھ۔
تمدن کے ارتقا کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا اور اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی بناکر بھیج دیا گیا۔ تو گویا حضرت ابراہیم کی ذریت میں پیغمبر ی کا سلسلہ کوئی نسلی بنیادوں پر نہیں تھا بلکہ کسی اور بنیادوں پر تھا۔
۳۔ آیت نمبر ۵۱ میں ہے کہ اللہ نےب موسی علیہ السلام سے چالیس راتوں کا وعدہ لیا۔ یہ چالیس راتوں کا وعدہ کیا تھا اور اس کا کیا مقصد تھا؟
چالیس راتوں کا وعدہ اسی لئے لیا گیا تھا تاکہ موسی علیہ السلام مخصوص عبادات کرکے اپنے اندر وہ صلاحتیتں پیداکریں جس کی بنیاد پر وہ تورات جیسی شاندار کتاب کی تعلیمات حاصل کرلیں۔
۴۔آیت نمبر ۶۲ میں ہے کہ
” جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا صابئین ، جو خدا اور روز قیامت پر ایمان لائے گا، اور نیک عمل کرے گا، تو ایسے لوگوں کو ان (کے اعمال) کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) ان کو نہ کسی طرح کا خوف ہو گا اور نہ وہ غم ناک ہوں گے”۔
کیا اس آیت کے تحت اسلام لانا ضرور ی نہیں اور دیگر مذاہب کے لوگوں کی نجات بھی ممکن ہے؟
یہ آیت اگر سیاق و سباق سے دیکھی جائے تو یہود کے اس زعم کی نفی ہے کہ نجات کے لئے یہودی یا نصرانی ہونا ضرور نہیں اور نہ ہی کسی گروہ سے وابستگی نجات کا باعث ہے۔ بلکہ جو بھی ان گروہوں میں سے یا دیگر گروہوں میں سے اللہ پر اور یوم آخرت پر یقین رکھے گا، اسے نجات مل جائے گی۔
یہاں ایک بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ مسلمان یا مسلم کی دو حیثیتیں ہیں۔ ایک نسلی اور دوسری عملی۔ جو شخص کسی مسلمان گھرانے میں پیدا ہوتا ہے و ہ نسلی طور پر مسلمان ہوتا ہے اور وہ نسلی طور پر توحید ، آخرت ، رسالت وغیرہ کے عقیدے پر یقین رکھتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ وہ دل سے یا عملی طور پر مومن نہ ہو۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی شخص کسی غیر اسلامی مذہب میں موجود ہو لیکن وہ دل سے خدا کی توحید اور آخرت اور رسالت وغیرہ پر ایمان رکھتا ہو لیکن اس کا اظہار نہ کیا ہو۔ تو وہ شخص عملی طور پر مومن ہے بے شک وہ ظاہری طور پر مسلمانوں کے گرو ہ میں شامل نہیں۔
تو نتیجہ یہ نکلا کہ امت مسلمہ میں شامل تمام مسلمان ضروری نہیں کہ خدا کے نزدیک بھی مسلمان ہوں اور یہ بھی ضرور ی نہیں کہ تمام غیر مسلم خدا کے نزدیک بھی غیر مسلم ہوں۔ لہٰذا اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو یہ آیت واضح طور پر یہ کہہ رہی ہے کسی گروہ سے وابستگی یا عدم وابستگی نجات کی بنیاد نہیں۔ اصل بنیاد ایمان ہے اور عمل صالح۔
۵۔ ان آیات میں بنی اسرائل کے جو جرائم گنوائے گئے ہیں۔ ان میں سے کسی پانچ جرائم کو عنوانات کی شکل میں لکھیں یعنی پورا جملہ نہ لکھیں۔ مثال کے طور پر آیت نمبر ۵۱ میں انہوں نے جو بچھڑے کو معبود بنانے کا جرم کیا وہ جرم دراصل شرک تھا۔ تو آپ بھی ان آیات کو پڑھ کر تعین کریں کہ ان سے کون کون سے جرائم سر زد ہوئے ہیں جیسے ناشکری، ظاہر پرستی یا مادیت پرستی، نسل پرستی وغیرہ۔ کوئی پانچ عنوانات لکھیں۔
قتل انبیا، شرک، ناشکری، نافرمانی، مادیت پرستی
پروفیسر محمد عقیل

کیا آپ نے سورۃ فاتحہ پڑھی ہے؟


کیا آپ نے سورۃ فاتحہ پڑھی ہے؟
———————————
از پروفیسر محمد عقیل
کیا تم نے سورہ فاتحہ پڑھی ہے؟ ایک بزرگ نے اس سے پوچھا۔
” ہاں ہاں ! کیوں نہیں! ہر روز نماز میں پڑھتا ہوں؟” اس نے تعجب سے جواب دیا۔
” اچھا ذرا پہلی آیت پڑھ کر سناؤ۔” بزر گ نے کہا
"الحمد للہ رب العالمین۔ یعنی تمام تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے۔” اس نے جواب دیا
” اچھا تم فیس بک پر تصاویر لائیک کرتے ہو، کیا تم نے کبھی خدا کی مصوری کو بھی لائیک کیا؟ تم فلمی ستاروں کی تعریف کرتے ہو، کبھی خدا کے ستاروں کی تعریف کی؟ تم کاغذ کے پھولو ں سے جی بہلاتے ہو، کبھی خدا کے گلزاروں کو چاہنے کی کوشش کی؟
” نہیں یہ تو میں نے کبھی نہیں کیا؟”
” تو پھر تم نے یہ آیت پڑھی ہی نہیں۔ اچھا آگے پڑھو۔”
"الرحمٰن الرحیم، مالک یوم الدین۔ یعنی وہ رحمان ہے اور رحیم ہے اور روز جزا کا مالک ہے۔”
” کیا تم نے کبھی غور کیا کہ وہ کس طرح مخلوق پر محبت اور شفقت نچھاور کرتا نظر آتا ہے ؟ مخلوق کی بات سنتا ہے، ان کی غلطیوں پر تحمل سے پیش آتاہے، ان کی خطاؤں سے درگذر کرتا ہے، نیکو کاروں کی قدر دانی کرتا ہےاور اپنی حکمت کے تحت انھیں بے تحاشا نوازتا دکھائی دیتاہے۔ کیا تم نے محسوس کیا کہ ایک بندہ جب مشکل میں گرفتا ر ہوتا ہے تو وہ شفیق خدا کیسے اس کے لیے سلامتی بن جاتا ہے، اسے اپنی پناہ میں لے لیتا ہے، مشکلات میں آگے بڑھ کر اس کی مدد کرتا ہے اور گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ہدایت کا نور بن جاتا ہے۔ کیا تم نے خود کو تصور میں اس کے سامنے جوابدہ کھڑا پایا ؟”
” نہیں حضرت! یہ تو میں نہیں کرتا۔”
” تو تم نے پھر اس آیت کی کیا تلاوت کی؟ اچھا آگے سناؤ۔”
"ایاک نعبد وایاک نستعین۔ ہم تیر ی ہی عبادت کرتے اور تجھ ہی سی مدد مانگتے ہیں۔”
” کیا ایسا نہیں کہ تم اپنے نفس کی عباد ت کرتے ہو؟ اسی کے لیے صبح اٹھتے اور رات کو سوتے ہو؟ اسی کی خواہشات کو پورا کرنے میں نمازوں سے غافل رہتے، مال سے محبت کرتے، کمزوروں کو کچلتے اور طاقتو ر سے ڈرتے ہو؟” اگر ایسا ہے تو تم نے خاک اس آیت کو پڑھا۔ آگے پڑھو۔”
"اھدنا الصراط المستقیم۔ صراط الذین انعمت علیہم۔ غیر المغضوب علیہم ولا الضالین۔ ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔ ان لوگوں کا جن پر تونے اپنا کرم فرمایا۔ ان کے راستے پر نہیں جن پر تونے اپنا غضب نازل کیا اور نہ ہی گمراہوں کے راستے پر۔”
"اچھا تو کیا کبھی تم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ تم جس راستےپر ہو وہ درست ہے یا غلط؟ جو عقائد تمہارے والدین نے سکھائے کیا انھیں سمجھنے کے لیے کوئی تگ و دو کی؟ کیا تم نے معلوم کیا کہ خدا کا پسندیدہ راستہ کون سا ہے؟ وہ کون لوگ ہیں جن پر اس کا غضب ناز ل ہوا اور وہ کون لوگ ہیں جو گمراہ ہیں؟” ” نہیں حضرت! میں نے تو ان میں سے کوئی عمل نہیں کیا۔”
"تو بس پھر تم نے سورہ فاتحہ نہیں پڑھی ۔” بزرگ نے اسے جواب دیا اور اپنی راہ ہولیے۔
اس نے پہلے پشیمانی سے اپنا سر جھکالیا۔کچھ دیر بعد اس نے سر اٹھایا اور اس عزم سے اٹھا یا کہ اب اس نے سورہ فاتحہ پڑھنی ہے۔
کیا آپ نے سورہ فاتحہ پڑھی ہے؟
پروفیسر محمد عقیل

کاپیاں اور اعمال نامے


کاپیاں اور اعمال نامے
پروفیسر محمد عقیل
میں نے اپنے اٹھارہ سالہ کیرئیر میں بے شمار کاپیاں چیک کی ہیں۔ کچھ کاپیاں انٹرنل امتحانات کی ہوتی ہیں اور کچھ بورڈ ایگزامز کی۔ بورڈ یا یونی ورسٹی کی کاپیوں کے چیک کرنے والے کو علم نہیں ہوتا کہ طالب علم کون ہے۔ اسی لیے بڑی عجیب اور دلچسپ باتیں لکھی ہوتی ہیں۔
ایک مرتبہ ایک کاپی میں ایک لڑکی نے لکھا ” میری منگنی ہوگئی جس کی خوشی میں سب کچھ بھول گئی، پلیز پاس کردیں”۔ کسی میں لکھا تھا ” میرے بچے کی ساری رات طبیعت خراب رہی اس لیے پڑھ نہیں پائی تو پاس کردیں۔” اس کے علاوہ غربت و افلاس کی بنا پر پاس کرنے کی اپیلیں تو بہت کامن ہیں۔غرض کئی قسم کی باتیں لکھی ہوتی ہیں۔ دراصل یہ کاپیاں انسانی شخصیت کی عکاس ہوتی ہیں کہ امتحان دینے والا کس مزاج کا حامل ہے۔ اسی شخصیت کی کارکردگی کا اعلان رزلٹ کار ڈ کے ذریعے کردیا جاتا ہے کہ امتحان دینے والا پاس ہے یا فیل ۔ رزلٹ کارڈ کی طرح ایک دن آخرت میں ہمیں اعمال نامہ دیا جائے گا جس میں ہماری شخصیت کا تعین کردیا جائے گا کہ ہم اچھے انسان تھے یا برے، سنجیدہ تھے یا لابالی، خدا پرست تھے یا مفاد پرست۔ اسی لحاظ سے ہمارا انجام
متعین ہوجائے گا کہ ہم پاس ہیں یا فیل۔اسی تناظر میں ہم دیکھیں تو ہم ان کاپیوں سے بہت حد تک انسانی شخصیت کے بارے میں جان سکتے اور اس سے آخرت کے انجام کو سمجھ سکتے ہیں۔
بری کاپیاں
کچھ کاپیوں میں طلبا فلمی گانے ،اشعار، لطیفے، لایعنی کہانیاں اور دیگر خرافات لکھ دیتے ہیں۔ اس قسم کی کاپیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ لکھنےوالا پورے امتحانی نظام کا مذاق اڑارہا، چیک کرنے والے کو منہ چڑا رہا اور بدتمیزی کرکے یہ کہہ رہا ہے ” کرلو جو کرنا ہے۔” قیامت میں بھی کچھ لوگ اپنے نامہ اعمال میں اس قسم کے اعمال لائیں گے جب انھوں نے خدا کو گالی دی تھی، اس کا انکار کیا تھا، اس کی باتوں کا مذاق اڑایا تھا، اس کے پیغمبروں کی توہین کی تھی، اس کی جانب بلانے والوں کو دقیانوسی کہا تھا، اس کی کتابوں پر تبرا بھیجا تھا، اس کے امتحانی نظام کو چیلنج کیا تھا اور بغاوت کا علم بلند کرکے کہا تھا کہ ” کرلو جو کرنا ہے”۔ ایسے لوگوں کا انجام سادہ نہیں۔ بلکہ یہ نظام کے باغی ہیں اور ان کی سزا عام مجرموں کی طرح نہیں بلکہ اسپیشل طرز کی ہوگی۔
کچھ کاپیاں بالکل خالی ہوتی ہیں۔ اس سے علم ہوتا ہے کہ اس قسم کے طلبا نے سرے سے کوئی تیاری نہیں کی تھی اور پورا سال لاابالی پن میں گزارا۔ آخرت میں بھی کچھ لوگوں کے اعمال نامے میں اچھائیاں اور نیکیاں نہیں ہوں گی ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ساری زندگی لہو لعب ، کھیل کود، غفلت اور دنیا میں لگادی اور آخرت کے حوالے سے کوئی کام بھی نہ کرپائے۔
کچھ لوگ ہیں جو امتحان میں محنت نہیں کرتے اور اس کمی کو دور کرنے کے لیے کاپی پر مختلف تعویذ اور وظائف لکھتے ہیں۔ ان کی مثا ل آخرت میں ان لوگو ں کی سی ہے جو توہمات کے سہارے اپنی زندگی گزارتے رہے۔ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کے ہاں ایمان اور عمل صالح لازمی ہے اور نجات اسی پر موقوف ہے۔
کچھ طلبا رونے پیٹنے لگ جاتے اور بہانے بنانے لگ جاتے ہیں کہ ہماری طبیعت خراب تھی یا میں بہت غریب ہوں اس لیے پاس کردیں۔ ظاہر ہے اس قسم کے بہانوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ اگر کوئی شخص ایک دن قبل بیمار تھا تو کیا سارا سال بیمار تھا کہ ایک لفظ نہیں لکھ پایا۔ آخرت میں بھی اس قسم کے لوگ پیش ہوں گے جنھوں نے اس آس پر گناہ کیے ہوں گے کہ کوئی بہانہ کردیں گے۔ اول تو وہاں زبانیں گنگ ہوجائیں گی ۔ اگر کسی کا کوئی عذر ہوگا تو رب العٰلمین خود ہی اس کا لحاظ کرکے حساب کتاب کریں گے۔ لیکن وہاں جھوٹ بولنا، مگر مچھ کے آنسو بہانا، بہانے تراشنا ممکن نہ ہوگا۔
کچھ لوگ اس آس پر امتحان دیتے ہیں کہ پیسے دے کر پاس ہوجائیں گے ، یا کسی سیاسی تنظیم کی بنیاد پر کام کروالیں گے، یا ڈرا دھمکا کر کام نکال لیں گے یا کسی کی سفارش سے کام چلالیں گے۔ یہ سارے کام دنیا میں بھی اتنے آسان نہیں ہوتے۔ البتہ آخرت میں تو اس کا سرے سے کوئی امکان ہی نہیں۔ کون ہے جو خدا کو نعوذ باللہ دھمکا کر اپنا کام کروالے، وہ کو ن سی سیاسی تنظیم ہے جو اپنا اثرو رسوخ رب العٰلمین پر آزما سکے؟ وہ کو ن سا پیسا ہے جسے رشوت کے طور پر استعمال کیا جاسکے؟ وہ کون ہے جو خدا کی مرضی کے خلاف سفارش کرکے نجات دلواسکے؟
کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یعنی جواب دیتے ہوئے درمیان میں سوال ہی کاپی کردیتے ہیں تاکہ پڑھنے والے کو یہ تاثر ہو کہ کاپی بھری ہوئی ہے۔ ممتحن کی نگاہ فورا ہی تاڑ لیتی ہے اور بھری ہوئی کاپی کو کاٹ کر وہ زیرو نمبر دے دیتا ہے۔آخرت میں خدا کو دھوکا دینا تو قطعا ممکن نہ ہوگا۔ کچھ لوگوں نے اپنے نامہ اعمال میں الٹے سیدھے لایعنی اعمال بھر رکھے ہوں گے جنہیں وہ دین سمجھ کر کرتے رہے لیکن وہ سب خدا کے نزدیک ناقابل قبول تھے۔کوئی شخص دین داری کے نام پر لایعنی جلسے نکالتا رہا، وہ اسلام کے نام پر جھوٹی سیاست کرتا رہا، وہ جہاد کے نام پر فساد کرتا رہا، وہ دقیانوسی قبائلی کلچر کو اسلامی شعائرسمجھتا رہا، وہ ریا کار ی والے حج کو گناہوں کی مغفرت کا سبب سمجھتا رہا ۔لیکن جب وہ آخرت میں ان سب کو دیکھے گا تو علم ہوگا کہ یہ سارے اعمال اسے نجات دینے کی بجائے الٹے اس کے گلے پڑ گئے ہیں۔
امتحان دینے والے لوگوں کی ایک قسم ان لوگوں پر مبنی ہے جنھوں نے سوال ہی درست طو ر پر نہیں سمجھا۔ سوال کچھ تھا اور جواب کچھ اور۔ وہ سوال کا غلط جواب لکھتے رہے اور اسے ہی درست سمجھتے رہے۔ اس غلط جواب لکھنے کا ایک سبب تو غلط اساتذہ سے تعلیم حاصل کرنا تھا۔ اس کے علاوہ وہ جوش و جذبات اور جلد بازی میں اتنے اندھے ہوگئے کہ سوال سمجھنے ہی کی زحمت نہ کی۔ آخرت میں بھی اس قسم کے کئی لوگ ہوں گے جنھوں نے اپنے امتحانی سوال کو سمجھا ہی نہیں اور غلط جواب دے کر آگئے۔مثال کے طور پر مذہبی لیڈر شپ کا اصل امتحان یہ تھا کہ وہ لوگوں کا تزکیہ و تربیت کرتے لیکن وہ لوگوں میں تعصب پیدا کرنے کو دین داری سمجھتے رہے۔ ان کا کام تھا کہ لوگوں کے باطن کی اصلاح کرتے لیکن وہ ظاہری رسومات ہی کو دین کے طور پر پیش کرتے رہے۔
ایک اور قسم ان لوگوں کی ہے جو ایک سوال کا جواب اتنا طویل لکھ دیتے ہیں کہ سار ا وقت ختم ہوجاتا ہے اور وہ دیگر سوال حل ہی نہیں کرپاتے۔ نتیجے کے طور پر وہ فیل ہوجاتے ہیں۔ دین کے معاملے میں بھی یہ بہت کامن ہے۔ کچھ لوگ مثال کے طور پر عبادات میں ہی پوری زندگی بسر کردیتے ہیں ۔ فرض نمازوں کےساتھ ساتھ اشراق و چاشت پڑھتے، رمضان کے علاوہ نفلی روزے رکھتے اور فرضی حج کے علاوہ کئی حج بھی کرتے ہیں لیکن دین کے دیگر امور کو فراموش کردیتے ہیں۔یہ لوگ مثال کے طور پر اخلاقیا ت میں دوسرے سرے پر کھڑے ہوکر لوگوں سے بدتمیزی کرتے، کاروبار میں دھوکا دیتے، بات چیت سے تکلیف پہنچاتے، بدگمانی و چغلی سے فساد برپا کرتے، انسانوں کا قتل کرنے والوں کی واہ واہ کرتے، تعصب کو دین سمجھتے اور ہر قسم کی غیر اخلاقی حرکت کو اپنی عبادت گزاری کی آڑ میں جائز قرار دیتے ہیں ۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہیں اشراق اور چاشت کی نمازو ں نے تکبر میں مبتلا کردیا ۔یہ دین میں پوچھے گئے صرف ایک سوال ہی کا جواب دیتے رہے اور دوسرے سوالات کی تیاری ہی نہیں کی۔ نتیجہ "فیل "۔
کچھ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے سوالات کا غلط انتخاب کرتے ہیں۔ انھیں دس میں سے پانچ سوال کرنے تھے لیکن انھوں نے وہ سوالات منتخب کیے جن میں وہ کمزور تھے یا جن کے جوابات مشکل تھے۔ دین میں بھی یہ کا م اس طرح ہوتا ہے کہ ایک شخص کو ایک ساد ہ زندگی ملی تھی جس میں وہ باآسانی چند اعمال کرکے پاس ہوسکتا تھا۔ لیکن اس نے اپنی لالچ ، حرص اور طمع کے ذریعے ناجائز دولت کے انبار اکھٹے کرلیے ، جھوٹی شہرت کو زندگی کا مقصد بنالیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بیوی بچوں کے حقوق ادا کرنے سے قاصر ہوگیا، عبادات سے محروم ہوگیا ۔ تو اس نے ایسا سوال منتخب کرلیا جس کے جواب کا وہ مکلف ہی نہ تھا ۔
کچھ سوال اس طرح کے ہوتے ہیں جن کا جواب مخصوص ہیڈنگز میں ہی دینا ہوتا ہے جبکہ کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جن کا جواب اپنی طرف سے دینا ہوتا ہے۔ دین کا معاملہ بھی یہی ہے۔ کچھ ایسے امور ہیں جس کا دین نے طریقہ مقرر کردیا ہے اور اس کے ادا کرنے کا طریقہ مخصوص ہے جیسے نماز روزہ حج زکوٰۃ وغیرہ۔اسی طرح کچھ امور ایسے ہیں جنہیں دین نے مجمل چھوڑا ہے یعنی انسان آزاد ہے کہ ایک دائرے میں رہتے ہوئے ان پر عمل کرے جیسے انسان آزاد ہے کہ وہ اپنے ذوق کے مطابق کتنا سوئے، کتنا کھائے ، کتنا پئیے وغیرہ۔ اب جو لوگ دین سے جان چھڑانا چاہتے ہیں وہ متعین امور میں آزادی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔چنانچہ وہ نمازوں کو لایعنی سمجھ کر اذکار پر ہی اکتفا کرتے، روزوں کو فاقہ کشی سمجھ کر چھوڑنے کی کوشش کرتے، حج کو محض ایک رسم سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب کچھ ظاہر پرست لوگ دین کی دی گئی رخصت میں بھی پابندی کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ لوگ فجر کی نماز کے بعد سونے کو دین کے خلاف سمجھتے، کھانا پیٹ بھر کر کھانے کو تقوی کے منافی گردانتے اوردنیا کی جائز نعمتوں سے استفادے کو برائی جانتے ہیں۔اس روئیے سے دین کا توازن بگڑ جاتا ہے اور نتیجہ بعض اوقات کٹر ظاہر پرستی یا ایک لابالی شخصیت کی شکل میں نکلتا ہے۔
اچھی کاپیاں
دوسری قسم کی کاپیاں ایسی ہوتی ہیں جن میں بہت اچھا لکھا ہوتا ہے، ہر صفحے پر سنجیدگی ، متانت، محنت اور دیانت ٹپک رہی ہوتی ہے۔ خوبصورت لکھائی دیکھ کر نفاست کا احساس ہوتا اورمتن پڑھ کر ذہانت کا پتا چلتا ہے۔ہر سوال اچھی طرح سمجھا جاتا اور اس کا متوازن جواب دیا جاتا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے نہ صرف امتحانی نظام کے تقاضوں کو سمجھا بلکہ اس پر ایمان لاکر اس کے مطابق تیاری کی، اس کے ہر سوال کو بغور پڑھا، اس کے جوابات پر نوٹس بنائے ، سمجھنے کے لیے کلاسز لیں، اساتذہ سے رجوع کیا، تعلیمی اداروں کی خاک چھانی، اپنا دن رات ایک کیا اور تن من دھن قربان کرکے یکسوئی اختیار کی۔ دین میں ایسے لوگوں کی مثال ان سلیم الفطرت لوگوں کی ہے جنھوں نے اپنی فطرت کے چراغ کی حفاظت کی، اسے ماحول کی آلودگی سے بچائے رکھا۔ اس کے علاوہ وحی کے علم سے اپنی شخصیت کو آراستہ کیا، خدا کے احکامات کو سمجھا ، جانا، مانا اور پھر اس پر عمل کرنے کی پوری کوشش کی۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے درست اساتذہ کا انتخاب کیا، ان سے اپنے مسائل ڈسکس کیے اور راہنمائی حاصل کرنے کے بعد منزل کی جانب چل پڑے۔
ایسے لوگوں کا آخرت میں انجام صدیقین، شہدا اورصالحین کی صورت میں ہوگا۔ ہر طرف سے ان پر سلامتی اور مبارکباد کے ڈونگرے برس رہے ہوں گے، ان کے استقبال کے لیے فرشتے مستعد ہوں گے، انھیں خدا کی جانب سے کامیابی کی سند سے نوزا جائے گا اور ان کا آخری کلمہ یہی ہوگا۔
الحمدللہ رب العٰالمین۔
اسائن منٹ
• روز رات سونے سے پہلے اپنے پورے دن کا جائزہ لیجئے کہ آپ کے اعمال نامے کا شمار کن قسم کی کاپیوں میں شمار ہوتی ہے؟
• روز سوتے وقت خود کو بہتر کرنے کے لیے کم از کم ایک عادت کو چھوڑنے یا اپنانے کا ارادہ کر کے سوئیں۔

انٹرایکٹو فہم القرآن کورس نواں سیشن ۔۔ خلاصہ


انٹرایکٹو فہم القرآن کورس
نواں سیشن
سورہ البقرہ آیت نمبر 67 تا 101
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس سیشن کا خلاصہ حاضر خدمت ہے۔ اس کا انفرادی طور پر فیڈ بیک تو آپ کو بھیج چکا ہوں۔ اس کا خلاصہ اپنے فہم کے مطابق حاضر ہے۔
ابتدا میں تو بنی اسرائل کی کٹ حجتی بیان ہوئی ہے کہ کس طرح انہوں نے ایک آسان کی چیز کو اپنے لئے مشکل بنالیا۔ یعنی حکم تھا کہ کوئی بھی ایک گائے ذبح کرو لیکن ظاہر پرستی اور فقہی موشگافیوں کی بنا پر اپنے لئے مصیبت پیدا کرتے چلے گئے کہ گائے کیسی ہو، رنگ کیا ہو، بوڑھی ہو یا بچھیا وغیرہ۔ یہی مزاج کم و بیش ہمارے ہاں بھی لوگوں میں پیدا ہوگیا ہے۔ اور اس کی وجہ مذہبی طبقہ کا درست طور پر ایجوکیشن فراہم نہ کرنا ہے۔
اس ذکر کے بعد ایک مشکل مقام ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ گائے کے ایک ٹکڑے کو مقتول کو مارو۔ اس کے بعد آگے ذکر ہے کہ اللہ اس طرح مردوں کو زندہ کرتا ہے۔
اس کے بعد یہود کی سخت دلی کا ذکر ہے کہ کس طرح تمہارے دل پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہوگئے۔ یہ مقام ذرا رکنے والاہے۔ یہاں پتھروں کی تین خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔۔ اور پتھر تو بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں سے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں ، اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں ،اور ان میں سے پانی نکلنے لگتا ہے ، اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ خدا کے خوف سے گر پڑتے ہیں ۔
اس کائنات کی ایک ایک شے تسبیح کرتی ہے اور اس کی تسبیح ، رکوع ، سجود اور تعلق باللہ اس کی اپنی زبان میں ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر سائے تو دیکھیں تو جوں جوں سورج ڈھلتا ہے ، سایہ پھیلنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس عمل کو قرآن سائے کے سجدے سے تعبیر کرتا ہے۔ اسی طرح پتھروں کو دیکھا جائے تو بظاہر چشمہ پھوٹنا، پانی بہہ نکلنا اور گرجانا ایک میکانیکی عمل ہے لیکن یہ پتھر کا تعلق باللہ ہے۔ پتھروں سے چشمہ پھوٹنا ان آنسووں کی علامت ہےجو خدا کی یاد میں نکل جاتے ہیں اور روکے نہیں رکتے۔ ان کا پھٹ جانا اور پھر پانی بہہ نکلنا اس دھواں دھار سوز غم کا اظہار ہے جب خدا کے سامنے غم سے نڈھال ہوکر دل پھٹ جاتا ہے اور بے اختیار ہچکیاں بندھ جاتی ہیں۔ پتھروں کا خوف سے گرجانا اس کیفیت کو ظاہر کرتا ہے جب یوں لگتا ہے سارے بدن سے جان نکل چکی اور ٹانگوں نے خوف کے باعث جسم کا بوجھ اٹھانے سے انکار کردیا۔ پھر انسان ایک بے جان لاشے کی طرح خدا کے سامنے ڈھ جاتا ہے۔
اگلی چند آیات میں یہود کےجرائم پر مزید روشنی ڈالی جارہی ہے کہ یہ کس طرح دین سے دور ہیں اور خود کو عین دین سمجھتے ہیں۔ اس کی وجہ بھی بتادی کہ انہیں یہ غلط فہمی ہے کہ یہ خدا کے چہیتے ہیں اور یہ کچھ بھی کرلیں، جہنم کی آگ انہیں نہیں چھوئے گی اور اگر چھوا تو بس چند دن۔ آگے بتادیا کہ جس کی زندگی کا احاطہ گناہوں نے چاروں طرف سے کرلیا ہو اس کاٹھکانہ ابدی جہنم ہے۔ آگے یہود کو مزید گناہ بتائے ہیں تاکہ انہیں آخر میں امت وسط کے عہدے سے باقاعدہ معزول کیا جائے۔
سوالوں کے جواب
۱۔ آیات نمبر ۷۲ اور ۷۳ میں آتا ہے:
اور جب تم نے ایک شخص کو قتل کیا، تو اس میں باہم جھگڑنے لگے۔ لیکن جو بات تم چھپا رہے تھے ، خدا اس کو ظاہر کرنے والا تھا (۷۲) تو ہم نے کہا کہ اس گائے کا کوئی سا ٹکڑا مقتول کو مارو۔ اس طرح خدا مردوں کو زندہ کرتا ہے اور تم کو اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو (۷۳)
ان آیات کا کیا مطلب ہے ؟
جواب۔ اس پر آپ سب نے کافی سیر حاصل گفتگو کرلی ہے۔ اس کی ایک تعبیر تو وہی ہے کہ قاتل کا پتا لگانے کے لئے گائے کو ذبح کیا گیا اور اس کے گوشت کا ٹکڑا مقتول پر مارا گیا۔ اس نے زندہ ہوکر قاتل کا نام بتادیا۔ ایک دوسری رائے مولانا امین احسن اصلاحی کی ہے جو انہوں نے بائبل سے مستعار لی ہے کہ بنی اسرائل میں قسامہ یعنی قسم لینے کا طریقہ تھا ۔ لیکن بہر حال پہلی رائے ہی زیادہ موزوں معلوم ہوتی ہے۔
۲۔ آیت نمبر ۸۰ میں ہے:
اور کہتے ہیں کہ (دوزخ کی) آگ ہمیں چند روز کے سوا چھو ہی نہیں سکے گی۔ ان سے پوچھو، کیا تم نے خدا سے اقرار لے رکھا ہے کہ خدا اپنے اقرار کے خلاف نہیں کرے گا۔ (نہیں)، بلکہ تم خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہو جن کا تمہیں مطلق علم نہیں (۸۰)
ہم مسلمانوں میں بھی ایک تصور یہ پایا جاتا ہے کہ مسلمانوں کو بھی دوزخ میں اگر ڈالا گیا تو بس عارضی طور پر۔ مسلمانوں اور بنی اسرائل کے دعووں میں کیا مماثلت اور فرق ہے؟
جواب: میرے خیال میں مسلمانوں اور یہود کی سو چ میں تو نوعیت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔ عام مسلمان بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ہم کچھ بھی کرلیں، امتی ہونے کی بنا پر چھوٹ جائیں گے۔ لیکن اسلام کا نقطہ نظر مختلف ہے جو ان آیات کے آگے ہی بیان ہوگیا۔
ہاں جو برے کام کرے ، اور اس کے گناہ (ہر طرف سے) گھیر لیں تو ایسے لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے۔
یعنی جس شخص کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا گناہ ہو تو اس کے دل کی سیاہی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ اس پر مہر لگ جاتی اور اس کا ایمان سلب ہوجاتا ہے ۔ ایمان سلب ہونے کے بعد کچھ باقی نہیں رہا۔ اب وہ نام کا مسلمان ہے لیکن کسی کام کا نہیں۔ تو ایسے شخص کو خدا اپنا بندہ اور اس کے پیغمبر اپنا امتی ہی ماننے سے انکار کردیں گے تو شفاعت کا امکان کیسا؟
۳۔ آیت نمبر ۸۱ یہ ہے:
ہاں جو برے کام کرے ، اور اس کے گناہ (ہر طرف سے) گھیر لیں تو ایسے لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے (۸۱)
یہاں کس قسم کے گناہوں کا ذکر ہے اور گناہوں کا احاطہ کرلینے سے کیا مراد ہے؟
جواب: یہاں اصل مراد گناہوں کی زندگی کو اوڑھنا بچھونا بنالینا ہے۔ اور ظاہر ہے یہاں کبیرہ گناہ مراد ہیں ۔ لیکن مسئلہ گناہ کا نہیں بلکہ نیت کا ہوتا ہے۔ ایسا شخص دھڑلے سے سارے گناہ کرتا پھرتا، لوگوں کے مال غصب کرتا، زنا کرتا، ڈاکے دالتا، کرپشن کرتا، قتل و غارت گری کرتا اور سمجھانے پر بھی نہیں سمجھتا ہے۔ تو اس کے دل کی سیاہی ایمان سلب کرنے کا اور مہر کا باعث بن جاتی ہے۔ اس کے بعد وہ ایک جانور کی مانند زندگی گذارتا اور اپنے جہنم واصل ہونے کا منتظر ہوتا ہے لیکن اسے خبر بھی نہیں ہوتی۔ بلکہ اللہ اس کو اتنی ڈھیل دیتے ہیں کہ وہ بدمست ہو کر یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اللہ ا س سے راضی ہیں۔ حالانکہ اللہ نے اس پر دنیا کھول دی ہوتی ہے کہ کہیں وہ غلطی سے بھی کسی تکلیف میں مبتلا ہو کر خدا کو یاد نہ کربیٹھے۔ یہ خدا کے دھتکار دلوں پر مہر لگ جانے کے بعد آتی ہے۔
۴۔ ان آیات میں جو بھی جرائم ہیں وہ سارے جرائم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے موجود یہود نے نہیں بلکہ ان کے آبا و اجداد نے کئے تھے۔ تو قرآن ان کے آباو اجداد کے جرائم کا ذمہ کیوں ان یہود کو قرار دے رہا ہے جیسا کہ انداز تخاطب سے بظاہر لگ رہا ہے۔
جواب: اصل میں یہ ایک چارج شیٹ ہے جو امت بنی اسرائل پر جاری کیاجارہی ہے۔ چونکہ معاملہ امت کا ہے اس لئے جب سے امت کی باقاعدہ ابتدا ہوئی تب سے جرائم کو بیان کرنا شروع کیا۔ مخاطب ظاہر ہے اس وقت کے زندہ یہود ہیں ۔ مثال کے طور پر مسلمانوں پر اگر کوئی الزام لگائے گا تو وہ یہی کہے گا کہ دیکھو تم لوگ خلافت کے نام پر قتل و غارت گری کرتے آئے ہو ، تم آپس میں جنگیں لڑتے ہو ، بچوں کو اسکول میں مارتے ہو وغیرہ۔ تو ظاہر ہے یہ سارے کام مسلمانوں کے ایک گرو ہ نے کیئے ہونگے سب نے نہیں۔ لیکن خطاب میں سب آئیں گے۔
۵۔ یہاں آیات ۸۸ اور ۸۹ میں اللہ کی لعنت کا ذکر ہے۔ اللہ کی لعنت سے کیا مراد ہے؟
جواب۔ اس سے مراد خدا کی رحمت سے محرومی۔ یوں سمجھ لیں کہ اگر ایک چھ ماہ کے بچے پر سے ماں باپ اپنی توجہ ہٹالیں، اس سے نگاہیں پھیر لیں، اس کی ضروریا ت پوری نہ کریں، اس کو فیڈ نہ دیں تو بے شک اب وہ بچے پر کوئی غضب نہ بھی ڈھائیں ، اس بچے کی بقا ممکن نہیں۔ایسے ہی اگر خدا پنی رحمت ہٹادیں تو بس زندگی موت سے بھی بدتر ہوجاتی ہے۔ اللہ رحم فرمائیں۔ آمین
پروفیسر محمد عقیل

کیا آپ ذہین ہیں؟


ابھی جو بات میں آپ سے کرنے والا ہوں اسے سننے کے لئے ذرا تیار ہوجائیں اور دل تھام لیجے۔ اس وقت آپ کا ایک چھوٹا سا ٹیسٹ ہونے والا ہے۔ بے فکر رہیں یہ کوئی خطرناک ٹیسٹ نہیں کہ آپ کو لیبارٹری جانا پڑے۔ بس یہ ایک معمولی سا ذہانت کا امتحان ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف ایک سوال ہے جس کا جواب صرف چند لائینیں ہیں ۔اگر جواب درست تو آپ ذہین اورعقلمند کہلائیں گے وگرنہ نہیں۔
سوال غور سے پڑھئیے۔ نیچے ایک شعر درج ہے، یہ بتائیے کہ کیا یہ شعر درست ہے؟ اگر نہین تو اس میں کیا خرابی ہے؟
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
جواب کے ایک لئے آپ کے پاس پانچ سو سیکنڈ ہیں۔ ایک دو تین چار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اوووووووور یہ پانچ سو۔
جی جناب ، کیا جواب ہے آپ کا ؟ چلیں اپنا رپلائی نیچے دئیے گئے جواب سے چیک کرلیں۔
کو پڑھنا جاری رکھیں

آن لائن کمائیے


آن لائن کمائیے
از عدیلہ کوکب
وہ لوگوں کی نگاہ میں ایک بندہ مومن تھا اور اسے خود بھی اس کا ادراک تھا۔ اس نے دس سال کی عمر میں نماز شروع کی اور کبھی کوئی نماز قصداَ نہ چھوڑی۔ پھر نماز کے علاوہ وہ انفاق، روزہ داری اور دیگر نیکیوں میں عمر کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتا چلا گیا۔ پچیس برس کا ہونے تک وہ ایک مکمل صالح مرد بن چکا تھا۔ تعلق باللہ کے ساتھ ساتھ وہ خوش اخلاق، ادب آداب کا خیال رکھنے والا ایک سنجیدہ مزاج شخص تھا، اسے کبھی قہقہ لگاتے کو پڑھنا جاری رکھیں

پانچ جاتے ہیں چار پھرتے ہیں


پاکستان میں سیاسی تبدیلی آگئی۔ نواز شریف نے مسند اقتدار پر قدم رکھ دیا۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے 14 برس قبل ان کو نکالا گیا تھا۔ اس کے بعد اس مسند پر ظفر اللہ جمالی، چوہدری شجاعت، شوکت عزیز، محمد میاں سومرو، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف اور میر ہزار خان کھوسو فائز رہے۔ مگر سب ایک کے بعد ایک رخصت ہوگئے۔ جبکہ میاں نواز شریف کو اقتدار سے فارغ کرنے والے پرویز مشرف کو بھی اقتدار چھوڑنا پڑا اور ان کے انتخاب کے وقت وہ اسی شہر اسلام آباد میں نظر بند تھے۔ اس کہانی کا خلاصہ کو پڑھنا جاری رکھیں

کارکردگی جانچنے کا اسلامی کیلکولیٹر


کیلکولیٹر کی خصوصیات:
۱۔ اللہ کے دئیے گئے تقریباً پچانوے فی صد احکامات کی سوالات کی شکل میں ایک مکمل فہرست
۳۔آٹومیٹک طریقے سے اپنا احتساب کرنے کا کیلکولیٹر
۳۔ لازمی اور اختیاری احکامات ( فرض ، نفل، حرام اور مکروہ ) کی پوائنٹس کی شکل میں پریزینٹیشن۔
۵۔ ہر سوال کا قرآن یا مستند حدیث سے حوالہ۔
۶۔ دینی مطالبات کی مختصر تشریح ۔

اردو میں کیلکولیٹر ڈاون لوڈ کرنے کے لئے نیچے کلک کریں
ایکسل 2007
کارکردگی جانچنے کا اسلامی کیلکولیٹر

ایکسل 2003
کارکردگی جانچنے کا اسلامی کیلکولیٹر

کو پڑھنا جاری رکھیں

یادیں

انسانی یاد داشت ایک ایسی سائنس ہےجس کو سمجھنا سمجھانا مشکل ہے،اللہ رب العزت کے عجائبات میں سے ایک عجوبہ
اور پھر یادیں کتنی عجیب شے ہوتی ہیں ۔یہی اداس کرتی ہیں،خوش کرتی ہیں،شرمندہ کرتی ہیں،فخرو غرور کا احساس دلاتی ہیں،شکر کے جذبات پیدا کرتی ہیں،فکر کی جولان گاہ میں لے جاکر کبھی مضمحل و بے کار کر دیتی ہیں،کبھی عمل پہ ابھارتی ہیں،قرب کا باعث بنتی ہیں کبھی دوری کا احساس دلاتی ہیں۔یادیں ظالم بھی ہیں مہربان بھی،کانٹے بھی ہیں پھول بھی،تلخ بھی ہیں شیریں بھی۔ایک انسان کو پڑھنا جاری رکھیں

آگ اور تیل

محرومی اور ذلت کا سامنا کرنا انسانوں کے لیے ہمیشہ ایک اذیت ناک تجربہ ہوتا ہے ۔یہ تجربہ اگر حال ہی میں پیش آئے تو اذیت کے ساتھ پچھتاو وں کی آگ بھی وجود انسانی کو جھلس دیتی ہے ۔اس آگ کی تپش اس وقت اور بڑ ھ جاتی ہے جب اپنے جانے پہنچانے لوگ اردگرد ہوں اور اپنی انگلیاں دانتوں میں دبائے نامرادی اور رسوائی کی اس جلتی پر شرمندگی و ندامت کا تیل ڈال رہے ہوں ۔

قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے مجرموں کو جب ذلت و محرومی کا سامنا ہو گا تو اس کے ساتھ پچھتاوے اور ندامت کو بڑ ھانے والے سارے عناصر بھی اس موقع پر جمع کر دیے جائیں گے ۔ارشار باری تعالیٰ ہے :’’اور جس دن اللہ ان کو اکھٹا کرے گا وہ محسوس کریں گے کہ گویابس وہ دن کی ایک گھڑ ی(ہی دنیا میں ) رہے ۔ وہ ایک دوسرے کو پہچانتے ہوں گے ۔‘‘، (یونس45:10)۔

اس آیت کا پہلا جملہ یہ بتا رہا ہے کہ نافرمان لوگ بروز قیامت ماضی میں گزری ہوئی زندگی کو ایسا محسوس کریں گے گویا شام قیامت سے قبل دن کی ایک گھڑ ی میں وہ دنیا میں رہے ۔صبح و شام کا یہ معاملہ انہیں پچھتاو وں کے ختم نہ ہونے والے عذاب میں مبتلا کر دے گا کہ کاش وقت کا پہیہ ذرا پیچھے گھومے اور وہ صبح زندگی میں لوٹ کر اپنے اعمال کو بہتر بنالیں ۔مگر یہ ممکن نہ ہو گا اور ماضی بعید ماضی قریب بن کر ان کے عذابوں میں اضافہ کرتا رہے گا۔

ان کا دوسرا عذاب یہ ہو گا کہ نامرادی اور ذلت کے ان لمحات کے گواہ ان کے جانے پہنچانے سارے لوگ ہوں گے ۔لوگ انہیں پہنچانتے ہوں گے اور وہ لوگوں کو۔یوں ذلت کی قبا اوڑ ھے ان لوگوں کودیکھنے والی ہزاروں محرم نگاہیں میدان حشر میں ہوں گی جو قبائے ذلت میں جابجا ندامت کے پیوند لگا رہی ہوں گی۔

کیسی عجیب ہے قیامت کی نامرادی اورکیسی شدید ہے اس روز کی رسوائی۔

By Rehan Ahmend Yousufi