Archive for the ‘اخلاق’ Category

حج کے پانچ دن


ترتیب و تالیف:عبدالرشیدخان (ورجینیا امریکہ)
بے شک سب سے پہلی عبادت گاہ جو انسانوں کے لیے تعمیر ہوئی وہ وہی ہے جو مکہ میں واقع ہے اس کو خیر و برکت دی گئی تھی اور تمام جہان والوں کے لیے مرکز ہدایت بنایا گیا تھا (96) اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں، ابراہیمؑ کا مقام عبادت ہے، اوراس کا حال یہ ہے کہ جو اِس میں داخل ہوا مامون ہو گیا لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے، اور جو کوئی اس حکم کی پیروی سے انکار کرے تو اسے معلوم ہو جانا چاہیے کہ اللہ تمام د نیا والوں سے بے نیاز ہے (97) (آلعمران 3:96,97)
پہلا دن 8 ذوالحجہ:- بعد نماز فجر…منیٰ کیلۓ روانگی, منیٰ میں ظہر,عصر,مغرب عشاء اپنے اپنے وقت کی نمازیں پڑھنی ہیں اور رات قیام کرنا ہے دوسرے دن فجر کی نماز پڑھنی ہے
دوسرا دن 9 ذوالحجہ:-1-فجر کی نماز منیٰ میں پڑھ کر عرفات کیلۓ روانگی .2-ظہر کی نماز اور عصرکی نمازعرفات میں پڑھنی ہے . 3-وقوف عرفات . 4-مغرب کےوقت, "مغرب کی نماز پڑھے بغیر” مزدلفہ کو رواںگی . 5-مغرب اور عشاء کی نمازیں اکھٹی مزدلفہ میں پڑھنی ہیں
رات مزدلفہ میں قیام کرنا ہے, اور رات میں ذکرالہیٰ میں مشغول رہنا,رمی کرنے کیلۓ کنکریاں اٹھانی ہیں . جو تعداد میں 60 ہونی چاہیئں
اور اگر حج کے ساتھ ساتھ اپنے رب کا فضل بھی تلاش کرتے جاؤ، کو پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

بدھا کے دیس میں از راعنہ نقی سید


بدھا کے دیس میں
سفر نامہ از راعنہ نقی سید

بدھا کےدیس میں
سفر نامہ پی ڈی ایف میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں یا سائٹ پر پڑھنے کے لیے نیچے اسکرول کریں۔
updatedبدھا کےدیس میں

سفر نامہ

انسان کی فطرت ہے کہ یکسانیت سے اکتاہٹ محسوس کرتا ہے اور نئے اور انوکھے تجربات میں سکون کا متلاشی رہتا ہے۔سفر اورسیاحت کا شمار بھی ایسے ہی تجربات میں ہوتا ہے۔بسااوقات یہ آوارہ گردی ایک جنون کا روپ دھار لیتی ہے۔ انسان اس کا شکار ہو جائے تو نئی منزلوں اور ان دیکھی راہگزروں کی طرف سفر کے سوا کوئی چیز اس دیوانگی کا علاج نہیں کر سکتی۔ لیکن ایسے لوگوں کے لئے کو پڑھنا جاری رکھیں

میں اور وہ۔بس یہی زندگی ہے


میں اور وہ۔بس یہی زندگی ہے
ڈاکٹر محمد عقیل
زندگی کی کہانی صرف دو لفظوں کا مجموعہ ہے۔” میں اور وہ "۔ جو میں ہوں وہ بس "میں "ہوں اور جو میں نہیں وہ بس ” وہ” ہے۔ ہم میں سے ہر انسان کا معاملہ یہی ہے۔ ایک طرف ہماری اپنی ذات ہے تو دوسری طرف اس ذات سے باہر کی دنیا۔ زندگی بس انہی دو لفظوں کو سمجھ لینے کا نام ہے۔ اپنی ذات کو جاننا دراصل ” میں ” کو جان لینا ہے ۔ جبکہ اپنی ذات سے باہر کی دنیا کو جاننا اس سماج کو جان لینا ہے
کو پڑھنا جاری رکھیں

من پر قابو کیسے ؟


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ڈاکٹر محمد عقیل
• حضرت ، چند باتیں بہت پریشان کرتی ہیں؟ میں نے حضرت سے پوچھا
• پوچھو کیا مسئلہ ہے؟ حضرت نے جواب دیا۔
• حضرت ، گوکہ میں جانتا ہوں صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے؟لیکن پھر بھی خود پر قابو نہیں۔ اس مسئلے کا کیا حل ہے؟
• بھئی دیکھو،محض یہ جاننا ضرور نہیں کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے؟ سب سے پہلے تو ” خود” کو جاننا ضروری ہے کو پڑھنا جاری رکھیں

شب قدر اور فرشتے سے مکالمہ

پروفیسر عقیل کا بلاگ

کتنی اہم رات ہے۔
اچانک سلیم کا جی چاہا ہے ان کے بات چیت کرے۔ وہ ان کے قریب گیا اور سلام عرض کیا۔ فرشتوں نے مسکراکر جواب دیا۔
"کیا میں آپ سے بات چیت کرسکتا ہوں؟ ” سلیم نے پوچھا۔
” جی ضرور! فرمائیے!”
” مجھے یہ پوچھنا ہے کہ پاکستان کے لوگ اتنی عبادتیں کرتے ، اتنی دعائیں مانگتے، اتنے روزے رکھتے اور اتنی زکوٰۃ دیتے ہیں لیکن پھر بھی اس ملک کا برا حال ہے۔ عوام چکی میں پس رہے ہیں،غربت، افلاس ، بھوک، دہشت گردی، قتل و گردی لگتا سے سب مسائل نے اسی ملک میں ڈیرہ ڈال دیا ہے۔ کیا خدا نے نہیں کہا کہ دعا کرو میں سنوں گا؟ پھر خدا ہماری سنتا کیوں نہیں؟ کیا وہ رحمان و رحیم نہیں ہے؟”
فرشتوں نے بغور اس بات کو سنا اور پھر ان میں سے ایک فرشتہ گویا ہوا:
” کیا دل میں درد کا…

View original post 1,051 more words

فطرت و وحی


اداریہ
میرے دوستو! مذہب کا مفہوم ہے ” راستہ”۔ یعنی مذہب دراصل وہ راستہ ہے جس کے ذریعے خدا تک پہنچا جاتا ہے۔کم و بیش ہر مذہب اپنی نسبت خدا سے کرتا ہے کہ وہی سچا اور واحد راستہ ہے۔ ہر مذہب دیگر مذاہب کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتا اور خود کو سراپا حق بنا کر پیش کرتا ہے۔ہر مذہب دیگر مذاہب کے ماننے والوں سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ باطل مذہب کو چھوڑ کر دین حق کو قبول کرلیں۔ ہر مذہب کے پاس اپنی صداقت کو بیان کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ دلائل کو پڑھنا جاری رکھیں

دین فطرت پر ایک لیکچر


السلام علیکم
اسرا کے زیراہتمام کل میں نے ایک لیکچر دیا کیا جو دین کے صحیح تصور کے حوالے سے تھا۔ اس پریزنٹیشن میں ایک تحقیق بیان کی ۔اللہ نے انسانوں کو جو ہدایت دی ہے وہ وحی کے ساتھ ساتھ اس الہام پر بھی مبنی ہے جو انسانوں کی فطرت میں موجود ہے۔ یہی وہ یونی ورسل دین ہے جس کا علم ہر انسان کے پاس ڈای این اے میں موجود ہے۔ اس لیکچر کی ریکارڈنگ بھی ہوئی ہے جو دلچسپی رکھنے والے بھائیو ں اور بہنوں کو انشاءاللہ فراہم کردیں گے۔
کو پڑھنا جاری رکھیں

%d bloggers like this: