Archive for the ‘تاریخ’ Category

سانحہ کربلا اور تاریخی حقائق


تحریر و تحقیق: محمد مبشر نذیر
سانحہ کربلا، مسلمانوں کی تاریخ کا ایک نہایت ہی سنگین واقعہ ہے۔ اس واقعے میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو مظلومانہ انداز میں شہید کیا گیا اور اس کے بعد امت مسلمہ میں افتراق و انتشار پیدا ہوا۔ اس واقعے سے متعلق بہت سے سوالات ہیں جو تاریخ کے ایک طالب علم کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔ اس سیکشن میں ہم مختلف سوالات کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے: حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے اقدام کی اصل نوعیت کیا تھی؟ سانحہ کربلا کیسے وقوع پذیر ہوا؟ سانحہ کربلا کا ذمہ دار کون تھا؟ سانحہ کربلاکے کیا نتائج امت مسلمہ کی تاریخ پر مرتب ہوئے؟ دیگر صحابہ نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ شمولیت اختیار کیوں نہ کی؟ یزید نے قاتلین حسین کو سزا کیوں نہ دی؟ شہادت عثمان کی نسبت شہادت حسین پر زور کیوں دیا گیا؟ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

فتنہ خوارج


جنگ صفین کے بارے میں ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس جنگ میں جب حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین صلح ہوئی تو باغیوں کو یہ امر سخت ناگوار گزرا۔ ان کے ایک گروہ نے حضرت علی سے علی الاعلان علیحدگی اختیار کر لی اور ان دونوں صحابہ کو معاذ اللہ کافر قرار دے کر ان کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ حضرت علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہم نے انہیں بہت سمجھایا لیکن یہ کسی طرح نہیں مانے۔ انہوں نے مسلم آبادیوں پر حملے شروع کر دیے ۔ اس پر حضرت علی نے ان کے خلاف کاروائی کی جس سے ان کا زور ٹوٹ گیا۔ بعد میں اسی گروہ پڑھنا جاری رکھیں

دور صدیق رضی اللہ عنہ کے متنازعہ واقعات


حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور کے اہم تنازعات اور ان کی اصل حقیقت یہ ہے۔
خلیفہ کا انتخاب قبیلہ قریش ہی سے کیوں کیا گیا؟
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک طرف تو اسلام مساوات کا قائل ہے اور ہر مسلمان کو برابر قرار دیتا ہے لیکن دوسری طرف اس زمانے میں خلیفہ کے انتخاب کے لیے اس کے قریشی ہونے کی شرط کیوں لگائی گئی؟
اس سوال کے جواب کے لیے ہمیں اس دور کے تمدنی حالات کو دیکھنا ہو گا۔ علم عمرانیات (Sociology)کے بانی ابن خلدون (732-808/1332-1405) کے مطابق ، کسی بھی قوم کی بنیاد "عصبیت ” پر ہوتی ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

جنگ صفین ۔حضرت علی و حضرت معاویہ میں جنگ کی حقیقت


تحریر: محمد مبشر نذیر
جنگ جمل کے بعد دوسری بڑی جنگ صفین کے مقام پر ہوئی۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ جنگ حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کی افواج کے درمیان لڑی گئی لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔ حضرت علی کی فوج کا بڑا حصہ اب باغی تحریک کے کارکنوں پر مشتمل تھا اور انہوں نے اپنی پوری قوت میدان میں جھونک دی تھی۔ ان کے عزائم کی راہ میں حضرت معاویہ آخری چٹان بن کر کھڑے تھے۔ باغی ان کی قوت کا خاتمہ کر کے پڑھنا جاری رکھیں

جنگ جمل ۔حضرت عائشہ اور حضرت علی کے درمیان جنگ کی حقیقت


تحریر:محمد مبشر نذیر
طبری اور بلاذری نے جنگ جمل کے جو واقعات بیان کیے ہیں، ان کا بڑا حصہ ابو مخنف، ہشام کلبی، سیف بن عمر اور محمد بن عمر الواقدی کا بیان کردہ ہے۔ خاص کر جن روایات میں سیدہ عائشہ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہم سے متعلق کوئی منفی بات پائی جاتی ہے، ان کا راوی یا تو ابو مخنف ہے یا پھر ہشام کلبی۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان مشہور کذابین نے ان واقعات میں اپنی جانب سے کچھ نہ کچھ ملا دیا ہے اور ان صحابہ کی کردار کشی کی کوشش کی ہے۔ تاہم بہت سی باتیں درست بھی معلوم ہوتی ہیں۔ ہم کوشش کرتے ہیں کہ گھڑی ہوئی باتوں کو الگ کر کے قابل پڑھنا جاری رکھیں

حضرت علی کی خلافت


(تحریر: محمد مبشر نذیر)
اس سیکشن میں ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت سے متعلق سوالات کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس سے پہلے ایک سوال ہر شخص کے ذہن میں آتا ہے کہ شہادت عثمانی کے بعد صحابہ نے باغو ں پر حملہ کو ں نہ کاا؟ چونکہ یہ سوال حضرت علی کی بیعت سے متعلق ہے، اس وجہ سے اسی سے ہم اس بحث کا آغاز کرتے ہیں۔
شہادت عثمانی کے بعد صحابہ نے باغیوں پر حملہ کیوں نہ کیا؟
یہاں پر تاریخ کے طالب علموں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر پڑھنا جاری رکھیں

یزید تاریخ کی روشنی میں


(نوٹ: یہ تحریر میرے عزیز دوست محمد مبشر نذیر کی ہے )
یزید کی نامزدگی
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر جو بڑا اعتراض کیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے یزید کو اپنا ولی عہد مقرر کے خلافت کو ملوکیت میں تبدیل کر دیا۔ ان پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے حضرت حسین، ابن عمر، ابن عباس اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم جیسے اکابر صحابہ کے لائق بیٹوں کے ہوتے ہوئے اپنے نالائق بیٹے کو خلافت کے لیے نامزد کیا۔ اس کے نتیجے میں ایک بار پھر خانہ جنگی کی آگ بھڑک اٹھی اور پڑھنا جاری رکھیں

%d bloggers like this: