Archive for the ‘سیرت صحابہ’ Category

جنگ صفین ۔حضرت علی و حضرت معاویہ میں جنگ کی حقیقت


تحریر: محمد مبشر نذیر
جنگ جمل کے بعد دوسری بڑی جنگ صفین کے مقام پر ہوئی۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ جنگ حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کی افواج کے درمیان لڑی گئی لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔ حضرت علی کی فوج کا بڑا حصہ اب باغی تحریک کے کارکنوں پر مشتمل تھا اور انہوں نے اپنی پوری قوت میدان میں جھونک دی تھی۔ ان کے عزائم کی راہ میں حضرت معاویہ آخری چٹان بن کر کھڑے تھے۔ باغی ان کی قوت کا خاتمہ کر کے پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

حضرت علی کی خلافت


(تحریر: محمد مبشر نذیر)
اس سیکشن میں ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت سے متعلق سوالات کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس سے پہلے ایک سوال ہر شخص کے ذہن میں آتا ہے کہ شہادت عثمانی کے بعد صحابہ نے باغو ں پر حملہ کو ں نہ کاا؟ چونکہ یہ سوال حضرت علی کی بیعت سے متعلق ہے، اس وجہ سے اسی سے ہم اس بحث کا آغاز کرتے ہیں۔
شہادت عثمانی کے بعد صحابہ نے باغیوں پر حملہ کیوں نہ کیا؟
یہاں پر تاریخ کے طالب علموں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر پڑھنا جاری رکھیں

یزید تاریخ کی روشنی میں


(نوٹ: یہ تحریر میرے عزیز دوست محمد مبشر نذیر کی ہے )
یزید کی نامزدگی
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر جو بڑا اعتراض کیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے یزید کو اپنا ولی عہد مقرر کے خلافت کو ملوکیت میں تبدیل کر دیا۔ ان پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے حضرت حسین، ابن عمر، ابن عباس اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم جیسے اکابر صحابہ کے لائق بیٹوں کے ہوتے ہوئے اپنے نالائق بیٹے کو خلافت کے لیے نامزد کیا۔ اس کے نتیجے میں ایک بار پھر خانہ جنگی کی آگ بھڑک اٹھی اور پڑھنا جاری رکھیں

حضرت علی کے دیگر خلفاء سے تعلقات


تحریرو تحقیق : محمد مبشر نذیر
۱۔کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت نہیں کی؟
اس معاملے میں جو تاریخی روایات بیان ہوئی ہیں اور یہ تین طرح کی ہیں:
• پہلی قسم کی روایات کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوری رضا و رغبت کے ساتھ اگلے دن ہی بیعت کر لی تھی۔
• دوسری قسم کی روایات میں یہ بیان ہوا ہے کہ انہوں نے کچھ پس و پیش کیا تھا لیکن دیگر صحابہ کے سمجھانے پر کچھ ہی عرصہ بعد بیعت کر لی تھی۔
• تیسری قسم کی روایات مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ خود خلیفہ بننا چاہتے تھے۔ اس وجہ سے انہوں نے بیعت سے انکار کر دیا تھا اور حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے ان کے گھر پر حملہ پڑھنا جاری رکھیں

حضرت معاویہ کے حضرات حسن و حسین سے تعلقات


تحریر و تحقیق: محمد مبشر نذیر
حضرت حسن او رحضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کا اتحاد
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مسلمانوں نے باہمی مشورے سے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کیا۔ حضرت علی سے ان کی شہادت سے پہلے پوچھا گیا: ” کیا آپ کے بعد ہم حسن کی بیعت کر لیں؟” آپ نے فرمایا: "میں نہ تو اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ ہی اس سے منع کرتا ہوں۔”( طبری۔ 40H/3/2-354)۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ جب خلیفہ بنے تو آپ نے چھ ماہ کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے اتحاد کر لیا اور خلافت کو ان کے سپرد کر دیا پڑھنا جاری رکھیں

حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ

حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے چھ سال چھوٹے تھے۔ عام فیل کے چھ برس بعد۵۷۶ء میں مکہ میں پیدا ہوئے ۔ والد کا نام عفان،دادا کا ابو العاص ، اورپڑدادا کا امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف تھا۔پانچویں پشت عبدمناف پر ان کا نسب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے شجرے سے جا ملتا ہے۔آپ کا شجرۂ مبارکہ یہ ہے،محمد بن عبد اﷲ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف ۔حضرت عثمان کی والدہ اروی بنت کریز کو قبول اسلام کی سعادت حاصل ہوئی، نانی ام حکم بیضا بنت عبدالمطلب آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی سگی پھوپھی تھیں۔ زمانۂ جاہلیت کی جنگوں میں پڑھنا جاری رکھیں

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی تاریخ پیدایش معلوم نہیں، البتہ ہجرت کے وقت ان کی عمر چالیس سال سے کچھ کم تھی۔ اس حساب سے وہ عام الفیل کے۱۳سال بعداور حرب فجارکے ۴ سال بعد پید ا ہوئے ہوں گے ۔ عیسوی حساب سے ان کا سن پیدایش قریباً ۵۸۱ء بنتا ہے۔ وہ قریش کے قبیلہ بنو عدی سے تعلق رکھتے تھے، اس لیے عدوی کہلاتے تھے۔یہ قبیلہ بنو ہاشم اور بنو امیہ جیسا مرتبہ نہ رکھتا تھا، البتہ بنو عبد شمس سے ان کا مقابلہ رہتا تھا۔ بنوعدی میں علم و حکمت کا چرچا ہوا تو قبائل میں اٹھنے والے جنگ وامن یا قبائلی مفاخرت کے تنازعات نمٹانے کی ذمہ داری (سفارت مفاخرت)اسے سونپی گئی۔اس موروثی وزارت پر عمر بھی فائز ہوئے۔ پڑھنا جاری رکھیں

%d bloggers like this: