Archive for the ‘اسلامی کتابیں’ Category

عمل صالح کا محدود تصور


عمل صالح کا محدود تصور
پروفیسر محمد عقیل
ہم جانتے ہیں کہ انسان کی نجات دو چیزوں پر منحصر ہے۔ ایمان اور عمل صالح یا نیک اعمال۔ ایمان کا معاملہ تو بہت حد تک واضح ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمل صالح سے کیا مراد ہے؟کیا اس سے مراد صرف نماز روزہ حج زکوٰۃ ہے ؟ کیا یہ تصور صرف دینی اعمال تک محدود ہے ؟ کیا اس میں دنیا کے حوالے سے کی گئی کوئی اچھائی شامل نہیں ہوسکتی؟ یہ وہ سوالات ہیں جو آج کے جدید ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔ وہ دیکھتا ہے کہ سائنسدانوں نے انسان کے لیے میڈیکل، ایجوکیشن، کمیونکیشن غرض ہر میدا ن میں بے شمار سہولیات پیدا کردیں لیکن مذہبی طبقہ اسے عمل صالح ماننے کو تیار نہیں۔
مذہبی طبقہ مدرسے میں پڑھنے کو تو نیکی مانتا ہے لیکن دنیاوی علوم پڑھنے کو نیک عمل تصور نہیں کرتا۔ وہ مسجد کی تعمیر کو تو صدقہ جاریہ کہتا ہے لیکن ہسپتال یا اسکول کی تعمیر کو صدقہ کہنے سے کتراتا ہے۔ وہ تسبیحات کو دس ہزار مرتبہ پڑھنے کو تو باعث اجرو ثواب کہتا ہے لیکن اچھی بات کرنے کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ دوسری جانب ہم دیکھیں تو ہماری روزمرہ زندگی کے محض چند گھنٹے ہی عبادات اور دینی امور میں گذرتی ہے۔ ہماری زندگی کے اکثر لمحات دنیاوی معاملات میں گذرتے ہیں۔
گذشتہ مضمون میں ہم نے بات کی تھی کہ نیکی سے مراد ہر وہ عمل ہے جو خدا کی بیان کردہ حلا ل و حرام کی حدود قیود میں رہتے ہوئے خلوص نیت اور خوش اسلوبی کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد کسی بھی مخلوق کو جائز طور پر فائدہ پہنچانا ہو۔ اس تعریف سے یہ بات واضح ہوگئی کہ کسی عمل کے نیک ہونے کے لیے لازمی نہیں کہ اس کا تعلق دین سے ہو۔ کوئی بھی دنیاوی عمل جو اس تعریف پر پورا اترے وہ نیکی ہے اور اسی طرح اللہ کے ہاں مقبول ہے جیسے کوئی بھی دینی عمل۔
دوسری جانب جب ہم قرآن و سنت کی بات کرتے ہیں تو نیک اعمال صرف دین ہی نہیں دنیاوی امور سے متعلق بھی ہیں۔ جیسے سورہ البقرہ میں نیکی کے بارے میں یہ بیان ہوا کہ نیکی محض مشرق و مغرب کی جانب منہ کرلینے کا نام نہیں بلکہ نیکی میں ایمان لانے کا عمل بھی شامل ہے، اس میں معاشرے کے مختلف مستحقین کو صدقہ دینا بھی شامل ہے ، نماز اور زکوٰۃ کی عبادات بھی ہیں اور مختلف مواقع پر صبر کرنا بھی شامل ہے۔ یعنی نیکی کا دائرہ کار صرف دینی امور ہی نہیں بلکہ دنیوی معاملات تک وسیع ہے۔ اسی طرح ہم احادیث کو دیکھیں تو وہاں تو روزی کمانا، گناہ سے خود کو روکنا، کسی کو سواری پر چڑھنے میں مدد کردینا حتی کہ کتے کو پانی پلانے تک کو نیکی کہا گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر و ہ کون سے محرکات تھے جنہوں نے دنیا وی کاموں کو خدا کے نزدیک ناقابل قبول بنانے کی کوشش کی۔ ذیل میں ہم ان اعمال کا جائزہ لے رہے ہیں:
۱۔عمل صالح کی فہرست مرتب کرنا
اس میں سب سے پہلا محرک تو ظاہر ی متن بنا۔ یعنی جن باتوں کا ذکر قرآن و سنت میں صراحت کے ساتھ آگیا اسے تو نیکی قراردیا گیا لیکن جن کا ذکر نہیں آیا انہیں نیکی نہیں مانا گیا۔ مثال کے طور پرکسی بھوکے کو کھانا کھلانے کا عمل قرآن میں نیکی کے طور پر بیان ہوا ہے تو اسے تمام مذہبی طبقات نیکی مانتے ہیں۔ لیکن کسی بچے کی اسکول فیس ادا کرنے کو اس درجے میں نیکی نہ مانا جاتا ہے اور نہ اسے بیان کیا جاتا ہے۔ حالانکہ بھوکے کو کھانا کھلانا تو ایک وقت کا کام ہے لیکن اسکول یا کالج میں بچے کو پڑھا کر اسے مچھلی پکڑنے کا کانٹا دیا جارہا ہے جس کی مدد سے وہ مستقبل میں ہزاروں مرتبہ کھانا کھاسکتا ہے۔یعنی یہاں نیکی کا تعین کرتے ہوئے استقرائی یعنی Inductive اپروچ سے کام نہین لیا گیا۔اگر لیا جاتا تو سارے اچھے کام اس میں آجاتے۔
۲۔ دنیا سے نفرت
دنیاوی امو ر کو نیکی یا عمل صالح میں شمار نہ کرنے کا ایک اور سبب دنیا سے نفرت ہے۔ ہمارے مذہب پر کچھ صدیوں بعد ہی تصوف کی ترک دنیا کی تعلیمات کا غلبہ ہوگیا۔ چنانچہ دنیا کو حقیر کو اس کے عمل کو شیطانی عمل سمجھا جانے لگا۔ اس کی وجہ سے روزی کمانا، میعار زندگی بلند کرنا، دنیاوی ہنر یا تعلیم حاصل کرنا، مفاد عامہ کے لیے فلاحی کام جیسے سڑک بنوانا، پناہ گاہیں تعمیر کرنا وغیرہ کو عمل صالح میں شمار کرنے سے انکار نہیں تو پہلو تہی ضرور کی گئی۔ حالانکہ دین میں اصل تقسیم دنیا و دین کی نہیں دنیا و آخرت کی ہے۔ اگر ہم دیکھیں تو صدقہ جاریہ میں کنواں کھدوانا حدیث میں صراحتا عمل صالح بیان ہوا ہے ۔ اس بنیاد پر سارے وہ کام جو عوام کے فائدے کے ہوں اور نیکی کی مندرجہ بالا تعریف پر اترتے ہوں وہ عمل صالح میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح ایک شخص اگر اپنی فلاح کا کوئی کام کررہا ہے اور وہ دین کے دائرے میں ہے تو وہ بھی نیکی ہے۔ اس اصول کے تحت روزی کمانا، بچوں کی تربیت، سب کچھ آجاتا ہے۔
۳۔ عمل کی ظاہری ہیت
عمل صالح میں دنیاوی معاملات شامل نہ ہونے کی ایک وجہ عمل کی ظاہری ہیت بھی ہے۔ کچھ اعمال اپنے ظاہر ہی میں نیکی نظر آتے ہیں جبکہ کچھ اعمال اس حیثیت سے نیکی نہیں دکھائی دیتے۔ مثال کے طور پر نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ ، قربانی، تسبیحات ، تلاوت وغیرہ اپنے ظاہر ہی میں اعمال صالح معلوم ہوتے ہیں کیونکہ ان کا مقصد اللہ سے تعلق کو مضبوط کرنا ہے۔ دوسری جانب حقوق العباد سے متعلق نیک اعمال اپنے ظاہر میں اس طرح نیکی معلوم نہیں ہوتے جیسے تعلق باللہ کے امور۔ اسی بنا پر عوام اور کچھ علماء کو ان معاملات کو نیکی کے طور پر لینے میں ایک نفسیاتی تردد محسوس ہوتا ہے۔ حالانکہ جس اصول کے تحت تعلق باللہ کے امور اعمال صالح ہیں اسی اصول کے تحت روزمرہ کی زندگی کے معاملات بھی صالح اعمال ہیں۔ اصول وہی ہے یہ کوئی بھی عمل جو مخصوص شرائط کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد اپنی یا کسی مخلوق کی فلاح ہو۔
۴۔ دین و دنیا کی تقسیم
ایک اور وجہ دنیا کو دین سے الگ سمجھنا ہے۔ حالانکہ اصل تقسیم دین و دنیا کی نہیں بلکہ دنیا و آخرت کی ہے۔ دنیاوی زندگی میں تمام امور بشمول دین شامل ہیں ۔اگرکوئی شخص دین کا کام کررہا ہے تو دراصل وہ خدا کو کوئی فائدہ نہیں پہنچارہا بلکہ خدا کی مخلوق کو پیغام پہنچا کر ان کے لیے نفع کا کام کررہا ہے۔ یہی کام ایک ایک ڈاکٹر ، انجنئیر ، مصنف یا کوئی دوسری دنیا وی عمل کرنے والا شخص کررہا ہوتا ہے۔ فرق صرف یہ ہوسکتا ہے کہ دنیاوی کاموں کی بالعموم کوئی فیس لی جاتی ہے اور دینی کام عام طور پر بغیر کسی فیس کے ہوتے ہیں۔ لیکن نوعیت کے اعتبار سے دونوں کاموں میں کوئی فرق نہیں ، دونوں مخلوق کی فلاح کے لیے ہیں اور دونوں کا اجر آخرت میں ملنے کا امکان ہے۔ایک اور مثال یہ ہے کہ اگر کوئی استاد مدرسے میں کمپیوٹر کی تعلیم دے رہا ہے اور اس کے چالیس ہزار روپے لے رہا ہے تو اس کی تدریس کو نیکی کہا جاتا ہے کیونکہ وہ یہ کام ایک دینی مدرسے میں کررہا ہے۔ لیکن اگر وہ یہی کورس کسی یونی ورسٹی میں پڑھائے اور اتنی ہی فیس لے تو اسے نیکی نہیں گردانا جاتا۔ حالانکہ دونوں کا مقصد فلاح پہنچانا ہے اور اس لحاظ سے دونوں اعمال نیکی میں شمار ہوتے ہیں۔
۵۔تمام غیر مسلموں کو کافر جاننا
ایک اور وجہ یہ مفروضہ ہے کہ تمام غیر مسلم کافر ہیں اور ان کے اعمال رائگاں ہیں۔ مثال کے طور پر ایک سائنسدان جب کوئی چیز ایجاد کرتا ہے اور اس سے لاکھوں لوگ مستفید ہوتے ہیں۔ لیکن اس پر سب سے پہلے یہ چیک لگایا جاتا ہے کہ وہ مسلمان ہے یا نہیں۔اگر وہ غیر مسلم ہو تو ہم سب پہلے ہی فتوی لگا دیتے ہیں کہ اس کا تو عمل قابل قبول ہی نہیں۔حالانکہ ہمیں علم نہیں کہ کیا اس پر اتمام حجت ہوچکی یا نہیں، کیا اس تک خدا کا پیغام صحیح معنوں میں پہنچ گیا؟ کیا اس نے سب کچھ سمجھ کر، جان کر اور مان کر اسلام کا انکار کردیا؟ ظاہر ہے ہمارے پاس کوئی پیمانہ نہیں ۔ اس کا حل یہی ہے کہ ہم اس کے بارے میں حسن ظن رکھیں اور فیصلہ خود کرنے کی بجائے حقیقت جاننے والی ہستی کو سونپ دیں۔
۶۔ نیت کا پوشید ہونا
ایک اور وجہ نیت کا ظاہر اور پوشیدہ ہونا ہے۔ دینی اعمال میں نیت باقاعدہ نظر آتی ہے کہ یہ عمل خدا کے لیے خاص ہے۔ مثال کے طور پر نماز یا روزے میں باقاعدہ یہ نیت ہوتی ہے کہ یہ عمل اللہ کے لیے ہے۔دوسری جانب دنیاوی عمل خواہ کتنا ہی فلاح و بہبود کا کام کیوں نہ ہو ، اسے نیکی تسلیم کرنے کے لیے فلٹریشن سے گذرنا ہوتا ہے۔ جیسے دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کا عمل اپنی فلاح سے متعلق ہے اور نیکی ہے۔ لیکن اسے بلاکسی تخصیص کے دنیاداری سمجھا جاتا ہے اور نیکی نہیں مانا جاتا۔حالانکہ ایک تعلیم یافتہ شخص اپنے اور اپنی فیملی کے روزگار کا ذریعہ بنتا ہے، وہ اپنی خدمات سے سوسائٹی کی خدمت کرتا ہے، وہ اپنی آمدنی سے ملک کے جی ڈی پی میں خاطر خواہ اضافہ کرتا ہے اور اس طرح ملک کی ترقی میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ یہ سارے کام چونکہ اپنی یا مخلوق کی فلاح کے ہیں اس لیے نیکی ہیں۔
خلاصہ
اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ نیکی کا تصور دین میں محدود نہیں بلکہ وسیع ہے۔ اس کا دائرہ کار صرف دینی نہیں بلکہ دنیاوی اعمال تک پھیلا ہوا ہے۔ خدا کے نزدیک ہر وہ عمل نیکی ہے جو اس کی حرام و حلال کی قیود میں رہتے ہوئے نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد اپنی یا مخلوق کی براہ راست یا بالواسطہ فلاح ہو۔
پروفیسر محمد عقیل

نزول مسیح کا تحقیقی مطالعہ۔ پروفیسر محمد عقیل

مقالے کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیے ہوئے لنک پر کلک کریں:

http://aqilkhan.org/wp-content/uploads/2015/10/Nazool-e-Maseeh-ka-tahqeeqi-Mutalla1.pdf

اس مقالے کے مطالعے کے بعد آپ انشاءاللہ ان سوالوں کے جواب جان لیں گے
• کیا حضرت عیسی علیہ السلام کو دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے گا؟
• حضرت عیسی ٰ علیہ السلام اور مسیح دجال کی پیشین گوئیوں کا کیا پڑھنا جاری رکھیں

انٹرایکٹو فہم القرآن کورس نواں سیشن ۔۔ خلاصہ


انٹرایکٹو فہم القرآن کورس
نواں سیشن
سورہ البقرہ آیت نمبر 67 تا 101
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس سیشن کا خلاصہ حاضر خدمت ہے۔ اس کا انفرادی طور پر فیڈ بیک تو آپ کو بھیج چکا ہوں۔ اس کا خلاصہ اپنے فہم کے مطابق حاضر ہے۔
ابتدا میں تو بنی اسرائل کی کٹ حجتی بیان ہوئی ہے کہ کس طرح انہوں نے ایک آسان کی چیز کو اپنے لئے مشکل بنالیا۔ یعنی حکم تھا کہ کوئی بھی ایک گائے ذبح کرو لیکن ظاہر پرستی اور فقہی موشگافیوں کی بنا پر اپنے لئے مصیبت پیدا کرتے چلے گئے کہ گائے کیسی ہو، رنگ کیا ہو، بوڑھی ہو یا بچھیا وغیرہ۔ یہی مزاج کم و بیش ہمارے ہاں بھی لوگوں میں پیدا ہوگیا ہے۔ اور اس کی وجہ مذہبی طبقہ کا درست طور پر ایجوکیشن فراہم نہ کرنا ہے۔
اس ذکر کے بعد ایک مشکل مقام ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ گائے کے ایک ٹکڑے کو مقتول کو مارو۔ اس کے بعد آگے ذکر ہے کہ اللہ اس طرح مردوں کو زندہ کرتا ہے۔
اس کے بعد یہود کی سخت دلی کا ذکر ہے کہ کس طرح تمہارے دل پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہوگئے۔ یہ مقام ذرا رکنے والاہے۔ یہاں پتھروں کی تین خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔۔ اور پتھر تو بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں سے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں ، اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں ،اور ان میں سے پانی نکلنے لگتا ہے ، اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ خدا کے خوف سے گر پڑتے ہیں ۔
اس کائنات کی ایک ایک شے تسبیح کرتی ہے اور اس کی تسبیح ، رکوع ، سجود اور تعلق باللہ اس کی اپنی زبان میں ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر سائے تو دیکھیں تو جوں جوں سورج ڈھلتا ہے ، سایہ پھیلنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس عمل کو قرآن سائے کے سجدے سے تعبیر کرتا ہے۔ اسی طرح پتھروں کو دیکھا جائے تو بظاہر چشمہ پھوٹنا، پانی بہہ نکلنا اور گرجانا ایک میکانیکی عمل ہے لیکن یہ پتھر کا تعلق باللہ ہے۔ پتھروں سے چشمہ پھوٹنا ان آنسووں کی علامت ہےجو خدا کی یاد میں نکل جاتے ہیں اور روکے نہیں رکتے۔ ان کا پھٹ جانا اور پھر پانی بہہ نکلنا اس دھواں دھار سوز غم کا اظہار ہے جب خدا کے سامنے غم سے نڈھال ہوکر دل پھٹ جاتا ہے اور بے اختیار ہچکیاں بندھ جاتی ہیں۔ پتھروں کا خوف سے گرجانا اس کیفیت کو ظاہر کرتا ہے جب یوں لگتا ہے سارے بدن سے جان نکل چکی اور ٹانگوں نے خوف کے باعث جسم کا بوجھ اٹھانے سے انکار کردیا۔ پھر انسان ایک بے جان لاشے کی طرح خدا کے سامنے ڈھ جاتا ہے۔
اگلی چند آیات میں یہود کےجرائم پر مزید روشنی ڈالی جارہی ہے کہ یہ کس طرح دین سے دور ہیں اور خود کو عین دین سمجھتے ہیں۔ اس کی وجہ بھی بتادی کہ انہیں یہ غلط فہمی ہے کہ یہ خدا کے چہیتے ہیں اور یہ کچھ بھی کرلیں، جہنم کی آگ انہیں نہیں چھوئے گی اور اگر چھوا تو بس چند دن۔ آگے بتادیا کہ جس کی زندگی کا احاطہ گناہوں نے چاروں طرف سے کرلیا ہو اس کاٹھکانہ ابدی جہنم ہے۔ آگے یہود کو مزید گناہ بتائے ہیں تاکہ انہیں آخر میں امت وسط کے عہدے سے باقاعدہ معزول کیا جائے۔
سوالوں کے جواب
۱۔ آیات نمبر ۷۲ اور ۷۳ میں آتا ہے:
اور جب تم نے ایک شخص کو قتل کیا، تو اس میں باہم جھگڑنے لگے۔ لیکن جو بات تم چھپا رہے تھے ، خدا اس کو ظاہر کرنے والا تھا (۷۲) تو ہم نے کہا کہ اس گائے کا کوئی سا ٹکڑا مقتول کو مارو۔ اس طرح خدا مردوں کو زندہ کرتا ہے اور تم کو اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو (۷۳)
ان آیات کا کیا مطلب ہے ؟
جواب۔ اس پر آپ سب نے کافی سیر حاصل گفتگو کرلی ہے۔ اس کی ایک تعبیر تو وہی ہے کہ قاتل کا پتا لگانے کے لئے گائے کو ذبح کیا گیا اور اس کے گوشت کا ٹکڑا مقتول پر مارا گیا۔ اس نے زندہ ہوکر قاتل کا نام بتادیا۔ ایک دوسری رائے مولانا امین احسن اصلاحی کی ہے جو انہوں نے بائبل سے مستعار لی ہے کہ بنی اسرائل میں قسامہ یعنی قسم لینے کا طریقہ تھا ۔ لیکن بہر حال پہلی رائے ہی زیادہ موزوں معلوم ہوتی ہے۔
۲۔ آیت نمبر ۸۰ میں ہے:
اور کہتے ہیں کہ (دوزخ کی) آگ ہمیں چند روز کے سوا چھو ہی نہیں سکے گی۔ ان سے پوچھو، کیا تم نے خدا سے اقرار لے رکھا ہے کہ خدا اپنے اقرار کے خلاف نہیں کرے گا۔ (نہیں)، بلکہ تم خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہو جن کا تمہیں مطلق علم نہیں (۸۰)
ہم مسلمانوں میں بھی ایک تصور یہ پایا جاتا ہے کہ مسلمانوں کو بھی دوزخ میں اگر ڈالا گیا تو بس عارضی طور پر۔ مسلمانوں اور بنی اسرائل کے دعووں میں کیا مماثلت اور فرق ہے؟
جواب: میرے خیال میں مسلمانوں اور یہود کی سو چ میں تو نوعیت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔ عام مسلمان بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ہم کچھ بھی کرلیں، امتی ہونے کی بنا پر چھوٹ جائیں گے۔ لیکن اسلام کا نقطہ نظر مختلف ہے جو ان آیات کے آگے ہی بیان ہوگیا۔
ہاں جو برے کام کرے ، اور اس کے گناہ (ہر طرف سے) گھیر لیں تو ایسے لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے۔
یعنی جس شخص کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا گناہ ہو تو اس کے دل کی سیاہی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ اس پر مہر لگ جاتی اور اس کا ایمان سلب ہوجاتا ہے ۔ ایمان سلب ہونے کے بعد کچھ باقی نہیں رہا۔ اب وہ نام کا مسلمان ہے لیکن کسی کام کا نہیں۔ تو ایسے شخص کو خدا اپنا بندہ اور اس کے پیغمبر اپنا امتی ہی ماننے سے انکار کردیں گے تو شفاعت کا امکان کیسا؟
۳۔ آیت نمبر ۸۱ یہ ہے:
ہاں جو برے کام کرے ، اور اس کے گناہ (ہر طرف سے) گھیر لیں تو ایسے لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے (۸۱)
یہاں کس قسم کے گناہوں کا ذکر ہے اور گناہوں کا احاطہ کرلینے سے کیا مراد ہے؟
جواب: یہاں اصل مراد گناہوں کی زندگی کو اوڑھنا بچھونا بنالینا ہے۔ اور ظاہر ہے یہاں کبیرہ گناہ مراد ہیں ۔ لیکن مسئلہ گناہ کا نہیں بلکہ نیت کا ہوتا ہے۔ ایسا شخص دھڑلے سے سارے گناہ کرتا پھرتا، لوگوں کے مال غصب کرتا، زنا کرتا، ڈاکے دالتا، کرپشن کرتا، قتل و غارت گری کرتا اور سمجھانے پر بھی نہیں سمجھتا ہے۔ تو اس کے دل کی سیاہی ایمان سلب کرنے کا اور مہر کا باعث بن جاتی ہے۔ اس کے بعد وہ ایک جانور کی مانند زندگی گذارتا اور اپنے جہنم واصل ہونے کا منتظر ہوتا ہے لیکن اسے خبر بھی نہیں ہوتی۔ بلکہ اللہ اس کو اتنی ڈھیل دیتے ہیں کہ وہ بدمست ہو کر یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اللہ ا س سے راضی ہیں۔ حالانکہ اللہ نے اس پر دنیا کھول دی ہوتی ہے کہ کہیں وہ غلطی سے بھی کسی تکلیف میں مبتلا ہو کر خدا کو یاد نہ کربیٹھے۔ یہ خدا کے دھتکار دلوں پر مہر لگ جانے کے بعد آتی ہے۔
۴۔ ان آیات میں جو بھی جرائم ہیں وہ سارے جرائم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے موجود یہود نے نہیں بلکہ ان کے آبا و اجداد نے کئے تھے۔ تو قرآن ان کے آباو اجداد کے جرائم کا ذمہ کیوں ان یہود کو قرار دے رہا ہے جیسا کہ انداز تخاطب سے بظاہر لگ رہا ہے۔
جواب: اصل میں یہ ایک چارج شیٹ ہے جو امت بنی اسرائل پر جاری کیاجارہی ہے۔ چونکہ معاملہ امت کا ہے اس لئے جب سے امت کی باقاعدہ ابتدا ہوئی تب سے جرائم کو بیان کرنا شروع کیا۔ مخاطب ظاہر ہے اس وقت کے زندہ یہود ہیں ۔ مثال کے طور پر مسلمانوں پر اگر کوئی الزام لگائے گا تو وہ یہی کہے گا کہ دیکھو تم لوگ خلافت کے نام پر قتل و غارت گری کرتے آئے ہو ، تم آپس میں جنگیں لڑتے ہو ، بچوں کو اسکول میں مارتے ہو وغیرہ۔ تو ظاہر ہے یہ سارے کام مسلمانوں کے ایک گرو ہ نے کیئے ہونگے سب نے نہیں۔ لیکن خطاب میں سب آئیں گے۔
۵۔ یہاں آیات ۸۸ اور ۸۹ میں اللہ کی لعنت کا ذکر ہے۔ اللہ کی لعنت سے کیا مراد ہے؟
جواب۔ اس سے مراد خدا کی رحمت سے محرومی۔ یوں سمجھ لیں کہ اگر ایک چھ ماہ کے بچے پر سے ماں باپ اپنی توجہ ہٹالیں، اس سے نگاہیں پھیر لیں، اس کی ضروریا ت پوری نہ کریں، اس کو فیڈ نہ دیں تو بے شک اب وہ بچے پر کوئی غضب نہ بھی ڈھائیں ، اس بچے کی بقا ممکن نہیں۔ایسے ہی اگر خدا پنی رحمت ہٹادیں تو بس زندگی موت سے بھی بدتر ہوجاتی ہے۔ اللہ رحم فرمائیں۔ آمین
پروفیسر محمد عقیل

المبشر میگزین ۔۔ تیسرا شمارہ


المبشر میگزین کا تیسرا شمارہ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے لنک پر کلک کیجیے

ALmubashir-August-2015

المبشر میگزین۔۔ پہلا شمارہ


المبشر میگزین کا پہلا شمارہ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے لنک پر کلک کیجیے
Al-Mubashir Magazine june 2015

المبشر میگزین ۔۔ دوسرا شمارہ


لمبشر میگزین کا دوسرا شمارہ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے کلک کیجیے
اAl-mubashir-July-2015

دین کے بنیادی تقاضے۔نئی کتاب


دین کے بنیادی تقاضے

پروفیسر محمد عقیلؔ

اللہ تعالیٰ نے انسان کو محض اپنی بندگی کیلئے پیدا کیا ہے۔ اس بندگی کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ خدا ہی کی بات مانی جائے۔ اسی کے احکامات پر اپنے ظاہر و باطن کو جھکا دیا جائے اور طا غوت کی بات ماننے سے گریز کیا جائے۔ اسی بندگی اور تسلیم و رضا کو جا نچنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے زندگی و موت کا نظام پیدا کیا تاکہ آزمائے کہ کون بہتر عمل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں خیرو شر کا شعور رکھ دیا اور ساتھ ہی وحی کے ذریعے صراط مستقیم کا تعین کردیا تاکہ لوگ خدا کی مرضی کے مطابق زندگی گذارکر جنت کی ابدی نعمتوں سے مستفید ہوں۔ اس اہتمام کے باوجود انسان اکثر گناہوں کی غلاظت میں ملوث ہوجاتا اور نیکیوں سے دور ہوجاتا ہے ۔ اس نافرمانی کی بنا پر انسانی ذات آلودگی کا شکار ہوجاتی ہے اور کوئی بھی شخص نافرمانی کی آلودگی کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہوسکتا ۔ چنانچہ اللہ کی رضا کے حصول کے لئے لازمی ہے کہ خود کو گناہوں سے پاک اور نیکیوں سے آراستہ کیا جائے۔ اس عمل کو تزکیہ نفس کہا جاتا ہے۔
یہ تزکیہ نفس اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ایک مومن ان کاموں سے نہ رک جائے جن سے اس کا رب روکے اور ان امور پر عمل کرے جن کو کرنے کا حکم دیا جائے۔ شریعت کی اصطلاح میں انہیں اوامر و نواہی سے جانا جاتا ہے۔ ان اوامرو نواہی پر عمل کرنے کا پہلا قدم یہ ہے کہ ان کے بارے میں علم حاصل کیا جائے اور دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ اس علم پر عمل کیا جائے۔
اسلام کی یہ خوبی ہے کہ ایک دیہاتی شخص بھی اس پر عمل کرسکتا ہے اور ایک عالم فاضل اسکالر بھی۔ اسی لئے اسلام کو دین فطرت بھی کہا گیا ہے۔ یہ مختصر کتاب اسی مقصد کے تحت ترتیب دی گئی ہے کہ مسلمانوں کو ان احکامات کی مختصر فہرست دے دی جائے جن پر ان کا رب عمل کروانا چاہتا ہے۔ اس کتاب میں اوامرو نواہی کی ایک جامع فہرست دی گئی ہے۔ یہ فہرست ان منکرات کے بارے میں بتاتی ہے جن سے بچنا لازم ہے اور ان اچھے اعمال کی نشاندہی کرتی ہے جن پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص خود کو ان منکرات سے محفوظ نہیں رکھتا یا ان لازمی اعمال کو نہیں اپناتا تو وہ اپنا نفس آلودہ کرتا اور خدا کی نافرمانی کا مرتکب ہوجاتا ہے۔ اس نافرمانی میں وہ جتنا آگے بڑھتا ہے اتنا ہی جنت سے دور اور جہنم کے قریب ہوتا جاتا ہے۔ چنانچہ ان اوامرو نواہی کو جاننا اور ان پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لئے لازم ہے۔
اس کتاب میں بیان کردہ احکامات کی فہرست میں قرآن و حدیث کی وضاحت بھی بیان کی گئی ہے تاکہ اصل حکم تک رسائی ممکن ہوسکے۔آپ سے گذارش ہے کہ ان احکامات کو غور سے دیکھیں ، ان کے بارے میں اپنے علم میں اضافہ کریں اور پھر ان پر بھرپور عمل کرنے کی کوشش کریں کیونکہ یہی علم و عمل کی کاوش آخرت میں ہمیں سرخرو کرنے میں معاون ہوسکتی ہے جبکہ ایسا کرنے میں ناکامی کا انجام خد ا کی ناراضگی ہے جس کا متحمل ہم میں سے کوئی بھی نہیں ہوسکتا۔
پروفیسر محمد عقیل

کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے کلک کریں

Deen Ke Bunyadi Taqazay