Archive for the ‘اللہ سے تعلق’ Category

کرونا وائرس-نیچر کا انتقام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
درسگاہیں بند ، سوشل تقریبات معدوم ، عباداتی مراکز خالی، سڑکیں سنسان اور بازار ویران غرض ہر طرف ہو کا عالم ہے۔ لوگ ہاتھ ملانے سے گریزاں اور ایک دوسرے سے دور بھاگ رہے ہیں۔عوام تو عوام ، سربراہان مملکت گوشہ نشین کو پڑھنا جاری رکھیں

کرونا وائرس ۔خدا کہاں ہے؟


اگر خدا ہے تو کرونا وائرس کیوں آیا؟ وہ تو سراپا خیر ہے تو پھر یہ شر اس نے کیوں پیدا کیا کہ انسان پریشان پھر رہے ہیں؟ کروڑوں لوگ خوف میں بیٹھے ہیں اور خدا کو کوئی پروا ہی نہیں؟ اگر یہ سب کچھ نیچر کے قوانین ہی نے کرنا ہے اور اس کا علاج عالم اسباب ہی میں دریافت ہونا ہے تو خدا کی کیا ضرورت؟ یہ و ہ چند سوالات ہیں جو جدید ذہن میں مستقل پیدا ہورہے ہیں ۔
یہ وہ سوال ہے جو بالعموم مذہبی ذہنوں میں گونجتا ہے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

کرونا وائرس: کیا کیا جائے؟


نیچر کے مادی قوانین پر تو سائنس دان تحقیق کرہی رہے ہیں اور جلد یا بدیر اس بیماری کا علاج دنیا میں آجائے گا۔ اصل مسئلہ اس کا علاج نہیں بلکہ ان غیر مادی و اخلاقی قوانین کو ایڈریس کرنا ہے جو نگاہوں سے اوجھل ہیں ۔ ان پر ریسرچ کرنا درحقیقت اہل مذہب اور سماجی اسکالرز کی ذمہ داری ہے ۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

کرونا وائرس اور نیچر کے قوانین


ہم جانتے ہیں کہ نیچر یا قدرت فزکس، کیمسٹری ، بائیلوجی اور دیگر مادی قوانین پر کھڑی ہے اور یہ تمام قوانین بیلنس یا توازن کے اصول پر قائم ہیں۔ جب بھی انسان ان قوانین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا ہے تو نیچر ری ایکٹ کرکے اس کا رسپانس دیتی ہے۔ مثلا کوئی اگر کشش ثقل کے اصول کا خیال نہ کرے کو پڑھنا جاری رکھیں

کرونا،خدا اور نیچر


مولانا وحیدالدین خان نے ایک واقعہ نقل کیا کہ کچھ لوگ غار ثور کی زیارت کو گئے۔ فجر کا وقت تھا اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ عقیدت میں ننگے پاؤں اس کی زیارت کریں گے۔ وہ وہاں پہنچ تو گئے لیکن واپسی میں تیز دھوپ نکل آئی اور ان کے لیے ننگے پاؤں چلنا دو بھر ہوگیا۔ کچھ کے پاؤں بری طرح جل کو پڑھنا جاری رکھیں

مکافات عمل کیا مذہبی قانون ہے یا نیچر کا قانون ؟


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ڈاکٹر محمد عقیل
یہ کائنا ت مادی قوانین میں جکڑی ہوئی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان قوانین کو کس نے بنایا اور کس نے اس پر عمل کروایا؟ کس نے ہائیڈروجن اور آکسیجن کے مخصوص ملاپ سے پانی پیدا کیا اور کس نے پانی میں پیاس کو بجھانے کی خاصیت پیدا کی؟ عقلیت پسند اسے نیچر اور مذہبی لوگ اسے خدا کہتے ہیں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

انسانی ذہن اور وجود الٰہی


تحریر:ڈاکٹر محمد عقیل

دنیا کے تمام مذاہب میں خدا کا تصور موجود ہے۔ خدا سے تعلق قائم کرنے کے لیے عبادت کی جاتی ہے۔ اگر مشرکانہ مذاہب کی عبادت کو دیکھا جائے تو وہ خدا کا بت، تصویر یا پتلا سامنے رکھ کر اسے خدا سمجھتے ہیں اور یہ تمام مراسم عبودیت ادا کرتے ہیں۔ اس سے اگلا درجہ مراقبے کا ہے۔اس میں خدا کو سامنے تو نہیں رکھا جاتا البتہ اس کے کسی تصور کو فوکس کرکے اس سے تعلق قائم کیا جاتا ہے۔ یہ تصور کسی بت کا بھی کو پڑھنا جاری رکھیں

کیا تو ایسے شخص کو دنیا میں بھیجے گا جو قتل و غارت گری کرے گا؟

ڈاکٹر محمد عقیل
” میں زمین میں ایک بااقتدار مخلوق بھیجنے والا ہو ں۔ تم سب اس کے آگے جھکے رہنا اور اس کے ارادہ و اختیار میں بے جا مداخلت مت کرنا”۔ خدا نے فرشتوں سے کہا۔

کو پڑھنا جاری رکھیں

فطرت و وحی


اداریہ
میرے دوستو! مذہب کا مفہوم ہے ” راستہ”۔ یعنی مذہب دراصل وہ راستہ ہے جس کے ذریعے خدا تک پہنچا جاتا ہے۔کم و بیش ہر مذہب اپنی نسبت خدا سے کرتا ہے کہ وہی سچا اور واحد راستہ ہے۔ ہر مذہب دیگر مذاہب کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتا اور خود کو سراپا حق بنا کر پیش کرتا ہے۔ہر مذہب دیگر مذاہب کے ماننے والوں سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ باطل مذہب کو چھوڑ کر دین حق کو قبول کرلیں۔ ہر مذہب کے پاس اپنی صداقت کو بیان کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ دلائل کو پڑھنا جاری رکھیں

خدا نظر کیوں نہیں آتا؟


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
خدا نظر کیوں نہیں آتا؟
ڈاکٹر محمد عقیل
سوال یہ کہ خدا ظاہر ہوکر ایمان کا مطالبہ کیوں نہیں کرتا ؟ وہ کیوں سات آسمانوں میں چھپ کر خود تک پہنچنے کا مطالبہ کا کرتا ہے؟ وہ کیوں براہ راست کلام نہیں کرتا اور پیغمبروں پر کتابیں نازل کرکے انسانوں سے بات چیت کرتا ہے؟ وہ کیوں انسان سے مخلوق دیکھ کر خالق تک پہنچنے کا تقاضا کرتا ہے؟یہ چند سوالات ہیں جو ایک انسان کے ذہن میں گردش کرتے ہیں۔۔ اس کی ایک وجہ نہیں کئی وجوہات ہیں۔ ہم علمی طور پر جائزہ لیتے ہیں کہ خدا کیوں غیب میں رہتے کو پڑھنا جاری رکھیں

%d bloggers like this: