Archive for the ‘اللہ سے تعلق’ Category

ارحمنا یاجبار


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ارحمنا یا جبار
اللہ کی صفت “جبار” کا شمار طاقت و غلبے کی صفات میں ہوتا ہے۔”الجبار ” کے معنی قوت و شوکت کی مالک، زورآور، قوی اور قاہر ہستی کے ہیں۔ عرب جبار یا جبارہ اس کھجور کے درخت کو کہتے تھے جس کے کھجوروں یا پھل کو حاصل کرنے کے لیے کسی سہارے یا سیڑھی کی ضرورت ہوتی تھی ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ تصور پڑھنا جاری رکھیں

کہیں یہ مسجد ضرار تو نہیں؟

کہیں یہ مسجد ضرار تو نہیں؟
ڈاکٹر محمد عقیل
مسجد کو خد ا کا گھر کہا جاتا ہے یعنی ایک ایسی جگہ جہاں فرشتے خاص طور پر رحمتیں کی بارش کے لیے جمع ہوتے ، جہاں خدا کی خصوصی برکتیں عبادت گذاروں پر ناز ل ہوتیں اور جہاں خدا کی قربت کا غیر معمولی احساس ہوتا ہے۔مسجد کی پاکیزہ فضا اردگرد پڑھنا جاری رکھیں

الحلیم۔ بردبار


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحلیم۔ بردبار
ڈاکٹر محمد عقیل
الحلیم اللہ کی صفات میں ایک اہم صفت ہے۔ اس کے لغوی معنی ہیں بردباری کرنے والا، تحمل کرنے والا۔ حلم کا مطلب ہے جوش غضب سے اپنے نفس کو روکنا۔ اس کے معنی کو مزید کھولا جائے تو حلیم سے پڑھنا جاری رکھیں

شکر گذاری اور ناشکری کیا ہے؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
شکر گذاری اور ناشکری کیا ہے؟
ڈاکٹر محمد عقیل
خدا کے ساتھ بندوں کا تعلق دو طریقوں سے پیدا ہوتا ہے۔ مصیبتوں پر صبر کرنا اور نعمتوں پر شکر کرنا۔ لیکن ہم میں پڑھنا جاری رکھیں

دعا اور کلمہ کن سے ہم آہنگی


مضمون نمبر 5: دعا اور کلمہ کن سے ہم آہنگی
ڈاکٹر محمد عقیل
جب اللہ تعالی نے کائنات کی تخلیق کا ارادہ کیا تو سب سے پہلے ” کن ” کہا یعنی ہوجا۔ تو یہ کائنات وجود میں آگئی ۔ اللہ تعالی اس بات پر قادر تھے کہ وہ بس اشارہ کرتے اور سب کچھ خود بخود ایک سیکنڈ میں بن جاتا۔ لیکن اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ پڑھنا جاری رکھیں

اللہ کو صفاتی نام (اسم اعظم )کے ذریعے کس طرح پکارا جائے ؟


مضمون نمبر ۴: اللہ کو صفاتی نام (اسم اعظم )کے ذریعے کس طرح پکارا جائے ؟
ڈاکٹر محمد عقیل
اللہ نے خود قرآن میں فرمایا ہے کہ اللہ کو اسمائے حسنی کے ذریعے پکارو، سارے اچھے نام اسی کے ہیں۔
"اور سب اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں سو اسے انہیں ناموں سے پکارو اور چھوڑ دو ان کو جو اللہ کے ناموں میں کجروی اختیار کرتے ہیں وہ اپنے کیے کی سزا پا کر رہیں گے” (سورہ الاعراف ۱۸۰:۷)
پڑھنا جاری رکھیں

اسم اعظم یعنی بڑے نام سے دعا کرنا


مضمون نمبر ۳: اسم اعظم یعنی بڑے نام سے دعا کرنا
ڈاکٹر محمد عقیل
متعدد حسن اور صحیح روایات میں اسم اعظم کے ذریعے اللہ کو پکارنے کا حکم موجود ہے۔ یعنی اللہ کو ایک مخصوص نام سے اگر پکارا جائے تو اللہ تعالی ضرور سنتے ہیں۔ان روایات کی تفصیل یہ پڑھنا جاری رکھیں

%d bloggers like this: