Archive for the ‘اللہ سے تعلق’ Category

انسانی ذہن اور وجود الٰہی


تحریر:ڈاکٹر محمد عقیل

دنیا کے تمام مذاہب میں خدا کا تصور موجود ہے۔ خدا سے تعلق قائم کرنے کے لیے عبادت کی جاتی ہے۔ اگر مشرکانہ مذاہب کی عبادت کو دیکھا جائے تو وہ خدا کا بت، تصویر یا پتلا سامنے رکھ کر اسے خدا سمجھتے ہیں اور یہ تمام مراسم عبودیت ادا کرتے ہیں۔ اس سے اگلا درجہ مراقبے کا ہے۔اس میں خدا کو سامنے تو نہیں رکھا جاتا البتہ اس کے کسی تصور کو فوکس کرکے اس سے تعلق قائم کیا جاتا ہے۔ یہ تصور کسی بت کا بھی پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

کیا تو ایسے شخص کو دنیا میں بھیجے گا جو قتل و غارت گری کرے گا؟

ڈاکٹر محمد عقیل
” میں زمین میں ایک بااقتدار مخلوق بھیجنے والا ہو ں۔ تم سب اس کے آگے جھکے رہنا اور اس کے ارادہ و اختیار میں بے جا مداخلت مت کرنا”۔ خدا نے فرشتوں سے کہا۔

پڑھنا جاری رکھیں

فطرت و وحی


اداریہ
میرے دوستو! مذہب کا مفہوم ہے ” راستہ”۔ یعنی مذہب دراصل وہ راستہ ہے جس کے ذریعے خدا تک پہنچا جاتا ہے۔کم و بیش ہر مذہب اپنی نسبت خدا سے کرتا ہے کہ وہی سچا اور واحد راستہ ہے۔ ہر مذہب دیگر مذاہب کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتا اور خود کو سراپا حق بنا کر پیش کرتا ہے۔ہر مذہب دیگر مذاہب کے ماننے والوں سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ باطل مذہب کو چھوڑ کر دین حق کو قبول کرلیں۔ ہر مذہب کے پاس اپنی صداقت کو بیان کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ دلائل پڑھنا جاری رکھیں

خدا نظر کیوں نہیں آتا؟


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
خدا نظر کیوں نہیں آتا؟
ڈاکٹر محمد عقیل
سوال یہ کہ خدا ظاہر ہوکر ایمان کا مطالبہ کیوں نہیں کرتا ؟ وہ کیوں سات آسمانوں میں چھپ کر خود تک پہنچنے کا مطالبہ کا کرتا ہے؟ وہ کیوں براہ راست کلام نہیں کرتا اور پیغمبروں پر کتابیں نازل کرکے انسانوں سے بات چیت کرتا ہے؟ وہ کیوں انسان سے مخلوق دیکھ کر خالق تک پہنچنے کا تقاضا کرتا ہے؟یہ چند سوالات ہیں جو ایک انسان کے ذہن میں گردش کرتے ہیں۔۔ اس کی ایک وجہ نہیں کئی وجوہات ہیں۔ ہم علمی طور پر جائزہ لیتے ہیں کہ خدا کیوں غیب میں رہتے پڑھنا جاری رکھیں

خدا کا غیبی ہاتھ


ڈاکٹر محمد عقیل
ہمارے ہاں کچھ اسکالرز کا تصورایک ایسے خدا کے تصور سے ملتا ہے جو کائنات بناکر سات پردوں میں چھپ گیا اور جیتے جاگتے انسان کو قوانین قدرت کے بے رحم موجوں کے حوالے کردیا ۔ان کے تصور کے مطاق خدا ایک ایسی ہستی ہے جس نے انسانوں کو پیدا کیا، جو کبھی کبھی پیغمبروں کے ساتھ ہی نمودار ہوا، پڑھنا جاری رکھیں

سیکس ایجوکیشن اور ہم


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سیکس ایجوکیشن اور ہم
ڈاکٹر محمد عقیل
تعارف
سیکس ایجوکیشن ہمارے معاشرے میں اتنا حسا س مسئلہ ہے کہ اس پر بڑے بڑے اہل علم بھی قلم اٹھاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ماں باپ اپنے بچوں کو وہ بنیادی باتیں بتانے میں جھجکتے ہیں جن کو مائنس کرکے زندگی نہیں گذاری جاسکتی۔ہمارے تعلیمی ادارے جنسی تعلیم کا سلیبس بنانے میں اگر کامیاب بھی ہوجاتے ہیں تو اس کا نفاذ نہیں کرپاتے۔ ہمارا میڈیا ان باتوں کو شائستہ اسلوب میں ڈسکس کرنا گناہ عظیم سمجھتا ہے۔ لیکن پڑھنا جاری رکھیں

ذرا نماز پڑھنا سکھادیجے


ذرا نماز پڑھنا سکھادیجے
ڈاکٹر محمد عقیل
• حضرت ، ذرا نماز سے متعلق کچھ باتیں پوچھنی ہیں۔
o پوچھو کیا پوچھنا چاہتے ہو؟
• یہ بتائیں کہ نماز کی نیت زبان سے کرنی ہے کہ دل میں؟
o میاں نیت زبان سے کرو یا دل میں کرو، ہر صورت میں خالص ہونی چاہیے۔
پڑھنا جاری رکھیں

%d bloggers like this: