Archive for the ‘تزکیہ نفس’ Category

عورتوں کا عالمی دن


عورتوں کا عالمی دن
ڈاکٹر محمد عقیل
عورتوں کے عالمی دن پر بعض خواتین کی جانب سے نامناسب پوسٹرز کی تشہیر نے کئی بحثوں کو جنم دیا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ ان پوسٹرز کے ذریعے تشہیر کرنے والی خواتین اس معاشرے کا ایک فی صد حصہ بھی نہیں۔ اس لیے ان کے پوسٹرز کو عام خواتین کی اکثریت کا مطالبہ سمجھنا ایک غلطی ہے ۔ اس لیے ان کے مطالبات کو زیر بحث لانا اور ان کا جواب دینا ایک لایعنی بحث ہے ۔ دوسری بات یہ کہ ہماری خواتین کے مسائل مغربی معاشرے سے بہت مختلف ہیں۔ اس لیے تحریک نسواں کے علمبرداروں کو مغرب کی بجائے پاکستان کے تناظر میں خواتین کے مسائل کو دیکھنا ضروری ہے۔
اگر ہم پاکستانی خواتین کی اکثریت کا جائزہ لیں تو ہماری آدھی سے زیادہ خواتین دیہی زندگی گذارتی ہیں جہاں تعلیم موجود نہیں، عورت کیا مرد کے کمانے ذرائع بھی بہت محدود ہیں، خواتین کی اکثریت گھر سے باہر کے مسائل کو جانتی تک نہیں چہ جائیکہ ان سے نبٹنے کی صلاحیت رکھے۔ دوسری جانب ہمارے ہاں خواتین کی اکثریت کا استحصال مردوں کی بجائے عورتیں کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

من پر قابو کیسے ؟


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ڈاکٹر محمد عقیل
• حضرت ، چند باتیں بہت پریشان کرتی ہیں؟ میں نے حضرت سے پوچھا
• پوچھو کیا مسئلہ ہے؟ حضرت نے جواب دیا۔
• حضرت ، گوکہ میں جانتا ہوں صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے؟لیکن پھر بھی خود پر قابو نہیں۔ اس مسئلے کا کیا حل ہے؟
• بھئی دیکھو،محض یہ جاننا ضرور نہیں کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے؟ سب سے پہلے تو ” خود” کو جاننا ضروری ہے کو پڑھنا جاری رکھیں

سیکس ایجوکیشن اور ہم


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سیکس ایجوکیشن اور ہم
ڈاکٹر محمد عقیل
تعارف
سیکس ایجوکیشن ہمارے معاشرے میں اتنا حسا س مسئلہ ہے کہ اس پر بڑے بڑے اہل علم بھی قلم اٹھاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ماں باپ اپنے بچوں کو وہ بنیادی باتیں بتانے میں جھجکتے ہیں جن کو مائنس کرکے زندگی نہیں گذاری جاسکتی۔ہمارے تعلیمی ادارے جنسی تعلیم کا سلیبس بنانے میں اگر کامیاب بھی ہوجاتے ہیں تو اس کا نفاذ نہیں کرپاتے۔ ہمارا میڈیا ان باتوں کو شائستہ اسلوب میں ڈسکس کرنا گناہ عظیم سمجھتا ہے۔ لیکن کو پڑھنا جاری رکھیں

زینب کا قتل اور خدا پر سوالات


بسم اللہ االرحمٰن الرحیم
ڈاکٹر محمد عقیل
معصوم زینب کی شہادت پر اس وقت پورا الیکٹرانک اور سوشل میڈیا سراپا احتجاج اور غم و غصے کی کیفیت میں ہے۔ اس پر اہل علم بہت کچھ لکھ چکے اور لکھ رہے ہیں۔ اس کا ایک اور دردناک پہلو یہ ہے کہ کچھ لوگ خدا کے انصاف اور مذہب کو نشانہ بنارہے اور طنزو تشنیع کے تیر برسا رہے ہیں۔ ان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو سنجیدہ طور پر خدا کی حکمت اور مذہب کی راہنمائی کو جاننا چاہتے ہیں۔ مجھے خود کئی سوال براہ راست اور بلاواسطہ اس موضوع پر مل چکے ہیں جن کا ایک تحریر میں جواب دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اس صورت حال کا جائزہ جذبات سے بالاتر ہوکرعقل اور نقل کی روشنی میں لینا لازمی ہے ورنہ حقیقت کو پڑھنا جاری رکھیں

ذرا نماز پڑھنا سکھادیجے


ذرا نماز پڑھنا سکھادیجے
ڈاکٹر محمد عقیل
• حضرت ، ذرا نماز سے متعلق کچھ باتیں پوچھنی ہیں۔
o پوچھو کیا پوچھنا چاہتے ہو؟
• یہ بتائیں کہ نماز کی نیت زبان سے کرنی ہے کہ دل میں؟
o میاں نیت زبان سے کرو یا دل میں کرو، ہر صورت میں خالص ہونی چاہیے۔
کو پڑھنا جاری رکھیں

کیا قربانی قبول ہوئی؟ ڈاکٹر محمد عقیل


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
کیا قربانی قبول ہوئی؟ ڈاکٹر محمد عقیل
• "حضرت قربانی سے متعلق کچھ ارشاد فرمائیں۔”
پوچھو کیا پوچھنا ہے۔
• قربانی کی بنیادی شرط کیا ہے ؟
میاں ! قرآن میں آتا ہے کہ اللہ کو تمہارا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تقوی پہنچتا ہے۔ ۔ یاد رکھو! قربانی میں اصل اہمیت تقوی کی ہے گوشت اور خون کی نہیں۔ تقوی کے بنا سارے جانورگوشت اور خون ہیں جو کتنے ہی بڑے اور کتنے ہی قیمتی ہوں لیکن خدا کے نزدیک ان کی کوئی اہمیت نہیں۔ تقوی ہو تو محض ناخن کاٹنے پر ہی خدا قربانی کا اجر دے دیتا ہے اور تقوی نہ ہو تو کروڑوں کی نام نہاد قربانی منہ پر مار دی جاتی ہے کو پڑھنا جاری رکھیں

فیس بک پر جھوٹے لائکس کا فتنہ


فیس بک پر جھوٹے لائکس کا فتنہ
ڈاکٹر محمد عقیل
فیس بک کی کئی آزمائشوں میں ایک اہم فتنہ لائکس کا فتنہ ہے۔ عام طور پر ہم سب ایک دوسرے کی پوسٹوں کو لائک کرتے ہیں تو اس کے پیچھے کئی اسباب ہوتے ہیں جن میں کسی کی تعریف کرنا، حوصلہ افزائی کرنا، اپنے دلی جذبات کا اظہار کرنا یا پھر محض بتانا ہوتا ہے کہ ہم نے پڑھ لیا ہے۔ اس عمل میں عمومی طور کو پڑھنا جاری رکھیں

%d bloggers like this: