Archive for the ‘تزکیہ نفس’ Category

کرونا وائرس: کیا کیا جائے؟


نیچر کے مادی قوانین پر تو سائنس دان تحقیق کرہی رہے ہیں اور جلد یا بدیر اس بیماری کا علاج دنیا میں آجائے گا۔ اصل مسئلہ اس کا علاج نہیں بلکہ ان غیر مادی و اخلاقی قوانین کو ایڈریس کرنا ہے جو نگاہوں سے اوجھل ہیں ۔ ان پر ریسرچ کرنا درحقیقت اہل مذہب اور سماجی اسکالرز کی ذمہ داری ہے ۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

کیا کرونا ایک وارننگ ہے؟


کیا کرونا وائرس کی عالمی وبا بھی نیچر کا کوئی ری ایکشن ہے؟کیا یہ نیچر کی کوئی وارننگ ہے؟ اگر ہاں تو انسان سے ایسی کون سی غلطی ہوئی کہ نیچر نے اتنا شدید رد عمل دکھایا؟ اس سوال کا جواب ہمیں تاریخ میں وا ضح طور پر نظر آتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دوہرارہی ہے کو پڑھنا جاری رکھیں

کرونا وائرس اور نیچر کے قوانین


ہم جانتے ہیں کہ نیچر یا قدرت فزکس، کیمسٹری ، بائیلوجی اور دیگر مادی قوانین پر کھڑی ہے اور یہ تمام قوانین بیلنس یا توازن کے اصول پر قائم ہیں۔ جب بھی انسان ان قوانین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا ہے تو نیچر ری ایکٹ کرکے اس کا رسپانس دیتی ہے۔ مثلا کوئی اگر کشش ثقل کے اصول کا خیال نہ کرے کو پڑھنا جاری رکھیں

کرونا،خدا اور نیچر


مولانا وحیدالدین خان نے ایک واقعہ نقل کیا کہ کچھ لوگ غار ثور کی زیارت کو گئے۔ فجر کا وقت تھا اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ عقیدت میں ننگے پاؤں اس کی زیارت کریں گے۔ وہ وہاں پہنچ تو گئے لیکن واپسی میں تیز دھوپ نکل آئی اور ان کے لیے ننگے پاؤں چلنا دو بھر ہوگیا۔ کچھ کے پاؤں بری طرح جل کو پڑھنا جاری رکھیں

کرونا وائرس-عذاب یا آزمائش


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ڈاکٹر محمد عقیل
جب بھی کوئی قدرتی آفت یا یا وبا پھیلتی ہے تو ہمارے ہاں یہ بحث بڑی زور وشور سے شروع ہوجاتی ہے کہ یہ عذاب ہے، آزمائش ہے یا محض نیچر کا رد عمل۔ قدامت پسند مذہبی طبقے کا پورا زور ہوتا ہے کہ اسے عذاب الٰہی ثابت کرکے لوگوں کو ڈرا دھمکا کر ان مذہبی رسومات کی جانب راغب کیا جائے جس سے لوگ دور ہوتے جارہے ہیں۔جدید مذہبی طبقہ اسے عذاب لکھنے سے گریز کرتا ہے اور اسے محض آزمائش قرار دیتا ہے۔دوسری جانب عقلیت پسند ان دونوں نقطہ نظر پر پھبتیاں کستے اور کئی عقلی سوالات پیدا کرکے اسے نیچر کی کارستانی قرار کو پڑھنا جاری رکھیں

مکافات عمل کیا مذہبی قانون ہے یا نیچر کا قانون ؟


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ڈاکٹر محمد عقیل
یہ کائنا ت مادی قوانین میں جکڑی ہوئی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان قوانین کو کس نے بنایا اور کس نے اس پر عمل کروایا؟ کس نے ہائیڈروجن اور آکسیجن کے مخصوص ملاپ سے پانی پیدا کیا اور کس نے پانی میں پیاس کو بجھانے کی خاصیت پیدا کی؟ عقلیت پسند اسے نیچر اور مذہبی لوگ اسے خدا کہتے ہیں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

معاشی کرائسس – میں کیا کروں ؟


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ڈاکٹر محمد عقیل
” سر جی، حالات جتنے خراب ہورہے ہیں اس سے یوں لگ رہا ہے کہ ہم حرام کمانے پر مجبور ہوجائیں گے۔”
میرے گھر کام کرنے والے ایک مزدور نے بتایا۔وہ کہنے لگا۔
” آج ہی ایک عورت روتے ہوئے بتارہی تھی کہ حالات سے مجبور ہوکر آج وہ اپنی تین بیٹیوں کو دہاڑ ی پر لگا کر آئی ہے۔”
میں کانپ کر رہ گیا کو پڑھنا جاری رکھیں

دولت کی فراہمی کا خدائی نظام


(Divine System of Wealth Distribution)
ڈاکٹر محمد عقیل
دولت کیسے حاصل کی جاتی ہے؟ کیا دولت مند ہونا محض مقدر کا کھیل ہے؟ کیا یہ صرف محنت پر منحصر ہے؟ کیا دولت کے حصول میں ناجائز اور جائز کا بھی کوئی فرق ہے ؟ کیا دولت دینے میں خدا یا قسمت کا کوئی کردار ہے؟ آخر یہ کیا وجہ ہے کہ کچھ لوگ بے پناہ دولت مند ہوتے ہیں اور کچھ کو دو وقت کی روٹی بھی نصیب نہیں ہوتی؟ ان سوالات کے ساتھ ساتھ دیگر اہم امور جو دولت کے حصول سے متعلق ہیں ، ان کا آج کے مضمون میں ہم تفصیل اور سائنٹفک طریقے سے جواب دیں گے۔
تحریر اردو میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے کلک کریں
Divine System of Wealth Distribution Final

عورتوں کا عالمی دن


عورتوں کا عالمی دن
ڈاکٹر محمد عقیل
عورتوں کے عالمی دن پر بعض خواتین کی جانب سے نامناسب پوسٹرز کی تشہیر نے کئی بحثوں کو جنم دیا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ ان پوسٹرز کے ذریعے تشہیر کرنے والی خواتین اس معاشرے کا ایک فی صد حصہ بھی نہیں۔ اس لیے ان کے پوسٹرز کو عام خواتین کی اکثریت کا مطالبہ سمجھنا ایک غلطی ہے ۔ اس لیے ان کے مطالبات کو زیر بحث لانا اور ان کا جواب دینا ایک لایعنی بحث ہے ۔ دوسری بات یہ کہ ہماری خواتین کے مسائل مغربی معاشرے سے بہت مختلف ہیں۔ اس لیے تحریک نسواں کے علمبرداروں کو مغرب کی بجائے پاکستان کے تناظر میں خواتین کے مسائل کو دیکھنا ضروری ہے۔
اگر ہم پاکستانی خواتین کی اکثریت کا جائزہ لیں تو ہماری آدھی سے زیادہ خواتین دیہی زندگی گذارتی ہیں جہاں تعلیم موجود نہیں، عورت کیا مرد کے کمانے ذرائع بھی بہت محدود ہیں، خواتین کی اکثریت گھر سے باہر کے مسائل کو جانتی تک نہیں چہ جائیکہ ان سے نبٹنے کی صلاحیت رکھے۔ دوسری جانب ہمارے ہاں خواتین کی اکثریت کا استحصال مردوں کی بجائے عورتیں کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

من پر قابو کیسے ؟


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ڈاکٹر محمد عقیل
• حضرت ، چند باتیں بہت پریشان کرتی ہیں؟ میں نے حضرت سے پوچھا
• پوچھو کیا مسئلہ ہے؟ حضرت نے جواب دیا۔
• حضرت ، گوکہ میں جانتا ہوں صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے؟لیکن پھر بھی خود پر قابو نہیں۔ اس مسئلے کا کیا حل ہے؟
• بھئی دیکھو،محض یہ جاننا ضرور نہیں کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے؟ سب سے پہلے تو ” خود” کو جاننا ضروری ہے کو پڑھنا جاری رکھیں