Archive for the ‘اخلاقیات’ Category

فیس بک پر جھوٹے لائکس کا فتنہ


فیس بک پر جھوٹے لائکس کا فتنہ
ڈاکٹر محمد عقیل
فیس بک کی کئی آزمائشوں میں ایک اہم فتنہ لائکس کا فتنہ ہے۔ عام طور پر ہم سب ایک دوسرے کی پوسٹوں کو لائک کرتے ہیں تو اس کے پیچھے کئی اسباب ہوتے ہیں جن میں کسی کی تعریف کرنا، حوصلہ افزائی کرنا، اپنے دلی جذبات کا اظہار کرنا یا پھر محض بتانا ہوتا ہے کہ ہم نے پڑھ لیا ہے۔ اس عمل میں عمومی طور پڑھنا جاری رکھیں

خیرو شر کا تعین


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
خیرو شر کا تعین
پروفیسر محمد عقیل
دنیا وی اور دینی دونوں اعتبار سے خیر و شر کا تعین کرنا بہت اہم ہے۔ دنیا میں انسانی معاشروں میں قانون نام ہی خیر کے نفاذ اور شر سے روکنے کا ہے۔ اسی طرح مذہب بھی آخرت کی نجات خیر کو ماننے اور شر سے بچنے پر موقوف ہے۔ چنانچہ خیر اور شر کا تعین بہت ضروری ہے۔
عمل صالح یا نیکی اور گناہ کے تعین کے حوالےسے کئی نکتہ ہائے نظر پائے پڑھنا جاری رکھیں

نیکی کا درست تصور

نیکی کا درست تصور

ہم سب جانتے ہیں کہ ہماری نجات اسی وقت ممکن ہے جب ہمارے نامہ اعمال میں نیکیاں گناہوں کے مقابلے میں زیادہ ہوں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیکی کس عمل یا عقیدے کا نام ہے؟ کیا نیکی کا تصور محض نماز روزہ حج زکوٰۃ اور دیگر ظاہری عبادات تک محدود ہے یا اس کا دائرہ کار زندگی کے ہر معاملے تک پہنچتا ہے؟ کیا اس کی کوئی فہرست قرآن و سنت میں موجود ہے یا اسے عقل و فطرت سے بھی متعین کیا جاسکتا ہے؟کیا ہر نیکی کا وزن اس کی گنتی ہے لحاظ سے ہے یا اس کی کمیت یعنی کوالٹی کے اعتبار سے متعین ہوتا ہے؟ کیا نیکی صرف ظاہری عمل کا نام ہے باطنی نیت بھی نیکی میں شامل ہوسکتی ہے؟
یہ وہ سوالات ہیں جو نیکی کے تصور کو جاننے اور درست طور پر جاننے میں بہت اہم ہیں۔ اگر ہم قرآن کا جائزہ لیں تو قرآن سب سے پہلے جو بات ہمیں بتاتا ہے وہ یہ کہ اللہ نے ہمیں صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ۔ گویا عبادت ہی نیکی ہے اور عبادت سے گریز کرنا گناہ۔
ایک اہم سوال یہ ہے کہ کون سا عمل نیکی ہے؟ اس کےجواب میں بالعمو م روایتی حلقے ایک فہرست مرتب کردیتے ہیں جس میں اعمال صالح اور گناہوں کو بیان کردیا جاتا ہے۔ اس طرز عمل سے یہ فائدہ تو ہوتا ہے کہ اچھے اور برے اعمال کے بارے میں ایک اندازہ وہوجاتا ہے لیکن بدلتے ہوئے حالات اور ماحول میں یہ فہرست کارآمد نہیں رہتی۔ نیز اس فہرست کا دائرہ کار چند مخصوص معاملات تک محدود ہوجاتا ہے۔ اس اپروچ کا ایک اور نقصان یہ ہوتا ہے کہ بندہ عبادت، گناہ اور نیکی کو متعین کرنے کے لیے کسی مذہبی عالم کی تشریح کا محتاج رہتا ہے۔ چونکہ ہمارے مذہبی طبقے پر تصوف کا بڑا گہرا اثر ہے اس لیے دنیا سے متعلق اچھے اعمال کو عام طور پر وہ نیکیوں میں شمار نہیں کرپاتے کیوں ان کی دانست میں اس سے دنیا پرستی کو فروغ مل سکتا ہے۔
اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ نیکی کی ایک جامع تعریف قرآن و سنت کی روشنی میں پیش کی جائے اور اسی تناظر میں نیک اعمال اور گناہوں کا تعین کرنے کے عمل کو سیکھا جائے ۔ نیکی کی تعریف اگر ہم قرآن و سنت کی روشنی میں کریں تو کچھ یوں بنتی ہے:
نیکی سے مراد ہر وہ عمل ہے جو خدا کی بیان کردہ حلا ل و حرام کی حدود قیود میں رہتے ہوئے خلوص نیت اور خوش اسلوبی کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد کسی بھی مخلوق کو جائز طور پر فائدہ پہنچانا ہو۔
اس کی تشریح کی جائے تو مندرجہ ذیل نکات سامنے آتے ہیں:
۱۔ پہلی بات کہ نیکی سے مراد کوئی بھی عمل ہے ۔ ضروری نہیں کہ یہ عمل صرف دینی امور سے متعلق ہو، یہ دنیا کا بھی کوئی معاملہ ہوسکتا ہے۔شرط یہ ہے کہ آگے بیان کردہ شرائط پوری ہورہی ہوں۔جیسا کہ اس آیت کو دیکھیں:
لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ قِـبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ وَالْكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَ ۚ وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ ۙ وَالسَّاۗىِٕلِيْنَ وَفِي الرِّقَابِ ۚ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ ۚ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰھَدُوْا ۚ وَالصّٰبِرِيْنَ فِي الْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ وَحِيْنَ الْبَاْسِ ۭ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ ١٧٧؁
نیکی یہی نہیں کہ تم اپنا رخ مشرق یا مغرب کی طرف پھر لو ۔ بلکہ اصل نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ پر، روز قیامت پر، فرشتوں پر، کتابوں پر اور نبیوں پر ایمان لائے۔ اور اللہ سے محبت کی خاطر اپنا مال رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں ، سوال کرنے والوں کو اور غلامی سے نجات دلانے کے لیے دے۔ نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے۔ نیز (نیک لوگ وہ ہیں کہ) جب عہد کریں تو اسے پورا کریں اور بدحالی ، مصیبت اور جنگ کے دوران صبر کریں ۔ ایسے ہی لوگ راست باز ہیں اور یہی لوگ متقی ہیں۔ (البقرہ ۱۷۷:۲)
ان آیات کو غور سے دیکھا جائے تو علم ہوتا ہے نیکی میں ایمان لانے کا عمل بھی شامل ہے، اس میں معاشرے کے مختلف مستحقین کو صدقہ دینا بھی شامل ہے ، نماز اور زکوٰۃ کی عبادات بھی ہیں اور مختلف مواقع پر صبر کرنا بھی شامل ہے۔ یعنی نیکی کا دائرہ کار صرف دینی امور ہی نہیں بلکہ دنیوی معاملات تک وسیع ہے۔
۲۔کسی عمل کے عمل صالح ہونے کے لیے پہلی شرط خدا کی بیان کردہ حلا ل و حرام کی قید کا خیال رکھنا ہے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ خدا نے حلا ل و حرام کی قیود صرف وحی کے ذریعے ہی نہیں بتائی بلکہ انسان کی فطرت کے اندر بھی جائز و ناجائز کو طے کرنے کی بنیادی صلاحیت رکھ دی ہے۔ بالخصوص اخلاقیات کے اکر معاملات میں اصل فتوی دل کا ہی ہوتا ہے۔ جیسا کہ اس سورۃ میں بیان کیا گیا ہے:
وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰىهَا Ċ۝۽ فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوٰىهَا Ď۝۽
اور نفس کی قسم اور جس نے اسے درست کیا ہے۔ پھر اسے اس کی بدکاری اور پرہیزگاری کا الہام (القاء) کیا۔(سورہ الشمس ۹۱، آیات ۷-۸)
تو اصل بات یہ ہے کہ کسی عمل کے نیکی ہونے کی پہلی شرط یہی ہے کہ وہ خدا کی بیان کردہ حدودو قیود کے اندر ہو۔ مثال کے طور پر اگر ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے لیکن وہ ناپاکی کی حالت میں ہے تو اس نے خدا کی حلال و حرام کی حدود کی خلاف ورزی کی۔ چنانچہ بلاعذر ناپاکی کی حالت میں نماز پڑھنا نیکی نہیں بلکہ گناہ تصور ہوگا۔ ایسے ہی ایک شخص حج اگر حرام کی کمائی سے کررہا ہے تو یہ عمل بظاہر عبادت ہونے کے باوجود حقیقت میں نیکی نہیں۔اسی طرح ایک شخص اپنے بچوں کا پیٹ پال رہا ہے لیکن وہ اس چوری کے پیسوں سے یہ کام کررہا ہے ۔بچوں کا پیٹ پالنا ایک نیک کام ہے لیکن اس کو پورا کرتے وقت خد کے بیان کردہ حدود کی پاسداری نہیں کی گئی، اس لیے یہ نیکی نہیں۔
۳۔ کسی عمل کے نیکی ہونے کی دوسری شرط یہ ہے کہ نیت کے اخلاص کا ہونا ہے۔ یعنی جس مقصد کے لیے وہ کام کیا جارہا ہے وہ واضح طور پر یا لاشعور میں کہیں موجود ہونا چاہیے۔
إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصاً لَّہُ الدِّیْنَ أَلَا لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ.(الزمر ۳۹ : ۲)
’’بے شک ، ہم نے یہ کتاب تمھاری طرف مطابق حق اتاری ہے تو تم اللہ ہی کی بندگی کرو اطاعت کو اسی کے لیے خاص کرتے ہوئے۔ سن لو کہ خالص اطاعت کا سزاوار اللہ ہی ہے۔‘‘
مثلا ایک شخص روزہ رکھ رہا ہے لیکن اس کا مقصد صرف لوگوں کو دکھانا ہے تو یہاں اخلاص کی کمی ہے جس کی بنا پر اس کا روزہ عبادت یا نیکی نہیں۔ ایک شخص میدا ن جنگ میں جہاد کررہا ہے لیکن مقصد مال غنیمت ہے تو یہ نیکی نہیں۔لیکن ایک شخص اخلاص کے ساتھ اپنی محنت کی کمائی سے کسی کو ایذا پہنچائے بنا زکوٰۃ ادا کرتا ہے تو یہ عبادت یا نیکی ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ بعض اوقات نیت کا اظہار باقاعدہ زبان سے نہیں کیا جاتا اور یہ لاشعور میں کہیں نہ کہیں موجود ہوتی ہے۔ جیسے ایک شخص نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوا اور اس کچھ کہے بنا نیت باندھ لی۔ یہاں اس کا عمل یہ بتارہا ہے کہ وہ شخص نماز پڑھنے کا ارادہ رکھتا تھا اسی لیے نیت باندھی ہے۔
دینی معاملات میں تو بالعموم اور بظاہر یہ لگتا ہے کہ عمل اللہ کے لیے کیا جارہا ہے لیکن دنیوی معاملات میں عمل کو اللہ کے لیے خالص کرنے کی نیت کا اظہار اکثر اوقات نہیں ہوپاتا۔ مثال کے طور پر ایک شخص روزانہ کمانے کو گھر سے نکلتا ہے تو بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اس عمل میں اللہ کو راضی کرنے کی نیت موجود نہیں۔ اسی بنا پر کچھ لوگ کمانے کو عمل کو دنیا داری کہہ کر اسے نیکی سے خارج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دیکھا جائے تو وہ شخص روزی کماتے وقت اللہ کی حدود و قیود کا خیال رکھ رہا ہے ۔ چنانچہ جس طرح نماز پڑھتے وقت لازم نہیں کہ زبان سے نیت کی جائے اسی طرح دنیاوی نیکیوں میں بھی ممکن نہیں کہ شعوری سطح پر ہر مرتبہ بیان کی جاری کیا جائے۔ بس ایک عمومی ارادہ کافی ہوتا ہے۔
۴۔ عمل صالح ہونے کی تیسر ی شرط اس عمل کو محنت یا مہارت سے یا خوش اسلوبی سے انجام دینا ہے۔
وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى 39؀ۙ
اور یہ کہ انسان کے لیئے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اس نے سعی کی ہے(النجم ۳۹:۵۳)
پہلی بات تو یہ ہے کہ انسان کے لیے نیکی اتنا ہی عمل ہے جس کی اس نے کوشش کی۔ کسی دوسرے کا عمل اس کے لیے نیکی نہیں ہوسکتا تاوقتیکہ اس میں اس کی بالواسطہ کوشش شامل ہو۔ اس کے علاوہ جو بھی عمل کیا جائے وہ خوش اسلوبی کے ساتھ کیا جائے۔ اس کامطلب ہے کہ اس عمل میں جتنی بے دلی شامل ہوگی اتنا ہی وہ عبادت سے دور ہوتا چلا جائے گا۔ یعنی و ہ کام جو مارے باندھے کیے جاِئیں وہ نیکی نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر ایک شخص اس طرح نماز پڑھ رہا تھا کہ رکوع و سجود درست طور پر ادا نہیں ہورہے تھے ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم دوبارہ پڑھو تمہاری نماز نہیں ہوئی۔ اسی طرح قرآن میں منافقین کی نماز کا ذکر ہے کہ وہ مارے باندھے مسجد میں آتے ہیں ۔
دنیاوی معاملات میں بھی محنت اور خوش اسلوبی ضروری ہے۔ ایک شخص جب ملازمت کرتا ہے تو کام چوری کرنا یا اپنی ذات کو آرام دینے کے لیے چور راستے تلاش کرنا نیکی کو گناہ میں بدل سکتا ہے۔
۵۔ آخری شرط یہ ہے کہ عمل کا مقصد کسی نہ کسی مخلوق کو براہ راست یا بالواسطہ نفع پہنچانا ہو۔ یہ نفع دنیا کا بھی ہوسکتا ہے اور دین کا بھی۔دین کے نفع کو نیکی ماننا تو ایک مسلمہ ہے لیکن دنیوی کاموں کو بھی متعدد احادیث میں صدقہ اور نیکی قرار دیا گیا ہے۔
۱۔ ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعمال میں سے کونسا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ پر ایمان اور اس کے راستے میں جہاد؟ میں نے عرض کیا کہ کونسا غلام آزاد کرنا سب سے افضل ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو اس کے مالک کے نزدیک سب سے اچھا اور قیمتی ہو، میں نے عرض کیا کہ اگر میں ایسا نہ کر سکوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کسی کے کام میں اس سے تعاون کرو یا کسی بے ہنر آدمی کے لئے کام کرو، میں نے عرض کیا کہ اگر میں ان میں سے بھی کوئی کام نہ کر سکوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھو اس لئے کہ اس کی حیثیت تیری اپنی جان پر صدقہ کی طرح ہو گی۔( صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 251)
۲۔ اچھائی کا حکم کرنا صدقہ ہے اور برائی سے روکنا صدقہ ہے۔(مسلم)
۳۔ جو اپنے اہل وعیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے تو وہ اسی کے لئے صدقہ ہوگا۔(مسلم)
۴۔ تمہارے ہر ایک کی شرمگاہ میں صدقہ ہے، صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا اللہ کے رسول کیا ہم میں کوئی اپنی شہوت پوری کرے تو اس میں بھی اس کے لئے ثواب ہے فرمایا کیا تم دیکھتے نہیں اگر وہ اسے حرام جگہ استعمال کرتا تو وہ اس کے لئے گناہ کا باعث ہوتا اسی طرح اگر وہ اسے حلال جگہ صرف کرے گا تو اس پر اس کو ثواب حاصل ہوگا۔(مسلم)
۵۔ دو آدمیوں کے درمیان عدل کرنا صدقہ ہے آدمی کو اس کی سواری پر سوار کرنا یا اس کا سامان اٹھانا یا اس کے سامان کو سواری سے اتارنا صدقہ ہے اور پاکیزہ بات کرنا صدقہ ہے اور نماز کی طرف چل کر جانے میں ہر قدم صدقہ ہے اور راستہ سے تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔(مسلم)
۶۔ کتے یا کسی جانور کو پانی پلانا بھی نیکی ہے ( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2208)
۷۔ رشتے داری کا لحاظ رکھنا، گناہوں سے بچنا، مصیبت برداشت کرنا، اچھے اخلاق اپنا، قرض دار کو مہلت دینا سب اعمال نیکی ہیں۔(بخاری)
ا ن تمام روایات کو جمع کیا جائے تو علم ہوتا ہے کہ صدقہ یا نیکی سے مراد ہر و ہ عمل ہے جس میں خود کو یا کسی دوسری مخلوق کو نفع پہنچایا جارہا ہو۔ اس اصول کے تحت مثال کے طور پر ایک قاری اگر بچوں کو قرآن پڑھا رہا ہے تو چونکہ وہ انہیں دین کے معاملے میں نفع پہنچا رہا ہے تو اس کا عمل نیکی ہے۔ اسی طرح ایک استاد اگر بچوں کو کیمسٹری پڑھا رہا ہے تو اس کا مقصد دنیوی فائدہ پہنچانا ہے تو یہ بھی ویسے ہی نیکی ہے جیسے قرآن پڑھانا۔
بعض اوقات انسان کوئی عمل کسی دوسری مخلوق کے لیے نہیں بلکہ اپنی ذات کو فائدہ پہنچانے کے لیے کررہا ہوتا ہے تو یہ بھی عبادت ہے۔ جیسے نماز پڑھنا خود کو دینی فائدہ پہنچانے کا عمل ہے،اسی طرح رزق کمانا، پڑھائی کرنا یا معلومات میں اضافہ کرنا خود کو دنیوی فائدہ پہنچانے کا عمل ہے اس لیے یہ بھی نیکی ہے۔
خلاصہ
اوپر کی بحث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ نیکی کا دائرہ کار صرف دینی عبادات، مذہبی رسومات اور عقائد تک محدود نہیں بلکہ ہر اچھا عمل نیکی ہے بشرطیکہ اسے ان حدود قیود میں کیا جائے جن کا اوپر تذکرہ کیا گیا ہے۔
پروفیسر محمد عقیل

بیوی پر شک اور بدگمانی


بیوی پر شک اور بدگمانی
کہتے ہیں مرد عام طورپر شکی ہوتے ہیں۔شک کا ایک بڑا سبب عادت و مزاج ہوتا ہے۔ چنانچہ کچھ مرد اپنی بیویوں پر بلاجواز شک کرتے اور ان پر کڑی نگاہ رکھنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ وہ انہیں ایک ایسے پولیس مین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو ہر شخص کو مجرم سمجھتا ہے۔ ایسے شوہر اپنی بیوی کو مجرم گردانتے اور ہر دوسرے دن اس سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنی عفت کا ثبوت پیش کرے۔
اس قسم کے لوگ باآسانی بدگمانی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہ بیوی کی ہر ٹیلفون کل پر نظر رکھتے ، اس کے ایس ایم ایس سے غلط معنی اخذ کرنے کی کوشش کرتے، اس کے مو ڈ سوئینگ کو الٹی سیدھی توجیہہ دینے کی کوشش کرتے ، اس کی مسکراہٹ کے پیچھے کسی کا خِیال محسوس کرتے، اس کی چہل قدمی کو کسی کا انتظار سمجھتے اور اسکے میک اپ کو اپنی بدگمانی کی عینک سے مشکوک بنادیتے ہیں۔ جب بیوی ذرا بھی ان کے سوالات کا جواب دینے میں چوک جاتی اور انہیں مطمئین نہیں کرپاتی تو ان کے شک کا سانپ اور سرکش ہوجاتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے شک کا یہ اژدہا پورے خاندان کو نگل لیتا ہے۔

شک کا تعلق ماحول سے بھی ہوتا ہے۔ بعض اوقات ایک ایک بند ماحول میں رہنےوالا شخص باآسانی بدگمانی کی جانب مائل ہوجاتا ہے۔ اور اگر بیوی ذرا آزاد ماحول کی ہو بس پھر تو معاملہ خراب۔ بیوی کا کسی سے ہنس کر بات کرنا، کسی کی بات پر مسکرادینا، کسی کی تعریف میں دو بول بول دینا، کسی پر تبصرہ کردینا ایک تنگ نظر میاں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ ہر آنے والا دن بیوی کوایک بے حیا عورت کے روپ میں پیش کرتا رہتا ہے۔ایسا مرد اپنی بدگمانی میں طرح طرح کی باتیں سوچتا اور الٹے سیدھے اندازے لگاتا رہتا ہے۔ اس کی بدگمانی کبھی اس کی مردانگی پر سوالیہ نشان ڈالتی، کبھی بیوی کے کردار کو براپیش کرتی، کبھی بیوی کی بے تکلفی کو فحاشی گردانتی تو کبھی اس کی سرگرمیوں کی ٹوہ لینے پر اکساتی ہے۔

بیوی سے بدگمان ہونے کی ایک اور وجہ کوئی واقعہ، قصہ، ڈرامہ یا کہانی ہوتی ہے ۔ کبھی کسی فلم سے متاثر ہوکر میاں اپنی بیوی کو اسی روپ میں دیکھنے لگ جاتا ہے جس میں ایک بے حیا عورت کے کردار کو دکھایا گیا ہوتا ہے۔ اب اسی مفروضے پر جب وہ روزمرہ کا جائزہ لیتا ہے تو بیوی کی بہت سے باتیں اس کردار سے ملتی جلتی معلوم ہوتی ہیں۔ اس کی بیوی اس بے حیا کردار کی طرح فیس بک بھی استعمال کرتی، وہاٹس ایپ بھی چلاتی، ای میل بھی کرتی اور ایس ایم ایس بھی بھیجتی نظر آتی ہے۔ اسے اپنی بیوی بالکونی میں بھی کھڑی دکھائی دیتی اور کبھی چھت پر جاتی نظر آتی ہے۔ اب اسے یہ خیال آتا ہے کہ کسی طرح بیوی کی جاسوسی کرے۔ اس جاسوسی میں کوئی نہ کوئی ایسی بات مل سکتی ہے جو شک کو قوی کردے۔ اس کے بعد اعتماد متزلزل ہونا شروع ہوجاتا ہے۔
بدگمانی کی اس کے علاوہ بھی بے شمار وجوہات ہوسکتی ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایک بدگمان شخص اس مفروضے پر سوچتا ہے کہ اس کی بیوی غلط راہوں پر جارہی ہے یہی اصل خرابی کی جڑ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک شخص کا شک درست ہوسکتا ہے لیکن اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ شک غلط بھی ہوسکتا ہے۔چنانچہ عا م اصول کے تحت ہر شخص کو شک کافائدہ دینا چاہئے اور اسے اس وقت تک بے قصور سمجھنا چاہئے جب تک کہ اس کے قصور وار ہونے کے قوی ثبوت نہ مل جائیں۔
بدگمانی کے کئی حل ہیں۔ اول تو بدگمانی جب بھی پیدا ہو تو اسے پہلے مرحلے پر جھٹک دینا چاہئے۔اگر اس سے کام نہ بنے تو بدگمانی کی وجہ معلوم کرکے اس کا قلع قمع کرنے کی کوشش کرنا چاہئے۔ اگر شک بہت قوی ہو تو اسے بات چیت کے ذریعے ڈسکس کرلینا چاہئے۔ اس سے رشتے میں دراڑ کی بجائے مضبوطی پیدا ہوگی۔ اگر معاملہ اس سے بھی حل نہ ہو تو چند بزرگوں کو بیچ میں ڈال کر سماجی دباؤ کے تحت کام کروایا جاسکتا ہے۔ اس کے باوجو بھی اگر معاملہ حل نہ ہو تو کیا کریں؟ فرض کریں ایک شخص کی بیوی واقعی کسی دوسرے مرد میں دلچسپی رکھتی ہے تو جذبات سے قطع نظر ہوکر دیکھیں تو کیا کیا جاسکتا ہے اس معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کریں اور حل نہ ہونے کی صورت میں خوش اسلوبی سے علحیدگی اختیار کرلیں۔
پروفیسر محمد عقیل

فار گرانٹڈ


فار گرانٹڈ
(For Granted)
زندگی میں بے شمار نعمتیں ہمیں بن مانگے مل جاتی ہیں۔ ہم ان کے لئے نہ تو سوچتے ، نہ محنت کرتے، نہ پریشان ہوتے اور نہ ہی کوئی تگ و کرتے ہیں ۔اس کے باوجود یہ ہماری جھولی میں ڈال کر دے دی جاتی ہیں۔ اس میں سر فہرست اللہ تعالیٰ کی جانب سے دی ہوئی نعمتیں ہیں۔ ہم پیدا بھی نہیں ہوتے اور ماں کے پیٹ میں ہماری کابندوبست ہوجاتا ہے۔ جب ہم اس دنیا میں آتے ہی تو زمین کی آغوش ہمارے لئے ماں کا پیٹ بن جاتی اور زندگی گذارنے کی تمام سہولیات بن مانگے مل جاتی ہیں۔ سورج حرارت فراہم کرتا، رات سکون مہیا کرتی، چاند تارے ذوق کی تسکین کرتے، فضا تفس کو ممکن بناتی ، زمین اپنا سینہ چاک کرکے غذا کو اگلتی اور جانور گوشت کے پہاڑ بنے لذت کام و دہن کا سبب بنتے ہیں۔

ان نعمتوں کی فراہمی کو ہم فارگرانٹڈ لیتے اور اپنا حق سمجھتے رہتے ہیں۔یہیں سے ختم نہ ہونے والی غلطیوں کا آغاز ہوتا ہے۔ پھر اس کی نعمتیں حقیر لگتیں، پھر اس کے وجود کا احساس ہی نہیں ہوتا، پھر اس کے کرم کا اندازہ نہیں ہوتا اور اس کی لا متناہی شفقت محسوس ہی نہیں ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خدا نعوذ باللہ ایک خودکار مشین کی مانند لگنے لگتا ہے ۔ پھر سب کچھ خود بخود ہوتا دکھائی دیتا ہے ۔آفاق میں سورج کا طلوع و غروب، سبزہ کا اگنا ، غلہ کی پیداوار ، زمین کی گردش، بارش کا برسنا سب کچھ خود بخود ہوتا معلوم ہوتا ہے۔ انفس میں سانس و زیرو بم، دل کی دھڑکن، آنکھوں کی بصارت، زبان کا تکلم، کانوں کی سماعت، دماغ کی سوچیں سب ایک خود کار نظام کے تحت بندھے ہوئے لگتے ہیں۔
پھر لاشعور میں یہ خیال راسخ ہوجاتا ہے جب سب کچھ خود بخود مل رہا ہے تو کیوں اس کی شکرگذاری کی جائے، کیوں اس کی بندگی کی جائے، کیوں اس کی بات مانی جائے ، کیوں اس کے آگے جبین نیاز ٹیکی جائے؟ اس سے اگلا قدم یہ ہوتا ہے کہ اب کسی خدا کی کیا ضرورت؟یہ تو سب خود بخود ہورہا ہے۔ اس سے آگے کچھ لوگ بڑھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا موجود ہی نہیں اور نعوذباللہ انسانی ذہن کی پیداوار ہے۔
اسی صورت حال سے انسان کو بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ براہ راست مداخلت کرتے ہیں اور یہ احسا س دلاتے ہیں کہ یہ سب نعمتیں انسان کا حق نہیں بلکہ اللہ کی عنایت ہیں اور اللہ جب چاہیں واپس لے سکتے ہیں۔ چنانچہ کبھی زمین کو ہلایا جاتا ، سمندر کے بند کھول دئیے جاتے،ہوا کی باگیں چھوڑدی جاتیں، آسمانی بجلی کو آزاد کردیا جاتا اوربارش کو طوفان میں بدل دیا جاتا ہے ۔ اس کا مقصد انسان کو یہ احسا س دلانا ہے کہ یہ سب کچھ فارگرانٹڈ لینے کے لئے نہیں۔ ان سب کے خالق کاشکر واجب ہے، اس کا احترام لاز م ، اس کی نمک حلالی ضروری ہے۔ خدا کی نعتموں کو فارگرانٹڈ نہ لیجئے ۔ ورنہ بہت جلد آپ کو یہ تجربہ کروایا جاسکتا ہے کہ یہ سب فارگرانٹڈنہیں ۔
پروفیسر محمد عقیل

نفس کی بادشاہی


نفس کی بادشاہی
میں اور آپ جس ظاہری بدن کے ساتھ اس دنیا میں موجود ہیں یہ محض ایک ڈھانچہ ہے۔ اس ڈھانچے کے اندر ہماری اصل شخصیت ہے جسے ہم خودی کا نام دیتے ہیں۔ہمارا ظاہری وجود عام طور پر ہر دس سال کے بعد تبدیل ہوجاتا ہے اور ہمارے جسم کے سارے خلیات تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اس کے باوجود ہماری خودی وہی رہتی ہے۔
یہ ہماری باطنی شخصیت یا نفس بظاہر ہمارا اپنا ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک سرکش ،تندخو اور آزاد منش کی مانند ہے۔یہ ایک آوارہ بادل کی طرح اپنی مرضی سے ادھر ادھر گھومنا ، اپنی مرضی سے گرجنا برسنا اور تحلیل ہونا چاہتاہے۔لیکن اگر اسے آزاد چھوڑ دیا جائے تو انسان اور جانور میں کوئی فرق نہیں رہ جائے گا۔
یہ نفس بے شمار داخلی اور خارجی عوامل سے متاثر ہوتا ہے ۔ہمارے اندر بھوک ، پیاس ، شہوت، غصہ ، چاہے جانے کا احساس اور دیگر داعیات ہوتے ہیں ۔ اگر ان پر قابو نہ پایا جائے تو یہی ہمارے نفس کو آلودہ کردیتے ہیں ۔ مثال کے طور پر جنسی شہوت ایک جبلی اور فطری تقاضا ہے جو انسان کی بقا کے لئے لازمی ہے۔ لیکن اگر اس تقاضے کو کھلی چھٹی دے دی جائے تو کسی کی عزت محفوظ نہیں رہتی اور انسان چوپائے کی طرح ہر جگہ منہ مارتا پھرتا ہے۔ یہی معاملہ باقی تقاضوں کا بھی ہے۔
دوسری جانب ہمار ا نفس باہر کے عوامل سے بھی متاثر ہوتا ہے ۔ اس خارج کے ماحول میں ماحول ماں باپ ، بہن بھائی، دوست احباب اور دیگر لوگ اس نفس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ انسان کا سب سے بڑا دشمن شیطان بھی اسی خارج کے ماحول سے دراندازی کرتا ہے۔
یہ داخلی اور خارجی ماحول مل کر انسان کی اصل شخصیت پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ لیکن اللہ نے انسان کو اس پورے معاملے میں تنہا نہیں چھوڑا۔ کہیں انسان کے اندر ہی ضمیر یا نفس لوامہ کی ایک چھوٹی سی عدالت لگادی جو قدم قدم پر اسے اس کی غلطیوں پر متنبہ کرتی رہتی ہے۔ دوسری جانب وحی کے ذریعے انسان کو ان امور پر متعین طور پر راہنمائی فراہم کردی جس میں اسے ٹھوکر لگنے کا اندیشہ تھا۔
انسان کی شخصیت یا نفس کی مثال ایک سرکش گھوڑے کی مانند ہے جس پر سوار بیٹھا ہے۔ گھوڑے کا داخلی نقص اس کی سرکشی ہے جس کی بنا پر ہر دم یہ خطرہ ہے کہ یہ سوار کو منزل مقصود پر لے جانے کی بجائے راستے ہی میں پٹخ دے۔ گھوڑے کے خارجی ماحول میں پرخطر راستے ہیں جس پر چلنے سے گھوڑا انکار کردےا ور بدک جائے۔ان خطرات سے نبٹنے کے لئے گھوڑے کو تربیت دینا اشد ضروری ہے تاکہ اس کی سرکشی کو ختم کیا جاسکے اور ساتھ ہی ساتھ اسے پرخطر راستوں کا عادی بنایا جاسکے۔

والدین کے فیصلے

سوال: اگر اولاد اپنی فرمانبرداری کی وجہ سے والدین کے آگے نہ بولے اور ان کے غلط فیصلوں کی نذر ہو جائے تو قیامت کے دن والدین سے اس کا سوال ہو گا؟ یا وہ اپنے مرتبے کی وجہ سے اولاد کے لئے غلط فیصلوں کا بھی اختیار رکھتے ہیں اور ان سے کوئی حساب نہ ہو گا؟

جواب: اس کائنات کے نظام کو چلانے کے لئے اللہ نے انسانو ں کے لئے حقوق و فرائض کا دائرہ کار متعین کر دیا ہے۔ کہیں ہم حقوق سے نوازے گئے ہیں تو کہیں فرائض کی صورت میں ذمہ داریاں ودیعت کی گئی ہیں ۔مگر یہ بات قابل غور ہے کہ ہر ذمہ داری کی پوچھ گچھ بھی اس کے مطابق ہو گی یعنی جتنی بڑی ذمہ داری اتنا بڑا احتساب ۔۔ اسلام کی تعلیم یہی ہے کہ ہر شخص اپنے اوپر عائد حقوق کی ادائیگی کے لیے کمر بستہ رہے۔

اس کائنات ارضی کے رشتوں میں والدین کا رشتہ سب سے معزز اور اہم ترین ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں جابجا والدین سے حسن سلوک کا تاکیدی حکم ملتا ہے۔لیکن ایسا نہیں ہے کہ اولاد پر صرف فرائض ہی عائد کئے گئے ہیں بلکہ ان کے حقوق بھی اخلاق ،معاشرت اور قانون کا حصہ بنائے گئے ہیں۔والدین بلکہ اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کے علاوہ ہر اطاعت کے لئے اسلام کا بنیادی اصول یہی ہے کہ اطاعت صرف معروف یعنی بھلائی اور نیکی کے کاموں میں کی جائے گی۔اسی اصول کی بنا پر والدین کی اطاعت بھی مشروط ہے۔( حوالہ سورہ العنکبوت: 8)

والدین کی فرمانبرداری بلاشبہ ایک اعلیٰ صفت ہے مگر ان کے غلط فیصلوں پر مؤدب احتجاج اور اپنے حقوق کے کے لئے آواز بلند کرنا کوئی غلط بات نہیں۔مگر یاد رہے اس میں بدتمیزی کا عنصر شامل نہ ہو۔ ناجائز مطالبات میں ان کا ساتھ نہ دیں مگر آپ اپنا فرض نبھاتے رہیں اور ان کی ضروریات پوری کریں ،خدمت جاری رکھیں ۔باقی رہا یہ سوال کہ کیا والدین سے ان کے غلط فیصلوں پر احتساب ہو گا تو قیامت کے دن ” جوذرہ برابر نیکی کرے گا وہ اسکو پا لے گا اور جو ذرہ برابر بھی برائی کرے گا اسکو پا لے گا ” (سورہ الزلزال 7،8 ) وہاں کسی کی بخشش کسی مرتبہ کی بنا پر نہ ہو گی اور ہر چھوٹے بڑے عمل کا حساب لازماً دینا پڑے گا۔

والدین کی جانب سے غلط فیصلے کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ایک وجہ تو ان کی ضد، ہٹ دھرمی، اپنی بات منوانا،لالچ، انا پرستی اور خود غرضی وغیرہ ہوسکتی ہے۔ یہ وجوہات عام طور پر اولاد کی شادی اور جوائینٹ فیملی سسٹم کے ساتھ متعلق ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے اس قسم کی کسی بھی حرکت جس کا محرک کو ناجائز فعل ہو اس کا مواخذہ ہوگا۔ دوسری وجہ کوئی اجتہادی غلطی ہوسکتی ہے جس کی چھوٹ ہے۔
البتہ آپ کے سوال کو بعینہ قبول کرنے میں مجھے ایک تامل ہے۔ اکثر دیکھا کیا ہے کہ والدین اپنے تجربے اور اولاد کی بھلائی کے جذبے سےان کے لئے جو فیصلے کرتے ہیں وہ بوجوہ ( اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں) اولاد کے لئے قابل اعتراض ہوتے ہیں۔ اس لئے والدین کے معاملے میں حسن ظن سے کام لینا چاہیے۔
بسا اوقات بظاہر ان کے غلط دیکھائی دیے جانے والے فیصلے بعد میں درست ثابت ہوتے ہیں ۔لیکن کبھی کبھار صورت حال ویسی بھی ہو سکتی ہے جس کی نشاندہی آپ نے کی ہے تو اس صورت میں بلاشبہ والدین سے بھی ان کے اعمال کا ان کی نیتوں کے مطابق حساب کتاب ضرور کیا جائے گاالاّ یہ کہ اللہ ان کے ساتھ مغفرت کا معاملہ کرے۔لیکن یہ مغفرت ان کے رتبے کی بنا پر نہ ہو گی بلکہ اللہ کی رحمت کی بنا پر ممکن ہے جس کا حقدار ہونے کے لئے ہم سب دعاگو رہتے ہیں۔ والدین کو بھی چاہیے کسی منفی جذبے کے زیر اثر آکر اولاد پر اپنی مرضی مسلط نہ کریں۔ سب سے بڑھ کر جو بات والدین کو سمجھنی چاہِے وہ یہ کہ والدین کے حقوق کے بارے میں سوچنا والدین نہیں اولاد کا کام ہے۔ اگر کوئی اولاد یہ کام نہیں کررہی تو ٹینشن نہیں لینی چاہیے اور معاملہ اللہ پر چھوڑ دینا چاہِے۔ ایسے ہی اولاد کو بھی والدین کے ساتھ احسان کا رویہ اختیار کرنا چاہِے۔احسان کا مطلب ہے اپنا جائز حق بھی چھوڑ دینا ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت نصیب فرمائے۔ آمین
واللہ اعلم

جواب: راعنہ نقی سید