Archive for the ‘عبادات’ Category

ذرا نماز پڑھنا سکھادیجے


ذرا نماز پڑھنا سکھادیجے
ڈاکٹر محمد عقیل
• حضرت ، ذرا نماز سے متعلق کچھ باتیں پوچھنی ہیں۔
o پوچھو کیا پوچھنا چاہتے ہو؟
• یہ بتائیں کہ نماز کی نیت زبان سے کرنی ہے کہ دل میں؟
o میاں نیت زبان سے کرو یا دل میں کرو، ہر صورت میں خالص ہونی چاہیے۔
پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

کیا قربانی قبول ہوئی؟ ڈاکٹر محمد عقیل


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
کیا قربانی قبول ہوئی؟ ڈاکٹر محمد عقیل
• "حضرت قربانی سے متعلق کچھ ارشاد فرمائیں۔”
پوچھو کیا پوچھنا ہے۔
• قربانی کی بنیادی شرط کیا ہے ؟
میاں ! قرآن میں آتا ہے کہ اللہ کو تمہارا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تقوی پہنچتا ہے۔ ۔ یاد رکھو! قربانی میں اصل اہمیت تقوی کی ہے گوشت اور خون کی نہیں۔ تقوی کے بنا سارے جانورگوشت اور خون ہیں جو کتنے ہی بڑے اور کتنے ہی قیمتی ہوں لیکن خدا کے نزدیک ان کی کوئی اہمیت نہیں۔ تقوی ہو تو محض ناخن کاٹنے پر ہی خدا قربانی کا اجر دے دیتا ہے اور تقوی نہ ہو تو کروڑوں کی نام نہاد قربانی منہ پر مار دی جاتی ہے پڑھنا جاری رکھیں

روزہ ، رمضان اور قرآن


روزہ ، رمضان اور قرآن
ڈاکٹرمحمدعقیل
عام طور پر رمضان اور روزوں کے ذکر میں ہم مختلف لوگوں کی باتیں بیان کرتے ہیں کہ روزہ کا فلسفہ کیا ہے ؟ رمضان میں کیا کرنا چاہیے؟ تقوی کیا چیز ہے ؟ وغیرہ۔ ان تمام باتوں کی بنیاد اکثر اوقات قران و سنت ہی ہوتے ہیں۔ البتہ پڑھنا جاری رکھیں

رمضان کی تیاری


السلام علیکم
آپ سب کو رمضان مبارک۔ اللہ تعالی اس رمضان کو ہم سب کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بنائیں۔
رمضان میں ہم سب کو کچھ اہداف ضرور مقرر کرنے چاہئیں۔ ان میں سے کچھ یہ ہیں:
۱۔ اپنا احتساب کرنا- اس کا مطلب ہے کہ ہم اب تک گذری ہوئی زندگی کا جائزہ لیں اور اپنی شخصیت کا SWOT تجزیہ کریں۔ یعنی اپنی شخصیت کی طاقتور اور کمزور پہلووں کو جانیں اور ساتھ ہی وہ مواقع اور خطرات بھی بیان کریں جو ہمیں دین پر چلنے میں پیش آسکتے ہیں۔ یہ کام لکھ کرکریں تو زیادہ بہتر ہے۔
۲۔ قرآن سے تعلق بڑھائیں۔ قرآن کو سمجھ کر پڑھیں اور کم از کم ایک مرتبہ قرآن ترجمہ سے پڑھ لیں۔ اگر پڑھ نہ پائیں تو ترجمہ ہی سن لیں۔قرآن کا ترجمہ اس لنک پر اچھا دیا ہوا ہے۔
http://www.quranurdu.com/quran_ss/
۳۔ آئیندہ زندگی کے لیے لائحہ عمل تیار کریں کہ اب تک ہم سے جو کوتاہیاں ہوئیں ان کو کس طرح دور کرنا ہے۔
۴۔ کم از کم ویک اینڈ میں تہجد ضرور ادا کریں۔ اس میں رکعتوں کی تعداد پوری کرنے سے زیادہ صرف بیٹھ کر اللہ تعالی سے باتیں کریں، اس کی نعمتوں کا تصور کریں، اس کے جلال پر غور کریں۔ اس کی صفات پر غور کریں اور دنیاوی دعاؤں کے ساتھ ساتھ اللہ کی خالص حمد و ثنا بھی کریں۔
۵۔ ہر ہفتے یہ جائزہ لیں کہ ہم نے ایک ہفتے میں کیا کھویا اور کیا پایا۔
اس ضمن میں اس لنک پر موجود ورک بک سے بھی مدد لی جاسکتی ہے:
https://aqilkhans.files.wordpress.com/…/ramazan-workbook.pdf

روزہ کا اصل مقصد اور ہمار ا طرز عمل


روزہ کا اصل مقصد اور ہمار ا طرز عمل
از ام مریم
اسلام میں عبادات کا مقصود
قرآن و سنت کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالی کا عبادات کے مقرر کرنے سے اصل مقصود انسان کو تزکیہ نفس کی تربیت دینا اور اسے اس کی تخلیق کے حقیقی مقصد کی یاد دہانی کروانا ہے جس کا ذکر قرآن نے کیا ہے
”اور ہم نے پیدا کیا انسانوں اور جنوں کو اپنی عبادت کے لیے” ّّْْ ْ (الزاریت)
اس آیت کی تفسیر میں عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہاں عبادت سے مراد معرفت ہے کیونکہ تمام عبادات کا مفہوم اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے اور جو عبادت انسان کو اللہ کے قریب لے جا کر اس کی پہچان نہیں دلاتی ، اس کی موجودگی کا احساس انسان کے اندر پیدا نہیں کرتی وہ عبادت اپنے مقصود سے عاری ہونے کی بنا پر عبادت کہلانے کی مستحق نہیں چنانچہ عبادت کی اصل روح اللہ کی معرفت و رضا کا حصول ہے ۔اللہ کسی انسان کے نماز روزے کا محتاج نہیں ، ہاں وہ یہ ضرور چاہتا ہے کی اس کے بندے ، اس کے قرب ،معرفت اور اس کی رضا مندی کی چاہت و جستجو کریں ۔اللہ تعالی کی معرفت و رضامندی کی چاہت کے ساتھ ہی عبادت میں خشوع اور حضوری قلب کی کیفیت میسر ہوتی ہے یہی وجہ ہے رسول اللہ ﷺ کی بعثت اورزیادہ تر عبادات کی فرضیت میں تیرہ سال کا وقفہ ہے ۔ اس دوران رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو اسی معرفت الہی یعنی توحید ، ایمان اور آخرت کی تعلیم دی اور جب یہ تعلیم مکمل ہوئی تو ظاہری عبادات فرض کی گئیں تاکہ یہ عبادات بے روح نا ہوں۔
روزہ کے مقاصد
اللہ تعالی نے قرآن میں جہاں روزے کی فرضیت کا ذکر کیا ہے وہاں اس کے مقصد کو بھی بیان کیا ہے
”اے ایمان والو تم پر روزے فرض کر دیے گئے ہیں جیسا کی تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ ”
چنانچہ روزہ کا اصل مقصد تزکیہ و تقوی کا حصول ہے ۔ اہل علم نے روزے کی مشروعیت کے مختلف مقاصد بیان کیے ہیں جو سب کے سب تقوی ہی کی خصلتییں ہیں ۔
1۔ روزے میں انسان قدرت و طاقت رکھنے کے باوجوداپنی خواہشات اور حلال اشیاء بھی ترک کر دیتا ہے اس کا مقصدانسان کے اندر اللہ تعالی کی موجودگی کا احساس پیدا کرنا اور اسےاس ایمان و یقین پر تیار کرنا ہے کہ اللہ تعالی ہر لمحہ اس کی نگہبانی و نگرانی کر رہا ہے۔
2۔ روزہ انسان کے لیے اللہ تعالی کی بے چون و چرا اطاعت گزاری و فرمانبرداری کی مشق ہے تا کہ اس کے اندر یہ احساس پیدا ہو کہ خداوند کی رضا جوئی کے لیے جب حلال اشیاء و ضروریات سے اجتناب کر رہا ہے تو حرام آخر کیونکر اپناے ۔
3۔روزہ شہوات اور نفسانی خواہشات پر قابو پانے اور گرفت کرنے کی تربیت دیتا ہے جس سے ممنوع شہوات پر قابو پانے کے لیے تعاون ملتا ہے ۔ اور یہ چیز نفس کو اخلاق فاضلہ اپنانے کے لیے تیار کرتی ہے ۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے ان نوجوانوں کو بکثرت روزہ رکھنے کی نصیحت کی جو نکاح کی استطاعت نا رکھتے ہوں ۔
4۔ روزہ کا ایک مقصدانسان کو اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمتوں کی شکر گزاری کا احساس دلانا ہے ۔ حلال اشیاء کھانا پینا اور جائز ضروریات نفس اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمتیں ہیں ۔ لہذا ان سے کچھ دیر کے لیے رک جانا ان کی قدر و قیمت معلوم کراتا ہے جس سے انسان کو ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی طرف رغبت ہوتی ہے ۔
ہمارا طرز عمل
روزے کے ان تمام مقاصد کا حصول ہی اصل میں روزہ دار کا محور نگاہ ہونا چاہیے اور دوران روزہ و رمضان ہمیں اپنا طرز عمل انہی مقاصد کے حصول کے مطابق ترتیب دینا چاہیے تا کہ ہم رمضان کے خاطر خواہ فوائد حاصل کر سکیں جو ہمارے پروردگار کو اپنے بندے سے مطلوب ہیں ۔ ان نتائج کے عدم حصول کی صورت میں آدمی کی بھوک پیاس بے سود ہے۔ رمضان اللہ تعالی کی طرف سے ایمان والوں کے لیے ایک بونس ہے جس میں اخلاص نیت پر مبنی عمل انسان کی ابدی نجات و محبت الہی کا باعث ہو سکتا ہے لیکن دیکھنے میں آتا ہے کہ آجکل رمضان کا مہینا مسلمانوں کے مابین ایک رسمی سی حیثیت اختیار کر چکا ہے ۔ سحری و افطاری کے معمولات میں دستر خوان معمول سے زیادہ کھانوں سے بھرے نظر آتے ہیں جن کی دستیابی کے لیے مرد حضرات اپنا سارا وقت کاروبار وغیرہ کی نذر کرتے اور خواتین سارا دن کچن میں ان کی تیاری میں لگاتی ہیں ۔ عید کی شاپنگز میں بیشتر وقت بازاروں اور مارکیٹیس کی نذر ہو جاتا ہے خاص کر طاق راتیں جن کی اہمیت سے کون مسلمان واقف نا ہو گا۔ افطار پارٹیز کا دور دورہ ہوتا ہے ۔ میڈیا ، میوزک ، ڈراماز جنہیں مس کرنا لوگ اب نا گزیر سمجھتے ہیں ہر گھر میں چلتے نظر آتے ہیں اور بعض لوگ تو اسے روزہ گزارنے کا آسان ذریعہ خیال کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کی روزہ سمیت عبادات کی اصل روح کا شعور حاصل کیا جاے اور اسی احساس کے ساتھ ان کی ادائیگی کا اہتمام کیا جاے ۔ رمضان کے فضائل و برکات سے مستفید ہونے کے لیے بھی اسی روح کے ساتھ اس کا اہتمام لازم و ملزوم ہے
”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کی نبی ﷺ منبر پر چڑھے اور کہا آمین ، آمین ، آمین ۔ صحابہ نے دریافت کیا کہ آپ منبر پر چڑھے اور کہا آمین ، کیوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا جبرئیل میرے پاس آے اور کہا ، جس شخص کی زندگی میں رمضان المبارک کا مہینہ آیا اور وہ اس میں اپنی بخشش نا کروا سکا تو وہ آگ میں داخل ہو اور اللہ تعالی اسے اپنی رحمت سے دور کر دیں ۔ آپ کہیے آمین تو میں نے کہا آمین ”
صحیح الترغیب 997، کتاب الصوم ، ابن خزیمہ 1888
رمضان المبارک میں معمول کے دنیاوی امور کو بھی بالکل محدود کرتے ہوے عبادت اور اس کے مقاصد کے حصول کی جدو جہد کو محور نگاہ بنانا ہی ایک مومن مسلمان کا شعار ہونا چاہیے تا کہ وہ اس کے ذریعے سے اپنی بخشش کا سامان پیدا کرے۔ اللہ ہم سب مسلمانوں کو اس با برکت مہینے سے صحیح طرح استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین

لبیک۔ ۔۔۔۔۔۔۔حاضر ہوں

لبیک۔ ۔۔۔۔۔۔۔حاضر ہوں

حاضر ہوں ، اے میرے رب میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔بے شک تو ہی تعریف کے لائق ہے اور نعمت تیری ہی ہے، بادشاہی تیری ہی ہے،تیرا کوئی شریک نہیں۔
میں حاضر ہوں اس اعتراف کے ساتھ کہ تعریف کے قابل توہی ہے۔ تو تنہا اور یکتا ہے، تجھ سا کوئی نہیں ۔ تیرا کرم، تیری شفقت، تیری عطا ، تیری کرم نوازی اور تیری عنایتوں کی کوئی انتہا نہیں۔ تیری عظمت ناقابل بیان ہے، تیری شان لامتناہی طور پر بلند ہے، تیری قدرت ہر امر پر حاوی ہے، تیرا علم ہر حاضر و غائب کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔تجھ سا کوئی نہیں اور کوئی تیری طرح تعریف کے لائق نہیں ۔
میں حاضر ہوں تیرے احسان کے بوجھ کے ساتھ کہ یہ ساری نعمتیں تیری ہی عطا کردہ اور عنایت ہیں۔ میری آنکھوں کی بینائی تیری دین، میرے کانوں کی سماعت تیری عطا، میرے سانسوں کے زیر و بم تیرا کرم، میرے دل کی دھڑکن تیری بخشش، میرے خون کی گردش تیری سخاوت، میرے دہن کا کلام تیرا لطف، میرے قدموں کی جنبش تیراا حسان ہے۔کوئی ان کو بنانے میں تیرا ساجھی، تیرا معاون اور شریک نہیں۔
میں حا ضر ہوں اس عجزکے ساتھ کہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ تیری ملکیت ہے، یہ زمین تیری ، آسمان تیرا، سورج ، چاندستارے تیرے، پہاڑ تیرے ، میدان تیرے ، دریا و سمندر تیرے ہیں۔یہ میرا گھر، میرا مال، میری دولت، میرا جسم، میرے اہل و عیال میرے نہیں تیرے ہیں۔ کوئی ان کو بنانے اور عطا کرنےمیں تیر ا شریک نہیں حتیٰ کہ میں بھی نہیں ۔ پس تیرا اختیارہے توجس طرح ہے اپنی ملکیت پرتصرف کرے ۔
میں حاضر ہوں اپنے تمام گناہوں کے بار کےساتھ کہ تو انہیں بخش دے، اپنی تمام خطاؤں کے ساتھ کہ تو انہیں معاف کردے، اپنے تمام بدنما داغوں کے ساتھ کہ تو انہیں دھودے، اپنی تمام ظاہری و باطنی بیماریوں کے ساتھ کہ تو انہیں دور کردے،اپنے من کے کھوٹ کے ساتھ کہ تو اسے دھو دے، اپنی نگاہوں کی گستاخیوں کے ساتھ کہ تو ان سے چشم پوشی کرلے، اپنی کانوں کی گناہ گار سماعت کے ساتھ کہ تو اس کا اثر ختم کردے، اپنے ہاتھوں کی ناجائز جنبش کے ساتھ کہ تو ان سے درگذر کرلے، اپنے قدموں کی گناہ گار چال کے ساتھ کہ تو انہیں اپنی راہ پر ڈال دےاوربدکلامی کرنے والی زبان کے ساتھ کہ تو اس کو اپنی باتوں کے لئے خاص کرلے۔
میں حاضر ہوں شیطان سے لڑنے کے لئے، نفس کےناجائز تقاضوں سے نبٹنے کے لئے، خود کوتیرے سپرد کرنے کے لئے اور اپنا وجود قربان کرنے کے لئے۔پس اے پاک پروردگار! میرا جینا، میرا مرنا، میری نماز، میری قربانی، میرا دماغ ، میرا دل، میرا گوشت، میرا لہو، میرے عضلات اورمیری ہڈیاں غرض میرا پورا وجود اپنے لئے خاص کرلے۔
حاضر ہوں ، اے میرے رب میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔بے شک تو ہی تعریف کے لائق ہے اور نعمت تیری ہی ہے، بادشاہی تیری ہی ہے،تیرا کوئی شریک نہیں۔
از پروفیسر محمد عقیل

قرآن کے کتاب الہیٰ ہونے پر عقلی دلائل


قرآن کے کتاب الہیٰ ہونے پر عقلی دلائل
از: مدیحہ فاطمہ
1. اتنی صدیوں بعد بھی محفوظ ہے ۔ بغیر کسی تغیر و تبدل کے۔
2. قرآن جیسے فصیح و بلیغ کلا م کا ایک امّی ﷺکی زبان سے ظہور بذات خود ایک معجزہ اور ایک بہت بڑی عقلی دلیل ہے۔
3. قرآن نے ساری دنیا کو چیلنج دیا کہ اگر کسی کو اس کے کلام الہی ہونےمیں شبہ ہے تو اس کی مثل بنا لائے۔ لیکن کسی میں بھی باوجود تمام دنیا کی بے پناہ مخالفت کےیہ ہمت نہیں آئی کہ اس کی مثل لے آئے۔
4. قرآن میں بہت سے غیب کی باتیں اور پیشن گویاں ہیں جو ہو بہو ویسے ہی واقعات پیش آئے جیسے کہ قرآن نے بتائے تھے۔
5. قرآن میں موجود سائنسی حقائق ہیں جنہیں آج کے زمانے میں پڑھیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ کیا یہ کسی انسان کا کلام ہوسکتا ہے؟ نہیں!
6. قرآن میں پچھلی امتوں کی تاریخی حالات کا ایسا صاف ذکر موجود ہے کہ اس وقت کے بڑے بڑے علما یہود و نصارٰی جو اس وقت کتاب کے ماہر سمجھے جاتے تھے ان کو بھی اتنی معلومات نہ تھیں۔ حضرت محمد ﷺ نے تو خود کسی قسم کی علم و تعلیم حاصل نہ کی تھی نہ ہی کبھی کسی کتاب کو ہاتھ لگایا تھا۔ پھر قرآن میں یہ ابد سے لے کر آپ ﷺ کے زمانہ تک کے حالات و واقعات کا قرآن میں آنا اس بات کی دلیل ہے کہ یقیناً یہ خبریں آپﷺ کو اللہ تعالیٰ نے دی ہوں گی ، جو اس کائینات کا خالق و مالک و مدبّر ہے۔
7. قرآن مجید کی متعدد آیات میں لوگوں کے دل کی چھپی ہوئی باتوں کی اطلاع دی گئی اور پھر ان کے اقرار سے ثابت ہوگیا کہ وہ بات صحیح اور سچی تھی۔ یہ کام بھی عالم الغیب والشہادۃ ہی کرسکتا ہے ،کسی بشر سے عادۃ ممکن نہیں۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے کہ :
اِذْ ھَمَّتْ طَّاۗىِٕفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا
"جب تمہاری دو جماعتوں نے دل میں ارادہ کیا کہ پسپا ہوجائیں۔” (۱۲۲:۳)
يَقُوْلُوْنَ فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ
"وہ لوگ اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہمارے انکار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا۔” (۵۸:۸)
یہ سب باتیں ایسی ہیں جس کا انہوں نے کسی کے سامنے اظہار نہیں کیا لیکن قرآن پاک نے اس کو ظاہر کردیا۔ اس کا مشرکین عرب ے بھی اقرار کیا کہ بخدا یہ کسی انسان کاکلام نہیں۔ تبھی وہ کہا کرتے تھے کہ نبیﷺ کے پاس جنات /شیاطین آ کر یہ خبریں دیتے ہیں۔
8. قرآن مجید دنیا کی سب سے زیادہ چھپنے والی کتاب ہے۔ شاید ہی کسی کتاب کی اشاعت اتنی ہوئی ہو جتنی آج تک قرآن مجید کی ہوئی ہے۔ نہ ہی کسی دوسری قوم یا مذہب کی کتاب کی اتنی اشاعت ہوئی جتنی کہ قرآن مجید کی یہ بھی حفاظت قرآن پاک کی ایک کڑی ہے۔
9. قرآن کو کلام الہی ماننے پر ہر وہ شخص مجبور ہے جس کی عقل وبصیرت کو تعصب وعناد نے بالکل ہی برباد نہ کردیا ہو۔اس دور مادہ پرستی کے مسیحی مصنفین جنہوں نے کچھ بھی قرآن میں غور وفکر سے کام لیا اس اقرار پر مجبور ہوگئے کہ یہ ایک بےمثل وبے نظیر کتاب ہے۔ مسٹر ولیم میورؔ نے اپنی کتاب "حیات محمد ” میں واضح طور پر اس کا اعتراف کیا ہے اور ڈاکٹر شبلی شمیلؔ نے اس پر ایک مستقل مقالہ لکھا ہے۔
10. اتنے مختصر و محدود کلمات میں جتنے علوم و معارف قرآن مجید میں پائے جاتے ہیں کسی کتاب میں نہیں پائے جاسکتے۔ قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے جو تمام شعبہ ہائے زندگی: عائلی زندگی سے لے کر قبائلی اور شہری زندگی تک اور پھر عمرانیات واجتماعیات اور سیاستِ ممالک کے متعلق نظام پیش کرتا ہے۔پھر صرف نظام پیش کرنا ہی نہیں بلکہ عملی طور پر اس کا رواج پانا اور تمام نظامہائے دنیا پر غالب آکر قوموں کے مزاج ، اخلاق ، اعمال ، معاشرت اور تمدن میں وہ انقلاب عظیم پیدا کرتا ہے جس کی مثال کہیں بھی نہیں ملتی