Archive for the ‘عبادات’ Category

روزہ کا اصل مقصد اور ہمار ا طرز عمل


روزہ کا اصل مقصد اور ہمار ا طرز عمل
از ام مریم
اسلام میں عبادات کا مقصود
قرآن و سنت کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالی کا عبادات کے مقرر کرنے سے اصل مقصود انسان کو تزکیہ نفس کی تربیت دینا اور اسے اس کی تخلیق کے حقیقی مقصد کی یاد دہانی کروانا ہے جس کا ذکر قرآن نے کیا ہے
”اور ہم نے پیدا کیا انسانوں اور جنوں کو اپنی عبادت کے لیے” ّّْْ ْ (الزاریت)
اس آیت کی تفسیر میں عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہاں عبادت سے مراد معرفت ہے کیونکہ تمام عبادات کا مفہوم اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے اور جو عبادت انسان کو اللہ کے قریب لے جا کر اس کی پہچان نہیں دلاتی ، اس کی موجودگی کا احساس انسان کے اندر پیدا نہیں کرتی وہ عبادت اپنے مقصود سے عاری ہونے کی بنا پر عبادت کہلانے کی مستحق نہیں چنانچہ عبادت کی اصل روح اللہ کی معرفت و رضا کا حصول ہے ۔اللہ کسی انسان کے نماز روزے کا محتاج نہیں ، ہاں وہ یہ ضرور چاہتا ہے کی اس کے بندے ، اس کے قرب ،معرفت اور اس کی رضا مندی کی چاہت و جستجو کریں ۔اللہ تعالی کی معرفت و رضامندی کی چاہت کے ساتھ ہی عبادت میں خشوع اور حضوری قلب کی کیفیت میسر ہوتی ہے یہی وجہ ہے رسول اللہ ﷺ کی بعثت اورزیادہ تر عبادات کی فرضیت میں تیرہ سال کا وقفہ ہے ۔ اس دوران رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو اسی معرفت الہی یعنی توحید ، ایمان اور آخرت کی تعلیم دی اور جب یہ تعلیم مکمل ہوئی تو ظاہری عبادات فرض کی گئیں تاکہ یہ عبادات بے روح نا ہوں۔
روزہ کے مقاصد
اللہ تعالی نے قرآن میں جہاں روزے کی فرضیت کا ذکر کیا ہے وہاں اس کے مقصد کو بھی بیان کیا ہے
”اے ایمان والو تم پر روزے فرض کر دیے گئے ہیں جیسا کی تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ ”
چنانچہ روزہ کا اصل مقصد تزکیہ و تقوی کا حصول ہے ۔ اہل علم نے روزے کی مشروعیت کے مختلف مقاصد بیان کیے ہیں جو سب کے سب تقوی ہی کی خصلتییں ہیں ۔
1۔ روزے میں انسان قدرت و طاقت رکھنے کے باوجوداپنی خواہشات اور حلال اشیاء بھی ترک کر دیتا ہے اس کا مقصدانسان کے اندر اللہ تعالی کی موجودگی کا احساس پیدا کرنا اور اسےاس ایمان و یقین پر تیار کرنا ہے کہ اللہ تعالی ہر لمحہ اس کی نگہبانی و نگرانی کر رہا ہے۔
2۔ روزہ انسان کے لیے اللہ تعالی کی بے چون و چرا اطاعت گزاری و فرمانبرداری کی مشق ہے تا کہ اس کے اندر یہ احساس پیدا ہو کہ خداوند کی رضا جوئی کے لیے جب حلال اشیاء و ضروریات سے اجتناب کر رہا ہے تو حرام آخر کیونکر اپناے ۔
3۔روزہ شہوات اور نفسانی خواہشات پر قابو پانے اور گرفت کرنے کی تربیت دیتا ہے جس سے ممنوع شہوات پر قابو پانے کے لیے تعاون ملتا ہے ۔ اور یہ چیز نفس کو اخلاق فاضلہ اپنانے کے لیے تیار کرتی ہے ۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے ان نوجوانوں کو بکثرت روزہ رکھنے کی نصیحت کی جو نکاح کی استطاعت نا رکھتے ہوں ۔
4۔ روزہ کا ایک مقصدانسان کو اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمتوں کی شکر گزاری کا احساس دلانا ہے ۔ حلال اشیاء کھانا پینا اور جائز ضروریات نفس اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمتیں ہیں ۔ لہذا ان سے کچھ دیر کے لیے رک جانا ان کی قدر و قیمت معلوم کراتا ہے جس سے انسان کو ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی طرف رغبت ہوتی ہے ۔
ہمارا طرز عمل
روزے کے ان تمام مقاصد کا حصول ہی اصل میں روزہ دار کا محور نگاہ ہونا چاہیے اور دوران روزہ و رمضان ہمیں اپنا طرز عمل انہی مقاصد کے حصول کے مطابق ترتیب دینا چاہیے تا کہ ہم رمضان کے خاطر خواہ فوائد حاصل کر سکیں جو ہمارے پروردگار کو اپنے بندے سے مطلوب ہیں ۔ ان نتائج کے عدم حصول کی صورت میں آدمی کی بھوک پیاس بے سود ہے۔ رمضان اللہ تعالی کی طرف سے ایمان والوں کے لیے ایک بونس ہے جس میں اخلاص نیت پر مبنی عمل انسان کی ابدی نجات و محبت الہی کا باعث ہو سکتا ہے لیکن دیکھنے میں آتا ہے کہ آجکل رمضان کا مہینا مسلمانوں کے مابین ایک رسمی سی حیثیت اختیار کر چکا ہے ۔ سحری و افطاری کے معمولات میں دستر خوان معمول سے زیادہ کھانوں سے بھرے نظر آتے ہیں جن کی دستیابی کے لیے مرد حضرات اپنا سارا وقت کاروبار وغیرہ کی نذر کرتے اور خواتین سارا دن کچن میں ان کی تیاری میں لگاتی ہیں ۔ عید کی شاپنگز میں بیشتر وقت بازاروں اور مارکیٹیس کی نذر ہو جاتا ہے خاص کر طاق راتیں جن کی اہمیت سے کون مسلمان واقف نا ہو گا۔ افطار پارٹیز کا دور دورہ ہوتا ہے ۔ میڈیا ، میوزک ، ڈراماز جنہیں مس کرنا لوگ اب نا گزیر سمجھتے ہیں ہر گھر میں چلتے نظر آتے ہیں اور بعض لوگ تو اسے روزہ گزارنے کا آسان ذریعہ خیال کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کی روزہ سمیت عبادات کی اصل روح کا شعور حاصل کیا جاے اور اسی احساس کے ساتھ ان کی ادائیگی کا اہتمام کیا جاے ۔ رمضان کے فضائل و برکات سے مستفید ہونے کے لیے بھی اسی روح کے ساتھ اس کا اہتمام لازم و ملزوم ہے
”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کی نبی ﷺ منبر پر چڑھے اور کہا آمین ، آمین ، آمین ۔ صحابہ نے دریافت کیا کہ آپ منبر پر چڑھے اور کہا آمین ، کیوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا جبرئیل میرے پاس آے اور کہا ، جس شخص کی زندگی میں رمضان المبارک کا مہینہ آیا اور وہ اس میں اپنی بخشش نا کروا سکا تو وہ آگ میں داخل ہو اور اللہ تعالی اسے اپنی رحمت سے دور کر دیں ۔ آپ کہیے آمین تو میں نے کہا آمین ”
صحیح الترغیب 997، کتاب الصوم ، ابن خزیمہ 1888
رمضان المبارک میں معمول کے دنیاوی امور کو بھی بالکل محدود کرتے ہوے عبادت اور اس کے مقاصد کے حصول کی جدو جہد کو محور نگاہ بنانا ہی ایک مومن مسلمان کا شعار ہونا چاہیے تا کہ وہ اس کے ذریعے سے اپنی بخشش کا سامان پیدا کرے۔ اللہ ہم سب مسلمانوں کو اس با برکت مہینے سے صحیح طرح استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین

لبیک۔ ۔۔۔۔۔۔۔حاضر ہوں

لبیک۔ ۔۔۔۔۔۔۔حاضر ہوں

حاضر ہوں ، اے میرے رب میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔بے شک تو ہی تعریف کے لائق ہے اور نعمت تیری ہی ہے، بادشاہی تیری ہی ہے،تیرا کوئی شریک نہیں۔
میں حاضر ہوں اس اعتراف کے ساتھ کہ تعریف کے قابل توہی ہے۔ تو تنہا اور یکتا ہے، تجھ سا کوئی نہیں ۔ تیرا کرم، تیری شفقت، تیری عطا ، تیری کرم نوازی اور تیری عنایتوں کی کوئی انتہا نہیں۔ تیری عظمت ناقابل بیان ہے، تیری شان لامتناہی طور پر بلند ہے، تیری قدرت ہر امر پر حاوی ہے، تیرا علم ہر حاضر و غائب کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔تجھ سا کوئی نہیں اور کوئی تیری طرح تعریف کے لائق نہیں ۔
میں حاضر ہوں تیرے احسان کے بوجھ کے ساتھ کہ یہ ساری نعمتیں تیری ہی عطا کردہ اور عنایت ہیں۔ میری آنکھوں کی بینائی تیری دین، میرے کانوں کی سماعت تیری عطا، میرے سانسوں کے زیر و بم تیرا کرم، میرے دل کی دھڑکن تیری بخشش، میرے خون کی گردش تیری سخاوت، میرے دہن کا کلام تیرا لطف، میرے قدموں کی جنبش تیراا حسان ہے۔کوئی ان کو بنانے میں تیرا ساجھی، تیرا معاون اور شریک نہیں۔
میں حا ضر ہوں اس عجزکے ساتھ کہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ تیری ملکیت ہے، یہ زمین تیری ، آسمان تیرا، سورج ، چاندستارے تیرے، پہاڑ تیرے ، میدان تیرے ، دریا و سمندر تیرے ہیں۔یہ میرا گھر، میرا مال، میری دولت، میرا جسم، میرے اہل و عیال میرے نہیں تیرے ہیں۔ کوئی ان کو بنانے اور عطا کرنےمیں تیر ا شریک نہیں حتیٰ کہ میں بھی نہیں ۔ پس تیرا اختیارہے توجس طرح ہے اپنی ملکیت پرتصرف کرے ۔
میں حاضر ہوں اپنے تمام گناہوں کے بار کےساتھ کہ تو انہیں بخش دے، اپنی تمام خطاؤں کے ساتھ کہ تو انہیں معاف کردے، اپنے تمام بدنما داغوں کے ساتھ کہ تو انہیں دھودے، اپنی تمام ظاہری و باطنی بیماریوں کے ساتھ کہ تو انہیں دور کردے،اپنے من کے کھوٹ کے ساتھ کہ تو اسے دھو دے، اپنی نگاہوں کی گستاخیوں کے ساتھ کہ تو ان سے چشم پوشی کرلے، اپنی کانوں کی گناہ گار سماعت کے ساتھ کہ تو اس کا اثر ختم کردے، اپنے ہاتھوں کی ناجائز جنبش کے ساتھ کہ تو ان سے درگذر کرلے، اپنے قدموں کی گناہ گار چال کے ساتھ کہ تو انہیں اپنی راہ پر ڈال دےاوربدکلامی کرنے والی زبان کے ساتھ کہ تو اس کو اپنی باتوں کے لئے خاص کرلے۔
میں حاضر ہوں شیطان سے لڑنے کے لئے، نفس کےناجائز تقاضوں سے نبٹنے کے لئے، خود کوتیرے سپرد کرنے کے لئے اور اپنا وجود قربان کرنے کے لئے۔پس اے پاک پروردگار! میرا جینا، میرا مرنا، میری نماز، میری قربانی، میرا دماغ ، میرا دل، میرا گوشت، میرا لہو، میرے عضلات اورمیری ہڈیاں غرض میرا پورا وجود اپنے لئے خاص کرلے۔
حاضر ہوں ، اے میرے رب میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔بے شک تو ہی تعریف کے لائق ہے اور نعمت تیری ہی ہے، بادشاہی تیری ہی ہے،تیرا کوئی شریک نہیں۔
از پروفیسر محمد عقیل

قرآن کے کتاب الہیٰ ہونے پر عقلی دلائل


قرآن کے کتاب الہیٰ ہونے پر عقلی دلائل
از: مدیحہ فاطمہ
1. اتنی صدیوں بعد بھی محفوظ ہے ۔ بغیر کسی تغیر و تبدل کے۔
2. قرآن جیسے فصیح و بلیغ کلا م کا ایک امّی ﷺکی زبان سے ظہور بذات خود ایک معجزہ اور ایک بہت بڑی عقلی دلیل ہے۔
3. قرآن نے ساری دنیا کو چیلنج دیا کہ اگر کسی کو اس کے کلام الہی ہونےمیں شبہ ہے تو اس کی مثل بنا لائے۔ لیکن کسی میں بھی باوجود تمام دنیا کی بے پناہ مخالفت کےیہ ہمت نہیں آئی کہ اس کی مثل لے آئے۔
4. قرآن میں بہت سے غیب کی باتیں اور پیشن گویاں ہیں جو ہو بہو ویسے ہی واقعات پیش آئے جیسے کہ قرآن نے بتائے تھے۔
5. قرآن میں موجود سائنسی حقائق ہیں جنہیں آج کے زمانے میں پڑھیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ کیا یہ کسی انسان کا کلام ہوسکتا ہے؟ نہیں!
6. قرآن میں پچھلی امتوں کی تاریخی حالات کا ایسا صاف ذکر موجود ہے کہ اس وقت کے بڑے بڑے علما یہود و نصارٰی جو اس وقت کتاب کے ماہر سمجھے جاتے تھے ان کو بھی اتنی معلومات نہ تھیں۔ حضرت محمد ﷺ نے تو خود کسی قسم کی علم و تعلیم حاصل نہ کی تھی نہ ہی کبھی کسی کتاب کو ہاتھ لگایا تھا۔ پھر قرآن میں یہ ابد سے لے کر آپ ﷺ کے زمانہ تک کے حالات و واقعات کا قرآن میں آنا اس بات کی دلیل ہے کہ یقیناً یہ خبریں آپﷺ کو اللہ تعالیٰ نے دی ہوں گی ، جو اس کائینات کا خالق و مالک و مدبّر ہے۔
7. قرآن مجید کی متعدد آیات میں لوگوں کے دل کی چھپی ہوئی باتوں کی اطلاع دی گئی اور پھر ان کے اقرار سے ثابت ہوگیا کہ وہ بات صحیح اور سچی تھی۔ یہ کام بھی عالم الغیب والشہادۃ ہی کرسکتا ہے ،کسی بشر سے عادۃ ممکن نہیں۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے کہ :
اِذْ ھَمَّتْ طَّاۗىِٕفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا
"جب تمہاری دو جماعتوں نے دل میں ارادہ کیا کہ پسپا ہوجائیں۔” (۱۲۲:۳)
يَقُوْلُوْنَ فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ
"وہ لوگ اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہمارے انکار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا۔” (۵۸:۸)
یہ سب باتیں ایسی ہیں جس کا انہوں نے کسی کے سامنے اظہار نہیں کیا لیکن قرآن پاک نے اس کو ظاہر کردیا۔ اس کا مشرکین عرب ے بھی اقرار کیا کہ بخدا یہ کسی انسان کاکلام نہیں۔ تبھی وہ کہا کرتے تھے کہ نبیﷺ کے پاس جنات /شیاطین آ کر یہ خبریں دیتے ہیں۔
8. قرآن مجید دنیا کی سب سے زیادہ چھپنے والی کتاب ہے۔ شاید ہی کسی کتاب کی اشاعت اتنی ہوئی ہو جتنی آج تک قرآن مجید کی ہوئی ہے۔ نہ ہی کسی دوسری قوم یا مذہب کی کتاب کی اتنی اشاعت ہوئی جتنی کہ قرآن مجید کی یہ بھی حفاظت قرآن پاک کی ایک کڑی ہے۔
9. قرآن کو کلام الہی ماننے پر ہر وہ شخص مجبور ہے جس کی عقل وبصیرت کو تعصب وعناد نے بالکل ہی برباد نہ کردیا ہو۔اس دور مادہ پرستی کے مسیحی مصنفین جنہوں نے کچھ بھی قرآن میں غور وفکر سے کام لیا اس اقرار پر مجبور ہوگئے کہ یہ ایک بےمثل وبے نظیر کتاب ہے۔ مسٹر ولیم میورؔ نے اپنی کتاب "حیات محمد ” میں واضح طور پر اس کا اعتراف کیا ہے اور ڈاکٹر شبلی شمیلؔ نے اس پر ایک مستقل مقالہ لکھا ہے۔
10. اتنے مختصر و محدود کلمات میں جتنے علوم و معارف قرآن مجید میں پائے جاتے ہیں کسی کتاب میں نہیں پائے جاسکتے۔ قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے جو تمام شعبہ ہائے زندگی: عائلی زندگی سے لے کر قبائلی اور شہری زندگی تک اور پھر عمرانیات واجتماعیات اور سیاستِ ممالک کے متعلق نظام پیش کرتا ہے۔پھر صرف نظام پیش کرنا ہی نہیں بلکہ عملی طور پر اس کا رواج پانا اور تمام نظامہائے دنیا پر غالب آکر قوموں کے مزاج ، اخلاق ، اعمال ، معاشرت اور تمدن میں وہ انقلاب عظیم پیدا کرتا ہے جس کی مثال کہیں بھی نہیں ملتی

انٹرایکٹو فہم القرآن کورس نواں سیشن ۔۔ خلاصہ


انٹرایکٹو فہم القرآن کورس
نواں سیشن
سورہ البقرہ آیت نمبر 67 تا 101
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس سیشن کا خلاصہ حاضر خدمت ہے۔ اس کا انفرادی طور پر فیڈ بیک تو آپ کو بھیج چکا ہوں۔ اس کا خلاصہ اپنے فہم کے مطابق حاضر ہے۔
ابتدا میں تو بنی اسرائل کی کٹ حجتی بیان ہوئی ہے کہ کس طرح انہوں نے ایک آسان کی چیز کو اپنے لئے مشکل بنالیا۔ یعنی حکم تھا کہ کوئی بھی ایک گائے ذبح کرو لیکن ظاہر پرستی اور فقہی موشگافیوں کی بنا پر اپنے لئے مصیبت پیدا کرتے چلے گئے کہ گائے کیسی ہو، رنگ کیا ہو، بوڑھی ہو یا بچھیا وغیرہ۔ یہی مزاج کم و بیش ہمارے ہاں بھی لوگوں میں پیدا ہوگیا ہے۔ اور اس کی وجہ مذہبی طبقہ کا درست طور پر ایجوکیشن فراہم نہ کرنا ہے۔
اس ذکر کے بعد ایک مشکل مقام ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ گائے کے ایک ٹکڑے کو مقتول کو مارو۔ اس کے بعد آگے ذکر ہے کہ اللہ اس طرح مردوں کو زندہ کرتا ہے۔
اس کے بعد یہود کی سخت دلی کا ذکر ہے کہ کس طرح تمہارے دل پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہوگئے۔ یہ مقام ذرا رکنے والاہے۔ یہاں پتھروں کی تین خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔۔ اور پتھر تو بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں سے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں ، اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں ،اور ان میں سے پانی نکلنے لگتا ہے ، اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ خدا کے خوف سے گر پڑتے ہیں ۔
اس کائنات کی ایک ایک شے تسبیح کرتی ہے اور اس کی تسبیح ، رکوع ، سجود اور تعلق باللہ اس کی اپنی زبان میں ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر سائے تو دیکھیں تو جوں جوں سورج ڈھلتا ہے ، سایہ پھیلنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس عمل کو قرآن سائے کے سجدے سے تعبیر کرتا ہے۔ اسی طرح پتھروں کو دیکھا جائے تو بظاہر چشمہ پھوٹنا، پانی بہہ نکلنا اور گرجانا ایک میکانیکی عمل ہے لیکن یہ پتھر کا تعلق باللہ ہے۔ پتھروں سے چشمہ پھوٹنا ان آنسووں کی علامت ہےجو خدا کی یاد میں نکل جاتے ہیں اور روکے نہیں رکتے۔ ان کا پھٹ جانا اور پھر پانی بہہ نکلنا اس دھواں دھار سوز غم کا اظہار ہے جب خدا کے سامنے غم سے نڈھال ہوکر دل پھٹ جاتا ہے اور بے اختیار ہچکیاں بندھ جاتی ہیں۔ پتھروں کا خوف سے گرجانا اس کیفیت کو ظاہر کرتا ہے جب یوں لگتا ہے سارے بدن سے جان نکل چکی اور ٹانگوں نے خوف کے باعث جسم کا بوجھ اٹھانے سے انکار کردیا۔ پھر انسان ایک بے جان لاشے کی طرح خدا کے سامنے ڈھ جاتا ہے۔
اگلی چند آیات میں یہود کےجرائم پر مزید روشنی ڈالی جارہی ہے کہ یہ کس طرح دین سے دور ہیں اور خود کو عین دین سمجھتے ہیں۔ اس کی وجہ بھی بتادی کہ انہیں یہ غلط فہمی ہے کہ یہ خدا کے چہیتے ہیں اور یہ کچھ بھی کرلیں، جہنم کی آگ انہیں نہیں چھوئے گی اور اگر چھوا تو بس چند دن۔ آگے بتادیا کہ جس کی زندگی کا احاطہ گناہوں نے چاروں طرف سے کرلیا ہو اس کاٹھکانہ ابدی جہنم ہے۔ آگے یہود کو مزید گناہ بتائے ہیں تاکہ انہیں آخر میں امت وسط کے عہدے سے باقاعدہ معزول کیا جائے۔
سوالوں کے جواب
۱۔ آیات نمبر ۷۲ اور ۷۳ میں آتا ہے:
اور جب تم نے ایک شخص کو قتل کیا، تو اس میں باہم جھگڑنے لگے۔ لیکن جو بات تم چھپا رہے تھے ، خدا اس کو ظاہر کرنے والا تھا (۷۲) تو ہم نے کہا کہ اس گائے کا کوئی سا ٹکڑا مقتول کو مارو۔ اس طرح خدا مردوں کو زندہ کرتا ہے اور تم کو اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو (۷۳)
ان آیات کا کیا مطلب ہے ؟
جواب۔ اس پر آپ سب نے کافی سیر حاصل گفتگو کرلی ہے۔ اس کی ایک تعبیر تو وہی ہے کہ قاتل کا پتا لگانے کے لئے گائے کو ذبح کیا گیا اور اس کے گوشت کا ٹکڑا مقتول پر مارا گیا۔ اس نے زندہ ہوکر قاتل کا نام بتادیا۔ ایک دوسری رائے مولانا امین احسن اصلاحی کی ہے جو انہوں نے بائبل سے مستعار لی ہے کہ بنی اسرائل میں قسامہ یعنی قسم لینے کا طریقہ تھا ۔ لیکن بہر حال پہلی رائے ہی زیادہ موزوں معلوم ہوتی ہے۔
۲۔ آیت نمبر ۸۰ میں ہے:
اور کہتے ہیں کہ (دوزخ کی) آگ ہمیں چند روز کے سوا چھو ہی نہیں سکے گی۔ ان سے پوچھو، کیا تم نے خدا سے اقرار لے رکھا ہے کہ خدا اپنے اقرار کے خلاف نہیں کرے گا۔ (نہیں)، بلکہ تم خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہو جن کا تمہیں مطلق علم نہیں (۸۰)
ہم مسلمانوں میں بھی ایک تصور یہ پایا جاتا ہے کہ مسلمانوں کو بھی دوزخ میں اگر ڈالا گیا تو بس عارضی طور پر۔ مسلمانوں اور بنی اسرائل کے دعووں میں کیا مماثلت اور فرق ہے؟
جواب: میرے خیال میں مسلمانوں اور یہود کی سو چ میں تو نوعیت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔ عام مسلمان بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ہم کچھ بھی کرلیں، امتی ہونے کی بنا پر چھوٹ جائیں گے۔ لیکن اسلام کا نقطہ نظر مختلف ہے جو ان آیات کے آگے ہی بیان ہوگیا۔
ہاں جو برے کام کرے ، اور اس کے گناہ (ہر طرف سے) گھیر لیں تو ایسے لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے۔
یعنی جس شخص کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا گناہ ہو تو اس کے دل کی سیاہی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ اس پر مہر لگ جاتی اور اس کا ایمان سلب ہوجاتا ہے ۔ ایمان سلب ہونے کے بعد کچھ باقی نہیں رہا۔ اب وہ نام کا مسلمان ہے لیکن کسی کام کا نہیں۔ تو ایسے شخص کو خدا اپنا بندہ اور اس کے پیغمبر اپنا امتی ہی ماننے سے انکار کردیں گے تو شفاعت کا امکان کیسا؟
۳۔ آیت نمبر ۸۱ یہ ہے:
ہاں جو برے کام کرے ، اور اس کے گناہ (ہر طرف سے) گھیر لیں تو ایسے لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے (۸۱)
یہاں کس قسم کے گناہوں کا ذکر ہے اور گناہوں کا احاطہ کرلینے سے کیا مراد ہے؟
جواب: یہاں اصل مراد گناہوں کی زندگی کو اوڑھنا بچھونا بنالینا ہے۔ اور ظاہر ہے یہاں کبیرہ گناہ مراد ہیں ۔ لیکن مسئلہ گناہ کا نہیں بلکہ نیت کا ہوتا ہے۔ ایسا شخص دھڑلے سے سارے گناہ کرتا پھرتا، لوگوں کے مال غصب کرتا، زنا کرتا، ڈاکے دالتا، کرپشن کرتا، قتل و غارت گری کرتا اور سمجھانے پر بھی نہیں سمجھتا ہے۔ تو اس کے دل کی سیاہی ایمان سلب کرنے کا اور مہر کا باعث بن جاتی ہے۔ اس کے بعد وہ ایک جانور کی مانند زندگی گذارتا اور اپنے جہنم واصل ہونے کا منتظر ہوتا ہے لیکن اسے خبر بھی نہیں ہوتی۔ بلکہ اللہ اس کو اتنی ڈھیل دیتے ہیں کہ وہ بدمست ہو کر یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اللہ ا س سے راضی ہیں۔ حالانکہ اللہ نے اس پر دنیا کھول دی ہوتی ہے کہ کہیں وہ غلطی سے بھی کسی تکلیف میں مبتلا ہو کر خدا کو یاد نہ کربیٹھے۔ یہ خدا کے دھتکار دلوں پر مہر لگ جانے کے بعد آتی ہے۔
۴۔ ان آیات میں جو بھی جرائم ہیں وہ سارے جرائم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے موجود یہود نے نہیں بلکہ ان کے آبا و اجداد نے کئے تھے۔ تو قرآن ان کے آباو اجداد کے جرائم کا ذمہ کیوں ان یہود کو قرار دے رہا ہے جیسا کہ انداز تخاطب سے بظاہر لگ رہا ہے۔
جواب: اصل میں یہ ایک چارج شیٹ ہے جو امت بنی اسرائل پر جاری کیاجارہی ہے۔ چونکہ معاملہ امت کا ہے اس لئے جب سے امت کی باقاعدہ ابتدا ہوئی تب سے جرائم کو بیان کرنا شروع کیا۔ مخاطب ظاہر ہے اس وقت کے زندہ یہود ہیں ۔ مثال کے طور پر مسلمانوں پر اگر کوئی الزام لگائے گا تو وہ یہی کہے گا کہ دیکھو تم لوگ خلافت کے نام پر قتل و غارت گری کرتے آئے ہو ، تم آپس میں جنگیں لڑتے ہو ، بچوں کو اسکول میں مارتے ہو وغیرہ۔ تو ظاہر ہے یہ سارے کام مسلمانوں کے ایک گرو ہ نے کیئے ہونگے سب نے نہیں۔ لیکن خطاب میں سب آئیں گے۔
۵۔ یہاں آیات ۸۸ اور ۸۹ میں اللہ کی لعنت کا ذکر ہے۔ اللہ کی لعنت سے کیا مراد ہے؟
جواب۔ اس سے مراد خدا کی رحمت سے محرومی۔ یوں سمجھ لیں کہ اگر ایک چھ ماہ کے بچے پر سے ماں باپ اپنی توجہ ہٹالیں، اس سے نگاہیں پھیر لیں، اس کی ضروریا ت پوری نہ کریں، اس کو فیڈ نہ دیں تو بے شک اب وہ بچے پر کوئی غضب نہ بھی ڈھائیں ، اس بچے کی بقا ممکن نہیں۔ایسے ہی اگر خدا پنی رحمت ہٹادیں تو بس زندگی موت سے بھی بدتر ہوجاتی ہے۔ اللہ رحم فرمائیں۔ آمین
پروفیسر محمد عقیل

زکوٰۃ -حقیقت و مسائل


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نماز کی طرح زکوٰۃ کو ماننا بھی دین اسلام میں لازم ہے بصورتِ دیگرنماز کے منکرین کی طرح زکوٰۃ کا انکار کرنے والے لوگ بھی دائرۂ اسلام سے خارج سمجھے جاتے ہیں ۔
قرآن میں زکوٰۃ کا واضح حکم موجود ہے جیسا درج ذیل آیات میں بیان ہوتا ہے:
۱۔اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دو اور جو کچھ بھلائی تم اپنے واسطے آگے بھیجو گے اللہ کے ہاں اسے موجود پاؤ گے۔ بیشک جو کچھ بھی تم کر رہے ہو اللہ دیکھ رہا ہے۔(البقرہ ۱۱۰:۲ )
۲۔(مسلمانو،) نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دیا کرو اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ پڑھنا جاری رکھیں

رمضان کی مشکلات اور ان کا علاج


از پروفیسر محمد عقیل
تعارف
نماز اور زکوٰۃ کے بعد روزہ تیسری اہم عبادت ہے ۔ رمضان فرض روزوں کا مہینہ ہے جس میں مسلمانوں کے لیے فجر سے مغرب تک کھانے پینے اور مخصوص جنسی عمل سے اجتناب برتنا لازم ہے البتہ مسافر، بیمار یا حیض میں مبتلا خواتین اس سے مستثنیٰ ہیں ۔ روزہ صرف امتِ محمدی پر ہی نہیں بلکہ ماضی کی امتوں پر بھی فرض تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اپنی بگڑی ہوئی شکل میں عیسائیوں ، یہودیوں حتیٰ کہ ہندوؤں کے یہاں بھی اب تک موجود ہے پڑھنا جاری رکھیں

حج کی روح اور عملی مسائل


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

حج کے لغوی معنی ارادہ کرنے کے ہیں۔ارکانِ اسلام میں حج پانچواں اہم رکن ہے۔ نماز، روزہ اور زکوٰۃ کی طرح حج کا انکار کرنے والا شخص بھی اسلام کے دائرے سے باہر سمجھا جاتا ہے اور اس مسئلے پر امت میں کوئی اختلاف نہیں۔ حج زندگی میں ایک بار ہر اس مسلمان پر فرض ہے جو اسکی استطاعت رکھتا ہو۔ پڑھنا جاری رکھیں