Archive for the ‘تعلق با اللہ’ Category

انسانی ذہن اور وجود الٰہی


تحریر:ڈاکٹر محمد عقیل

دنیا کے تمام مذاہب میں خدا کا تصور موجود ہے۔ خدا سے تعلق قائم کرنے کے لیے عبادت کی جاتی ہے۔ اگر مشرکانہ مذاہب کی عبادت کو دیکھا جائے تو وہ خدا کا بت، تصویر یا پتلا سامنے رکھ کر اسے خدا سمجھتے ہیں اور یہ تمام مراسم عبودیت ادا کرتے ہیں۔ اس سے اگلا درجہ مراقبے کا ہے۔اس میں خدا کو سامنے تو نہیں رکھا جاتا البتہ اس کے کسی تصور کو فوکس کرکے اس سے تعلق قائم کیا جاتا ہے۔ یہ تصور کسی بت کا بھی پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

کیا تو ایسے شخص کو دنیا میں بھیجے گا جو قتل و غارت گری کرے گا؟

ڈاکٹر محمد عقیل
” میں زمین میں ایک بااقتدار مخلوق بھیجنے والا ہو ں۔ تم سب اس کے آگے جھکے رہنا اور اس کے ارادہ و اختیار میں بے جا مداخلت مت کرنا”۔ خدا نے فرشتوں سے کہا۔

پڑھنا جاری رکھیں

خدا شخصی ہے یا غیر شخصی ؟اسٹیفن ہاکنگ کے اعتراض کا تجزیہ


خدا شخصی ہے یا غیر شخصی ؟اسٹیفن ہاکنگ کے اعتراض کا تجزیہ
ڈاکٹر محمد عقیل
حال ہی میں اسٹیفن ہاکنگ کا ایک انٹرویو شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے دس سوالات کے جواب دیے ہیں۔۔ ان کے پہلےجواب پر تبصرہ پیش خدمت ہے ۔ اس کا مقصد اہل مذہب کی غلطیوں کے ساتھ ساتھ اہل سائنس کی کوتاہیوں کی نشاندہی کرنا اور ایک ریکنسی لی ایشن کے نتیجے تک پہنچنا ہے۔
سوال: اگر خدا نہیں ہے تو اس کے وجود کا تصور اتنا مقبول کیسے ہو سکتا ہے؟
پڑھنا جاری رکھیں

سورہ الناس کا خلاصہ


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورہ الناس کا خلاصہ
ڈاکٹر محمد عقیل
تم اپنے شرارت کرنے والے نفس سے کہہ دو، بہکانے والنے انسانوں کو بتادواور وسوسہ ڈالنے والے جنوں کو اعلان کردو کہ میں تم سب کے بہکاووں کے مقابلے میں پڑھنا جاری رکھیں

سورہ الفلق کا خلاصہ


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورہ الفلق کا خلاصہ
ڈاکٹر محمد عقیل
دن کے اجالے میں نقصان پہنچانے والوں سے کہہ دو ، رات کی تاریکی میں شب خون مارنے والوں کو بتادو، کالے علم کرنے والے شیطانوں کو خبردار کردو، حسد کی آگ میں جلنے والوں کو سمجھادو کہ میں تو اپنے بچانے والے آقا کے قلعے میں پناہ لے چکا ہوں۔ یہ اس حکمران کی پناہ کا قلعہ ہے پڑھنا جاری رکھیں

سورہ فاتحہ کی مختصر تشریح


سورہ فاتحہ کی مختصر تشریح
ڈاکٹر محمد عقیل
تعریف، توصیف، حمد و ثنا حقیقت میں اللہ ہی کے لیے ہے کیونکہ وہی تنہا ان گنت کہکشاوں ، ستاروں ، سیاروں ، مادی و غیر مادی جہانوں اور انفس و آفاق کی وادیوں کا پالنے والا ہے۔ وہی تو ہے جو سراپا مہربان ہے اور اسی کی شفقت ابدی ہے۔ وہی تنہا ہر قسم کے بدلے کے دن کا مالک ہے۔ چونکہ وہی پالنے والا، مہربانی و شفقت نچھاور کرنے والا اور جزا و سزا دینے کا تنہا اختیار رکھتا ہے تو ہمارے رب ، ہم آپ ہی کی غلامی قبول کرتے، آپ ہی کا حکم مانتے ، آپ ہی کے قدموں میں اپناچہرہ رکھ کر پرستش کرتے ہیں اور آپ ہی سے دنیا و آخرت کے ہر معاملے میں مدد مانگتے ہیں۔اے مہربان خدا، ہم پہلی مدد یہ مانگتے ہیں کہ ہمیں اپنی رضا کے حصول کے لیے سیدھا ، سچا اور درست طریقہ بتادیجے ۔ وہ طریقہ جس پر چل کر کامیاب لوگوں نے آپ کی رضا حاصل کی۔ ہمیں ان لوگوں کے طریقوں سے دور رکھیے جو اپنے تعصب ، ہٹ دھرمی ، سرکشی، خواہش نفس یا کسی اور وجہ سے آپ کی ابدی رحمت و شفقت سے محروم ہوکر آ پ کے غضب کا شکار ہوئے ۔ اور نہ ہی ان لوگوں کا راستہ پر چلائیے جو اپنی ٹیڑھی سوچ کی بنا پر کسی غلط فلسفے، گمراہ کن سائنسی تفہیم ، اندھی تقلید ، نفسانی خواہشات ، شیطانی کی اکساہٹوں یا کسی اور بنا پر آپ کے پسندیدہ راستے سے بھٹک کر گمراہی کی وادیوں کو ہی حق سمجھنے لگے۔
ڈاکٹر محمد عقیل

روزہ کا اصل مقصد اور ہمار ا طرز عمل


روزہ کا اصل مقصد اور ہمار ا طرز عمل
از ام مریم
اسلام میں عبادات کا مقصود
قرآن و سنت کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالی کا عبادات کے مقرر کرنے سے اصل مقصود انسان کو تزکیہ نفس کی تربیت دینا اور اسے اس کی تخلیق کے حقیقی مقصد کی یاد دہانی کروانا ہے جس کا ذکر قرآن نے کیا ہے
”اور ہم نے پیدا کیا انسانوں اور جنوں کو اپنی عبادت کے لیے” ّّْْ ْ (الزاریت)
اس آیت کی تفسیر میں عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہاں عبادت سے مراد معرفت ہے کیونکہ تمام عبادات کا مفہوم اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے اور جو عبادت انسان کو اللہ کے قریب لے جا کر اس کی پہچان نہیں دلاتی ، اس کی موجودگی کا احساس انسان کے اندر پیدا نہیں کرتی وہ عبادت اپنے مقصود سے عاری ہونے کی بنا پر عبادت کہلانے کی مستحق نہیں چنانچہ عبادت کی اصل روح اللہ کی معرفت و رضا کا حصول ہے ۔اللہ کسی انسان کے نماز روزے کا محتاج نہیں ، ہاں وہ یہ ضرور چاہتا ہے کی اس کے بندے ، اس کے قرب ،معرفت اور اس کی رضا مندی کی چاہت و جستجو کریں ۔اللہ تعالی کی معرفت و رضامندی کی چاہت کے ساتھ ہی عبادت میں خشوع اور حضوری قلب کی کیفیت میسر ہوتی ہے یہی وجہ ہے رسول اللہ ﷺ کی بعثت اورزیادہ تر عبادات کی فرضیت میں تیرہ سال کا وقفہ ہے ۔ اس دوران رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو اسی معرفت الہی یعنی توحید ، ایمان اور آخرت کی تعلیم دی اور جب یہ تعلیم مکمل ہوئی تو ظاہری عبادات فرض کی گئیں تاکہ یہ عبادات بے روح نا ہوں۔
روزہ کے مقاصد
اللہ تعالی نے قرآن میں جہاں روزے کی فرضیت کا ذکر کیا ہے وہاں اس کے مقصد کو بھی بیان کیا ہے
”اے ایمان والو تم پر روزے فرض کر دیے گئے ہیں جیسا کی تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ ”
چنانچہ روزہ کا اصل مقصد تزکیہ و تقوی کا حصول ہے ۔ اہل علم نے روزے کی مشروعیت کے مختلف مقاصد بیان کیے ہیں جو سب کے سب تقوی ہی کی خصلتییں ہیں ۔
1۔ روزے میں انسان قدرت و طاقت رکھنے کے باوجوداپنی خواہشات اور حلال اشیاء بھی ترک کر دیتا ہے اس کا مقصدانسان کے اندر اللہ تعالی کی موجودگی کا احساس پیدا کرنا اور اسےاس ایمان و یقین پر تیار کرنا ہے کہ اللہ تعالی ہر لمحہ اس کی نگہبانی و نگرانی کر رہا ہے۔
2۔ روزہ انسان کے لیے اللہ تعالی کی بے چون و چرا اطاعت گزاری و فرمانبرداری کی مشق ہے تا کہ اس کے اندر یہ احساس پیدا ہو کہ خداوند کی رضا جوئی کے لیے جب حلال اشیاء و ضروریات سے اجتناب کر رہا ہے تو حرام آخر کیونکر اپناے ۔
3۔روزہ شہوات اور نفسانی خواہشات پر قابو پانے اور گرفت کرنے کی تربیت دیتا ہے جس سے ممنوع شہوات پر قابو پانے کے لیے تعاون ملتا ہے ۔ اور یہ چیز نفس کو اخلاق فاضلہ اپنانے کے لیے تیار کرتی ہے ۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے ان نوجوانوں کو بکثرت روزہ رکھنے کی نصیحت کی جو نکاح کی استطاعت نا رکھتے ہوں ۔
4۔ روزہ کا ایک مقصدانسان کو اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمتوں کی شکر گزاری کا احساس دلانا ہے ۔ حلال اشیاء کھانا پینا اور جائز ضروریات نفس اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمتیں ہیں ۔ لہذا ان سے کچھ دیر کے لیے رک جانا ان کی قدر و قیمت معلوم کراتا ہے جس سے انسان کو ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی طرف رغبت ہوتی ہے ۔
ہمارا طرز عمل
روزے کے ان تمام مقاصد کا حصول ہی اصل میں روزہ دار کا محور نگاہ ہونا چاہیے اور دوران روزہ و رمضان ہمیں اپنا طرز عمل انہی مقاصد کے حصول کے مطابق ترتیب دینا چاہیے تا کہ ہم رمضان کے خاطر خواہ فوائد حاصل کر سکیں جو ہمارے پروردگار کو اپنے بندے سے مطلوب ہیں ۔ ان نتائج کے عدم حصول کی صورت میں آدمی کی بھوک پیاس بے سود ہے۔ رمضان اللہ تعالی کی طرف سے ایمان والوں کے لیے ایک بونس ہے جس میں اخلاص نیت پر مبنی عمل انسان کی ابدی نجات و محبت الہی کا باعث ہو سکتا ہے لیکن دیکھنے میں آتا ہے کہ آجکل رمضان کا مہینا مسلمانوں کے مابین ایک رسمی سی حیثیت اختیار کر چکا ہے ۔ سحری و افطاری کے معمولات میں دستر خوان معمول سے زیادہ کھانوں سے بھرے نظر آتے ہیں جن کی دستیابی کے لیے مرد حضرات اپنا سارا وقت کاروبار وغیرہ کی نذر کرتے اور خواتین سارا دن کچن میں ان کی تیاری میں لگاتی ہیں ۔ عید کی شاپنگز میں بیشتر وقت بازاروں اور مارکیٹیس کی نذر ہو جاتا ہے خاص کر طاق راتیں جن کی اہمیت سے کون مسلمان واقف نا ہو گا۔ افطار پارٹیز کا دور دورہ ہوتا ہے ۔ میڈیا ، میوزک ، ڈراماز جنہیں مس کرنا لوگ اب نا گزیر سمجھتے ہیں ہر گھر میں چلتے نظر آتے ہیں اور بعض لوگ تو اسے روزہ گزارنے کا آسان ذریعہ خیال کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کی روزہ سمیت عبادات کی اصل روح کا شعور حاصل کیا جاے اور اسی احساس کے ساتھ ان کی ادائیگی کا اہتمام کیا جاے ۔ رمضان کے فضائل و برکات سے مستفید ہونے کے لیے بھی اسی روح کے ساتھ اس کا اہتمام لازم و ملزوم ہے
”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کی نبی ﷺ منبر پر چڑھے اور کہا آمین ، آمین ، آمین ۔ صحابہ نے دریافت کیا کہ آپ منبر پر چڑھے اور کہا آمین ، کیوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا جبرئیل میرے پاس آے اور کہا ، جس شخص کی زندگی میں رمضان المبارک کا مہینہ آیا اور وہ اس میں اپنی بخشش نا کروا سکا تو وہ آگ میں داخل ہو اور اللہ تعالی اسے اپنی رحمت سے دور کر دیں ۔ آپ کہیے آمین تو میں نے کہا آمین ”
صحیح الترغیب 997، کتاب الصوم ، ابن خزیمہ 1888
رمضان المبارک میں معمول کے دنیاوی امور کو بھی بالکل محدود کرتے ہوے عبادت اور اس کے مقاصد کے حصول کی جدو جہد کو محور نگاہ بنانا ہی ایک مومن مسلمان کا شعار ہونا چاہیے تا کہ وہ اس کے ذریعے سے اپنی بخشش کا سامان پیدا کرے۔ اللہ ہم سب مسلمانوں کو اس با برکت مہینے سے صحیح طرح استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین