Archive for the ‘جدیدیت’ Category

شب قدر اور فرشتوں سے متعلق اہم سوالات


شب قدر اور فرشتوں سے متعلق اہم سوالات
ڈاکٹر محمد عقیل
سورہ کا پس منظر کیا ہے؟
سورہ القدر کے مقام نزول پر اختلاف ہے کہ آیا کہ مکی سورۃ ہے یا مدنی۔ لیکن اس کا لہجہ بتاتا ہے کہ یہ مکہ کے آخری دور کی سورہ ہے۔اس سورہ میں دراصل تین اہم باتوں کو بیان کیا ہے۔ پہلا مضمون یہ کہ قرآن پڑھنا جاری رکھیں

عقیدہ اور عقل


عام طور پر یہ کہا اور سمجھا جاتا ہے کہ عقیدہ کا عقل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا یا عقیدہ عقل سے ثابت نہیں کیا جاتا ، بس یہ تو ایک ماننے کی چیز ہے۔ دلچسپ بات ہے کہ یہ دعوی مسلمانوں کی جانب سے بھی کیا جاتا ہے ۔ لیکن جب ہم قرآن کے اسلوب اور اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعوت کو دیکھتے ہیں تو حقیقت اس کے برخلاف معلوم ہوتی ہے۔
پڑھنا جاری رکھیں

اللہ تعالی کی اسکیم سے متعلق کچھ سوالات

السلام علیکم
آپ یہ کہتے ہیں کہ انسان کا خدا سے عالم ارواح میں ایک معاہدہ ہوا تھا۔ آپ نے لکھا ہے کہ یہ معاہدہ انسان کی آزادانہ مرضی سے ہوا تھا۔ اس کے لیے آپ ڈیلی لائف سے ثبوت بھی دیتے ہیں۔ اس سے یہ لگتا ہے کہ یہ ایمان بالغیب کی قسم کی چیز ہے۔ یہ معاہدہ مجھے بہت کنفیوژن میں ڈال رہا ہے اور یہ مائتھالوجی لگ رہی ہے۔ اس پر کچھ سوالات ہیں:
۱۔ ہمارے پاس کوئی ٹھوس ثبوت ہے کہ ہم نے یہ معاہدہ کیا ہے؟
۲۔ کیا قیامت تک پیدا ہونے والے ہر آدمی کی روح وہاں موجود تھی یا جب پیدا ہوا تھا پڑھنا جاری رکھیں

آج امریکہ اور برطانیہ پر عذاب کیوں نہیں آتا

قرآن میں کن قوموں کا ذکر ہے؟
قرآن میں خاص طور پر وہ اقوام مذکور ہیں جن میں رسولوں کی بعثت ہوئی اور وہ براہ راست قانون دینونت کی زد میں آئیں۔ قانون دینونت کیا ہے ؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک رسول قوم میں مبعوث ہوتا ہے تو وہ اللہ کی عدالت بن کر دنیا میں آتا ہے۔ وہ اپنی قوم کو دعوت دیتا، سمجھاتا، بجھاتا اور ہر لحاظ سے ان کی تشفی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن جب قوم حق واضح ہوجانے کے بعد اور تما م دلائل سمجھ آجانے کے بعد ماننے سے انکار کردیتی ہے پڑھنا جاری رکھیں

کلمہ گو کی جان کی حرمت


حدیث نمبر ۱۔حضرت جندب بن عبداللہ البجلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عسعس بن سلام کی طرف کسی کو بھیجا حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور حکومت میں فتنہ کا زمانہ تھا انہوں نے فرمایا کہ اپنے کچھ بھائیوں کو جمع کرلو تاکہ ان کے سامنے حدیث بیان کروں تو جندب نے آدمی بھیج کر ان کو بلایا سب کے جمع ہونے پر عسعس زرد رنگ کا کپڑا سر پر لپیٹے ہوئے آئے انہوں نے فرمایا اس فتنہ کے بارے میں گفتگو کرو جو تم کرتے ہو لوگ آپس میں باتیں کرنے لگے پھر جب حضرت عسعس سے بات کرنے کے لئے کہا گیا تو وہ کپڑا آپ کے سر سے کھل گیا اور انہوں نے فرمایا میں تمہارے پاس اس لئے آیا ہوں کہ تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان کردوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ مسلمانوں کو مشرکین کی طرف بھیجا، ان مشرکیں میں سے ایک آدمی ایسا تھا کہ مسلمانوں میں سے جس کو قتل کرنے کا ارادہ کرتا تو اسے قتل کر دیتا تو مسلمانوں میں سے ایک آدمی حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے غفلت میں ڈال کر اسے قتل کرنے کا ارادہ کیا جب تلوار اس کی طرف اٹھائی تو اس نے کہا لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ! مگر اسامہ نے اسے قتل کردیا پھر فتح کی بشارت دینے والا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ کے بارے میں پوچھا وہ بتا رہا تھا یہاں تک کہ اس نے حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ واقعہ بیان کیا کہ کس طرح اسامہ نے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسامہ کو بلا کر پوچھا کہ تم نے اسے کیوں قتل کردیا؟ اسامہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اس نے مسلمانوں میں کھلبلی ڈال دی تھی اور اس نے فلاں فلاں مسلمان کو قتل کیا اور میں نے اس پر قابو پالیا جب اس نے تلوار دیکھی تو لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کہنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے اس کے بعد بھی اسے قتل کردیا؟ اسامہ نے عرض کیا جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کے لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کا کیا جواب دو گے جب وہ قیامت کے دن اس کو لے کر آئے گا؟ اسامہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ میرے لئے استغفار فرمائیں، مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہی فرماتے رہے کہ تم کیا جواب دو گے جب وہ قیامت کے دن لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ لے کر آئے گا۔( صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 279)

حدِیث نمبر ۲۔ حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو بنی زہرہ کے حلیف اور بدر کی جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے۔ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ مجھے بتائیے کہ اگر میں کسی کافر سے بھڑ جاؤں اور باہم خوب مقابلہ ہو اور وہ میرا ایک ہاتھ تلوار سے کاٹ دے اور پھر درخت کی پناہ لے اور کہے میں اللہ پر ایمان لایا ہوں اور اسلام کو قبول کرتا ہوں تو اب اس اقرار کے بعد میں اس کو مار دوں یا نہیں؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مت مار۔! حضرت مقداد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس نے میرا ہاتھ کاٹ دیا ہے اور اس کے بعد کلمہ پڑھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ بھی ہو اسے مت قتل کرو ورنہ اس کو وہ درجہ حاصل ہوگا جو تم کو اس کے قتل کرنے سے پہلے حاصل تھا اور پھر تمہارا وہی حال ہوجائے گا جو کلمہ اسلام کے پڑھنے سے پہلے اس کا تھا۔ (صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1245)

حدیث نمبر ۳۔ حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے جانتے بوجھتے کسی دوسرے کو باپ بنایا تو یہ بھی کفر کی بات ہے اور جس شخص نے ایسی بات کو اپنی طرف منسوب کیاجو اس میں نہیں ہے تو ایسا شخص ہم میں سے نہیں ہے اور اس کو اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنانا چاہئے اور جس نے کسی کو کافر کہا یا اللہ کا دشمن کہہ کر پکارا حالانکہ وہ ایسا نہیں ہے تو یہ کلمہ اسی پر لوٹ آئے گا۔( صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 219 )

یہ مذہبی عدالتیں


جس گھر میں اسے ایک معزز مہمان کی حیثیت حاصل ہوا کرتی تھی اور جس کے درودیوار اور مکین ومکاں سب کے سب اس کے لیے دیدہ و دل فرشِ راہ کیے رہتے تھے، آج اُسی گھر میں وہ ایک ملزم بلکہ مجرم کی حیثیت سے حاضر کیا گیا تھا۔جج صاحب منصبِ قضا پر جلوہ افروز ہو چکے تھے اور جیوری کے افراد بھی اپنی اپنی نشستوں پر براجمان۔ جج وہ شخص تھا جس کے ساتھ اس کی زندگی کے پندرہ برس گزر ے تھے ۔ جو اس کے کردار کو بطور مثال بیان کیا کرتا تھا پڑھنا جاری رکھیں

وجود باری تعالیٰ- کچھ سوالات


اس دفعہ کی ملاقات میں قارئین کی خدمت میں ایک انتہائی اہم مسئلے کے حوالے لکھے گئے دو ای میل پیش ہیں ۔ یہ ای میل جرمنی میں مقیم ایک دوست کے ای میلز کے جواب میں لکھے گئے ۔ یہ دوست موجودہ دور کی الحادی فکر پر کافی کام کر رہے ہیں ۔ میں نے ان ای میلزمیں ان سوالات کے کچھ جوابات دیے ہیں جن کو بنیاد بنا کر وجود باری تعالیٰ کا انکار کیا جاتا ہے ۔یہ ای میل آپ پڑھنا جاری رکھیں