Archive for the ‘سوالات’ Category

شب قدر اور فرشتوں سے متعلق اہم سوالات


شب قدر اور فرشتوں سے متعلق اہم سوالات
ڈاکٹر محمد عقیل
سورہ کا پس منظر کیا ہے؟
سورہ القدر کے مقام نزول پر اختلاف ہے کہ آیا کہ مکی سورۃ ہے یا مدنی۔ لیکن اس کا لہجہ بتاتا ہے کہ یہ مکہ کے آخری دور کی سورہ ہے۔اس سورہ میں دراصل تین اہم باتوں کو بیان کیا ہے۔ پہلا مضمون یہ کہ قرآن پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

درست عالم یا ڈاکٹر کا انتخاب


سوال : ایک انسان کس طرح کسی درست ڈاکٹر یا عالم کا انتخاب کرسکتا ہے ؟
جواب: آج سے چند سال قبل میری بیٹی جو اس وقت سات آٹھ سال کی ہوگی اس کے پیٹ میں درد اٹھا۔ ایک علاقے کی ڈاکٹر کو دکھایا تو اس نے کہا کہ اسے آپ ہاسپٹل لے جائیں۔ میں قریبی ہسپتال کے کر گیا تو ڈاکٹر نے بتایا کہ اپینڈکس ہے اور بس فوری آپریشن کرنا ہوگا اور بس ابھی سرجن صاحب آرہے ہیں اور آپریشن کروالیں۔ مجھے لگا کہ یہ ڈاکٹر بے وقوف بنا رہا ہے کیونکہ درد کی نوعیت ایسی معلوم نہیں ہورہی تھی۔ میں ایک اور ڈاکٹر کے پاس لے گیا جو بہت پرانے تھے اور تجربہ رکھتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اپینڈکس کا کوئی ٹیسٹ نہیں ہوتا اور یہ صرف کلینکل ڈائگنوسس کی بنیاد پر ہی طے ہوتا ہے کہ اپینڈکس ہے یا نہیں۔ پھر انہوں نے خود چیک کیا اور مجھے بھی ہاتھ رکھ کر چیک کروایا کہ آنتوں کی نرمی بتارہی ہے اپینڈکس نہیں ہے ۔ انہوں نے دوا دی اور سب ٹھیک ہوگیا۔
یہاں دیکھا جائے تو میں میڈیکل کا بالکل علم نہیں رکھتا تھا ، صرف کامن سینس کی بنیاد پر میں نے کوشش کی اور درست ڈاکٹر تک پہنچ گیا۔ یہی رویہ عالم دین کے انتخاب میں بھی ہوتا ہے۔ ایک عالم دین جب کوئی مسئلہ بتاتا ہے تو اس کے ساتھ دلیل بھی دیتا ہے اور اگر نہیں دیتا تو دینا چاہیے۔اگر اس کی دلیل سمجھ آرہی ہے تو بہت اچھی بات ہے ۔ لیکن اگر کچھ شک ہے تو اس پر عمل کرنے سے قبل کسی دوسرے مکتبہ فکر کے عالم سے رائے لینے اور دلیل معلوم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ دونوں کے دلائل سمجھنے کے لیے عالم دین ہونا لازمی نہیں ۔ جس طرح ہم دو ڈاکٹروں، دو دوکانداروں، دو ٹھیکیداروں اور دو اسکولوں کا انتخاب بخوبی کرلیتے ہیں اسی طرح درست رائے جاننا بھی کوئی مسئلہ نہیں۔
اب ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح تو ہم عالم دین کے چکر ہی لگاتے رہیں گے اور ہمیں بیسیوں کام کرنے ہوتے ہیں تو اس کا جواب بہت سادہ ہے۔ ہمیں ڈاکٹروں کے پاس بھی اسی وقت جانا ہوتا اور موازنہ کرنا ہوتا ہے جب کوئی بڑا مسئلہ درپیش ہو۔ اور ایسا کبھی کبھار ہی ہوتا ہے۔ اسی طرح ہمیں دین کے ایسے مسائل کا سامنا بھی شاذو نادر ہی کرنا پڑتا ہے جب موازنہ کرنا پڑے ۔
یعنی جس طرح ہمارا کام یہ نہیں کہ روزانہ ہم ہسپتال میں یہ خاک چھانتے پھریں کہ کون سا ڈاکٹر صحیح ہے اور کون غلط۔ ایسے ہی ہم پر یہ فرض نہیں کہ ہر وقت صحیح اور غلط علما ہی تلاش کرتے رہیں۔ نہیں جب ضرورت پڑے تب تلاش کرلیں اور یہ کبھی کبھی ہی ہوتا ہے۔
پروفیسر محمد عقیل

دوسرے مسلک کے عالم سے رجوع کرنا


سوال : کسی دوسرے عالم دین سے رجوع کرنے کی صورت میں تو خواہش پرستی جنم لے گی؟
جواب: یہ ایک اشکال ہے کہ اگر ایک شخص کو مسلک اور عالم تبدیل کرنے کی اجازت دے دی جائے تو کیا خواہش پرستی جنم نہیں لے گی۔ یعنی ایک شخص نے اگر اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دے دیں تو حنفی مسلک کے تحت طلاق واقع ہوگئی۔ لیکن وہ حنفی مسلک کے عالم سے مطمئین نہیں ہوتا کیونکہ اس کا مسئلہ حل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا تو وہ اہل حدیث کے پاس جاتا ہے جہاں اسے بتادیا جاتا ہے کہ یہ تین طلاقیں ایک ہیں اور وہ اپنی بیوی سے تعلق قائم کرسکتا ہے۔
ا س کا جواب یہ ہے کہ جو لوگ خواہش پرست ہوتے ہیں وہ تو عام طور پر ویسے بھی دین کی حددود قیود کا خیال نہیں رکھتے۔لہٰذا اس بنیاد پر تقلید جامد کو فروغ دینا مناسب نہیں۔نیز اگر کسی نے خواہش کی بنیاد پر کسی مسئلے کو ماننے یا رد کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو وہ تو اس پابندی کو بھی نہیں مانے گا کہ کسی دوسرے مسلک کے عالم سے پوچھنا جائز نہیں ہے،
اس کے علاوہ ایسے مسائل بہت کم ہوتے ہیں جس میں انسان خواہش کی بنا پر کوئی فیصلہ کرتا ہے۔ اکثر مسائل میں ایک صالح مسلمان کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی بتائی ہوئی بات تک پہنچ جائے۔ بہرحال کسی کو خواہش پرستی سے روکنے کے لیے سب کو اندھی تقلید پر مجبور کرنا مناسب نہیں۔
پروفیسر محمد عقیل

ڈاکٹر اور عالم سے علمی اختلاف


سوال۔ کیا ڈاکٹر اور عالم سے ایک عام انسان علمی اختلاف کرسکتا ہے جبکہ اس کے پاس خود علم نہیں؟
جواب: آج سے بیس سال قبل پاکستان میں میڈیکل ڈاکٹروں کا رویہ یہ ہوتا تھا کہ وہ مریض کو بہت کم باتیں بتاتے تھے اور خاموشی سے اسے دوائیں تجویز کردیتے۔وہ مرض کے بارے میں تفصیل سے مریض کو نہیں سمجھاتے تھے اور نہ ہی اپنی تشخیص کے دلائل دیتے تھے۔ چنانچہ ان کی اندھی تقلید کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ آج صورت حال مختلف ہےاب مریض ڈاکٹروں سے اس مرض کی تفصیل جاننا چاہتا اور اپنے مرض کی تشخیص پر اطمینان بخش جواب چاہتا ہے۔ چنانچہ آج مریض کو اچھے ڈاکٹر مرض کے بارے میں بھی بتاتے اور اس کے ٹیسٹ کی رپورٹ ثبوت کے طور پر اسے دیتے اور اسے مطمئین کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مریض مطمئین نہ ہو تو کسی بھی دوسرے داکٹر کے پاس جاسکتا ہے ۔
علمائے دین کا معاملہ بھی یہی ہونا چاہیے۔ جب کسی عالم سے کوئی مسئلہ دریافت کیا جائے تووہ پوچھنےوالے کو اپنی رائے بھی بیان کرے اور اس کے ساتھ ساتھ آسان الفاظ میں اس کے دلائل بھی پیش کرے۔ سوال پوچھنے والا اگر مطمئین نہ ہو تو اسے سمجھائے کہ اس نے یہ رائے کیوں اختیار کی۔ اگر سوال پوچھنے والا مطمئین نہ ہو تو وہ کسی دوسرے عالم دین کی جانب رجوع کرسکتا ہے۔
تو حتمی جواب یہ ہے کہ عالم دین سے ٹیکنکل معاملے میں اختلاف کرنے کے لیےتو عالم ہونا ضروری ہے لیکن عالم کی بات سمجھنے کے لیے اور اس کی پیش کردہ دلیل سے مطمئین ہونے کے لیے عالم ہونا لازمی نہیں۔ ایک عام پڑھا لکھا شخص یہ کام کرسکتا ہے۔ دلیل سے مطمئین کرنا عالم کا کام ہے اور اس کا بنیادی فرض ہے۔
پروفیسر محمد عقیل

تنہائی، غصہ اور ڈپریشن

تنہائی، غصہ اور ڈپریشن
سوال: میں بہت تنہائی محسوس کرتی ہوں۔ مجھے بہت غصہ آتا ہے۔ غصے سے اندر ہی اندر کڑھتی رہتی ہوں ۔ دو دن غصہ رک جاتا ہے۔ تیسرے دن میں کنٹرول نہیں کرسکتی۔ غصہ مجھ پراتنا حاوی ہوجاتا ہے کہ میں اس سے لڑ نہیں سکتی۔ پھر میں بہت روتی ہوں۔ اور اس تیسری رات میں سو بھی نہیں پاتی۔ دم گھٹنے لگتا ہے۔ دل پر بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ جیسے دل بند ہوجائے گا ۔ کوئی بات یاد آجائے تو ساری رات کیا، کیوں اور کیسے ہوا سوچتے ہوئے گزرجاتی ہے۔ سوچیں میرے دماغ سے نکلتی نہیں ہیں۔ جب سے میرا پالتو طوطا میری غلطی کی وجہ سے مر گیا ہے میں مزید ڈپریش کا شکار ہو چکی ہوں ۔میری امی مجھے اکثر کہتی تھیں اور ابھی بھی انکا یہی خیال ہے کہ میں ذہنی مریض ہوں۔ اب مجھے بھی یہی محسوس ہوتا ہےکہ واقعی میں مینٹلی ٹھیک نہیں ہوں۔ ایک مہینے سے دماغ نے ساتھ دینا بالکل چھوڑ دیا ہے۔ مجھے کسی سے کوئی شکایت نہیں سب ٹھیک ہیں بس میں ٹھیک نہیں ہوں۔ یہ جانتے ہوئے بھی میں اس کیفیت کو کنٹرول نہیں کرپاتی ۔ لوگوں کی تنقید سے اور برا محسوس کرتی ہوں۔سب کچھ برا ہے میرے ساتھ۔۔میری شادی ہونے والی ہے مگرلگتا ہے سب کچھ مل کے بھی خالی ہاتھ ہوں۔ کبھی میرا دل کرتا ہے باہر جاؤں ۔۔فرینڈز کے ساتھ گھوموں باتیں کروں اور کبھی بالکل تنہا رہنے کا دل کرتا ہے جہاں کوئی نہ ہو۔۔میں بہت ڈپریش میں ہوں ۔۔مدد چاہیے۔
جواب:آپ کے سوال میں بہت سی الجھی ہوئی سوچیں اور بے ربط خیالات ہیں۔۔دیکھیں آج دنیا میں بے شمار لوگوں کو آپ سے ملتے جلتے مسائل کا سامنا ہے یعنی گھر میں توجہ نہ ملنا،جسمانی خوبصورتی نہ ہونا،تنہائی،کسی عزیز کا بچھڑ جانا۔۔۔اور اپنی ناکامیوں پر مزید مایوس کن خیالات کی بھرمار۔۔۔لیکن اصل بات یہ مسائل نہیں بلکہ ان مسائل پر ہمارا ردعمل ہے۔ آج دنیا میں شاید ہی کوئی انسان ہو جو کسی نہ کسی پریشانی کا شکار نہ ہو۔ آپ بالکل بھی ذہنی مریض نہیں صرف آپ میں قوت ارادی کی کمی اور زود حسی ہے۔یہ سب مسائل حل طلب ہیں اگر آپ ان کے آگے خود کو بےبس سمجھ کر ہتھیار نہ پھینکیں بلکہ مثبت سوچوں اور مثبت رویے کے ساتھ ان کا مقابلہ کریں۔یقین مانیں اگر آپ انہی لایعنی قسم کی سوچوں کے ساتھ زندگی بسر کرنا چاہتی ہیں تو دنیا کا کوئی بھی انسان آپ کی مدد نہیں کر سکتا ، نہ کوئی ہینگ آؤٹ اور نہ ہی کوئی دوست۔۔
اللہ نے ہر انسان کو اس کی ضروریات کے مطابق بے شمار نعمتوں اور صلاحیتوں سے نوازا ہے اور جن چیزوں سے محروم رکھا ہے یہ بھی اس کے لا محدود علم اور مصلحت کے تحت ہے جس کو ہمارا محدود ذہن نہیں سمجھ سکتا۔ مگر ہم اپنی اپنی محرومیوں کو خود پر اسقدر حاوی کر لیتے ہیں کہ اپنی صلاحیتوں کو استعمال ہی نہیں کر پاتے اور ان بے شمار نعمتوں کو سرے سے نظر انداز کر دیتے ہیں جو ہمیں حاصل ہیں بغیر ہماری کسی کوشش کے۔
اب آپ کی مرضی کے مطابق آپ کی شادی ہونے والی ہے۔یہ آپ کے پاس اپنی زندگی کو نارمل کرنے کا سنہری موقع ہے،اب اگر آپ نے خود کو کنٹرول نہ کیا تو آگے بھی خدا نہ کرے ،سوائے مسائل کے،کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔میرا مشورہ ہے کہ:
۔اپنے گھر والوں کے رویے کو یہ سمجھ کر نظر انداز کر دیں کہ وہ آپ کی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے ایسا کرتے ہیں ۔ بے شک ان کا طریقہ کار غلط ہے مگر ان کی نیت ہو سکتا ہے درست ہو، ان کی باتوں پر کڑھنے کی بجائے برداشت اور حوصلے کے ساتھ کوشش کریں کہ محبت کا برتاؤ کریں۔
۔آپ کو کسی مثبت ذہنی اور جسمانی سرگرمی کی شدید ضرورت ہے مثلاً اچھی کتابوں کا مطالعہ ،ہلکی پھلکی ورزش وغیرہ۔
۔دوسروں سے زیادہ توقعات وابستہ مت کیجئے۔ یہ فرض کر لیجئے کہ دوسرا آپ کی کوئی مدد نہیں کرے گا۔ بڑی بڑی توقعات رکھنے سے انسان کو سوائے مایوسی کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
۔خوشی کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہونا سیکھئے اور بڑے سے بڑے غم کا سامنا مردانہ وار کرنے کی عادت ڈالئے۔
۔اللہ کے ساتھ تعلق بنانے کی کوشش کریں،اپنی چھوٹی بڑی ہر بات اس کے سامنے کریں اس یقین کے ساتھ کہ وہ قادر مطلق ضرور سنتا ہے۔۔یقین مانیں دل پرسکون ہو جاتا ہے۔۔
ان تمام طریقوں سے بڑھ کر سب سے زیادہ اہم رویہ جو ہمیں اختیار کرنا چاہئے وہ رسول اللہ ﷺ کے اسوہ حسنہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل توکل اور قناعت ہے۔ توکل کا یہ معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہا جائے۔ اس کا انتہائی معیار یہ ہے کہ انسان کسی بھی مصیبت پر دکھی نہ ہو بلکہ جو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو ، اسے دل و جان سے قبول کرلے۔ ظاہر ہے عملاً اس معیار کو اپنانا ناممکن ہے۔ اس لئے انسان کو چاہئے کہ وہ اس کے جتنا بھی قریب ہو سکتا ہو، ہو جائے۔
آپ نے جس خیالی دنیا کا ذکر کیا ہے ، یقیناً وہ دنیا انسان کو ملے گی۔بس ہمیں خود کو اس کا اہل ثابت کرنا ہے اور وہ دنیا کا سکون بھی ہو سکتا ہے اور آخرت کا ہمیشہ کا آرام بھی۔ کیا ہی اچھا ہو اگر ہم یہ سوچیں کہ دنیا کی اس چند روزہ زندگی سے ہم نے اپنی آخرت کا سامان کیسے اکٹھا کرنا ہے؟؟یہ مشکل تو ہو گا مگر اس کے بعد ہمیشہ کا سکون مقدر بن سکتا ہے۔۔
اللہ آپ کو قوت برداشت اور ہمت دے کہ آپ خود کو بدلنے میں کامیاب ہو سکیں۔۔آمین
از: راعنہ نقی سید

اللہ کے رزق کی فراہمی پر سوالات


اللہ کے رزق کی فراہمی پر سوالات
قرآن میں رزق کی فراہمی سے متعلق کئی آیات موجود ہیں لیکن سب سے اہم اور فیصلہ کن آیت یہ ہے:
وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ Č۝
زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمےنہ ہو ۔ وہ اس کی قرار گاہ کو بھی جانتا ہے اور دفن ہونے کی جگہ کو بھی۔ یہ سب کچھ واضح کتاب (لوح محفوظ) میں لکھا ہوا موجود ہے۔ (ہود ۶:۱۱)
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے رزق کی فراہمی سے کیا مراد ہے؟ اوپر والی آیت کو اگر دیکھا جائے تو علم ہوگا کہ اللہ نے ہر جاندار کا رزق اپنے ذمے لیا ہے اور اس سے بظاہر یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ کوئی ذی روح کم از کم رزق کی عدم فراہمی کی بنا پر نہیں مرسکتا ۔ پہلے ان آیات کو اس کے سیاق سباق کے ساتھ دیکھتے ہیں ۔ یہ سورہ ہود کی چھٹی آیت ہے جس سے قبل یہ مضمون چل رہا ہے:
ا ل ر۔ فرمان ہے 1 ، جس کی آیتیں پختہ اور مفصّل ارشاد ہوئی ہیں 2 ، ایک دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے،
کہ تم نہ بندگی کرو مگر صرف اللہ کی ۔ میں اس کی طرف سے تم کو خبردار کرنے والا بھی ہوں اور بشارت دینے والا بھی ۔
اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ تو وہ ایک مدّتِ خاص تک تم کو اچھا سامانِ زندگی دے گا 3 اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا ۔ 4 لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں ۔
تم سب کو اللہ کی طرف پلٹنا ہے اور وہ سب کچھ کر سکتا ہے ۔
دیکھو ! یہ لوگ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں تاکہ اس سے چھپ جائیں ۔5 خبردار ! جب کہ کپڑوں سے اپنے آپ کو ڈھانپتے ہیں، اللہ ان کے چھپے کو بھی جانتا ہے اور کھلے کو بھی، وہ تو ان بھیدوں سے بھی واقف ہے جو سینوں میں ہیں ۔
زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمّے نہ ہو اور جس کے متعلق وہ نہ جانتا ہو کہ کہاں وہ رہتا ہے اور کہاں وہ سونپا جاتا ہے، 6 سب کچھ ایک صاف دفتر میں درج ہے ۔
اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔۔۔۔ جبکہ اس سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا 7 ۔۔۔۔۔۔ تاکہ تم کو آزما کر دیکھے تم میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے ۔8 اب اگر اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)، تم کہتے ہو کہ لوگو، مرنے کے بعد تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے تو منکرین فوراً بول اٹھتے ہیں کہ یہ تو صریح جادوگری ہے ۔9
اور اگر ہم ایک خاص مدّت تک ان کی سزا کو ٹالتے ہیں تو وہ کہنے لگتے ہیں کہ آخر کس چیز نے اسے روک رکھا ہے ؟ سنو ! جس روز اس سزا کا وقت آگیا تو وہ کسی کے پھیرے نہ پھر سکے گا اور وہی چیز ان کو آگھیرے گی جس کا وہ مذاق اڑا رہے ہیں ۔ ؏١
سور ہ ہود آیات نمبر ۱ تا ۸
ان آیات پر اگر تدبر کیا جائے تو پہلی آیت میں کفار مکہ کو یہ بتایا جارہا ہے کہ یہ قرآن کی آیات جس ہستی کی جانب سے نازل کی گئی ہیں وہ لامتناہی طورپر ایک حکیم یعنی دانا اور لامتناہی طور پر باخبر ہستی ہے۔ اگلی دو آیات میں بتایا ہے کہ صرف اسی کی بندگی کرو۔ اگر ایسا کروگے تو دنیا کا سامان زندگی بہترین انداز میں عطا کیا جائے گا اگر ایسا نہ کروگے تو اس زندگی سے عذاب کے ذریعے محروم کردئیے جاؤگے۔ معاملہ یہاں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ تم ایک دن دوبارہ زندہ کئے جاؤگے اور وہاں تمہیں دوبارہ اسی ہستی کے سامنے کھڑا کردیا جائے گا جو کوئی کمزور نہیں بلکہ ہر شے پر قادر ہے۔ اگلی آیات میں اللہ کی ا نہی صفات کی تشریح ہے جو پہلی آیت اور چوتھی آیت میں بیان ہوئیں یعنی وہ حکیم ہے، خبیر ہے اور قدیر ہے۔چنانچہ پانچویں آیت میں اللہ خبیر ہے اس صفت کی تشریح ہے کہ وہ کھلے اور چھپے سب کو جانتا ہے۔ چھٹی آیت جو اصل زیر بحث آیت ہے اس میں یہی قدرت کا بیان ہے کہ تمہارا واسطہ جس ہستی سے ہے وہ کوئی معمولی ہستی نہیں، اسی کے ذمے پوری کائنات کے جانداروں کے رزق کی فراہمی ہے ۔ پھر دوبارہ اس کے علم کا بیان ہے کہ وہ کہاں ٹہرے گا اور کہاں سونپا جائے گا اور یہ سب کچھ ایک کتاب مبین میں ہے۔اگلی دو آیات اللہ کی اسی قدرت کا بیان ہیں کہ وہ قادر ہے کہ تمہیں سزا دے، اگر اس نے اپنی حکمت کے تحت ابھی تک عذاب نہیں دیا تو اس تاخیر کو اس کی کمزوری مت سمجھو وغیرہ ۔
اس روشنی میں ایک مرتبہ پھر اوپر کی ایات کو پڑھ لیں۔
سوالات
۱۔اس آیت کے مطابق کیا رزق کی فراہمی سے مراد یہ ہے کہ کوئی جاندار غذائی قلت سے نہیں مرسکتا؟
اس سیاق سباق کے بعد ایک مرتبہ پھر آپ اوپر بیان کی گئی ساری آیات پڑھ لیں اور خاص طور پر آیت نمبر چھ میں تو رزق کی فراہمی اللہ کی قدرت کا بیان ہے ۔ یعنی یہاں اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ ہر جاندار کا رزق اللہ نے فراہم کرنا ہے اس لئے نہ کسی بستی میں قحط پڑ سکتا ، نہ کوئی بھوک سے مرسکتا، نہ کوئی سوسائٹی قلت غذا کا شکار ہوسکتی اور نہ کسی قوم کا خاتمہ رزق ہے عدم فراہمی سے ہوسکتا ہے۔ غور سے ایک مرتبہ پھر ان چھ آیات کو پڑھ لیں تو اس قسم کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ البتہ جونہی ہم اس آیت کو سیاق و سباق سے کاٹتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ قرآن رزق کی فراہمی کا غیر مشروط دعوی کررہا ہے ۔ اس کے بعد ضمنا وہ سوالات وارد ہوسکتے ہیں جو اوپر بیان کئے گئے۔چنانچہ ان آیات کو سیاق و سباق میں رکھ کر ہی سمجھا جانا چاہئے وگرنہ غلط نتائج نکل سکتے ہیں۔
۲۔ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت میں رزق کی فراہمی سے کیا مراد ہے ؟
رزق کی فراہمی سے سادہ طور پر مراد یہ ہے کہ اللہ نے جس طرح اس کائنات میں جاندار پیدا کرکے یونہی نہیں چھوڑدئیے بلکہ ا ن کے رزق کی فراہمی کا پورا سامان رکھ دیا، پورا بندوبست کردیا اورسارے اسباب مہیا کردئیے۔ گویا یہاں رزق کی فراہمی کا ایک عمومی بیان ہے کہ انسان ، جانور چرند ، پرند، آبی مخلوق، پودے ، کیڑی مکوڑے سب کے لئے یہ سامان رزق انکی ضروریات کے مطابق موجود ہے۔ البتہ یہاں مخصوص کرکے یہ بات بیان نہیں کی جاسکتی کہ پھر قحط زدہ علاقے میں اسلم ، احمد یا اکرم نامی اشخاص کیوں بھوک سے مرگئے؟ یہ ایک جنرل بیان ہے اسے تخصیص سے بیان نہیں کیا جاسکتا۔
۳۔ ایک اور سوال یہ کہ رزق کی فراہمی کیا غیر مشروط ہے یا مشروط ہے؟
رزق کی فراہمی مکمل طور پر مشروط عمل ہے ۔ چنانچہ ایک کسان کو رزق اس وقت ملے گا جب وہ ہل چلا کر بیج بوئے گا اور پانی سے فصل کی آبیاری کرے گا۔ ایک مزدور کو رزق اس وقت ملے گا جب وہ محنت کرے گا۔ ایک بزنس مین رزق اس وقت کمائے گا جب وہ کاروبار کرے گا وغیرہ۔
یہ شرط مختلف مخلوق اور حالات کے لئے مختلف ہے۔ چنانچہ دیکھیں جب ایک بچہ اپنی ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو وہاں اس بچے سے یہ تقاضا نہیں کیا گیا کہ وہ ایک مزدور کی طرح محنت کرے اور روزی کمائے۔اس کا رزق از خود ماں کی ناف کے ذریعے اس کے جسم میں پہنچ رہا ہے۔لیکن جونہی وہ بچہ ماں کے پیٹ سے باہر آتا ہے تو اب فریم آف ریفرینس بدل گیا۔ اب ناف کو کاٹ دیا جاتا ہے۔ اب اس بچے کو رزق کی فراہمی ماں کے دودھ کے ذریعے کی جاتی ہے گویا اب اس بچے کو رزق فراہم کرنے کی شرائط بدل گئیں۔جب بچہ بڑا ہوتا ہے تو اب ماں کی چھاتیوں سے دور کردیا جاتا ہے اور اب رزق اسے ہاتھوں کے ذریعے کھانا ہے۔اگر ایک بارہ سال کا بچہ ہاتھ سے کھانے سے انکار کردے اور غذا کا فراہمی کا اسی طریقے سے مطالبہ کرے جو ماں کے پیٹ میں میسر تھا تو وہ اپنے فریم آف ریفرینس کی شرط پوری نہیں کررہا۔ یوں وہ رزق سے محروم رہے گا۔گویا رزق تو دستیا ب ہے لیکن اس کا حصول کوشش سے مشروط ہے۔
۴۔ اگر کوئی بھوک سے مرجاتا ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے رزق کی فراہمی کا وعدہ پورا نہیں کیا؟
نہیں اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں۔ جیسا کہ اوپر بتایا کہ رزق کی فراہمی سے مراد رزق کا بندوبست کرنا اور اس کے اسباب مہیا کردینا ہے ۔ لیکن اللہ نے کسی کو آزمانا ہے یا کسی کو موت دینی ہے تو اس کے جس طرح کئی طریقے ہیں تو ایک طریقہ بھوک، افلاس اور قحط بھی ہے۔
۵۔ افریقہ یا تھر اور دیگر ممالک میں غذائی قلت کو دور کرنا کس کی ذمہ داری ہے اور اس کے کیا اسباب ہیں؟
غذائی قلت کے کئی مادی اسباب ہوسکتے ہیں جیسے غلط پلاننگ، ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا، امیر ممالک کا استحصال، دولت کی غیر منصفانہ تقسیم، آسمانی آفات وغیرہ۔ چنانچہ اللہ نے تو تمام اسباب مہیا کردیا اب یہ کام انسان کا ہے کہ وہ اس سے کس طر ح مستفید ہوتا ہے۔
بعض اوقات غلطی حکومت کی ہوتی ہے لیکن اس کی سزا غریبوں کو ملتی ہے ۔ اسی طرح امیر لوگ لالچ کرکے دولت اپنے ہاتھوں میں رکھ لیتے ہیں لیکن اس کی سزا غریبوں کو ملتی ہے۔ اس کا سبب یہی ہے کہ امیر شکر کے امتحان میں ہیں اور غریب صبر کے امتحان میں۔ آخرت میں غریبوں کو اپنے ساتھ کی گئی زیادتی کا پورا بدلہ مل جائے گا اور امیروں کو اپنے کئے کا بدلہ مل جائے گا انشاءاللہ
۶۔سوال یہ ہے کہ آزمائش تو انسانوں کے لئے ہے تو بچے، جانور اور پودے کیوں اس غذائی قلت کی بنا پر تکلیف میں آتے اور مرجاتے ہیں؟
وہ تمام مخلوق جن پر آزمائش نہیں ان میں جمادات نبادات ، حیوانات اور غیر ذی شعور مخلوق آتی ہے۔اس مخلوق کو اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تحت پیدا کرتے اور اسی حکمت کے تحت ختم کردیتے ہیں۔ اس ختم کرنے کے طریقے میں ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ بھوک یا غذا کی عدم فراہمی کے ذریعے ان کا خاتمہ کیا جائے۔ اس طرح کا خاتمہ انسانوں کے لئے نا صرف بڑی آزمائش کا ذریعہ بنتا ہے بلکہ ان کے ضمیر کوجھنجھوڑنے کا بھی سبب ہوتا ہے۔رہی بات اس تکلیف کی جو ان جانوروں یا بچوں کو ہوتی ہے تو ہم حتمی طور پر ایسا نہیں کہہ سکتے کہ انہیں واقعی وہ تکلیف ہوتی ہے یا نہیں۔جیسے ایک بکرے کی گردن پر چھری پھرنے کے چند سیکنڈ بعد ہی اس کا شعور سے رابطہ منقطع ہوجاتا ہے البتہ وہ بکرا تڑپتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ بالکل ایسے ہی عین ممکن ہے کہ اس مخلوق کےساتھ بھی ہوتا ہو۔ واللہ اعلم بالصواب
۷۔ اس غذائی قلت کو دور کرنے کے لئے اسلام کیا حل پیش کرتا ہے؟
اسلام میں دولت کی منصفانہ تقسیم کا ایک نظام موجود ہے۔ امیروں پر انفاق کے لئے کم از کم حد زکوٰۃ اور عشر ہے۔ اس کے بعد انفا ق کی بے تحاشہ ترغیب دی گئی ہے کہ یہ تم سے پوچھتے ہیں کتنا خرچ کریں تو کہہ دو جو ضرورت سے زیادہ ہو وہ خرچ کردو(البقرہ)۔ اسی طرح کئی احادیث میں کہا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر جب تو سالن پکائے تو اس کے شوربہ کو زیادہ کر لے اور اپنے پڑوسی کی خبر گیری کر لے۔(مسلم)۔ یہاں ممالک کے پڑوسی دوسرے ممالک ہیں۔اس کے علاوہ پروگریسو ٹیکس کے ذریعے بھی اس مسئلے کو دیکھا جاسکتا ہے۔
ھذا ماعندی والعلم عنداللہ
پروفیسر محمد عقیل

والدین کے فیصلے

سوال: اگر اولاد اپنی فرمانبرداری کی وجہ سے والدین کے آگے نہ بولے اور ان کے غلط فیصلوں کی نذر ہو جائے تو قیامت کے دن والدین سے اس کا سوال ہو گا؟ یا وہ اپنے مرتبے کی وجہ سے اولاد کے لئے غلط فیصلوں کا بھی اختیار رکھتے ہیں اور ان سے کوئی حساب نہ ہو گا؟

جواب: اس کائنات کے نظام کو چلانے کے لئے اللہ نے انسانو ں کے لئے حقوق و فرائض کا دائرہ کار متعین کر دیا ہے۔ کہیں ہم حقوق سے نوازے گئے ہیں تو کہیں فرائض کی صورت میں ذمہ داریاں ودیعت کی گئی ہیں ۔مگر یہ بات قابل غور ہے کہ ہر ذمہ داری کی پوچھ گچھ بھی اس کے مطابق ہو گی یعنی جتنی بڑی ذمہ داری اتنا بڑا احتساب ۔۔ اسلام کی تعلیم یہی ہے کہ ہر شخص اپنے اوپر عائد حقوق کی ادائیگی کے لیے کمر بستہ رہے۔

اس کائنات ارضی کے رشتوں میں والدین کا رشتہ سب سے معزز اور اہم ترین ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں جابجا والدین سے حسن سلوک کا تاکیدی حکم ملتا ہے۔لیکن ایسا نہیں ہے کہ اولاد پر صرف فرائض ہی عائد کئے گئے ہیں بلکہ ان کے حقوق بھی اخلاق ،معاشرت اور قانون کا حصہ بنائے گئے ہیں۔والدین بلکہ اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کے علاوہ ہر اطاعت کے لئے اسلام کا بنیادی اصول یہی ہے کہ اطاعت صرف معروف یعنی بھلائی اور نیکی کے کاموں میں کی جائے گی۔اسی اصول کی بنا پر والدین کی اطاعت بھی مشروط ہے۔( حوالہ سورہ العنکبوت: 8)

والدین کی فرمانبرداری بلاشبہ ایک اعلیٰ صفت ہے مگر ان کے غلط فیصلوں پر مؤدب احتجاج اور اپنے حقوق کے کے لئے آواز بلند کرنا کوئی غلط بات نہیں۔مگر یاد رہے اس میں بدتمیزی کا عنصر شامل نہ ہو۔ ناجائز مطالبات میں ان کا ساتھ نہ دیں مگر آپ اپنا فرض نبھاتے رہیں اور ان کی ضروریات پوری کریں ،خدمت جاری رکھیں ۔باقی رہا یہ سوال کہ کیا والدین سے ان کے غلط فیصلوں پر احتساب ہو گا تو قیامت کے دن ” جوذرہ برابر نیکی کرے گا وہ اسکو پا لے گا اور جو ذرہ برابر بھی برائی کرے گا اسکو پا لے گا ” (سورہ الزلزال 7،8 ) وہاں کسی کی بخشش کسی مرتبہ کی بنا پر نہ ہو گی اور ہر چھوٹے بڑے عمل کا حساب لازماً دینا پڑے گا۔

والدین کی جانب سے غلط فیصلے کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ایک وجہ تو ان کی ضد، ہٹ دھرمی، اپنی بات منوانا،لالچ، انا پرستی اور خود غرضی وغیرہ ہوسکتی ہے۔ یہ وجوہات عام طور پر اولاد کی شادی اور جوائینٹ فیملی سسٹم کے ساتھ متعلق ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے اس قسم کی کسی بھی حرکت جس کا محرک کو ناجائز فعل ہو اس کا مواخذہ ہوگا۔ دوسری وجہ کوئی اجتہادی غلطی ہوسکتی ہے جس کی چھوٹ ہے۔
البتہ آپ کے سوال کو بعینہ قبول کرنے میں مجھے ایک تامل ہے۔ اکثر دیکھا کیا ہے کہ والدین اپنے تجربے اور اولاد کی بھلائی کے جذبے سےان کے لئے جو فیصلے کرتے ہیں وہ بوجوہ ( اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں) اولاد کے لئے قابل اعتراض ہوتے ہیں۔ اس لئے والدین کے معاملے میں حسن ظن سے کام لینا چاہیے۔
بسا اوقات بظاہر ان کے غلط دیکھائی دیے جانے والے فیصلے بعد میں درست ثابت ہوتے ہیں ۔لیکن کبھی کبھار صورت حال ویسی بھی ہو سکتی ہے جس کی نشاندہی آپ نے کی ہے تو اس صورت میں بلاشبہ والدین سے بھی ان کے اعمال کا ان کی نیتوں کے مطابق حساب کتاب ضرور کیا جائے گاالاّ یہ کہ اللہ ان کے ساتھ مغفرت کا معاملہ کرے۔لیکن یہ مغفرت ان کے رتبے کی بنا پر نہ ہو گی بلکہ اللہ کی رحمت کی بنا پر ممکن ہے جس کا حقدار ہونے کے لئے ہم سب دعاگو رہتے ہیں۔ والدین کو بھی چاہیے کسی منفی جذبے کے زیر اثر آکر اولاد پر اپنی مرضی مسلط نہ کریں۔ سب سے بڑھ کر جو بات والدین کو سمجھنی چاہِے وہ یہ کہ والدین کے حقوق کے بارے میں سوچنا والدین نہیں اولاد کا کام ہے۔ اگر کوئی اولاد یہ کام نہیں کررہی تو ٹینشن نہیں لینی چاہیے اور معاملہ اللہ پر چھوڑ دینا چاہِے۔ ایسے ہی اولاد کو بھی والدین کے ساتھ احسان کا رویہ اختیار کرنا چاہِے۔احسان کا مطلب ہے اپنا جائز حق بھی چھوڑ دینا ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت نصیب فرمائے۔ آمین
واللہ اعلم

جواب: راعنہ نقی سید