Archive for the ‘گیسٹ پوسٹ’ Category

قرآن کے کتاب الہیٰ ہونے پر عقلی دلائل


قرآن کے کتاب الہیٰ ہونے پر عقلی دلائل
از: مدیحہ فاطمہ
1. اتنی صدیوں بعد بھی محفوظ ہے ۔ بغیر کسی تغیر و تبدل کے۔
2. قرآن جیسے فصیح و بلیغ کلا م کا ایک امّی ﷺکی زبان سے ظہور بذات خود ایک معجزہ اور ایک بہت بڑی عقلی دلیل ہے۔
3. قرآن نے ساری دنیا کو چیلنج دیا کہ اگر کسی کو اس کے کلام الہی ہونےمیں شبہ ہے تو اس کی مثل بنا لائے۔ لیکن کسی میں بھی باوجود تمام دنیا کی بے پناہ مخالفت کےیہ ہمت نہیں آئی کہ اس کی مثل لے آئے۔
4. قرآن میں بہت سے غیب کی باتیں اور پیشن گویاں ہیں جو ہو بہو ویسے ہی واقعات پیش آئے جیسے کہ قرآن نے بتائے تھے۔
5. قرآن میں موجود سائنسی حقائق ہیں جنہیں آج کے زمانے میں پڑھیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ کیا یہ کسی انسان کا کلام ہوسکتا ہے؟ نہیں!
6. قرآن میں پچھلی امتوں کی تاریخی حالات کا ایسا صاف ذکر موجود ہے کہ اس وقت کے بڑے بڑے علما یہود و نصارٰی جو اس وقت کتاب کے ماہر سمجھے جاتے تھے ان کو بھی اتنی معلومات نہ تھیں۔ حضرت محمد ﷺ نے تو خود کسی قسم کی علم و تعلیم حاصل نہ کی تھی نہ ہی کبھی کسی کتاب کو ہاتھ لگایا تھا۔ پھر قرآن میں یہ ابد سے لے کر آپ ﷺ کے زمانہ تک کے حالات و واقعات کا قرآن میں آنا اس بات کی دلیل ہے کہ یقیناً یہ خبریں آپﷺ کو اللہ تعالیٰ نے دی ہوں گی ، جو اس کائینات کا خالق و مالک و مدبّر ہے۔
7. قرآن مجید کی متعدد آیات میں لوگوں کے دل کی چھپی ہوئی باتوں کی اطلاع دی گئی اور پھر ان کے اقرار سے ثابت ہوگیا کہ وہ بات صحیح اور سچی تھی۔ یہ کام بھی عالم الغیب والشہادۃ ہی کرسکتا ہے ،کسی بشر سے عادۃ ممکن نہیں۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے کہ :
اِذْ ھَمَّتْ طَّاۗىِٕفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا
"جب تمہاری دو جماعتوں نے دل میں ارادہ کیا کہ پسپا ہوجائیں۔” (۱۲۲:۳)
يَقُوْلُوْنَ فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ
"وہ لوگ اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہمارے انکار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا۔” (۵۸:۸)
یہ سب باتیں ایسی ہیں جس کا انہوں نے کسی کے سامنے اظہار نہیں کیا لیکن قرآن پاک نے اس کو ظاہر کردیا۔ اس کا مشرکین عرب ے بھی اقرار کیا کہ بخدا یہ کسی انسان کاکلام نہیں۔ تبھی وہ کہا کرتے تھے کہ نبیﷺ کے پاس جنات /شیاطین آ کر یہ خبریں دیتے ہیں۔
8. قرآن مجید دنیا کی سب سے زیادہ چھپنے والی کتاب ہے۔ شاید ہی کسی کتاب کی اشاعت اتنی ہوئی ہو جتنی آج تک قرآن مجید کی ہوئی ہے۔ نہ ہی کسی دوسری قوم یا مذہب کی کتاب کی اتنی اشاعت ہوئی جتنی کہ قرآن مجید کی یہ بھی حفاظت قرآن پاک کی ایک کڑی ہے۔
9. قرآن کو کلام الہی ماننے پر ہر وہ شخص مجبور ہے جس کی عقل وبصیرت کو تعصب وعناد نے بالکل ہی برباد نہ کردیا ہو۔اس دور مادہ پرستی کے مسیحی مصنفین جنہوں نے کچھ بھی قرآن میں غور وفکر سے کام لیا اس اقرار پر مجبور ہوگئے کہ یہ ایک بےمثل وبے نظیر کتاب ہے۔ مسٹر ولیم میورؔ نے اپنی کتاب "حیات محمد ” میں واضح طور پر اس کا اعتراف کیا ہے اور ڈاکٹر شبلی شمیلؔ نے اس پر ایک مستقل مقالہ لکھا ہے۔
10. اتنے مختصر و محدود کلمات میں جتنے علوم و معارف قرآن مجید میں پائے جاتے ہیں کسی کتاب میں نہیں پائے جاسکتے۔ قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے جو تمام شعبہ ہائے زندگی: عائلی زندگی سے لے کر قبائلی اور شہری زندگی تک اور پھر عمرانیات واجتماعیات اور سیاستِ ممالک کے متعلق نظام پیش کرتا ہے۔پھر صرف نظام پیش کرنا ہی نہیں بلکہ عملی طور پر اس کا رواج پانا اور تمام نظامہائے دنیا پر غالب آکر قوموں کے مزاج ، اخلاق ، اعمال ، معاشرت اور تمدن میں وہ انقلاب عظیم پیدا کرتا ہے جس کی مثال کہیں بھی نہیں ملتی

Advertisements

عورتوں کو دیکھنا!… ایک مرد دوست کا مشورہ


کبھی نہ کبھی تو مجھے اپنے ناتجربہ کاردوست سے یہ بات کرنا ہی پڑے گی۔لیکن ایسے نہیں۔ میں موقع کی تلاش میں ہوں۔ کسی ایسے وقت میں جب اس کی بے باک بھری نظریں وہی کر رہی ہوں جو مردوں کی آنکھیں بخوبی کر لیتی ہیں… یعنی اپنی خواہش کے ہدف کا تعاقب۔ جگہ کوئی بھی ہو سکتی ہے جیسےسمندر کے کنارے یا کسی شاپنگ مال میں۔ لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ۔ ۔ ۔ البتہ مجھے پتا ہے کہ ایسا وقت آنے والا ہے جب مجھے اپنے پڑھنا جاری رکھیں

ریگنگ کی تباہ کاریاں


از مدیحہ فاطمہ

کلاس شروع ہونے میں ابھی کافی وقت باقی تھا اس لیے میں کلاس کے سامنے بنی سیڑھیوں پر آکر بیٹھ گئی۔ چونکہ آج نئے بیچ کا پہلا دن تھا اس لئےیونیورسٹی میں معمول سے زیادہ چہل پہل تھی۔ ۔ہر جگہ جونیئر طلبا ٹولیاں بنا کر کھڑے تھے۔ ابھی میں یہ منظر دیکھ ہی رہی تھی کہ کہ سامنے سے ایک لڑکا بھاگتا ہوا آیا۔ وہ خوف زدہ اور گھبرایا ہوا تھا۔ اس نے رک کر ایک نظر پیچھے دیکھا ، جب میں نے اس کے نگاہوں کا تعاقب کیا تو ایک جم غفیر اس کے پیچھے بھاگا چلاآرہا تھا ۔ یہ مجمع سینئر طلبا کا تھا۔ پڑھنا جاری رکھیں

خیر اور شر کی جنگ۔۔۔انا اور ضمیر کا مکالمہ


از مدیحہ فاطمہ
وہ رو رہا تھا کیونکہ وہ آج پھر زخم خوردہ تھا۔ وہ اپنے ربّ سے لوگوں کی زیادتیوں کی شکایت کرر ہا تھا۔اس نے آسمان کی جانب ایک نگاہ ڈالی لیکن وہاں چار سو خاموشی تھی اس نے دوبارہ اپنے اندر جھانکا جہاں اس کے ضمیر اورانا کے بیچ سخت کشمکش جاری تھی۔ انا جو شکوہ کرتی اسکا ضمیر اسے اس کا جواب دے دیتا۔یہ ایک طویل بحث تھی جو طول پکڑتی جارہی تھی۔ آخر انا نے تھک کر ضمیر کو مخاطب کیا : ” تم مجھے سمجھا رہے ہو تمہیں معلوم بھی ہے کہ میں نے لوگوں کے ساتھ کبھی برا نہیں کیا پھر پڑھنا جاری رکھیں

” اپنی موت آپ مر جائیں گے”

انسان کی تخلیق خُدا نے اِس طرح کی ہے کہ ایک کا مزاج٬ذوق٬سوچنے کا انداز دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔یہ باہمی فرق انسان کے ارتقا کے لیے ایک قلیدی کردار ادا کرتا ہے۔اگر آئنسٹاین نیوٹن سے اختلاف نہ کرتے تو آج ہماری زندگی میں وە جدت پیدا نہیں ہوتی جس کا ظہور ہم ہر جگہ دیکھ رہیں ہیں۔

یہ مختلف زاویہٴ نظر ہر جگہ موجود رہتا ہے چاہے وە ادب ہو٬زبان ہو٬تاریخ ہو یا مذہب ۔ اِسی کے نتیجے میں مختلف School of thoughts وجود میں آتے ہیں۔ یہ ایک فطری عمل ہے جو خدا کی ایک عظیم نعمت ہے پڑھنا جاری رکھیں

آن لائن کمائیے


آن لائن کمائیے
از عدیلہ کوکب
وہ لوگوں کی نگاہ میں ایک بندہ مومن تھا اور اسے خود بھی اس کا ادراک تھا۔ اس نے دس سال کی عمر میں نماز شروع کی اور کبھی کوئی نماز قصداَ نہ چھوڑی۔ پھر نماز کے علاوہ وہ انفاق، روزہ داری اور دیگر نیکیوں میں عمر کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتا چلا گیا۔ پچیس برس کا ہونے تک وہ ایک مکمل صالح مرد بن چکا تھا۔ تعلق باللہ کے ساتھ ساتھ وہ خوش اخلاق، ادب آداب کا خیال رکھنے والا ایک سنجیدہ مزاج شخص تھا، اسے کبھی قہقہ لگاتے پڑھنا جاری رکھیں

ارچنا امیت کے قبول اسلام کی ایمان افروز داستان


٢٩ نومبر ٢٠٠٣ کی خوش گوار صبح تھی موسم کہر آلود تھا۔ ذرا سی خنکی بھی تھی۔ تقریباً ٩ بجے صبح مںھ اپنی بچی سمتا کو گود مںا لےو کان پور سے لکھنو جانے والی بس میں بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر بعد بس چل پڑی اور مسافروں نے اپنا اپنا ٹکٹ بنوانا شروع کردیا۔ مں نے بھی ٹکٹ بنوانے کے لئےاپنا پرس کھولا تو میرے ہوش اڑ گئے۔ جو روپے میں نے رکھے تھے، وہ اس میں نہ تھے۔ میرے ہا تھ پاؤں پھولنے لگے، سانسیں تیز ی سے چلنے لگیں ۔میں بار بار پرس الٹتی پلٹتی رہی، بمشکل تمام کل بتیس روپے نکلے، جبکہ کرایہ اڑتیس روپے تھا۔ اب کنڈیکٹر شور مچانے لگا کہ کس نے پڑھنا جاری رکھیں