Archive for the ‘ہمارے بچے’ Category

آٹھ سال سے بڑے بچوں کے لیے رمضان تربیتی گائیڈ


اگر باقاعدہ پلاننگ کی جائے تو رمضان میں بچوں کی تربیت بہت اچھے انداز میں کی جاسکتی ہے۔انہیں عبادات کا عادی بنایا جاسکتا، اچھے اخلاق پیدا کئے جاسکتے اور بری عادتوں سے چھٹکارا دلوایا جاسکتا ہے۔بچوں کی تربیت ماں باپ پر اسی طرح فرض ہے جیسے نماز یا دیگر احکامات۔ اسی ضرورت کے پیش نظر یہ گائیڈآپ کی خدمت میں حاضر ہے۔ اس گائیڈسے بچوں میں دین سیکھنے کا جذبہ پیدا ہوگا انشاءاللہ۔کوشش کیجئے کہ دو یا اس سے زائد بچوں کے درمیان یہ گائیڈاستعمال کریں اور روزانہ انہیں ان کا اسکور بتائیں تاکہ اگلے دن وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کریں۔
ڈاؤن لوڈ کے لئے یہاں کلک کریں
ramadan-guide-for-kids

Advertisements

سیکس ایجوکیشن اور ہم


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سیکس ایجوکیشن اور ہم
ڈاکٹر محمد عقیل
تعارف
سیکس ایجوکیشن ہمارے معاشرے میں اتنا حسا س مسئلہ ہے کہ اس پر بڑے بڑے اہل علم بھی قلم اٹھاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ماں باپ اپنے بچوں کو وہ بنیادی باتیں بتانے میں جھجکتے ہیں جن کو مائنس کرکے زندگی نہیں گذاری جاسکتی۔ہمارے تعلیمی ادارے جنسی تعلیم کا سلیبس بنانے میں اگر کامیاب بھی ہوجاتے ہیں تو اس کا نفاذ نہیں کرپاتے۔ ہمارا میڈیا ان باتوں کو شائستہ اسلوب میں ڈسکس کرنا گناہ عظیم سمجھتا ہے۔ لیکن پڑھنا جاری رکھیں

زینب کا قتل اور خدا پر سوالات


بسم اللہ االرحمٰن الرحیم
ڈاکٹر محمد عقیل
معصوم زینب کی شہادت پر اس وقت پورا الیکٹرانک اور سوشل میڈیا سراپا احتجاج اور غم و غصے کی کیفیت میں ہے۔ اس پر اہل علم بہت کچھ لکھ چکے اور لکھ رہے ہیں۔ اس کا ایک اور دردناک پہلو یہ ہے کہ کچھ لوگ خدا کے انصاف اور مذہب کو نشانہ بنارہے اور طنزو تشنیع کے تیر برسا رہے ہیں۔ ان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو سنجیدہ طور پر خدا کی حکمت اور مذہب کی راہنمائی کو جاننا چاہتے ہیں۔ مجھے خود کئی سوال براہ راست اور بلاواسطہ اس موضوع پر مل چکے ہیں جن کا ایک تحریر میں جواب دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اس صورت حال کا جائزہ جذبات سے بالاتر ہوکرعقل اور نقل کی روشنی میں لینا لازمی ہے ورنہ حقیقت پڑھنا جاری رکھیں

والدین کے فیصلے

سوال: اگر اولاد اپنی فرمانبرداری کی وجہ سے والدین کے آگے نہ بولے اور ان کے غلط فیصلوں کی نذر ہو جائے تو قیامت کے دن والدین سے اس کا سوال ہو گا؟ یا وہ اپنے مرتبے کی وجہ سے اولاد کے لئے غلط فیصلوں کا بھی اختیار رکھتے ہیں اور ان سے کوئی حساب نہ ہو گا؟

جواب: اس کائنات کے نظام کو چلانے کے لئے اللہ نے انسانو ں کے لئے حقوق و فرائض کا دائرہ کار متعین کر دیا ہے۔ کہیں ہم حقوق سے نوازے گئے ہیں تو کہیں فرائض کی صورت میں ذمہ داریاں ودیعت کی گئی ہیں ۔مگر یہ بات قابل غور ہے کہ ہر ذمہ داری کی پوچھ گچھ بھی اس کے مطابق ہو گی یعنی جتنی بڑی ذمہ داری اتنا بڑا احتساب ۔۔ اسلام کی تعلیم یہی ہے کہ ہر شخص اپنے اوپر عائد حقوق کی ادائیگی کے لیے کمر بستہ رہے۔

اس کائنات ارضی کے رشتوں میں والدین کا رشتہ سب سے معزز اور اہم ترین ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں جابجا والدین سے حسن سلوک کا تاکیدی حکم ملتا ہے۔لیکن ایسا نہیں ہے کہ اولاد پر صرف فرائض ہی عائد کئے گئے ہیں بلکہ ان کے حقوق بھی اخلاق ،معاشرت اور قانون کا حصہ بنائے گئے ہیں۔والدین بلکہ اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کے علاوہ ہر اطاعت کے لئے اسلام کا بنیادی اصول یہی ہے کہ اطاعت صرف معروف یعنی بھلائی اور نیکی کے کاموں میں کی جائے گی۔اسی اصول کی بنا پر والدین کی اطاعت بھی مشروط ہے۔( حوالہ سورہ العنکبوت: 8)

والدین کی فرمانبرداری بلاشبہ ایک اعلیٰ صفت ہے مگر ان کے غلط فیصلوں پر مؤدب احتجاج اور اپنے حقوق کے کے لئے آواز بلند کرنا کوئی غلط بات نہیں۔مگر یاد رہے اس میں بدتمیزی کا عنصر شامل نہ ہو۔ ناجائز مطالبات میں ان کا ساتھ نہ دیں مگر آپ اپنا فرض نبھاتے رہیں اور ان کی ضروریات پوری کریں ،خدمت جاری رکھیں ۔باقی رہا یہ سوال کہ کیا والدین سے ان کے غلط فیصلوں پر احتساب ہو گا تو قیامت کے دن ” جوذرہ برابر نیکی کرے گا وہ اسکو پا لے گا اور جو ذرہ برابر بھی برائی کرے گا اسکو پا لے گا ” (سورہ الزلزال 7،8 ) وہاں کسی کی بخشش کسی مرتبہ کی بنا پر نہ ہو گی اور ہر چھوٹے بڑے عمل کا حساب لازماً دینا پڑے گا۔

والدین کی جانب سے غلط فیصلے کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ایک وجہ تو ان کی ضد، ہٹ دھرمی، اپنی بات منوانا،لالچ، انا پرستی اور خود غرضی وغیرہ ہوسکتی ہے۔ یہ وجوہات عام طور پر اولاد کی شادی اور جوائینٹ فیملی سسٹم کے ساتھ متعلق ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے اس قسم کی کسی بھی حرکت جس کا محرک کو ناجائز فعل ہو اس کا مواخذہ ہوگا۔ دوسری وجہ کوئی اجتہادی غلطی ہوسکتی ہے جس کی چھوٹ ہے۔
البتہ آپ کے سوال کو بعینہ قبول کرنے میں مجھے ایک تامل ہے۔ اکثر دیکھا کیا ہے کہ والدین اپنے تجربے اور اولاد کی بھلائی کے جذبے سےان کے لئے جو فیصلے کرتے ہیں وہ بوجوہ ( اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں) اولاد کے لئے قابل اعتراض ہوتے ہیں۔ اس لئے والدین کے معاملے میں حسن ظن سے کام لینا چاہیے۔
بسا اوقات بظاہر ان کے غلط دیکھائی دیے جانے والے فیصلے بعد میں درست ثابت ہوتے ہیں ۔لیکن کبھی کبھار صورت حال ویسی بھی ہو سکتی ہے جس کی نشاندہی آپ نے کی ہے تو اس صورت میں بلاشبہ والدین سے بھی ان کے اعمال کا ان کی نیتوں کے مطابق حساب کتاب ضرور کیا جائے گاالاّ یہ کہ اللہ ان کے ساتھ مغفرت کا معاملہ کرے۔لیکن یہ مغفرت ان کے رتبے کی بنا پر نہ ہو گی بلکہ اللہ کی رحمت کی بنا پر ممکن ہے جس کا حقدار ہونے کے لئے ہم سب دعاگو رہتے ہیں۔ والدین کو بھی چاہیے کسی منفی جذبے کے زیر اثر آکر اولاد پر اپنی مرضی مسلط نہ کریں۔ سب سے بڑھ کر جو بات والدین کو سمجھنی چاہِے وہ یہ کہ والدین کے حقوق کے بارے میں سوچنا والدین نہیں اولاد کا کام ہے۔ اگر کوئی اولاد یہ کام نہیں کررہی تو ٹینشن نہیں لینی چاہیے اور معاملہ اللہ پر چھوڑ دینا چاہِے۔ ایسے ہی اولاد کو بھی والدین کے ساتھ احسان کا رویہ اختیار کرنا چاہِے۔احسان کا مطلب ہے اپنا جائز حق بھی چھوڑ دینا ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت نصیب فرمائے۔ آمین
واللہ اعلم

جواب: راعنہ نقی سید

ممی پاپا کے لیے نظم

پروفیسر محمد عقیل کی دس سالہ بیٹی کی اپنے ممی پاپا کے لیے دعائیہ نظم

اریبہ نظم

تعطیلات میں بچوں کی تربیت


آج کے عدیم الفرصت دور میں اگر خوش قسمتی سے فرصت کے کچھ لمحات میسر آ جائیں اور اہلِ خانہ مل جل کر کچھ وقت گزار سکیں تو بلاشبہ یہ اللہ تعالیٰ کی کسی نعمت سے کم نہیں۔ اسی بات کی اہمیت کے پیش نظر نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’مصروفیت سے پہلے فرصت کوغنیمت جانو۔‘‘ ﴿المستدرک للحاکم: 7846﴾ پڑھنا جاری رکھیں

بچوں کی دینی تعلیم


"تمہارے بچے کس اسکول میں پڑھتے ہیں؟”۔اس نے اپنے دوست سے سوال کیا۔
"سٹی اسکول میں پڑھتے ہیں۔ بھئی آج کل کے بچے بہت مصروف ہوتے ہیں۔ صبح اسکول، شام میں ٹیوشن اور رات میں ہوم ورک ۔ بے چاروں کو کھیلنے کودنے کے لئے بھی وقت نہیں ملتا”۔دوست نے جواب دیا۔
"یہ سب تو ٹھیک ہے لیکن بچوں کی دینی تعلیم کے لئے تم کیا کرتے ہو؟” اس نے ایک سوال اور داغ دیا۔
"ہاں ایک مولوی صاحب پڑھنا جاری رکھیں