Posts Tagged ‘تاریخ’

جنگ صفین ۔حضرت علی و حضرت معاویہ میں جنگ کی حقیقت


تحریر: محمد مبشر نذیر
جنگ جمل کے بعد دوسری بڑی جنگ صفین کے مقام پر ہوئی۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ جنگ حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کی افواج کے درمیان لڑی گئی لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔ حضرت علی کی فوج کا بڑا حصہ اب باغی تحریک کے کارکنوں پر مشتمل تھا اور انہوں نے اپنی پوری قوت میدان میں جھونک دی تھی۔ ان کے عزائم کی راہ میں حضرت معاویہ آخری چٹان بن کر کھڑے تھے۔ باغی ان کی قوت کا خاتمہ کر کے کو پڑھنا جاری رکھیں

جنگ جمل ۔حضرت عائشہ اور حضرت علی کے درمیان جنگ کی حقیقت


تحریر:محمد مبشر نذیر
طبری اور بلاذری نے جنگ جمل کے جو واقعات بیان کیے ہیں، ان کا بڑا حصہ ابو مخنف، ہشام کلبی، سیف بن عمر اور محمد بن عمر الواقدی کا بیان کردہ ہے۔ خاص کر جن روایات میں سیدہ عائشہ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہم سے متعلق کوئی منفی بات پائی جاتی ہے، ان کا راوی یا تو ابو مخنف ہے یا پھر ہشام کلبی۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان مشہور کذابین نے ان واقعات میں اپنی جانب سے کچھ نہ کچھ ملا دیا ہے اور ان صحابہ کی کردار کشی کی کوشش کی ہے۔ تاہم بہت سی باتیں درست بھی معلوم ہوتی ہیں۔ ہم کوشش کرتے ہیں کہ گھڑی ہوئی باتوں کو الگ کر کے قابل کو پڑھنا جاری رکھیں

یزید تاریخ کی روشنی میں


(نوٹ: یہ تحریر میرے عزیز دوست محمد مبشر نذیر کی ہے )
یزید کی نامزدگی
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر جو بڑا اعتراض کیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے یزید کو اپنا ولی عہد مقرر کے خلافت کو ملوکیت میں تبدیل کر دیا۔ ان پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے حضرت حسین، ابن عمر، ابن عباس اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم جیسے اکابر صحابہ کے لائق بیٹوں کے ہوتے ہوئے اپنے نالائق بیٹے کو خلافت کے لیے نامزد کیا۔ اس کے نتیجے میں ایک بار پھر خانہ جنگی کی آگ بھڑک اٹھی اور کو پڑھنا جاری رکھیں

تاریخ کے سبق

تاریخ کا موضوع نہ صرف دلچسپ بلکہ سبق آموز مضمون ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ کا ایک پہلو تو اس امت کے مثبت پہلوؤں پر روشنی ڈالنا ہے تو دوسری جانب ہماری ماضی کی غلطیوں کی نشاندہی بھی کرنا ہے۔ مولانا وحیدالدین خان صاحب کی یہ کتاب ہمیں تاریخ کے وہ سبق یاد دلاتی ہے جنہیں ہم بھول چکے ہیں۔ اسباق تاریخ نامی یہ کتاب ایک ایک صفحے کے مختصر مضامین کا مجموعہ ہے جس میں صحابہ کے دور سے لے کر آگے کے ادوار پر
روشنی ڈالی گئی ہے۔
Asbaq-e-Tarikh

عہد صحابہ اور جدید ذہن کے شبہات

اسلام اللہ کا منتخب کردہ دین ہے جسے آخرت میں کامیابی کے لئے ماننا لازمی ہے۔ لیکن جب ایک عام شخص اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ یہ دیکھ کر حیران و پریشان ہوجاتا ہے کہ صحابہ کی تاریخ ابتدا ہی سے تنازعات اور شبہات سے بھری ہوئی ہے۔ کیہں حضرت فاطمہ اور ابو بکر کے اختلافات نظر آتے ہیں تو کہیں حضرت علی و امیر معاویہ خلافت کے مسئلے پر اختلاف رکھتے ہیں۔ کہیں حضرت عائشہ حضرت علی سے جنگ میں مصروف دکھائی دیتی ہیں تو کہیں یزید و حسین کا تنازعہ کھڑا ہوجاتا ہے۔ ایک عام مسلمان تاریخ پڑھنے کے بعد کئی سوالات اٹھاتا اور ان کے جواب جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن جب وہ تاریخی کتب کا مطالعہ کرتا ہے تو بات سلجھنے کی بجائے اور الجھ جاتی ہے۔
میرے انتہائی محترم دوست جناب محمد مبشر نذیر کی یہ کتاب ان الجھنوں کو رفع کرتی، صحابہ کی درست تصویر سامنے لاتی اور ان شبہات کو رفع کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ ہر اس شخص کے
لئے ضروری ہے جو اپنی تاریخ پر لگے داغوں کو جاننا چاہتا اور ان کی مناسب توجیہ کرنا چاہتا ہے۔

عہد صحابہ اور جدید ذہن کے شبہات