Posts Tagged ‘تربیتی مضامین’

کنویں کا مینڈک


کنویں کا مینڈک
از پروفیسر محمد عقیل
آ پ نے اکثریہ محاورہ سناہوگا۔ایک مینڈک کنویں کے اندرپیداہوا، پلا، بڑھااورپروان چڑھا۔اس نے اپنے اردگردایک تاریک ماحول دیکھا،سیلن، بدبواورایک تنگ سادائرہ۔صبح وشام اس کاگذربسراسی محدوددنیامیں ہواکرتا۔اس کی غذابھی چندغلیظ کیڑے تھے۔ایک دن ایک اورمینڈک باہرسے اس کنویں ایک اور مینڈک گرگیا۔اس نے کنویں کے مینڈک کوبتایاکہ باہرکی دنیابہت وسیع ہے،وہاں سبزہ ہے،کھلاآسمان ہے،وسیع زمین ہے اورآزادزندگی ہے۔لیکن کنویں کامینڈک ان تمام باتوں کوسمجھ ہی نہیں سکتاتھاکیوں کہ وہ توکنویں کامینڈک تھا۔
ہم میں سے اکثرمتمدن شہری بھی کنویں کے مینڈک بنتے جارہے ہیں۔ہم انسانوں کے بنائے ہوئے ماحول میں شب وروزبسرکرتے ہیں۔صبح آفس کے لیے گاڑی لی،شام تک آفس کی چاردیواری میں محدودرہے اورپھرسواری میں گھرآگئے۔کسی چھٹی والے دن اگرکوئی تفریح بھی ہوئی توہوٹل وغیرہ چلے گئے۔اگرہم غورکریں توہماراتمام وقت انسان کی بنائی ہوئی مادی چیزوں کے ساتھ ہی بسرہوتاہے۔جس کے نتیجے میں مادیت ہی جنم لیتی ہے۔ہمارے اردگردفطرت کی دنیابھی ہے۔جس سے روحانیت پیداہوتی ہے۔لیکن ہم اس کی طرف نگاہ بھی نہیں ڈالتے کیونکہ ہم خوفزدہ ہیں کہ کہیں یہ مادی وسائل ہم سے چھن نہ جائیں۔اگرہم اس مادی کنویں سے باہرنکلیں توپتاچلے گاکہ ہمارے اوپرپھیلاہو نیلگوں اآسمان ہے جہاں خدابلندیوں کی جانب دعوت دے رہاہے۔ایستادہ پہاڑہیں جوانسان کومضبوطی کاسبق دے رہے ہیں،شام کے ڈھلتے ہوئے سائے ہیں جوہمیں خداکے حضورجھکناسکھارہے ہیں،بہتے ہوئے دریاہیں جو رواں دواں زندگی کااظہارکررہے ہیں۔ساحل کی ٹکراتی موجیں ہیں جوعمل پیہم کاپیام سنارہی ہیں،پتھرپرگرتاہواپانی کا قطرہ ہے جوناممکن کوممکن بنارہاہے۔
غرض یہ چڑیوں کی چہچہاہٹ،بلبلوں کی نغمگی،شفق کی لالی،درختوں کی چھاؤں اوردیگرمظاہرفطرت انسان کوایک روحانی دنیاکی جانب بلارہے ہیں وہ ایسے خداکی جانب بلارہے ہیں جو اسے ایک کامل تر دنیاکی جانب لے جانا چاہتا ہے۔لیکن انسان نے بھی عزم کرلیاہے کہ وہ ان کی جانب ایک نظربھی نہیں ڈالے گا،وہ ہرگزاس مادی کنویں کی بدبو،سیلن اورمحدودیت کو چھوڑنے کے لیے تیارنہیں کیونکہ وہ توکنویں کامینڈک ہے۔جس کی دماغی صلاحیت کنویں سے باہرکی حسین اورپرسکون زندگی کوسمجھنے سے قاصرہے۔

نیا احتساب


نیا احتساب
کیا ہم حسد کرتے ہیں ؟ کیا ہم زنا کرتے ہیں؟ کیا ہم جھوٹ بولتے ہیں ؟ ان تمام سوالات کا جواب عین ممکن ہے ہم یہ دیں کہ ہم تو ایسا نہیں کرتے۔ عام حالات میں کوئی گناہ کی جانب مائل نہیں ہوتا۔ البتہ کچھ حالات ایسے ہوتے ہیں جب انسان گناہ کی جانب مائل ہوتا اور غلط کام کرتا ہے۔
نیکی اور گناہ کا تعلق انسان کے داخلی اور خارجی ماحول سے ہے۔داخلی ماحول میں انسان کی طبیعت، مزاج، خواہشات،رغبات اور مفادات کا دخل ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر ایک شخص اپنی شخصیت میں غیض و غضب کا پہلو نمایاں رکھتا ہے تو وہ باآسانی غصہ کی جانب مائل ہوجائے گا۔ دوسری جانب خارجی ماحول میں انسان کے گردو پیش کے معاشرتی، معاشی، اخلاقی اور دیگر حالات کا دخل ہوتا ہے۔ جیسے کوئی شخص مغربی ماحول میں پلا بڑھا تو اس کے لئے زنا کرنے کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں۔ ایک انسان کے لئے اپنے داخل و خارج کے موافق حالات میں نیکی کرنا عام طور پر آسان ہوتا ہے۔ دوسری جانب اگر حالات ناموافق ہوں تو ایسی صورت میں نیکی کرنا اور گناہ سے بچنا ایک جہاد بن جاتا ہے۔ یہی اصل آزمائش کا وقت ہوتا ہے اور یہیں انسان کے رخ کا تعین ہوجاتا ہے کہ وہ کس سمت جارہا ہے۔
عام طور پر جب ہم اپنا احتساب کرتے ہیں تو ان حالات کو ذہن میں رکھتے ہیں جو موافق اور نارمل ہیں۔ چنانچہ جب ہم اپنا جائزہ لیتے ہیں تو علم ہوتا ہے کہ ہم تو جھوٹ نہیں بولتے ، ہم تو حسد کا شکار نہیں ہوتے، ہم تو بدگمانی نہیں رکھتے، ہم کسی کے خلاف بات نہیں کرتے ، ہم تو شاید کچھ بھی نہیں کرتے۔ اس طرح ہم اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنے دیکھنے کا زاویہ بدل لیں تو صورت حال برعکس بھی ہوسکتی ہے۔ممکن ہے ہماری زندگی میں سچ بولنے کا امتحان آیا ہی صرف دس مرتبہ ہو اور اس ان تمام ناموافق مواقع پر ہم یہ کہہ کر جھوٹ بول گئے کہ کبھی کبھی تو چلتا ہے۔ ممکن ہے ہمیں اپنے مدمقابل صرف چار لوگ ہی ایسے ٹکرائے ہوں جنہیں دیکھ کر حسد محسوس ہو اور ہم ان چاروں مواقع پر حسد کا شکار ہوچلے ہوں۔ ممکن ہے ہمیں زندگی میں چندہی مرتبہ کسی اپنے مفادات کے خلاف کوئی حق بات پیش کی گئی ہو اور ہر موقع پر ہم نے عصبیت و ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرکے حق کو رد کردیا ہو۔
چنانچہ ہم سب کو نئے سرے سے اپنا احتساب کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے کردار کا جائزہ لیتے وقت اپنی شخصیت کو ناموافق حالات میں رکھ کر سوچنا چاہئے۔ہمیں خود یہ یہ سوال کرنا چاہئے کہ آیا ہم خود کو اس وقت بھی سچ بولنے پر آمادہ کرلیتے ہیں جب مادی نقصان سامنے ہو، کیا ہم اس وقت صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں جب دل شدت غم سے پھٹا جارہا ہو، کیا ہم اس وقت لوگوں کو معاف کردیتے ہیں جب ان کی غلطی ایک مسلم حقیقت بن چکی ہوتی ہے، کیا ہم اس وقت بھی اپنے آپ کو چھوٹا مان لیتے ہیں جب ہماری انا بری طرح مجروح ہورہی ہے۔اگر ایسا ہے تو ٹھیک ہے لیکن اگر ایسا نہیں تو پھر ہمیں اصلاح کی ضرورت ہے۔ ہمیں نئے سرے سے امتحان کی تیاری کی ضرورت ہے کیونکہ آزمائش کے وقت ہم ناکام ہوجاتے ہیں۔
پروفیسر محمد عقیل