Posts Tagged ‘تزکیہ نفس’

بیوی پر شک اور بدگمانی


بیوی پر شک اور بدگمانی
کہتے ہیں مرد عام طورپر شکی ہوتے ہیں۔شک کا ایک بڑا سبب عادت و مزاج ہوتا ہے۔ چنانچہ کچھ مرد اپنی بیویوں پر بلاجواز شک کرتے اور ان پر کڑی نگاہ رکھنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ وہ انہیں ایک ایسے پولیس مین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو ہر شخص کو مجرم سمجھتا ہے۔ ایسے شوہر اپنی بیوی کو مجرم گردانتے اور ہر دوسرے دن اس سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنی عفت کا ثبوت پیش کرے۔
اس قسم کے لوگ باآسانی بدگمانی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہ بیوی کی ہر ٹیلفون کل پر نظر رکھتے ، اس کے ایس ایم ایس سے غلط معنی اخذ کرنے کی کوشش کرتے، اس کے مو ڈ سوئینگ کو الٹی سیدھی توجیہہ دینے کی کوشش کرتے ، اس کی مسکراہٹ کے پیچھے کسی کا خِیال محسوس کرتے، اس کی چہل قدمی کو کسی کا انتظار سمجھتے اور اسکے میک اپ کو اپنی بدگمانی کی عینک سے مشکوک بنادیتے ہیں۔ جب بیوی ذرا بھی ان کے سوالات کا جواب دینے میں چوک جاتی اور انہیں مطمئین نہیں کرپاتی تو ان کے شک کا سانپ اور سرکش ہوجاتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے شک کا یہ اژدہا پورے خاندان کو نگل لیتا ہے۔

شک کا تعلق ماحول سے بھی ہوتا ہے۔ بعض اوقات ایک ایک بند ماحول میں رہنےوالا شخص باآسانی بدگمانی کی جانب مائل ہوجاتا ہے۔ اور اگر بیوی ذرا آزاد ماحول کی ہو بس پھر تو معاملہ خراب۔ بیوی کا کسی سے ہنس کر بات کرنا، کسی کی بات پر مسکرادینا، کسی کی تعریف میں دو بول بول دینا، کسی پر تبصرہ کردینا ایک تنگ نظر میاں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ ہر آنے والا دن بیوی کوایک بے حیا عورت کے روپ میں پیش کرتا رہتا ہے۔ایسا مرد اپنی بدگمانی میں طرح طرح کی باتیں سوچتا اور الٹے سیدھے اندازے لگاتا رہتا ہے۔ اس کی بدگمانی کبھی اس کی مردانگی پر سوالیہ نشان ڈالتی، کبھی بیوی کے کردار کو براپیش کرتی، کبھی بیوی کی بے تکلفی کو فحاشی گردانتی تو کبھی اس کی سرگرمیوں کی ٹوہ لینے پر اکساتی ہے۔

بیوی سے بدگمان ہونے کی ایک اور وجہ کوئی واقعہ، قصہ، ڈرامہ یا کہانی ہوتی ہے ۔ کبھی کسی فلم سے متاثر ہوکر میاں اپنی بیوی کو اسی روپ میں دیکھنے لگ جاتا ہے جس میں ایک بے حیا عورت کے کردار کو دکھایا گیا ہوتا ہے۔ اب اسی مفروضے پر جب وہ روزمرہ کا جائزہ لیتا ہے تو بیوی کی بہت سے باتیں اس کردار سے ملتی جلتی معلوم ہوتی ہیں۔ اس کی بیوی اس بے حیا کردار کی طرح فیس بک بھی استعمال کرتی، وہاٹس ایپ بھی چلاتی، ای میل بھی کرتی اور ایس ایم ایس بھی بھیجتی نظر آتی ہے۔ اسے اپنی بیوی بالکونی میں بھی کھڑی دکھائی دیتی اور کبھی چھت پر جاتی نظر آتی ہے۔ اب اسے یہ خیال آتا ہے کہ کسی طرح بیوی کی جاسوسی کرے۔ اس جاسوسی میں کوئی نہ کوئی ایسی بات مل سکتی ہے جو شک کو قوی کردے۔ اس کے بعد اعتماد متزلزل ہونا شروع ہوجاتا ہے۔
بدگمانی کی اس کے علاوہ بھی بے شمار وجوہات ہوسکتی ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایک بدگمان شخص اس مفروضے پر سوچتا ہے کہ اس کی بیوی غلط راہوں پر جارہی ہے یہی اصل خرابی کی جڑ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک شخص کا شک درست ہوسکتا ہے لیکن اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ شک غلط بھی ہوسکتا ہے۔چنانچہ عا م اصول کے تحت ہر شخص کو شک کافائدہ دینا چاہئے اور اسے اس وقت تک بے قصور سمجھنا چاہئے جب تک کہ اس کے قصور وار ہونے کے قوی ثبوت نہ مل جائیں۔
بدگمانی کے کئی حل ہیں۔ اول تو بدگمانی جب بھی پیدا ہو تو اسے پہلے مرحلے پر جھٹک دینا چاہئے۔اگر اس سے کام نہ بنے تو بدگمانی کی وجہ معلوم کرکے اس کا قلع قمع کرنے کی کوشش کرنا چاہئے۔ اگر شک بہت قوی ہو تو اسے بات چیت کے ذریعے ڈسکس کرلینا چاہئے۔ اس سے رشتے میں دراڑ کی بجائے مضبوطی پیدا ہوگی۔ اگر معاملہ اس سے بھی حل نہ ہو تو چند بزرگوں کو بیچ میں ڈال کر سماجی دباؤ کے تحت کام کروایا جاسکتا ہے۔ اس کے باوجو بھی اگر معاملہ حل نہ ہو تو کیا کریں؟ فرض کریں ایک شخص کی بیوی واقعی کسی دوسرے مرد میں دلچسپی رکھتی ہے تو جذبات سے قطع نظر ہوکر دیکھیں تو کیا کیا جاسکتا ہے اس معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کریں اور حل نہ ہونے کی صورت میں خوش اسلوبی سے علحیدگی اختیار کرلیں۔
پروفیسر محمد عقیل

Advertisements

یور ٹائم اسٹارٹس ناؤ


یور ٹائم اسٹارٹس ناؤ
جب ایک طالب علم امتحان دینے جاتا ہے تو اس کی ابتدا اور انتہا کا وقت مقرر ہوتا ہے۔ کوئی شخص نہ تو اس مقررہ وقت سے پہلے امتحان شروع کرسکتا اور نہ اس مقررہ وقت کے بعد امتحان جاری رکھ سکتا ہے۔
جس طرح دنیوی امتحانات کا ایک وقت مقرر ہے تو اسی طرح آخرت کے امتحان کا بھی ٹیسٹ مقررہ وقت پر شروع ہوتا اور اس وقت کے بعد ختم ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر غیبت کے ٹیسٹ کا وقت ایک خاتون کے لئے اس وقت شروع ہوتا ہے جب اسے اپنے ارد گرد کے ماحول میں لوگوں سے حسد ، جلن اور بدگمانی ہو۔جونہی وہ اس ماحول سے نکل کر ایک ایک دودراز ملک میں جاکر رہنا شروع کرتی ہےجہاں کوئی نہیں جس سے وہ باتیں کرسکے تو اس ٹیسٹ کا وقت ختم ہوچکا ہوتا ہے۔ اب اگر اس نے ناموافق حالات میں تو دل کھول کر اپنے مخالفین کی برائی کی ۔ لیکن جب اسے تنہائی ملی اور کوئی غیبت کرنے والا نہ ملا تو خاموش ہوگئی اور یہ سمجھنے لگی کہ میں تو غیبت نہیں کرتی تو غلط فہمی کا شکار ہے۔ اس نے غیبت کے ٹیسٹ پیریڈ میں ناکامی کا مظاہرہ کیا اور فیل ہوگئی۔ اب وہ خاموش اس لئے ہے کہ حالات بدل گئے ہیں۔
جس طرح نماز وں کا وقت مقرر ہے، روزے کا متعین وقت ہے، زکوٰۃ کی ادائیگی کا ایک خاص موقع ہے اور حج کا مخصوص موسم ہے ایسے ہی دین کے بیشتر امتحانات کا موقع متعین وقت میں ہی ہوتا ہے۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک کا موقع ان کی زندگی تک ہے موت کے بعد نہیں، عفو درگذر کے ٹیسٹ کا آغاز اسی وقت ہوتا ہے جب کسی کے خلاف غصہ عروج پر ہو، شوہر یا بیوی کے حقوق کی ادائیگی کا ٹیسٹ ازدواجی زندگی کے دوران ہے۔
ہم سب کو چاہئے کہ اپنے اپنے امتحانات اور ان کے اوقات کو پہنچانیں۔ ہم دیکھیں کہ اس وقت ہم کس قسم کی آزمائش میں ہیں اور پھر اسی مناسبت سے اپنی کاردگی پیش کرنے کی کوشش کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی خاص معاملے مسئلے کے امتحان کا وقت آئے اور گذر بھی جائے لیکن ہمیں پتا تک نہ چلے۔ امتحانی اوقات کو پہچاننا بذات خود ایک آزمائش ہے۔ جو اس آزمائش میں ناکام ہوگیا وہ امتحان میں کامیاب ہو ہی نہیں سکتا۔
پروفیسر محمد عقیل

نیا احتساب


نیا احتساب
کیا ہم حسد کرتے ہیں ؟ کیا ہم زنا کرتے ہیں؟ کیا ہم جھوٹ بولتے ہیں ؟ ان تمام سوالات کا جواب عین ممکن ہے ہم یہ دیں کہ ہم تو ایسا نہیں کرتے۔ عام حالات میں کوئی گناہ کی جانب مائل نہیں ہوتا۔ البتہ کچھ حالات ایسے ہوتے ہیں جب انسان گناہ کی جانب مائل ہوتا اور غلط کام کرتا ہے۔
نیکی اور گناہ کا تعلق انسان کے داخلی اور خارجی ماحول سے ہے۔داخلی ماحول میں انسان کی طبیعت، مزاج، خواہشات،رغبات اور مفادات کا دخل ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر ایک شخص اپنی شخصیت میں غیض و غضب کا پہلو نمایاں رکھتا ہے تو وہ باآسانی غصہ کی جانب مائل ہوجائے گا۔ دوسری جانب خارجی ماحول میں انسان کے گردو پیش کے معاشرتی، معاشی، اخلاقی اور دیگر حالات کا دخل ہوتا ہے۔ جیسے کوئی شخص مغربی ماحول میں پلا بڑھا تو اس کے لئے زنا کرنے کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں۔ ایک انسان کے لئے اپنے داخل و خارج کے موافق حالات میں نیکی کرنا عام طور پر آسان ہوتا ہے۔ دوسری جانب اگر حالات ناموافق ہوں تو ایسی صورت میں نیکی کرنا اور گناہ سے بچنا ایک جہاد بن جاتا ہے۔ یہی اصل آزمائش کا وقت ہوتا ہے اور یہیں انسان کے رخ کا تعین ہوجاتا ہے کہ وہ کس سمت جارہا ہے۔
عام طور پر جب ہم اپنا احتساب کرتے ہیں تو ان حالات کو ذہن میں رکھتے ہیں جو موافق اور نارمل ہیں۔ چنانچہ جب ہم اپنا جائزہ لیتے ہیں تو علم ہوتا ہے کہ ہم تو جھوٹ نہیں بولتے ، ہم تو حسد کا شکار نہیں ہوتے، ہم تو بدگمانی نہیں رکھتے، ہم کسی کے خلاف بات نہیں کرتے ، ہم تو شاید کچھ بھی نہیں کرتے۔ اس طرح ہم اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنے دیکھنے کا زاویہ بدل لیں تو صورت حال برعکس بھی ہوسکتی ہے۔ممکن ہے ہماری زندگی میں سچ بولنے کا امتحان آیا ہی صرف دس مرتبہ ہو اور اس ان تمام ناموافق مواقع پر ہم یہ کہہ کر جھوٹ بول گئے کہ کبھی کبھی تو چلتا ہے۔ ممکن ہے ہمیں اپنے مدمقابل صرف چار لوگ ہی ایسے ٹکرائے ہوں جنہیں دیکھ کر حسد محسوس ہو اور ہم ان چاروں مواقع پر حسد کا شکار ہوچلے ہوں۔ ممکن ہے ہمیں زندگی میں چندہی مرتبہ کسی اپنے مفادات کے خلاف کوئی حق بات پیش کی گئی ہو اور ہر موقع پر ہم نے عصبیت و ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرکے حق کو رد کردیا ہو۔
چنانچہ ہم سب کو نئے سرے سے اپنا احتساب کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے کردار کا جائزہ لیتے وقت اپنی شخصیت کو ناموافق حالات میں رکھ کر سوچنا چاہئے۔ہمیں خود یہ یہ سوال کرنا چاہئے کہ آیا ہم خود کو اس وقت بھی سچ بولنے پر آمادہ کرلیتے ہیں جب مادی نقصان سامنے ہو، کیا ہم اس وقت صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں جب دل شدت غم سے پھٹا جارہا ہو، کیا ہم اس وقت لوگوں کو معاف کردیتے ہیں جب ان کی غلطی ایک مسلم حقیقت بن چکی ہوتی ہے، کیا ہم اس وقت بھی اپنے آپ کو چھوٹا مان لیتے ہیں جب ہماری انا بری طرح مجروح ہورہی ہے۔اگر ایسا ہے تو ٹھیک ہے لیکن اگر ایسا نہیں تو پھر ہمیں اصلاح کی ضرورت ہے۔ ہمیں نئے سرے سے امتحان کی تیاری کی ضرورت ہے کیونکہ آزمائش کے وقت ہم ناکام ہوجاتے ہیں۔
پروفیسر محمد عقیل

کورٹ مارشل


کورٹ مارشل
ہمارے ملک میں کئی طرح کے طبقات موجود ہیں جن میں سے ایک فوج اور سویلین کی تقسیم ہے۔ وہ لوگ جو فوج میں شامل ہوتے ہیں بالعموم انہیں دیگر طبقات کے مقابلے میں زیاد ہ مراعات ملتی ہیں جن میں پلاٹس، فری میڈیکل کی سہولیات، بعد از ریٹائرمنٹ ملازمت کا حصول اور سوسائٹی میں اعلی مقام وغیرہ شامل ہیں۔ دوسری جانب سویلین افراد ان سہولیات سے محروم ہوتے یا انہیں اس درجے میں حاصل نہیں کرپاتے ہیں۔
اس تفریق کے باوجود یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فوج کے لوگوں پر جس قسم کے سخت قوانین اور ڈسپلن لاگو ہوتا ہے وہ عام سولین پر نہیں ہوتا۔ ایک فوجی ملازمت سے آسانی سے استعفی نہیں دے سکتا، اس کی آزادانہ نقل حرکت پر چیک رکھا جاتا ہے، اسے نظم و ضبط کا پابند بنانے کے لئے سخت ٹریننگ سے گذارا جاتا ہے ۔ یہاں تک کہ فوجیوں کو ڈسپلن کی خلاف ورزی پر عام عدالتوں میں نہیں بلکہ فوجی کورٹ مارشل یعنی فوجی عدالت میں مقدمہ کے لئے پیش کیا جاتا ہے جس کے قوانین اور سزائیں کافی سخت ہوتی ہیں۔۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ملک میں ایک عدالتی نظام موجود ہے تو کورٹ مارشل یا فوجی عدالتوں کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟۔ اس کا جواب یہ ہے کہ فوج ملک کے حساس اداروں میں سے ایک ہے ۔اس کا کام ملک کا دفاع ہے ۔ اس ادارے میں معمولیسی غلطی، جرم، بغاوت یا سازش ملک و قوم کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ اسی لئے اس ادارے سے منسلک افراد کو ایک سخت قسم کے نظم و ضبط کا پابند کیا جاتا ہے۔ اس ڈسپلن کی خلاف ورزی پر سخت قسم کی سزائیں دی جاتی ہیں جو عام عدالتوں کے برعکس کافی سخت تصور کی جاتی ہیں۔
کچھ اسی سے ملتی جلتی تفریق عام مسلمانوں اور دین کے داعیوں کے درمیان بھیپائی جاتی ہے۔ ایک شخص جب تک عام مسلمان ہے تو اس پر عام قوانین ہی لاگو ہوتے ہیں۔ لیکن جب ایک شخص خدا کے دین کا داعی بن جاتا، اس کے دین کا پرچار کرتا، اس کی توحید کو دنیا میں روشنا س کراتا اور اس کے دین کا علمبردار بن جاتا ہے تو اس کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ ایک جانب تو اس کا اجر بہت بڑھ جاتا ہے ۔ وہ اپنے وقت، علم ، قابلیت اور توانائی کو دین کے کاموں میں لگا کر خدا کا تقرب حاصل کرسکتا ہے، جنت میں اعلی درجات پاسکتا اور اپنی مقام بہت بلند کرسکتا ہے۔ دوسری جانب اس کی زندگی پر فوجی ڈسپلن لاگو ہوجاتا ہے۔ اس کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اسے عام مسلمانوں سے زیادہ تقوی، صبر، تعلق باللہ ، عبادات اور اخلاقیات میں اپنی اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔اور یہ سب وہ اس لئے کرتا ہے تاکہ اللہ کی بارگاہ میں سرخرو ہوجائے۔اس مقصد کے حصول کے لئے داعی کے لئے لازم ہے وہ اپنی ذات پر عام لوگوں سے زیادہ چیک لگائے۔ وہ دوسروں سے زیادہ اپنے عیوب پر نظر رکھے، وہ لوگوں سے زیادہ اپنے آپ کو تنقید کے لئے پیش کرے۔ وہ ہر لمحہ اسی فکر میں غلطاں ہو کہ کہیں وہ دوسروں کی اصلاح کرتے کرتے خود کو فراموش نہ کربیٹھے، وہ دوسروں کے دامن کو آگ سے بچاتے بچاتے خود اپنے وجود کو شعلوں کی نذر نہ کردے، لوگوں کے نفس کا تزکیہ کرتے کرتے خود اپنی شخصیت کو ہی آلودہ نہ کربیٹھے۔
خدا کے نزدیک ایسا شخص بہت برا ہے جو لوگوں کو سچائی کا درس دے اور خود جھوٹ بولے، ناحق قتل کی مذمت کرے خود اس کےہاتھ خون میں رنگے ہوں، محبت کا درس دے لیکن خود کے سینے میں نفرتوں کے سانپ لوٹ رہے ہوں، بدگمانی سے منع کرے مگر اپنے حریفوں کے بارے میں حسن ظن کو گناہ سمجھے، نفاق کو برائی بیان کرے اور خود دوغلے پن کا مظاہر کرے ۔
اگر ایک داعی نے اپنی شخصیت کی اصلاح بھی کی اور اللہ کا پیغام بھی لوگوں تک پہنچایا تو اس کا اجر دوگنا ہے۔ جنت کے اعلی باغات اس کے منتظر ہیں ۔ دووسری جانب اگر اس نے اپنی ذات کو آلودہ کردیا اور اسی حالت میں خدا کے حضور پہنچا تو اس کی سزا دوگنی ہے۔ اب اس کا کیس خدا کی خصوصی عدالت میں چلے گا جہاں کی پکڑ اور سزا عام سزاؤں سے دوگنی اور اذیت ناک ہوگی۔
پروفیسر محمد عقیل

جادو اور نفسی علوم کی نوعیت

جادو اور نفسی علوم کی نوعیت
پروفیسر محمد عقیل

جادو ،سحر یا نفسی علوم کی حقیقت کیا ہے؟
ہمیں سحر کی نوعیت کو مختصرا جان لینا چاہئے۔کچھ اسکالرز درست طور پر بیان کرتے ہیں کہ جس طرح اللہ نے انسان کو مادی علوم دیے ہیں اسی طرح نفسی یا روحانی علوم بھی دیے ہیں۔ میری دانست میں مادی علوم اپنی ذات میں حرام نہیں بلکہ ان کا حصول اور استعمال انہیں حرام بناتا ہے۔ بالکل ایسے ہی نفسی یا روحانی علوم اپنی ذات میں حرا م نہیں بلکہ ان کے حصول کا طریقہ اور استعمال انہیں ناجائز بناتا ہے۔
نفسی علوم حرام ہیں یا حلال؟
نفسی علوم کو دو حصوں میں منقسم کیا جاسکتا ہے ایک وہ جو جائز ہیں اور دوسرے وہ جو ناجائز ہیں۔جائز نفسی علوم کو عام طور پرپیراسائکولوجی، روحانی علوم، ہپناٹزم، ٹیلی پیتھی وغیرہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جبکہ ناجائز نفسی علوم کو جادو، سحر، سفلی علم ، کالا علم وغیرہ سے موسوم کیا جاتا ہے۔
نفسی علوم دووجوہات کی بنا پر ناجائز ہوتے ہیں۔ایک تو ان کے حصول کا طریقہ اور دوسرا ان کے استعمال کا طریقہ۔ اگر کوئی نفسی علم شیطانی قوتوں سے مدد لے کر حاصل کیا جائے تو ناجائز ہے۔ ماہرین کے مطابق کہ جنات میں موجود شیاطین انسان کو مدد فراہم کرتے ہیں اور اس کے بدلے میں وہ انسان سے شرک کرواتے ، اپنی پوجا کرواتے، اپنے کسی دیوی یا دیوتا کی پوجا کراتے ، کسی انسان کو قتل کراتے یا کسی اور گناہ کبیرہ کا ارتکاب کراتے ہیں۔ چونکہ اس علم کا حصول شرک و کفر پر مبنی ہے اسی لئے اس علم کو حرام قرار دیا گیا ہے۔
نفسی علوم کی دوسری قسم اپنی ذات میں جائز ہے انہیں ہم جائز نفسی علوم یا پیراسائکوکولوجی کہہ سکتے ہیں۔ ان کے جائز ہونے کی وجہ ان کا حصول کا طریقہ ہے۔ ان کے حصول میں کسی شیطانی قوت یا شرک کی آمیزش نہیں ہوتی۔ یا تو اس علم جائز مذہبی روایات سےاخذ کیا جاتا ہے یا پھر نیوٹرل طریقہ لیا جاتا ہے جس پر کوئی شرعی یا اخلاقی قدغن نہیں۔ البتہ یہ علم اس وقت ناجائز ہوجاتا ہے جب اس سے غلط قسم کے مقاصد حاصل کیے جائیں جیسے کسی کو قتل کرادینا، کسی کو ایذا پہنچانا وغیرہ۔
نفسی علوم کی کیا حدود ہیں؟
اس بارے میں ہمیں اطمینا ن رکھنا چاہیے کہ نفسی علوم خواہ کسی بھی نوعیت کے ہوں ، ان کا اثر محدود ہوتا ہے۔ کچھ نفسی علوم محض آنکھوں کو دھوکا دے کر اپنا کام کرتے ہیں، کچھ کسی اور ذریعے سے۔ لیکن ان کا ثر اتنا ہی محدود ہوتا ہے جتنا ماد ی علوم کا۔ مثال کے طور پر انسان ٹیکنالوجی کی مدد سے آج ہوائی جہاز تو بنا سکتا ہے لیکن اس کی اپنی محدودیت ہے۔ یعنی ایسا نہیں کہ یہ جہاز ایک مخصوص اسپیڈ سے زیادہ تیز اڑے جیسے لائٹ کی اسپیڈ، یا یہ بغیر رن وے کے اڑ پائے ، یا بنا ایندھن چلے یا لوہے کی بجائے کاغذ کا بن جائے یا کروڑوں لوگوں کو ایک ساتھ اپنے اندر سمولے۔ بالکل اسی قسم کی محدودیتیں نفسی علوم میں بھی ہوتی ہیں۔
نفسی علوم کے ذریعے کوئی دنیا فتح نہیں کرسکتا اگر ایسا ہوتا تو دنیا پر جادوگروں اور پیراسائکلوجی کے ماہرین کا راج ہوتا۔ نفسی علوم کے ذریعے کوئی انسان کو جانور اور جانور کو کسی اور شکل میں تبدیل نہیں کرسکتا ورنہ جادوگر اپنے دشمنوں کو نہ جانے کیا بناچکے ہوتے۔ ان کے ذریعے دولت کو اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں لے جاسکتا ورنہ سارے کالے علم کے ماہر اپنے گاہک تلاش کرنے کی بجائے یہی کام کررہے ہوتے اور آج سب سے زیادہ مالدار ہوتے۔ ان علوم کے ذریعے مادے کی ہیت نہیں بدلی جاسکتی ورنہ دنیا کی ساری مٹی سونا ہوچکی ہوتی اور کاریں یا دیگر چیزیں سائنس دان نہیں جادوگر بنارہے ہوتے۔ جادو اور سحر کی محدودیت کو اسی طرح کامن سینس اور مشاہدے کی بنیاد پر چیک کیا جاسکتا ہے۔
سحر یا نفسی علوم کا طریقہ واردات کیا ہے؟
نفسی علوم دو یا تین طریقوں سے کام کرتے ہیں لیکن سب کا اثر انسان کی نفسیات پر پڑتا ہے۔ ایک طریقہ موکل کے ذریعے عمل میں آتا ہے۔ اس میں ہمزاد یا جنات کو اپنا تابع یا دوست بنا کر کام کیاجاتا اور ان سے اپنا کام کرایا جاتا ہے۔ یہ جنات لوگوں کی نفسیات پر حملہ کرتے، انہیں ڈراتے ،دھکماتے ، مختلف روپ میں آتے ، انہیں ٹیلی پتھی کی ذریعے اپنے شیطانی خیالات سے پریشان کرتے ہیں تاکہ اپنے وکیل کے مذموم مقاصد پورا کرسکیں۔ ان کو البتہ یہ اختیار نہیں ہوتا کہ کسی کی جان لے لیں۔ اگر ایسا ہوتا تو شیطان سب سے پہلے اللہ کے نیک بندوں اور داعیوں کو ہلاک کردیتا ۔ ان شریر جنات کا اثر زیادہ تر کمزور نفسیات رکھنے والے لوگوں پر ہوتا ہے جبکہ مضبوط نفسیات والے لوگ اس سے محفوظ رہتے ہیں۔ شیطان یا جنات کسی کو نفسیاتی طور پر مایوس کرکے خودکشی پر تو مجبور کرسکتا ہے لیکن براہ راست قتل کرنے کی طاقت اس میں نہیں۔
جادو کا دوسرا طریقہ کچھ غیب کی خبریں معلوم کرنا ہوتا ہے۔ قرآن کے مطابق اس کاا یک طریقہ تو یہ ہے کہ جب ملائے اعلی سے احکامات کا نزول ہوتا اور اوپر کے فرشتوں سے یہ بات نیچے زمین کے فرشتوں کو بتائی جارہی ہوتی ہے جو کچھ شریر جنات یہ باتیں سن لیتے ہیں۔ گوکہ انہیں مار کر بھگادیا جاتا ہے لیکن وہ کچھ باتیں الٹے سیدھے طریقے سے سن کر اپنے وکیلوں کو بتادیتے ہیں جن میں وہ دس جھوٹی باتیں ملاکر بات بیان کردیتا ہے۔
ایک ماہر کے مطابق اس کا دوسرا طریقہ کسی شخص کی نفسیات کوپڑھنا ہوتا ہے۔ ٹیلی پیتھی کے ذریعے شیاطین انسان کی موجودہ سوچ کو پڑھ سکتے ہیں ۔ یعنی ایک انسان اس وقت کیا سوچ رہا ہے اس کو شیاطین پڑھ کر اپنے وکیلوں کو بتاسکتے ہیں البتہ انہیں انسان کی ماضی کی سوچ کو جاننے کا اختیار اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک کہ وہ انسان ان سوچو ں کو خیالات میں نہیں لاتا۔ لیکن یہ علم بھی بہت ادھورا ہوتا ہے کیونکہ ایک انسان کی کچھ وقت کی سوچ سے پورے معاملے کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
کیا عامل صحیح علم رکھتے ہیں؟
ایک اندازے کے مطابق نوے پچانوے فی صد سے زائد عامل جعلی ہوتے یا ادھورا علم رکھتےاور عوام کی نفسیات سےکھیلتے ہیں۔
اس بات کا کس طرح پتا چلے گا کہ یہ علم جادو یعنی حرام عمل ہے یا ایک نفسی علم؟
اس کا بہت آسان جواب ہے۔اگر کوئی شخص یہ دعوی کرتا ہے کہ یہ کالا علم ہے تو اس کے پاس تو پھٹکنا بھی نہیں چاہیے۔ جو لوگ روحانی علم کے ذریعے علاج کا دعوی کرتے ہیں ان کے تعویذ وغیرہ کو کھول کر دیکھنا چاہئے ۔ اگر اس میں شیطانی کلمات لکھے ہوں یا ایسے کلمات ہوں جو ناقابل فہم ہوں تو فورا اجتناب برتنا چاہیے۔ اگر کوئی ایسا عمل ہو جس میں گندگی وغیرہ کی ہدایت ہو تو گریز کرنا چاہیے جیسے کچھ عملیات باتھ روم میں ہوتے ہیں، کچھ غلاظتوں پر۔
کیا روحانی علوم یعنی قرآن کے ذریعے علاج جائز ہے؟
سورہ فاتحہ دم وغیرہ کرنا، آیت الکرسی کے ذریعے حفاظت طلب کرنا، سورہ الفلق اور سورہ الناس کو جاد و کے توڑ کے لئے استعمال کرنا اور دیگر سورتوں سے علاج کرنا صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم نے پیچھے واضح کیا کہ جادو اور نفسی علوم کا اثر نفسیاتی ہوتا ہے اس لئے جو بھی پڑھا جائے اس کا ترجمہ یا مفہوم ضرور ذہن میں رکھا جائے ورنہ ماہرین کے مطابق شفا کے امکانات کم ہوتے یابالکل ہی نہیں ہوتے۔
کیا تعویذ وغیرہ جائز ہیں جبکہ کچھ احادیث میں گنڈے اور تعویذ کو ممنوع قرار دیا گیا ہے؟
پہلی بات تو یہ ہے کہ دنیا کے بے شمار علوم ایسے ہیں جو انسان کے نفع کے لئے بنائے گئے ہیں ۔ انسان ان سے حسب ضرورت استفادہ کرسکتا ہے۔ دین اس وقت ان علوم میں مداخلت کرتا ہے جب ان میں کوئی اخلاقی یا شرعی قباحت پائی جائے۔ جیسے میڈیا سائنسز ایک نیوٹرل علم ہے جس کے پڑھنے یا نہ پڑھنے پر مذہب کا کوئی مقدمہ نہیں۔ اگر یہ علم انسانوں کو نقصان پہنچانے میں استعمال ہو اور اس سے محض فحاشی و عریانیت اور مادہ پرستی ہی کو فروغ مل رہا ہو تو مذہب مداخلت کرکے اس کے استعمال پر قدغن لگاسکتا اور اسے جزوی طور پر ممنوع کرسکتا ہے۔
میرے فہم کے مطابق کچھ ایسا ہی معاملہ نفسی علوم کا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں یہ علم سحر کی حیثیت سےیہود اور کچھ مشرکین کے پاس تھا ۔ چونکہ کسی پیغمبر کی بعثت کو ایک طویل عرصہ گذرچکا تھا اس لئے ان علوم پر بھی شیاطین کا قبضہ تھا ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اصلاح معاشرہ اور تطہیر کا کام کیا تو اس علم پر بھی خاص طور پر توجہ دی۔ اس زمانے میں تعویذ ، گنڈے اور دیگر چیزیں مشرکانہ نجاست رکھتی تھیں اس لئے انہیں ممنوع اور حرام قرار دے دیا گیا۔ اصل علت یا وجہ جادو یا شرک تھا تعویذ کا استعمال نہ تھا۔
اس کی بہترین مثال تصویر ہے۔ تصویریں اس زمانے میں بنائی ہی شرک کی نیت سے جاتی تھیں اس لئے جاندار کی تصویر بنانا ممنوع کردیا گیا۔ لیکن بعد میں جب تصویروں میں علت نہیں رہی تو علما نے اسے جائز قرار دے دیا۔ یہی معاملہ تعویذ گنڈوں کےساتھ بھی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ تعویذ وغیرہ کا براہ راست دین سے کوئی تعلق نہیں اور یہ نفسی علوم کا ایک طریقہ اور ٹول ہے۔ چنانچہ اگر کوئی تعویذ شرکیہ نجاستوں سے پاک ہے تو اس پر وہی حکم لگے گا جو دم درود یا دیگر روحانی علوم پر لگتا ہے۔
دین کا نفسی علوم کے بارے میں کیا رویہ ہے؟
دین حرام قسم کے نفسی علوم کے استعمال کو قطعا ممنوع کردیتا ہے ۔ جائز نفسی علوم کے استعمال پر بھی دین کوئی بہت زیادہ حوصلہ افزائی نہیں کرتا بلکہ اس کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ سنت سے ثابت ہے کہ آپ نے کسی کو رزق کے حصول کے لئے وظیفہ نہیں بلکہ دنیاوی عمل بتایا، بیماری کا علاج دم درود سے نہیں بلکہ طبیب اور مادی اسباب سے کیا، جنگ میں کامیابی کے لئے مراقبوں اور مکاشفوں سے مدد نہ لی، مستقبل کے لیے ستاروں کی چال کو درخور اعتنا نہ سمجھا، مشکلات ہے حل کے لیے اسباب کرنے کے بعد اللہ پر توکل کیا تعویذ گنڈے نہیں کیے۔ کیونکہ آپ کا مقصد ایک حقیقت پسند اور توہمات سے پاک امت کا قیام تھا ۔
نفسی علوم پر بھروسہ نہ کرنے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ یہ علوم باقاعدہ سائنس نہیں بن پائے ہیں۔ سائنس جس طرح سبب اور اثر یعنی کاز اور افیکٹ (Cause and Effect) تعلق کو قطعیت کے ساتھ بیان کرتی ہے، یہ علوم ابھی اس پریزینٹیشن سے کوسوں دور ہیں۔ اسی لئے ان کا استعمال عام طور پر توہمات کو فروغ دینے کا باعث بن سکتا ہے۔ البتہ کوئی وظیفہ یا عمل اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درست طور پر منسوب ہے یا تجربہ کی بنا پر اس کی قطیعت ثابت ہوچکی ہے تو اس کے استعمال میں کوئی قباحت معلوم نہیں ہوتی۔
ہارو ت و ماروت پر جو علم اتارا گیا تھا کیا وہ جادو تھا؟
جیسا کہ ہم نے پڑھا کہ جادو حرام ہے اور اس کی وجہ ا س میں شرک کی علت کا ہونا ہے۔ ظاہر ہے اللہ تعالی اپنے فرشتوں کے ذریعے اس قسم کا کوئی علم کیسے اتار سکتے ہیں جس میں شرک کی آلائش ہو۔ میری رائے کے تحت ہاروت و ماروت پر اتارا گیا علم پیراسائکلوجی کے جائز علوم میں سے ایک تھا ۔ البتہ اس کا استعمال منفی و مثبت دونوں طریقوں سے کیا جاسکتا تھا۔ جیسا کہ اسی آیت میں ہے:
غرض لوگ ان سے (ایسا) سحر سیکھتے، جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ اور خدا کے حکم کے سوا وہ اس (سحر) سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے۔ اور کچھ ایسے سیکھتے جو ان کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ دیتے۔(البقرہ ۱۰۲:۲)
اس آیت میں ہے کہ اس علم سے فائدہ بھی پہنچ سکتا تھا اور نقصان بھی ۔ لیکن انہوں نے صرف نقصان پہنچایا جس میں سرفہرست میاں بیوی میں جدائی تھی۔ اس کی وجہ بھی کچھ علما کے نزدیک یہ تھی کہ بنی اسرائل کو اس دور میں غیر یہودی عورت سے شادی کرنا ممنوع تھا۔ اس وقت خواتین کی کمی تھی اس لَئے لوگ جدائی ڈلواکر اس کی عورت کو اپنی بیوی بنانا چاہتے تھے۔ تو بہر حال وہ علم کسی طور شرکیہ یا ممنوع علم نہ تھا بلکہ اپنی اصل میں جائز تھا۔ اس کے منفی استعمال کی مذمت کی گئی ہے۔ یعنی وہ علم اپنی ذات میں حرام نہیں بلکہ آزمائش تھا ۔ البتہ اس کا منفی استعمال اسے حرام بنا رہا تھا
کیا جادو کرنا کفر یا شرک ہے؟
چونکہ جادو میں شرک و کفر کی آمیزس ہوتی ہے اور اس میں خدا کے علاوہ دیگر قوتوں کی مدد مانگی جاتی ہے اس لئے جادو کرنا حرام اور شرک ہے۔ اسی طرح جادو کا استعمال بالواسطہ طور پر شرک و کفر کے درجے تک لے جاتا ہے۔
کیا جادو کا توڑ جادو سے ہوسکتا ہے؟
جادو کا توڑ کوئی روحانی یا نیوٹرل علم تو ہوسکتا ہے لیکن جادو نہیں۔
نوٹ:
اس تحریر میں میں نے کئی علما ، ماہرین اور مفسرین سے برا ہ راست یا بالواسطہ استفادہ کیا ہے۔ ان سب کا نام لکھنا تو ممکن نہ تھا البتہ ان سب کا میں عمومی طور پر شکر گذار ہوں ۔
پروفیسر محمد عقیل
۲۷ اکتوبر ۲۰۱۵
۱۳ محرم الحرام ۱۴۳۷ ہجری

سب سے اچھا موبائل کس کا

سب سے اچھا موبائل کس کا
موبائل سیٹ آج کل کی دنیا میں سب سے زیادہ پرکشش شے بن چکا ہے۔ہر شخص گردن جھکائے اسکرین پر انگلیاں پھیرتا نظر آتا ہے ۔ سیل فون کی خواہش اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ بچے اپنا گردہ بیچ کر بھی اس نایاب نعمت کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
سیل فون کے استعمال میں وہ کیا بات ہے کہ دنیا پاگل ہوچکی ہے؟ دراصل دنیا کی آسائشوں کا خلاصہ سیل فون میں موجود ہے۔اس میں کمیونکیشن، انٹرٹینمنٹ ، خودنمائی، ستائش کاحصول اور مذہبی تعلیمات، سائنسی معلومات سمیت وہ سب کچھ ہے جو انسان تصور کی دنیا میں دیکھنا ، سننا اور پڑھنا چاہتا ہے۔ اس چھوٹی سے ڈبیا میں ایک پوری دنیا موجود ہے جس کی سیر کرنے سے آنکھیں تو تھک سکتی ہیں لیکن اس دنیا کی رنگینیاں ختم نہیں ہوتیں۔
ہر نیا آنے والا دن سمارٹ فون میں نت نئی تبدیلیاں لارہا ہے۔ یہ ڈبیا جس کا سفر بٹن والے ایک فٹ لمبے بھدے سیٹ سے ہوا تھا، آج گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہوا ٹچ اسکرین تک پہنچ گیا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب ٹچ کی بجائے آواز کے ذریعے اسے کمانڈ دی جائے گی اور عین ممکن ہے کہ ادھر انسان سوچے ادھر موبائل سیٹ ایک سگھڑ بیوی کی طرح بات سمجھ جائے اور حکم کی تعمیل کردے۔
سیل فون کے استعمال کی بنا پر جہاں آسانیاں پیدا ہوئی ہیں وہیں کئی سماجی اور اخلاقی مسائل نے بھی جنم لیاہے۔ اس میں ایک اہم مسئلہ اسراف، دکھاوے اور غیر ضروری مقابلے کے رحجان کا ہے۔ ہر دوسرا شخص مہنگا اور نیا سیٹ لینا چاہتا ہے خواہ اس کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔ اکثر لوگ موبائل خریدنے کے بعد اس کے سارے فنکشز کے بارے میں جانتے تک نہیں لیکن پیسہ پانی کی طرح بہانے پر مصر ہیں۔ کچھ لوگ محض دوسروں کی دیکھا دیکھی موبائل سیٹ بدلنے کے عادی ہیں کہ چند ماہ بعد ان کے پاس ایک نیا سیٹ ہوتا ہے۔ اس مقابلے میں صرف امیرہی نہیں بلکہ مڈل کلاس اور غریب لوگ بھی حصہ بقدر جثہ کی مصداق مصروف عمل ہیں۔
جن لوگوں نے اپنی زندگی کا مقصد کھیل تماشا، انٹرٹینمنٹ، دکھاوا اور ہلہ گلہ بنایا ہوا ہے ان سے تو بات کرنا لایعنی ہے۔ البتہ سنجیدہ اور بردباد لوگوں کو اس دکھاوے کی مسابقت میں دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔سنجیدہ لوگوں کا سیل فون کے معاملے میں مقابلہ کرنے کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک وجہ تو بھیڑ چال کو تقلید ہے ۔ حالانکہ ہمیں جان لینا چاہئے کہ عوام کی اکثریت سوچےسمجھے بغیر معاملہ کرتی ہے ۔ اکثریت کی بنا سوچے سمجھے پیروی گمراہی کی جانب لے جانے والا عمل ہے۔ دوسری وجہ لوگوں کے طعنوں سے بچنا ہے کہ اتنا پرانا سیٹ رکھا ہو ا ہے۔ حالانکہ لوگو ں کا کام تو نکتہ چینی ہی کرنا ہے خواہ ہم کچھ بھی کرلیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کونسا موبائل سیٹ لیا جائے؟ اس کا جواب اگر دو اور دو چار کی طرح ہوتا تو بات بہت آسان تھی۔ لیکن ہر شخص کی ضروریات مختلف ہیں۔سب سے پہلے تو ہم اپنی ضروریات کا تعین کریں کہ وہ کونسا موبائل سیٹ ہے جو ہماری انٹرٹینمنٹ، آفس، گھر داری اور سوشلائزیشن کی جائز ضروریات پوری کرتا ہے۔ اس کے بعد ہم ان ضروریات کے مطابق ایک فون خرید لیں اور اس وقت تک نہ بدلیں جب تک کہ ہمارے پاس اس تبدیلی کی کوئی واضح وجہ ہو۔

سب سے بہترین موبائل سیٹ وہ ہے جو ہماری ضروریات پوری کرتا ہو۔ باقی سارے سیٹ اسراف ، نمائش، دکھاوا اور دھوکا ہیں۔اسراف کا معاملہ یہ ہے کہ یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ یہ ہمارے اطراف پھیلے ہوئے غریب لوگوں کی حق تلفی ہے۔ قرآن میں بیان ہوتا ہے:
اور رشتہ داروں کو (بھی) ان کا حق ادا کرو اور مسکین و مسافر کو (بھی ان کا حق دو) اور فضول خرچی نہ کرو۔فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے۔(بنی اسرائیل ۱۷: ۲۶-۲۷)

اسراف کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتے اور جس کو اللہ ناپسند کریں تو اس کی دنیا و آخرت برباد ہے:
اے بنی آدم، ہر نماز کے وقت (لباس سے) اپنے تئیں آراستہ کر لیا کرو، اور کھاؤ پیو اور بےجا خرچ نہ کرو۔ اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(الاعراف ۳۱:۷)

اسراف پر ناپسندیدگی اس حدیث سے بھی ظاہر ہوتی ہے:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی تمہاری تین باتوں سے راضی ہوتا ہے اور تین باتوں کو ناپسند کرتا ہے جن باتوں سے راضی ہوتا ہے وہ یہ ہیں کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو اور اللہ کی رسی کو مل کر تھامے رہو اور متفرق نہ ہو اور تم سے جن باتوں کو ناپسند کرتا ہے وہ فضول اور بیہودہ گفتگو اور سوال کی کثرت اور مال کو ضائع کرنا ہیں۔( صحیح مسلم جلد 2 ، حدیث نمبر 1987)

ایک اور حدیث مال کے تلف کرنے کو گناہ کا عمل بتاتی ہے:

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آدمی کو گناہ گار بنا دینے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ وہ اپنی یا اپنے متعلقین کی روزی کو ضائع کر دے۔( سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 1679)
اللہ تعالی ہم سب کو صحیح طرز عمل اختیار کرنے اور اس پر ڈٹ جانے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین
پروفیسر محمد عقیل

تزکیہ نفس قرآن کی روشنی میں


اللہ تعالیٰ نے انسان کو محض اپنی بندگی کیلئے پیدا کیا ہے۔ ( الذاریات56:51 )اس بندگی کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ خدا ہی کی بات مانی جائے۔ اسی کے احکامات پر اپنے ظاہر و باطن کو جھکا دیا جائے اور طا غوت کی بات ماننے سے گریز کیا جائے ( النحل 36:16 )۔ اسی بندگی اور تسلیم و رضا کو جا نچنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے زندگی و موت کا نظام پیدا کیا تاکہ آزمائے کہ کون بہتر عمل کرتا ہے ( الملک 2:67 )۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں خیرو شر کا شعور رکھ دیا اور ساتھ ہی وحی کے ذریعے صراط مستقیم کا تعین کردیا تاکہ لوگ خدا کی مرضی کے مطابق زندگی گذارکر جنت کی ابدی نعمتوں سے مستفید ہوں۔ اس اہتمام کے باوجود انسان اکثر گناہوں کی غلاظت میں ملوث ہوجاتا ہے پڑھنا جاری رکھیں