Posts Tagged ‘جنت’

چلو اس اور چلتے ہیں

 

چلو اس اور چلتے ہیں

(جنت کے طلب گاروں کے نام)

پروفیسر محمد عقیل

چلو اس اور چلتے ہیں

جہاں پھولوں  کی وادی   میں پرند ے  بات کرتے ہیں

جہاں آوارہ   بھنورے شام کو اٹھکھیلیاں کرتے، مچلتے ہیں

جہاں بادل  پہاڑوں پہ  ٹہرتے اور چلتے ہیں

جہاں ہر زیرو بم کے ساتھ ہی  موسم بدلتے ہیں

 

چلو اس اورچلتے ہیں

جہاں      سوچیں حقیقت  بن کے خود ہی   گنگناتی ہیں

جہاں قوس قزح کی سب  لکیریں مسکراتی ہیں

جہاں سورج کی کرنیں  سرد ہوکے بول اٹھتی ہیں

جہاں تاروں کی کرنیں  کہکشاں سی جگمگاتی ہیں

 

چلو اس اور چلتے ہیں

جہاں پربت کی چوٹی سرنگوں ہوتی سی لگتی ہے

جہاں تاریکیوں میں  چاندنی   خود  رقص کرتی ہے

جہاں باد صبا کی  سرسراہٹ   گدگداتی  ہے

جہاں  برسات   رنگ و نورکی محفل سجاتی ہے

 

چلو اس اور چلتے ہیں

جہاں پہ پیرہن سونے کے اور چاندی کے بندھن ہیں

حسیں قالین، تخت و تاج و ریشم ،اطلس و دیبا

شرابیں پاک، نغمے صاف  اور چمکے  ہوئے من ہیں

سبھی مسرور   وشاداں ہیں سبھی مہکے ہوئے تن ہیں

 

چلو اس اور چلتے ہیں

جہاں پہ سبزہ  ، ڈالی،  ٹہنی  ، پھل اور پھول اپنا ہے

جہاں کانٹا نہیں کوئی،  جہاں   سوکھا نہیں آتا

جہاں رنج والم، مشکل، ستم  ، غم نہیں آتا

جہاں پہ  خوف کے مارے یہ جی  بیٹھا نہیں جاتا

 

چلو اس اور چلتے ہیں

جہاں   چشمے ابلتے ہیں

جہاں اشجار ہر لمحے نئے منظر بدلتے ہیں

جہاں راتیں بھی روشن ہیں جہاں کی محفلیں نوری

جہاں   پہ حسن بے پروا  کے جلوے بھی نکلتے ہیں

 

چلو اس اور چلتے ہیں

چلو اس رب سے ملتے ہیں

جہاں سجدے مچلتے ہیں،جہاں یہ دل پگھلتے ہیں

جہاں  پہ رب کے قدموں میں  جبیں بس جم سی جاتی ہے

جہاں پہ  ساعتیں     مدھم ، خوشی کے  دیپ جلتے ہیں

 

چلواس اور چلتے ہیں

چلو پھر سے سنبھلتے ہیں

چلو  خود کو بدلتے ہیں

چلو بس آج   سب کچھ چھوڑ کے ہم بھی نکلتے ہیں

چلو اس اور چلتے ہیں

 

قصر الزہرہ


عبد الرحمن ثالث اسپین کا ایک عظیم حکمران تھا۔وہ 300ھ میں اس وقت اقتدار میں آیا جب اسپین کی سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہوکر یورپ کی مسیحی طاقتوں کا نوالہ بننے والی تھی۔مگر نصف صدی کے اس کے اقتدار کے بعد350ھ میں جب اس کا انتقال ہوا تو اسپین یا اندلس پورے یورپ سے زیادہ طاقتور اور دنیا کی خوشحال ترین ریاست بن چکی تھی اور یہاں مسلم اقتدار مزید500برس قائم رہا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

خدا کی جنت


عام طور پر تعلیمی نظام کا ڈھانچہ کریڈٹ آورز یعنی تدریسی گھنٹوں کی بنیا د پر قائم ہوتا ہے۔ بارہ جماعتیں پڑھنے کے بعد مزید چار سال کی تعلیم کی تکمیل پر بی ایس اور دو سال مزید پڑھنے پر ماسٹر کی ڈگری ملتی ہے۔ان اٹھارہ سالوں میں ایک طالب علم روزانہ درس گا ہ جاتا، لیکچر غور سے سنتا ، نوٹس لیتا، اسائنمنٹس بناتا ، پریزینٹیشن دیتا اور پھر اپنی قابلیت ثابت کرنے کے لئے امتحان کے عمل سے گذرتا ہے۔ ان جوانی کے قیمتوں سالوں میں وہ دھوپ کی حدت جھیلتا، سردی کے تھپیڑے برداشت کرتا، راتوں میں شب بیداری کرتا کو پڑھنا جاری رکھیں

خد اکی طاقت


یا کوئی رب ذوالجلال کی قوت کا اندازہ کرسکتا ہے؟‘‘، آج گفتگو کا آغاز عارف نے ایک سوال سے کیا تھا۔ یہ سوال کیا تھا علم و حکمت کے موتیوں کی ہونے والی برسات کی تمہید تھی۔ اس لیے لوگ خاموش نظروں اور سوالیہ چہرے کے ساتھ عارف کی سمت دیکھتے رہے تووہ گویا ہوئے: ’’ایک ایسی دنیا میں جہاں خدا نظر نہیں آتا، جہاں اس کے منکر اور نافرمان عیش کرتے نظر آتے ہیں، جہاں انسان کو کلی اختیار اور آزادی حاصل ہے وہاں بھی حکم اسی رب کا چلتا ہے۔‘‘ کو پڑھنا جاری رکھیں

%d bloggers like this: