Posts Tagged ‘جہنم’

قرآن کا نظریہ ارتقا


قرآن کا نظریہ ارتقا
ڈاکٹر محمد عقیل
آج جس اہم موضوع پر بات کرنی ہے وہ قرآنی لائف سائکل ہے۔ انسان کا پورا وجود اسی ترقی و تنزلی سے ہمیشہ سے دوچار ہے۔ ابتدا میں انسان ایک روح یا بغیر مادی جسم کے ایک روحانی وجود کی صورت میں تخلیق ہوتا ہےجسے عالم ارواح کہتے ہیں ۔ جب اسے دنیا میں بھیجا جاتا ہے تو اس کا مزیدارتقا ہوتا ہے ۔اب ماں کے پیٹ میں اس روح کو قالب یعنی مادی جسم دینے کا عمل شروع ہوتا ہے۔ جو روحانی وجود اس عمل کو پورا نہیں کرپاتا ، وہ ماں کے پیٹ میں ہی مرجاتا ہے کو پڑھنا جاری رکھیں

آگ اور تیل

محرومی اور ذلت کا سامنا کرنا انسانوں کے لیے ہمیشہ ایک اذیت ناک تجربہ ہوتا ہے ۔یہ تجربہ اگر حال ہی میں پیش آئے تو اذیت کے ساتھ پچھتاو وں کی آگ بھی وجود انسانی کو جھلس دیتی ہے ۔اس آگ کی تپش اس وقت اور بڑ ھ جاتی ہے جب اپنے جانے پہنچانے لوگ اردگرد ہوں اور اپنی انگلیاں دانتوں میں دبائے نامرادی اور رسوائی کی اس جلتی پر شرمندگی و ندامت کا تیل ڈال رہے ہوں ۔

قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے مجرموں کو جب ذلت و محرومی کا سامنا ہو گا تو اس کے ساتھ پچھتاوے اور ندامت کو بڑ ھانے والے سارے عناصر بھی اس موقع پر جمع کر دیے جائیں گے ۔ارشار باری تعالیٰ ہے :’’اور جس دن اللہ ان کو اکھٹا کرے گا وہ محسوس کریں گے کہ گویابس وہ دن کی ایک گھڑ ی(ہی دنیا میں ) رہے ۔ وہ ایک دوسرے کو پہچانتے ہوں گے ۔‘‘، (یونس45:10)۔

اس آیت کا پہلا جملہ یہ بتا رہا ہے کہ نافرمان لوگ بروز قیامت ماضی میں گزری ہوئی زندگی کو ایسا محسوس کریں گے گویا شام قیامت سے قبل دن کی ایک گھڑ ی میں وہ دنیا میں رہے ۔صبح و شام کا یہ معاملہ انہیں پچھتاو وں کے ختم نہ ہونے والے عذاب میں مبتلا کر دے گا کہ کاش وقت کا پہیہ ذرا پیچھے گھومے اور وہ صبح زندگی میں لوٹ کر اپنے اعمال کو بہتر بنالیں ۔مگر یہ ممکن نہ ہو گا اور ماضی بعید ماضی قریب بن کر ان کے عذابوں میں اضافہ کرتا رہے گا۔

ان کا دوسرا عذاب یہ ہو گا کہ نامرادی اور ذلت کے ان لمحات کے گواہ ان کے جانے پہنچانے سارے لوگ ہوں گے ۔لوگ انہیں پہنچانتے ہوں گے اور وہ لوگوں کو۔یوں ذلت کی قبا اوڑ ھے ان لوگوں کودیکھنے والی ہزاروں محرم نگاہیں میدان حشر میں ہوں گی جو قبائے ذلت میں جابجا ندامت کے پیوند لگا رہی ہوں گی۔

کیسی عجیب ہے قیامت کی نامرادی اورکیسی شدید ہے اس روز کی رسوائی۔

By Rehan Ahmend Yousufi