Posts Tagged ‘خدا’

خدا اور ماں


عام طور پر خدا کی محبت کو ماں محبت سے سمجھایا جاتا ہے۔ یہ بات اپنی اصل میں غلط نہیں کیونکہ اس دنیا میں سب سے زیادہ محبت کرنے والی جو ہستی ظاہر میں نظر آتی ہے وہ ماں ہی ہے۔ لیکن اس اس مثال سے بعض اوقا ت کئی غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں اور اللہ سے تعلق افراط و تفریط کا شکار ہوجاتا ہے۔ چنانچہ یہ بہت ضروری ہے کہ اس مثال سے پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو سمجھا اور دور کیا جائے۔
اس معاملے میں ایک بات بہت مشہور ہے کہ جس طرح ایک ماں اپنے بچے کو آگ میں نہیں ڈال سکتی تو خدا جو ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے وہ کیسے بندے کو آگ میں ڈال سکتا ہے۔ یہ اصول ایک کو پڑھنا جاری رکھیں

خدا کا غلط تصور


تحریر: پروفیسر محمد عقیل

کچھ عرصے قبل ایک افسانہ پڑھا کہ ایک صاحب کو راستے میں ایک بزرگ ملتے ہیں ۔ وہ صاحب بزرگ کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آتے اور ان کی مدد کرتے ہیں۔نتیجے کے طور پر بزرگ خوش ہوکر انہیں دعا دیتے اور کہتے ہیں
” میاں! تمہیں اجازت ہے کہ جو چاہو اپنے لئے مانگو لیکن تمہارے پاس صرف ایک خواہش کرنے کا آپشن ہے "۔ کافی سوچ بچار اور بیوی سے مشورے کے بعد وہ صاحب ایک خواہش کرتے ہیں کہ وہ جسمانی طور پر جیسے ہیں ہمیشہ ویسے ہی رہیں اور ان کے جوان بدن میں کوئی تبدیلی نہ ہو۔ اس خواہش کا مقصد یہ تھا کو پڑھنا جاری رکھیں

نظر اندازخدا .پروفیسر محمد عقیل


’’ بہت کم ظرف ہیں آپ لوگ‘‘۔ اچانک پرنسپل صاحب کی آواز کانفرنس ہال میں گونجی۔’’ اتنی محنت سے میں نے اس کانفرنس ہال کی تزین و آرائش کی لیکن کسی نے آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا‘‘۔ پرنسپل صاحب کی شکایت پر تمام اسٹاف نے انکی کاوش پر انہیں مبارک باد دینا شروع کردی۔کوئی رنگ و روغن کی تعریف کرہا تھا تو کوئی کارپٹ کے قصیدوں میں مگن تھا۔
اچانک میرے ذہن میں ایک خیال وارد ہوا۔ خدا نے بھی اتنی بڑی کائنات تنہا تخلیق کی۔ آسمان کو وسعتیں دے کر اس میں طرح طرح کے پرندے اڑائے ، زمین کو ہموار کرکے حیوانات دوڑائے،مٹی کو نرم کرکے نباتات اگائے، پاتال میں حشرات سمو ئے،سمندر کے عمیق گڑھوں کو پانی سے بھر کے اس میں آبی مخلوق پیدا کی ، پہاڑوں کو کھڑا کرکے معدنیات چھپادیں۔لیکن کوئی اسکی خلاقی کی داد نہیں دیتا، کوئی اسکی مصوری کو نہیں سراہتا۔، کوئی نہیں کائنات کی گنگناہٹ کا نغمہ سنے،کوئی نہیں جو آسمان سے جاری ہونے والی نشریات کو دیکھے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

کیاآپ کوخداسے محبت ہے؟(پروفیسر محمد عقیل)

کیا آپ کو خدا سے محبت ہے؟ میں نے ایک صاحب سے سوال کیا۔ چند لمحوں کے لیے تو وہ میرا چہرہ ہی دیکھتے رہے تاکہ میری دماغی حالت کا تعین کر سکیں، پھر بدقت تمام انہوں نے کہا ’’شاید ہاں‘‘۔ لیکن ان کا رد عمل یہ اعلان کر رہا تھا کہ میں نے انتہائی غیر متعلق سوال پوچھا ہے۔ کچھ دیر بعد میں نے ان کے چھوٹے بیٹے کی خیریت دریافت کی۔ جواب میں وہ بے دریغ بولتے گئے وہ اس کی شرارتیں، اس کی عادات اور اس کی تعلیم پر بے حد دلچسپی کے ساتھ گفتگو کرتے رہے۔ دوران گفتگو ان کی باڈی لینگویج (Body language) یہ بتارہی تھی کہ وہ کسی محبوب ہستی سے اپنے تعلق کا اظہار فرمارہے ہیں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

%d bloggers like this: