Posts Tagged ‘خلاصہ’

فہم القرآن کورس: سیشن 10۔ خلاصہ


فہم القرآن کورس: سیشن 10۔ خلاصہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
فہم القرآن کورس کے دسویں سیشن کا خلاصہ انتہائی تاخیر کے ساتھ حاضر ہے۔ اس پر آپ سب کے کمنٹس اور جوابات بھی مل گئے ہیں۔ آپ سب بھائیوں اور بہنوں کا بے حد شکر گذار ہوں۔ میرا خلاصہ میرے ناقص فہم کے مطابق حاضر ہے۔آیات یہ ہیں:
سورہ البقرہ آیات 102 تا 113
وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ ۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَـٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ ۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ ۚ وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّـهِ ۚوَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ ۚ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ۚ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنفُسَهُمْ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ﴿١٠٢﴾ وَلَوْ أَنَّهُمْ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَمَثُوبَةٌ مِّنْ عِندِ اللَّـهِ خَيْرٌ ۖ لَّوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ﴿١٠٣﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انظُرْنَا وَاسْمَعُوا ۗ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿١٠٤﴾ مَّا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَلَا الْمُشْرِكِينَ أَن يُنَزَّلَ عَلَيْكُم مِّنْ خَيْرٍ مِّن رَّبِّكُمْ ۗ وَاللَّـهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّـهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ﴿١٠٥﴾ مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا ۗ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿١٠٦﴾ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللَّـهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ﴿١٠٧﴾ أَمْ تُرِيدُونَ أَن تَسْأَلُوا رَسُولَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوسَىٰ مِن قَبْلُ ۗ وَمَن يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ﴿١٠٨﴾
وَدَّ كَثِيرٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُم مِّن بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِندِ أَنفُسِهِم مِّن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ ۖ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّـهُ بِأَمْرِهِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿١٠٩﴾ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ۚ وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللَّـهِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ﴿١١٠﴾ وَقَالُوا لَن يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَن كَانَ هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ ۗ تِلْكَ أَمَانِيُّهُمْ ۗ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿١١١﴾ بَلَىٰ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّـهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِندَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿١١٢﴾ وَقَالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصَارَىٰ عَلَىٰ شَيْءٍ وَقَالَتِ النَّصَارَىٰ لَيْسَتِ الْيَهُودُ عَلَىٰ شَيْءٍ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ ۗ كَذَٰلِكَ قَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ ۚ فَاللَّـهُ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ﴿١١٣﴾
ترجمہ:
اور ان (ہزلیات) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کے عہدِ سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے مطلق کفر کی بات نہیں کی، بلکہ شیطان ہی کفر کرتے تھے کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اور ان باتوں کے بھی (پیچھے لگ گئے) جو شہر بابل میں دو فرشتوں (یعنی) ہاروت اور ماروت پر اتری تھیں۔ اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے، جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو (ذریعہٴ) آزمائش ہیں۔ تم کفر میں نہ پڑو۔ غرض لوگ ان سے (ایسا) جادو سیکھتے، جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ اور خدا کے حکم کے سوا وہ اس (جادو) سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے۔ اور کچھ ایسے (منتر) سیکھتے جو ان کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ دیتے۔ اور وہ جانتے تھے کہ جو شخص ایسی چیزوں (یعنی سحر اور منتر وغیرہ) کا خریدار ہوگا، اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں۔ اور جس چیز کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا، وہ بری تھی۔ کاش وہ (اس بات کو) جانتے (102) اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیز گاری کرتے تو خدا کے ہاں سے بہت اچھا صلہ ملتا۔ اے کاش، وہ اس سے واقف ہوتے (103) اے اہل ایمان! (گفتگو کے وقت پیغمبرِ خدا سے) راعنا نہ کہا کرو۔ انظرنا کہا کرو۔ اور خوب سن رکھو، اور کافروں کے لیے دکھ دینے والا عذاب ہے (104)جو لوگ کافر ہیں، اہل کتاب یا مشرک وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے خیر (وبرکت) نازل ہو۔ اور خدا تو جس کو چاہتا ہے، اپنی رحمت کے ساتھ خاص کر لیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے (105) ہم جس آیت کو منسوخ کر دیتے یا اسے فراموش کرا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا ویسی ہی اور آیت بھیج دیتے ہیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ خدا ہر بات پر قادر ہے (106) تمہیں معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت خدا ہی کی ہے، اور خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مدد گار نہیں (107) کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے پیغمبر سے اسی طرح کے سوال کرو، جس طرح کے سوال پہلے موسیٰ سے کئے گئے تھے۔ اور جس شخص نے ایمان (چھوڑ کر اس) کے بدلے کفر لیا، وہ سیدھے رستے سے بھٹک گیا (108) بہت سے اہل کتاب اپنے دل کی جلن سے یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لا چکنے کے بعد تم کو پھر کافر بنا دیں۔ حالانکہ ان پر حق ظاہر ہو چکا ہے۔ تو تم معاف کردو اور درگزر کرو۔ یہاں تک کہ خدا اپنا (دوسرا) حکم بھیجے۔ بے شک خدا ہر بات پر قادر ہے (109) اور نماز ادا کرتے رہو اور زکوٰة دیتے رہو۔ اور جو بھلائی اپنے لیے آگے بھیج رکھو گے، اس کو خدا کے ہاں پا لو گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے(110) اور (یہودی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی بہشت میں نہیں جانے کا۔ یہ ان لوگوں کے خیالاتِ باطل ہیں۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو دلیل پیش کرو (111) ہاں جو شخص خدا کے آگے گردن جھکا دے، (یعنی ایمان لے آئے) اور وہ نیکو کار بھی ہو تو اس کا صلہ اس کے پروردگار کے پاس ہے اور ایسے لوگوں کو (قیامت کے دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے (112) اور یہودی کہتے ہیں کہ عیسائی رستے پر نہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودی رستے پر نہیں۔ حالانکہ وہ کتاب (الہٰی) پڑھتے ہیں۔ اسی طرح بالکل انہی کی سی بات وہ لوگ کہتے ہیں جو (کچھ) نہیں جانتے (یعنی مشرک) تو جس بات میں یہ لوگ اختلاف کر رہے خدا قیامت کے دن اس کا ان میں فیصلہ کر دے گا (113)
خلاصہ:
قرآن فہمی میں آج ایک اہم اصول سےابتدا کرتے ہیں۔ جس طرح ہم اردو یا انگلش میں لکھتے ہیں اور موضوع تبدیل ہونے پر یا اس میں کوئی موڑ آنے پر ہم پیراگراف بدل دیتے ہیں۔ یہی معاملہ قرآن میں بھی ہوتا ہے۔ لیکن عربی میں لکھا ہونے کی بنا پر تمام سطور ایک ساتھ لکھ دی جاتی ہیں اور سلسلہ کلام میں فرق کو ایک دوسرے سے الگ کرنا پڑھنے والے کے لیے مشکل معلوم ہوتا ہے۔
اوپر آیات کا مطالعہ کریں تو یہ علم ہوگا کہ اس میں دو یا تین چھوٹے چھوٹے پیراگراف بن سکتے ہیں۔ ایک پیراگراف تو ہاروت ماروت والے واقعے کا ہے جو آیت نمبر ۱۰۲ میں شروع ہوتا اور آیت ۱۰۳ پر ختم ہوجاتا ہے۔ دوسرا موضوع مسلمانوں کو یہود کی سازش کا توڑ بتاکر انداز تخاطب درست کرنے کا ہے۔ اس کے علاوہ بھی دیگر موضوعات ہیں۔
ان تمام آیات کا سباق دیکھیں تو وہی سلسلہ کلام ہے یعنی بنی اسماعیل کو ان کے جرائم کی فہرست بتائی جارہی ہے تاکہ ان کی امت وسط کے عہدے سے معزول کیا جاسکے۔
آیت ۱۰۲ میں اللہ تعالی نے ک یہود کے دعووں کی تردید کی ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام جادو یا کفر میں ملوث نہیں تھے بلکہ یہ شیاطین تھے جو لوگوں جادو سکھاتے اور کفر کی جانب راغب کرتے تھے۔ ہاروت و ماروت دو فرشتوں پر اللہ نے روحانی علم اتارا تھا جو اپنی ذات میں ممنوع نہ تھا۔ لیکن اس علم سے دنیاوی علم کی طرح اچھے اور برےدونوں طرح کے کام لیے جاسکتے تھے۔
نفسی علوم دووجوہات کی بنا پر ناجائز ہوتے ہیں۔ایک تو ان کے حصول کا طریقہ اور دوسرا ان کے استعمال کا طریقہ۔ اگر کوئی نفسی علم شیطانی قوتوں سے مدد لے کر حاصل کیا جائے تو ناجائز ہے۔ ماہرین کے مطابق کہ جنات میں موجود شیاطین انسان کو مدد فراہم کرتے ہیں اور اس کے بدلے میں وہ انسان سے شرک کرواتے ، اپنی پوجا کرواتے، اپنے کسی دیوی یا دیوتا کی پوجا کراتے ، کسی انسان کو قتل کراتے یا کسی اور گناہ کبیرہ کا ارتکاب کراتے ہیں۔ چونکہ اس علم کا حصول شرک و کفر پر مبنی ہے اسی لئے اس علم کو حرام قرار دیا گیا ہے۔
نفسی علوم کی دوسری قسم اپنی ذات میں جائز ہے انہیں ہم جائز نفسی علوم یا پیراسائکوکولوجی کہہ سکتے ہیں۔ ان کے جائز ہونے کی وجہ ان کا حصول کا طریقہ ہے۔ ان کے حصول میں کسی شیطانی قوت یا شرک کی آمیزش نہیں ہوتی۔ یا تو اس علم جائز مذہبی روایات سےاخذ کیا جاتا ہے یا پھر نیوٹرل طریقہ لیا جاتا ہے جس پر کوئی شرعی یا اخلاقی قدغن نہیں۔ البتہ یہ علم اس وقت ناجائز ہوجاتا ہے جب اس سے غلط قسم کے مقاصد حاصل کیے جائیں جیسے کسی کو قتل کرادینا، کسی کو ایذا پہنچانا وغیرہ۔
سوال یہ ہے کہ ہاروت ماروت پر جو علم اتارا گیا تھا کیا وہ جادو اور شرک پر مبنی تھا۔ ظاہر ہے اللہ تعالی اپنے فرشتوں کے ذریعے اس قسم کا کوئی علم کیسے اتار سکتے ہیں جس میں شرک کی آلائش ہو۔ میری رائے کے تحت ہاروت و ماروت پر اتارا گیا علم پیراسائکلوجی کے جائز علوم میں سے ایک تھا ۔ البتہ اس کا استعمال منفی و مثبت دونوں طریقوں سے کیا جاسکتا تھا۔ جیسا کہ اسی آیت میں ہے:
غرض لوگ ان سے (ایسا) سحر سیکھتے، جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ اور خدا کے حکم کے سوا وہ اس (سحر) سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے۔ اور کچھ ایسے سیکھتے جو ان کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ دیتے۔(البقرہ ۱۰۲:۲)
اس آیت میں ہے کہ اس علم سے فائدہ بھی پہنچ سکتا تھا اور نقصان بھی ۔ لیکن انہوں نے صرف نقصان پہنچایا جس میں سرفہرست میاں بیوی میں جدائی تھی۔ اس کی وجہ بھی کچھ علما کے نزدیک یہ تھی کہ بنی اسرائل کو اس دور میں غیر یہودی عورت سے شادی کرنا ممنوع تھا۔ اس وقت خواتین کی کمی تھی اس لَئے لوگ جدائی ڈلواکر اس کی عورت کو اپنی بیوی بنانا چاہتے تھے۔ تو بہر حال وہ علم کسی طور شرکیہ یا ممنوع علم نہ تھا بلکہ اپنی اصل میں جائز تھا۔ اس کے منفی استعمال کی مذمت کی گئی ہے۔ یعنی وہ علم اپنی ذات میں حرام نہیں بلکہ آزمائش تھا ۔ البتہ اس کا منفی استعمال اسے حرام بنا رہا تھا ۔
اس کے بعد اگلی آیات میں مسلمانوں کو یہود کے برخلاف وہ الفاظ استعمال کرنے کی تلقین کی ہے جو ذ و معنی نہ ہوں۔ یہود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے وقت راعنا( توجہ فرمائیے ) کی بجائے راعینا ( اے ہمارے چرواہے ) کہتے تھے۔ تو مسلمانوں کو یہاں منع کردیا کہ آپ انظرنا کہو تاکہ اس سازش کا قلع قمع ہوجائے۔ یہی سبق ہمارے لیے بھی ہے کہ ہمیں طنز کے طور پر ذومعنی جملے ادا نہیں کرنے چاہئیں۔
اگلی آیات میں یہود و نصاری کے اس زعم کی تردید ہے کہ صرف وہی جنت میں جائیں گے۔ اللہ نے واضح طور فرمادیا کہ جنت میں صرف وہی جائے گا جو خدا کے آگے سر تسلیم خم کردے۔ اس کا تعلق نہ تو یہود ہونے سے ہے اور نہ عیسائی۔ یہ بات مسلمانوں پر بھی منطبق ہوتی ہے۔ اگر کوئی مسلمان گھرانے میں پیدا ہوگیا اور اس نے خدا کے آگے سر تسلیم خم نہ کیا تو وہ محض مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے کی بنا پر بچ نہیں جائے گا۔ یہ عین ممکن ہے کہ اللہ اس کا زبانی اقرار رد کرکے اس کے دل کی کیفیت کے مطابق اس کا فیصلہ کردیں۔
سوالات کے جواب یہ ہیں:
سوالات:
۱- فرشتوں پر جو کچھ نازل ہوا تھا ،کیا وہ جادو اور سحر کا علم تھا؟ اگر ایسا تھا تو فرشتوں جیسی پاک مخلوق پر جادو جیسا قبیح علم کا اللہ کی طرف سے نازل کیا جانا کچھ تعجب خیز نہیں؟ نیز یہ کیسی آزمائش تھی کہ اللہ نے خود ہی، وہ بھی فرشتوں پر، وہ علم اتارا جو سیکھ کر لوگ میاں بیوی میں جدائی ڈالیں؟
اس کا جواب اوپر دے دیا۔
۲۔ جادو میں اور عملیات میں کیا فرق ہے؟نیز ہپناٹزم ، تحلیل نفسی اور اس طرح کے دیگر نفسیاتی علوم کیا جادو کے زمرے میں آتے ہیں؟
اس کی تفصیل بھی اوپر بیان کردی ہے۔
۳۔آیت نمبر 106 میں ہے کہ،
جس آیت کو ہم منسوخ کردیں، یا بھلا دیں اس سے بہتر یا اس جیسی اور ﻻتے ہیں، کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے (106)
سوال : اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی ایک ایسی کتاب کیوں نہیں نازل کر دی جو پہلے انسان آدم علیہ السلام سے لے کرآخری انسان تک کے لیے راہِ ہدایت بنی رہتی؟
جواب ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی شعور ارتقا کے مراحل طے کرتا رہا اور ہردور میں اسے ذرا مختلف شریعت کی ضرورت تھی ۔ ایک اور وجہ تحریری شکل میں ہدایت کا محفوظ نہ ہونا تھا۔ جب یہ وجوہات ختم ہوگئیں تو نبوت کا سلسلہ ختم کردیا گیا۔
۴۔آیت نمبر 108 میں ہے کہ،
” کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے پیغمبر سے اسی طرح کے سوال کرو، جس طرح کے سوال پہلے موسیٰ سے کئے گئے تھے۔”
سوال یہ ہے کہ کیا قرآن لوگوں کو سوال کرنے کی حوصلہ شکنی کر رہا ہے؟
جواب : نہیں بلکہ غیر ضروری سوالات کی حوصلہ شکنی کررہا ہے۔
۵۔ ان آیات کے اندر یہود کی ایک ایسی ذہنی بیماری کا ذکرہے جسے قرآن نے ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ قرار دیا۔ اس بیماری کی نشان دہی کیجیے اور بتایے کہ آج مسلمانوں کے مذہبی طبقے میں یہ بیماری کہاں اور کس شکل میں پائی جاتی ہے؟
جواب: یہ بیماری اسکتبار ، انا پرستی ، ہٹ دھرمی اور بددیانتی کی بیماری ہے۔ ان سب کا نتیجہ حق سے اعراض ہے ۔ یہی بیماری ہمارے مذہبی طبقے میں پائی جاتی ہے جس کی بنا پر نہ صرف نفرتیں جنم لیتی ہیں بلکہ فرقہ واریت و تشدد کا دروازہ کھلتا ہے۔
پروفسیر محمد عقیل

انٹرایکٹیو فہم القرآن کورس ۔۔ آٹھواں سیشن ۔۔ خلاصہ

انٹرایکٹو فہم القرآن کورس
آٹھواں سیشن
سورہ البقرہ آیت نمبر 47 تا 66
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آیات نمبر ۴۳ سے سورہ بقرہ میں ایک نئے سلسلے کا آغاز ہوچکا ہے۔ یہ اصل خطاب ہے جو بنی اسرائل سے کیا جارہا ہے۔ گذشتہ آیات میں اسی خطاب کی تمہید باندھی گئی تھی۔ جیسا کہ گذشتہ آیات میں ہم نے پڑھا تھا کہ بنی اسرائل کی حیثیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل ایک امت وسط ہی کی تھی جس کے ذمے اللہ کا پیغام باقی انسانیت کو پہنچانا تھا۔ لیکن بنی اسرائل اپنی ذمہ دار ی نہ نبھا سکے اور اب انہیں معزول کرکے امت وسط کی حیثیت بنی اسماعیل کو دینی تھی۔ چنانچہ یہ ایک چارج شیٹ یا الزامات کی فہرست ہے جو بنی اسرائل کو دی جارہی ہے۔
ان آیات میں وہ احسانات یاد لائے جارہے ، ان کی نافرمانیاں گنوائی جارہیں اور ان کے کفران نعمت کے روئیے کو ایڈریس کیا جارہا ہے۔ یہ بتایا جارہا ہے کہ تمہیں تمام عالم پر فضیلت دی تھی اور تم نے کیا کیا؟ خود کو نسلی تفاخر میں مبتلا کردیا۔ تمہیں فرعون کی غلامی سے نجات دی اور ایک آزاد زندگی عطا کی لیکن تم نے اس احسان کو نہیں مانا۔ تم نے موسی علیہ السلام کی غیر موجودگی میں بچھڑے کو معبود بنالیا، تو کبھی خدا کو آنکھوں سے دیکھنا کی ضد کی ۔ کبھی پیغمبروں کو ناحق قتل کیا تو کبھی من و سلوی کو حقیر جانا تو کبھی عجزو انکساری کی بجائے تکبر کے قول کو اہمیت دی۔ کبھی نبیوں کو ناحق قتل کیا تو کبھی نسلی امتیاز کی بنا پر جنت و جہنم کے فیصلے کرنے لگے۔ پھر تم نے سبت کے موقع پر کس طر ح حیلہ کرکے حرام کو حلال کرلیا۔
یہ ان آیات کا خلاصہ ہے۔ اگر ان آیات کو دیکھا جائے تو یہ بنی اسماعیل یعنی ہم پر بھی کافی حد تک منطبق ہوتی ہیں۔ہم مسلمانوں کو خود سے سوال کرنا چاہئے کہ آیا ہم بھی نسلی تفاخر کا تو شکار نہیں؟ کیا ہم بھی خود کو چہیتی امت تو نہیں سمجھتے جس کے لئے عمل صالح کی کوئی قید نہیں؟کیا ہم بھی تو سود یا دیگر فقہی امور میں سبت والوں کی طرح کوئی حیلہ تو نہیں کررہے؟ کیا ایسا تو نہیں جس طرح خدا بنی اسرائل سے ناراض تھا ویسے ہی خدا بنی اسماعیل یعنی ہم سے بھی ناراض ہو ؟
سوالات کے جوابات:
۱۔ آیت نمبر ۴۷ میں اللہ نے فرمایا کہ بنی اسرائل کو تمام عالم پر فضیلت دی تھی۔ تو یہ کس قسم کی فضیلت تھی ؟
اس فضیلت سے مراد یہی امت وسط ہونے کی حیثیت تھی۔ بنی اسرائل میں پے درپے پیغمبر آتے رہے اور ان پر یہ لازم تھا کہ اپنے ارد گرد کی اقوام تک خدا کی توحید کا پیغما پہنچائیں۔ یہاں فضیلت سے مراد نسلی برتری یا مادی ترقی نہیں تھی۔
۲۔ بنی اسرائل ہی میں ایک مدت تک پیغمبر مبعوث ہوتے رہے۔ اور آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسماعیل میں۔ یعنی پیغمبر آل ابراہیم میں ہی مبعوث ہوتے رہے؟ اس کی کیا وجہ تھی؟ اور کیا یہ ایک طرح سے اللہ کی جانب سے نعوذباللہ جانبداری نہیں تھی کہ صرف آل ابراہیم میں ہی پیغمبر آتے رہیں؟
نہیں ایسا نہیں تھا۔ خدا نے تمدنی ارتقا کے ساتھ ساتھ مختلف ماڈلز انسانوں کی ہدایت کے لئے بنائے۔ ایک ماڈل تو یہ تھا کہ مختلف اقوام میں پیغمبر آتے رہے اور انہیں خدا کی تعلیمات سے روشناس کراتے رہے۔ ان میں حضرت نوح ، حضرت صالح، حضرت شعیب ، حضرت ھود اور حضرت لوط علہیم السلام شامل تھے۔
ان پیغمبروں کی دعوت کے کچھ عرصے بعد ہی لوگ دوبارہ سے ان برائیوں میں مبتلا ہوجاتے تھے جن سے ان کے پیغمبر منع کرکے گئے تھے۔ اس صورت حال میں اللہ نے یہ طے کیا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جس کی بنیاد توحید پر ہو۔ بے شک اس میں برائیاں آجائیں لیکن اس کی خالص تعلیمات میں تھیوری میں اصل پیغا محفوظ رہے گا۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد کا انتخاب کیا گیا۔ اس کی ایک شاخ بنی اسرائل تھی اور دوسری بنی اسماعیل۔ دونوں توحید کے علمبردار تھے۔ بنی اسرائل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت کئی خرابیاں پیدا ہوگئی تھیں لیکن یہ نظری طور پر کبھی شرک کو قبول نہیں کرپائے جیسے دیگر اقوام نے کرلیا تھا۔ایسے ہی بنی اسماعیل خدا کو تو مانتے تھے لیکن کچھ سفارشیوں کے ساتھ۔
تمدن کے ارتقا کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا اور اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی بناکر بھیج دیا گیا۔ تو گویا حضرت ابراہیم کی ذریت میں پیغمبر ی کا سلسلہ کوئی نسلی بنیادوں پر نہیں تھا بلکہ کسی اور بنیادوں پر تھا۔
۳۔ آیت نمبر ۵۱ میں ہے کہ اللہ نےب موسی علیہ السلام سے چالیس راتوں کا وعدہ لیا۔ یہ چالیس راتوں کا وعدہ کیا تھا اور اس کا کیا مقصد تھا؟
چالیس راتوں کا وعدہ اسی لئے لیا گیا تھا تاکہ موسی علیہ السلام مخصوص عبادات کرکے اپنے اندر وہ صلاحتیتں پیداکریں جس کی بنیاد پر وہ تورات جیسی شاندار کتاب کی تعلیمات حاصل کرلیں۔
۴۔آیت نمبر ۶۲ میں ہے کہ
” جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا صابئین ، جو خدا اور روز قیامت پر ایمان لائے گا، اور نیک عمل کرے گا، تو ایسے لوگوں کو ان (کے اعمال) کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) ان کو نہ کسی طرح کا خوف ہو گا اور نہ وہ غم ناک ہوں گے”۔
کیا اس آیت کے تحت اسلام لانا ضرور ی نہیں اور دیگر مذاہب کے لوگوں کی نجات بھی ممکن ہے؟
یہ آیت اگر سیاق و سباق سے دیکھی جائے تو یہود کے اس زعم کی نفی ہے کہ نجات کے لئے یہودی یا نصرانی ہونا ضرور نہیں اور نہ ہی کسی گروہ سے وابستگی نجات کا باعث ہے۔ بلکہ جو بھی ان گروہوں میں سے یا دیگر گروہوں میں سے اللہ پر اور یوم آخرت پر یقین رکھے گا، اسے نجات مل جائے گی۔
یہاں ایک بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ مسلمان یا مسلم کی دو حیثیتیں ہیں۔ ایک نسلی اور دوسری عملی۔ جو شخص کسی مسلمان گھرانے میں پیدا ہوتا ہے و ہ نسلی طور پر مسلمان ہوتا ہے اور وہ نسلی طور پر توحید ، آخرت ، رسالت وغیرہ کے عقیدے پر یقین رکھتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ وہ دل سے یا عملی طور پر مومن نہ ہو۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی شخص کسی غیر اسلامی مذہب میں موجود ہو لیکن وہ دل سے خدا کی توحید اور آخرت اور رسالت وغیرہ پر ایمان رکھتا ہو لیکن اس کا اظہار نہ کیا ہو۔ تو وہ شخص عملی طور پر مومن ہے بے شک وہ ظاہری طور پر مسلمانوں کے گرو ہ میں شامل نہیں۔
تو نتیجہ یہ نکلا کہ امت مسلمہ میں شامل تمام مسلمان ضروری نہیں کہ خدا کے نزدیک بھی مسلمان ہوں اور یہ بھی ضرور ی نہیں کہ تمام غیر مسلم خدا کے نزدیک بھی غیر مسلم ہوں۔ لہٰذا اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو یہ آیت واضح طور پر یہ کہہ رہی ہے کسی گروہ سے وابستگی یا عدم وابستگی نجات کی بنیاد نہیں۔ اصل بنیاد ایمان ہے اور عمل صالح۔
۵۔ ان آیات میں بنی اسرائل کے جو جرائم گنوائے گئے ہیں۔ ان میں سے کسی پانچ جرائم کو عنوانات کی شکل میں لکھیں یعنی پورا جملہ نہ لکھیں۔ مثال کے طور پر آیت نمبر ۵۱ میں انہوں نے جو بچھڑے کو معبود بنانے کا جرم کیا وہ جرم دراصل شرک تھا۔ تو آپ بھی ان آیات کو پڑھ کر تعین کریں کہ ان سے کون کون سے جرائم سر زد ہوئے ہیں جیسے ناشکری، ظاہر پرستی یا مادیت پرستی، نسل پرستی وغیرہ۔ کوئی پانچ عنوانات لکھیں۔
قتل انبیا، شرک، ناشکری، نافرمانی، مادیت پرستی
پروفیسر محمد عقیل